مکتب دیو بند اور اس کے مسائل – عمار کاظمی

ulma-deobandi1

مکتب دیو بند اور اس کے مسائل
برصغیر پاک و ہند میں سنی اسلام کی چار پانچ معروف شاخیں ہیں۔ ان میں امام ابو حنیفہ کے مقلدین میں بریلوی اور دیوبندی شامل ہیں جبکہ غیر مقلدین میں اہلحدیث اور سلفی (یا وہابی) شامل ہیں – دیوبندی اگرچہ حنفی ہیں لیکن ان کے ایک بڑے حلقے میں تکفیریت کی روش موجود ہے۔

اگر بریلوی عقائد اور باقیوں پر نظر ڈالی جائے تو ان کے آپسی اختلاف کی بنیاد پر لفظ “سنی” ایک کنفیوژن محسوس ہوتا ہے۔ اورسمجھ نہیں آتی کہ اصل سنی اور حنفی کون ہے؟ تاہم اس کنفیوژن کے باوجود پاکستان کوایک سنی ریاست قرار دیا جاتا ہے۔ برصغیر کی مندرجہ بالا شاخوں پر اگر ایک ایک لفظ کی تعریف کر کے اپنے موضوع کی طرف بڑھ جاوں تو بریولوی نسبتا کم متعصب اورامن پسند دکھائی دیتے ہیں، وہابی جدت پسند اور متعصب، سلفی متعصب اور بنیاد پرست جبکہ دیو بند بعض مقامات پر امن پسند، بعض پر شدت پسند اور انتہا پسند دکھائی دیتے ہیں۔ اگر محض شدت پسندی کی بات ہوتی تو میں اس میں باقی چار پانچ ناموں کے ساتھ فقہ جعفریہ کا نام بھی لکھ دیتا۔ لیکن پاکستان میں اندرونی دہشت گردی کا مسلہ زیادہ تر دیو بند فکر کے ساتھ ہی جُڑا ہوا ہے کہ وہابی سلفی فکری اعتبار سے ان کے قریب ہونے کے باوجود کم از کم پاکستان کی حد تک دہشت گردی میں اس طرح ملوث نہیں پائے گئے۔

اس میں کوئی دو رائے ممکن نہیں کہ ریاست نے مکتب دیوبند کو جہاد کی آگ میں جھونک کر اس فکر کے لوگوں پر بہت بڑا ظلم کیا۔ مگر اس میں دیوبند علماء کی اکثریت بھی اتنی ہی قصوروار ثابت ہوتی ہے کہ جس نے ریاست کی اس غلط پیشکش کو سوچے سمجھے بغیر قبول کر لیا۔ ہمیشہ لکھتا رہا ہوں اور آج بھی کہتا ہوں کہ دیوبند مکتب فکر اپنے بعض تصورات میں کافی بہتر ہے۔

آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے۔ ہمارے محلے کی دیوبند مسجد میں ہمارے دیوبند محلے داروں نے ایک امام مسجد رکھا۔ امام مسجد کا نام مجھے اچھی طرح یاد نہیں مگر بچوں نے اسکا نام مولوی “مڈوُ” رکھا ہوا تھا۔ شروع میں تو وہ امام مسجد بچوں کو قرآن اور نماز پڑھانے تک محدود رہا مگر بعد میں جب وہ آہستہ آہستہ کھُلا تو اس نے شیعہ مسلک کے خلاف باتیں شروع کر دیں۔ پھر ایک دن اس نے کسی بچے کو بتایا کہ شیعہ کافر ہوتے ہیں۔ جب یہ بات میرے ایک قریبی دوست کے والد اور ان کے ساتھ مسجد کے باقی منتظمین کو پتا چلی تو انھوں نے مولوی مڈُو کو کالر سے پکڑا اور یہ کہہ کر باہر نکال دیا کہ ہمارے پُرکھوں کے آپس میں ہمیشہ سے اچھے تعلقات اور باہمی عزت و احترام کا رشتہ رہا ہے۔ تو یہاں کیا ہماری لڑائی کروانے آیا ہے؟ اس دن کے بعد مولوی مڈُو کبھی ہمارے علاقے میں نظر نہیں آیا۔ اس واقعہ میں زیادہ قابل توجہ حصہ آخری والا ہے۔ یعنی دیو بند فکر کے لوگوں میں زیادہ تعصب اور بے رحمی کا عنصر شاید تبلیغیوں کی یلغار کی وجہ سے آیا ورنہ وہ لوگ بھی دیوبند ہی تھے جنھوں نے مولوی مڈو کو مسجد سے نکال دیا تھا۔ یہ سب لوگ آج بھی موجود ہیں اور ان کا شیعہ حضرات کے حوالے سے رویہ آج بھی ویسا ہی ہے۔ اصولی طور پرباقی دیوبندوں سے بھی یہی توقع کی جانی چاہیے مگر ایک اکثریت پر شاید ڈاکٹر زاکر نائیک اور طارق جمیل صاحب جیسے لوگوں کا اثر زیادہ گہرا ہو چلا ہے۔ معاشرے میں آج تک تبلیغ کے فوائد تو نظر آ نہیں سکے مگر نقصانات کافی واضع ہیں۔ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کے اغراض و مقاصد ہی یہی ہیں کہ شیعہ کو ختم کردو اور بریلوی کو کنورٹ کر دو۔ یعنی جس مکان اور مکام پر الم لگا ہو وہاں سے یہ خاموشی سے گزر جاتے ہیں اور پھر وہاں کوئی اسی فکر سے منسلک دوسرے نام والا حملہ آور ہو جاتا ہے۔ باقی یہ مذہب مسلک دیکھے بغیر ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ اسی حوالے سے زیادہ سے زیادہ بات کرنے، سوالات اُٹھانے اور ان پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔

