ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور کالعدم تکفیری دہشتگرد اہل سنت والجماعت (سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) سے مصالحت خواہی۔ خرم زکی

پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ پاکستان کی سلامتی ، خود مختاری اور انڈیا کی جارحیت سے محفوظ رہنے کے لیئے ان تکفیری دہشتگردوں کے مدارس کے بجائے ایک متحد، یکجا اور مضبوط قوم کا ہونا ضروری ہے۔ 1965 کی جنگ کے دوران ملک میں اتنے مدارس، جہادی اور تکفیری گروہ موجود نہیں تھے لیکن ایک قوم، ملک و ملت کا تصور موجود تھا۔ آج ان تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہوں، کالعدم اہل سنت والجماعت(سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ)، تحریک طالبان، لشکر جھنگوی کی وجہ سے وہ ایک قوم و ملت کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے اور پاکستانی عوام، سیکولر، فرقہ پرست، تکفیری، جہادی، سندھی، بلوچی، پختون، مہاجر اور پنجابی جیسی شناختوں میں بٹتی جا رہی ہے۔ پچھلے سال دو مواقع ایسے آئے جب کئی دہائیوں بعد پاکستانی قوم کی ایک کثیر تعداد پاکستان کی مسلح افواج کی غیر مشروط حمایت کرتی نظر آئی؛ پہلا جیو ٹی وی کی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف میڈیا مہم اور دوسرا آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تکفیری طالبان/انجمن سپاہ صحابہ کے دہشتگرد حملوں کے بعد جس میں ان تکفیری دہشتگردوں نے 150 کے قریب معصوم طلبہ کا قتل عام کیا۔ یہ بات اچھی طرح جان لی جانی چاہیئے کہ کالعدم دہشتگرد اہل سنت والجماعت (سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) ملک میں تکفیری خارجی فکر کی نرسری کا کام کر رہی ہے اور ملک میں کام کرنے والے دیگر تمام تکفیری دہشتگرد گروہوں سے کالعدم اہل سنت والجماعت کا رشتہ ماں اور بیٹے جیسا ہے(ان تکفیری گروہوں کے باپ کئی ہو سکتے ہیں)۔ کوئی بھی تکفیری دہشتگرد چاہے وہ جند اﷲ سے تعلق رکھتا ہو، تحریک طالبان سے تعلق رکھتا ہو، القاعدہ اور داعش سے تعلق رکھتا ہو، وہ اپنا فکری اور نظریاتی تعلق بدنام زمانہ تکفیری دہشتگردوں حق نواز، اعظم طارق، ملک اسحق، ریاض بسرا، لدھیانوی اور فاروقی سے ہی جوڑتا ہے۔ اس لیئے ملک میں ان تکفیری دہشتگردوں کے خلاف جاری کوئی بھی آپریشن اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس آپریشن کا دائرہ کار کالعدم اہل سنت والجماعت، اس کے سرغنہ لدھیانوی، فاروقی اور ملک اسحق تک نہیں پھیلایا جاتا۔ راولپنڈی، اسلامآباد، شکارپور، پشاور میں شیعہ مساجد پر حملے اس حقیقت کے اثبات کے لیئے کافی و شافی ثبوت ہیں۔

اگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھتی ہے کہ کالعدم دہشتگرد گروہ اہل سنت والجماعت (سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) سے مصالحت خواہی پر مبنی رویہ ملک میں جاری دہشتگردی کی لہر کو کم کر سکے گا تو یہ ایک بھول ہے۔ یہ سوچ ایسی ہی جیسے کوئی یہ گمان کرے کہ حماس اور عزالدین القسام بریگیڈ میں کوئی جوہری فرق ہے یا دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کیئے جا سکتے ہیں۔ کالعدم اہل سنت والجماعت لشکر جھنگوی (یعنی پنجابی طالبان) کی فکری اور روحانی اساس کا کام کرتی ہے اور اس کو دہشتگردی کے لیئے نوجوان کیڈر فراہم کرتی ہے۔ وہی لڑکا جو دن کے ایک حصے میں کالعدم اہل سنت والجماعت کے لیئے بینر اور پوسٹر لگا رہا ہوتا ہے، کسی جلسے میں شریک ہوتا ہے، دن کے دوسرے حصے میں کالعدم لشکر جھنگوی کے نام سے کسی دہشتگرد کاروائی میں حصہ لے رہا ہوتا ہے اور اکثر اوقات تو یہ برائے نام تفریق بھی روا نہیں رکھی جاتی بلکہ کالعدم اہل سنت والجماعت ( کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) کا نام ہی استعمال ہو رہا ہوتا ہے جیسا کہ پچھلے دنوں پھانسی پانے والے بیشتر تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد ہم دیکھ چکے کہ کس طرح انہی دہشتگردوں کو کالعدم اہل سنت والجماعت نے اپنے کارکنوں کے طور پر قبول کیا اور ان کی تجہیز و تکفین اسی کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ کے پلیٹ فارم سے کی گئی۔

