سپاہ صحابہ کے تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں شیعہ نسل کشی پر جبران ناصر کی اچھی تقریر – عامر حسینی

سپاہ صحابہ کے تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں شیعہ نسل کشی پر جبران ناصر کی اچھی تقریر – عامر حسینی

Jibran-Nasir

جبران ناصر نے ایک اچھی تقریر کی اور بہت کھل کر سپاہ صحابہ کا نام لیکر اور اورنگ زیب فاروقی کا نام لیکر سانحہ شکار پور سمیت ملک میں شیعہ نسل کشی کے زمہ داروں کو بے نقاب کیا
سب سے زیادہ قابل ستائش بات یہ ہے کہ جبران ناصر نے اس تقریر کے دوران ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کو پہلی مرتبہ شیعی -سنی لڑائی یا اس کو کسی بیرونی پراکسی کا نتیجہ قرار نہیں دیا اور اس نے اس ملک کے اندر دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کو بے نقاب کیا جو شیعہ و صوفی نسل کشی کے زمہ دار ہیں

ناصر کی یہ تقریر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنے اوپر ماضی میں ہونے والی اس تنقید کو مثبت انداز میں لیا جب وہ پاکستان میں مذھبی دہشت گردی کی تشریح کرتے ہوئے اسے شیعہ -سنی لڑائی یا ایرانی -سعودی پراکسی وار کے طور پر بیان کررہا تھا ، اس نے نجا طور پر دیوبندی تکفیری دہشت گردی کے بارے میں جعلی لبرل و سیکولر کے دیوبندی تکفیری نواز ڈسکورس سے اپنے آپ کو الگ کیا ہے

گذشتہ دنوں حرا نقوی نے مجھے کہا کہ میں اپنے کلاس فیلو خالد نورانی جوکہ واضح طور پر سنی بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور سنی بریلوی سکالر ہیں کو کہوں کہ وہ جبران ناصر پر تنقید نہ کریں ، خالد نورانی نے صداے اہلسنت میں عاصمہ جہانگیر کی موقعہ پرستی کے خلاف ایک نوٹ لکھا تھا جس میں جبران ناصر پر تنقید کی تھی

میں سمجھتا ہوں کہ جبران ناصر کی نظر سے وہ تنقید بھی گزری ہوگی اور اسی کا ایک اثر ہے کہ جبران نے اورنگ زیب فاروقی کی جانب سے شیعہ سے سنی کو ھاتھ ملانے سے بھی روکنے کا دعوی کرنے پر اسے للکارا کہ وہ خود تنہا رہ جائے گا پاکستان میں سنی اور شیعہ میں کوئی دراڑ نہیں پڑے گی

میں ایل یو بی پی کے ایڈمن علی عباس تاج , اپنے دوست عبدل نیشاپوری سے کہتا ہوں کہ جبران کو وہ اپنی پوسٹس میں خراج تحسین پیش کریں کیونکہ سب سے زیادہ تنقید بھی ان کی جانب سے آئی تھی میں خالد نورانی ، مولانا وارث علی قادری سے کہتا ہوں کہ وہ سنی بریلوی لوگوں کی نمائیدگی کرتے ہوئے جبران ناصر کی اس تقریر کی تعریف کریں دیوبند مکتبہ فکر کے علمائے کرام اور سیاسی لیڈروں کے اندر سے جس دن دیوبندی تکفیری دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف پرزور آوازیں اٹھیں اور انہوں نے سپاہ صحابہ پاکستان ، جماعت الاحرار سمیت ساری دیوبندی دہشت گرد تنظیموں کے بارے کھل کر کہا کہ وہ تکفیری ، خارجی ، فسطائی اور قاتل تنظیمیں ہیں اور اپنے مدارس و مساجد میں منعقدہ جلسوں میں ان کے حامیوں کا داخلہ بند کیا تو ایسی آوازوں کا سب سے پہلے خیرمقدم میں کروں گا اور اگر ایل یو بی پاک نے ان آوازوں پر خیر مقدمی بلاگ نہ لکھے تو ان کی سب اے پہلے مذمت میں کروں گا اور یہ مان لوں گا کہ وہ واقعی متعصب بلاگ ہے

لیکن جب مجلس علمائے اسلام کے پلیٹ فارم پر ساری دیوبندی ملائیت سپاہ صحابہ پاکستان کے ساتھ بیٹھی ہو اور مولوی عبدالعزیز کا جامعہ حفصہ سمیت سپاہ صحابہ کے سارے مدارس کی رجسٹریشن وفاق المدارس ہو اور دہشت گردی و انتہا پسندی میں ملوث دیوبندی مدارس اور مولویوں کے خلاف ریاست کریک ڈاون کے خلاف پوری دیوبندی ملائیت بیا ن دے رہی ہو اور شیعہ ، صوفی سنیوں کے خون میں ھاتھ رنگنے والوں کی پھانسیوں کو شہادت کہاجارہا ہو تو ایسے میں دیوبندی ملائیت کو دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کے یا تو حامی یا انکے معذرت خواہ یا ان کے سہولت کار نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے ؟ یہ ہرگز فرقہ پرستی نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کسی کی ترقی پسندی پر کوئی حرف آتا ہے