اگر ہم اس فکر کے سو فیصد لوگوں کو چار حصوں میں تقسیم کریں تو اس میں سے پہلے وہ عام معتدل مزاج دیوبندی شہری ہیں جو اپنی فکری وابستگی کو خاطر میں لائے بغیر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کی تعداد کم ہے اور ان میں سے بھی اکثر دہشت گردوں کی مشترک دیوبندی تکفیری شناخت پر بات نہیں کرتے – البتہ یہ لوگ دہشت گردوں کے لیے سخت سزاوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر کبھی اگر مگر یا ایسی فضول دلیلں نہیں دیتے کہ جن سے دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی ہو۔ شاید یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے مولانا عبید اللہ سندھی جیسے روشن خیال لوگوں مثال دی جا سکتی ہے۔ لیکن عصر حاضر میں ایسا کوئی نمایاں دیوبندی عالم موجود نہیں جو سپاہ صحابہ و طالبان جیسے تکفیریوں کی کھل کی مذمت کرے۔

دوسرے پچیس فیصد وہ ہیں جو خود تو دہشت گرد نہیں ہیں اور ہر وقت اسلام کو امن کا دین ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں مگر ہر طرح کی دہشت گردی اور ظلم و ستم پر خاموش رہتے ہیں۔ یہ لوگ القائدہ، طالبان، جنداللہ، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی سمیت بے گناہوں کاخون بہانے والی کسی دہشت گرد تنظیم کو برا نہیں کہتے۔ ان میں مولانا طارق جمیل، مفتی نعیمی اور زاکر نائیک جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔

تیسرے وہ ہیں جو نہ صرف اپنے مکتب فکر سے وابستگی کی بنیاد پر دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں بلکہ ان کی وکالت بھی کرتے ہیں۔ یہ حضرات مقتلوین سے بھی گلہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کی مرضی کی فکر کے بغیر زندگی گزارتے ہی کیوں ہیں جو ان پر خود کُش حملے کیے جاتے ہیں۔ اخلاقی طور پر یہ لوگ دہشت گردوں کے برابر کے مجرم ہیں۔ انھیں کبھی اس بات پر شرم محسوس نہیں ہوتی کہ دہشت گرد اور خودکُش بمبار ان کے مکتب فکر میں ہی کیوں پائے جاتے ہیں۔ ان میں منور حسن جیسے لوگ شامل ہیں۔ تاہم تھوڑی اٹھارہ بیس سوچ کیساتھ یہ طبقہ لبرلز میں بھی موجود ہے۔

چوتھا حصہ وہ ہے جس کے لیے کسی تعریف کی ضرورت نہیں۔ اس میں اعلی تربیت یافتہ عسکریت پسند دہشت گردوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ باقی جو تربیت یافتہ نہیں ہیں وہ یا تو دہشت گردوں کے کے صحولت کار بنتے ہیں یا پھر معاشرے میں ان کے لیے پریشر گروپس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ پہلے ایک حصے کو چھوڑ کر باقی تین کہیں نہ کہیں آپس میں جُڑے محسوس ہوتے ہیں۔

یعنی دہشت گردوں نے حملوں سے پہلے علاقے کی دیوبند مساجد میں قیام کیا۔ امام مسجد ملے ہوئے تھے۔ وہ کون ہیں جو مساجد کو سرائے کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟ بلی تھیلے سے باہر نکل کر گھوم پھر رہی ہے۔ مگر اسے دیکھنے کے لیے آنکھیں اور اس کی چال سمجھنے کے لیے دماغ ضروری ہے۔ کون ہے جس کی جماعتیں ملک کے طول و عرض سے لے کر دنیا بھر میں گھومتی پھرتی ہیں؟ آج تک کون سا ایسا آلہ ایجاد ہوا ہے جو یہ بتا سکے کہ جماعت میں آنے والے مہمانوں میں کوئی دہشت گرد یا ان کا ساتھی نہیں ہے؟ کون یہ گارنٹی دے سکتا ہے کہ ریاست کے تمام گلی کوچوں میں گھومنے پھرنے والے مہمان کسی دہشت گرد تنظیم کے جاسوس نہیں ہیں؟ یمن، سوڈان، مراکش، مصر اور پتا نہیں دنیا کے کس کس کونے سے تبلیغی جماعتیں پاکستان آتی ہیں۔ کیا پتا پاکستان میں القاعدہ بھی اسی راستے گھسی ہو؟ کون جانے کہ دہشت گردوں کی آج تک کی فنڈنگ بھی اسی کور میں جاری ہو؟

میلاد، عاشورہ اور دیگر مکاتب فکر و مذاہب کے مذہبی اجتماعات پر جب بھی حملہ ہوتا ہے تو دو نمبر لبرل ذہن فورا یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ یہ دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں ان پر پابندی کیوں نہیں لگا دی جاتی؟ مگر آج تک کسی نے ان کا نام نہیں لیا جن کے اجتماع اور تبلیغی جماعتیں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور دہشت گردی کا بہانہ بنتی ہیں۔ جن کے امام مسجد دہشت گردوں کے صحولت کار نکلتے ہیں۔ کیوں نہ تبلیغی اجتماع اور ان کی تبلیغی جماعتوں پر پابندی لگا دی جائے؟ یاد رہے کہ ہم یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ اجتماع والے ہی دہشت گرد ہیں۔ لیکن کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک مکتب فکر کی بنیاد پر ان میں سے بعض لوگ دہشت گردوں کے صحولت کار بنتے ہوں؟ اور ممکن کیا اب تو سرکاری بیانیے سے بھی یہ ثابت ہونے لگا ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*