کالعدم اہل سنت والجماعت کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کے ساتھ ساتھ دو اور جہتوں پر بھی نطر رکھنے کی ضرورت ہے؛ ایک تو ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں سے منسلک مدارس (جیسا کہ سامنے آ چکا کہ بینظیر بھٹو اور کامرہ ائیر بیس پر حملے میں اکوڑہ خٹک کے بدنام زمانہ مدرسہ حقانیہ کے طالب دہشتگرد ملوث تھے) اور دوسرا تبلیغی جماعت۔ بظاہر پر امن نظر آنے والے یہ دو ادارے، جن میں سے ایک تعلیم دین اور دوسرا تبلیغ دین کا نام لیوا بنتا ہے، ملک میں جاری دہشتگردی کے لیئے خام مال فراہم کرتے ہیں۔ ان دو اداروں کے لیئے عوام کو دین کے نام پر ورغلانا اور بہکانا کئی حوالوں سے آسان ہے۔ ملک میں سرگرم عمل تمام تکفیری دہشتگرد گروہ انہی دو ادروں کے اپنی سرگرمیوں کے لیئے کیرئیر کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت نظروں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ اس تاثر کو عام کرنے میں کافی محنت اور سرمایہ صرف کیا گیا ہے کہ تبلیغی جماعت کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں لیکن جنید جمشید کے خلاف حالیہ دنوں میں چلنے والی مہم کے دوران ہم نے دیکھا کہ بظاہر معتدل نظر آنے والے اور عدم تشدد کا دعوی کرنے والے طارق جمیل صاحب بھی سب سے پہلے فاروقی کی گود میں جا کر بیٹھے۔ میں خود اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ 90 کی دہائی سے کالعدم انجمن سپاہ صحابہ کے تکفیری دہشتگرد تبلیغی جماعت کا ایکٹو حصہ رہے ہیں اس لیئے یہ محض ایک خام خیالی ہے کہ تبلیغی جماعت دہشتگرد سرگرمیوں سے دور ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک عام نوجون کو ابتدا میں دہین کی تبلیغ کے نام پر ہی قابو کیا جاتا ہے جس کو بعد میں اس کے ذوق و شوق کی بنیاد پر بعد میں کسی بڑے سیٹ اپ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ گویا تبلیغی جماعت ایک ریکروٹمنٹ سینٹر کا کام کرتا ہے جہاں سے ان تکفیری مدارس و دہشتگرد گروہوں کو اپنے مطلب کا خام مال ڈھونڈنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس بات کا ثبوت مسلح افواج کے بعض اندرونی عناصر کا ان دہشتگرد گروہوں کے پروپیگینڈے سے متاثر ہو کر خود اپنے ہی ادارے پر حملہ آور ہونا ہے۔ ان عناصر کا ان دہشتگرد گروہوں سے تعلق یا تو اسی تبلیغی جماعت (جو فوج میں کھلے عام کام کرتی رہی ہے) کے سبب بنتا ہے (سہ روزوں، چلوں اور شب جمعہ کے اجتماعات میں) یا پھر کالعدم اہل سنت والجماعت (کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) سے منسلک مساجد کے ذریعہ جہاں اس کا تکفیری نطریات و خیالات سے براہ راست سامنا ہوتا ہے۔ اگر تکفیری دہشتگردوں کے ان دو ریکرٹمنت سینٹرز کے خلاف کاروائی نہیں کی جاتی، ان کی سرگرمیوں پر نطر نہیں رکھی جاتی تو اس عفریت پر قابو پانا نا ممکن ہو گا، کیوں کہ جب تک آپ اس فتنے کی جڑوں پر حملہ نہیں کرتے اس وقت تک اپر سے پتوں اور شاخوں کو کاٹنا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
Screen Shot 2015-02-27 at 17.41.20 Screen Shot 2015-02-25 at 05.06.52FarooqiScreen Shot 2015-02-27 at 17.58.18Screen Shot 2015-01-07 at 06.13.56Siraj1

Comments

comments

Latest Comments
  1. naad.e.ali.ali@gmail.com
    Reply -
    • arif khan
      Reply -
  2. sohrab
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*