جھوٹ کی پہلی سیڑھی – عمار کاظمی

جھوٹ کی پہلی سیڑھی – عمار کاظمی

cj-exposed-iv

دنیا بھر کے ساءینسدان ڈاکٹر سرطان کی قطعی وجوہات بتانے سے قاصر ہیں۔ شاید سروے رپورٹس کی بنیاد پر تمباکو نوشی کو پھیپھڑوں اور پان، گُٹکا، چھالیہ یا تمباکو چبانے کو منہ کے سرطان کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ پان گُٹکا کے بارے میں زیادہ علم نہیں کہ ہمارے خاندان یا میرے ارد گرد کے ماحول میں ایسے بہت کم لوگ مجھے ملے جو اس کے عادی ہوں۔ تاہم سگریٹ نوشی کی بُری لت مجھے چھٹی ساتویں جماعت میں ہی لگ گءی تھی۔ میرے زاتی مشاہدے مین کم از کم ایک درجن لوگ ایسے رہے جو ایک طویل مدت یعنی چالیس پچاس سال تک سگریٹ نوشی کے عادی رہے مگر انھوں نے اپنے ہم عصروں اور دس بیس سال کم عمر کے لوگوں کی نسبت کافی صحت مند زندگی بسر کی۔ ان میں سے کسی کی موت بھی کینسر یا کسی دل کی بیماری سے نہیں ہوءی۔ کچھ آج بھی زندہ ہیں۔ انہی میں سے ایک میرے بڑے ماموں ہیں جو پتا نہیں کب سے سگریٹ نوشی کے عادی ہیں مگر اللہ کے فضل سے نوے کا ھندسہ عبور کر چکے ہیں اور اپنے تمام چھوٹے بہن بھاءیوں کی نسبت بہتر حالت میں ہیں۔ صبح سویرے اُٹھ کر زمینوں کا چکر لگاتے ہیں۔ رات سات سے آٹھ بجے کے درمیان سو جاتے ہیں۔ دو یا تین وقت کے کھانے مین اکثر ایک روٹی سے زیادہ نہیں کھاتے۔ جبکہ ان سے آٹھ درجے چھوٹے بھاءی یعنی میرے سب سے چھوٹے ماموں گزشتہ کم و بیش سات آٹھ برس سے موٹاپے کی بیماری کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ جبکہ دو منجھلے ماموں اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں

واضح رہے کہ اس تمہید کا مقصد طبعی طور پر سگریٹ نوشی کو درست ثابت کرنا ہرگز نہیں ہے۔ تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے یہ بات درست ہو نہ ہو مگر یہ پیسے کا زیاں تو بحر حال ہر دو صورت میں ہے۔ دراصل اس ساری تفصیل و تمھید کا مقصد کچھ معاشرتی پہلووں پر توجہ دلوانا ہے۔

مجھے یہ کہنے میں کچھ عار محسوس نہیں ہوتا کہ کم عمری میں سگریٹ نوشی، جھوٹ سے نفرت اور اپنا آپ نہ چھپانے کی عادت کی وجہ سے میں نے خود کو ہمیشہ اپنے خاندان کے بدنام، ناپسندیدہ بچوں میں پایا۔ کسی کے بارے میں آج کچھ نہ کہوں گا لیکن “بد سے بدنام بُرا” اس حقیقت سے مجھ سے زیادہ کوءی واقف نہ ہوگا۔ یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ حقیقت صرف مجھ پہ مصداق نہیں جانے میرے جیسے اور کتنے ہزاروں لاکھوں نوجوان مجھے سے پہلے، میرے ساتھ اور شاید میرے بعد بھی انھی اندھے رویوں کا شکار بنتے رہیں گے۔ بزرگوں اور سماج کی کم فہمی اور آقبت نا اندیش رویے نسلوں کے بگاڑ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہی رویوں کے تابع اکثر دوست نو عمری میں سگریٹ چھپا کر پیتے اور مجھ پر معترض رہتے کہ تم بڑوں کے سامنے سگریٹ کیوں پیتے ہو؟ میں انھیں ہمیشہ کہتا کہ یار جھوٹ بولنے سے بہتر ہے کہ ان کے سامنے پی لیا جاءے۔

مگر وہ اس کے جواب مین فرماتے کہ نہیں بڑوں کا احترام لازم ہے۔ مگر میں ان کی اس منافقانہ تاویل سے کبھی قاءل نہ ہوا۔ آج چالیس برس سے اوپر کی عمر میں بھی یہی مانتا ہوں کہ ان کی وہ تاویل منافقت، خود سے چوری، اپنے بڑوں سے دھوکے اور جھوٹ کی پہلی سیڑھی جیسی تھی۔ ہمارا معاشرہ اور ہمارے بڑے ہمیں جھوٹ کی لت کیسے لگاتے ہیں اس کا اندازہ انہی چھوٹی چھوٹی باتوں اور مثالوں سے کیا جا سکتا ہے۔ حد تو تب ہوتی تھی جب بعض بزرگ بھی کسی نوجوان کی تعریف میں سینہ پھلا کر یہ کلمات کہہ ڈالتے تھے کہ “میں جانتا ہوں کے وہ سگریٹ پیتا ہے مگر میرے سامنے نہیں پیتا۔ دیکھا وہ کتنا فرمانبردار ہے۔ اُسے کس قدر بزرگوں کا احترام ہے۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ چھوٹے بڑے کا لحاظ کیے بغیر سب کے سامنے سگریٹ لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں”۔ شکر ہے کہ مجھے نہ کسی نے منافقت سکھاءی اور نہ میرے کسی بڑے نے اسے میرے سامنے رول ماڈل بنا کر پیش کیا۔ آج اگر امریکہ دنیا پر راج کر رہا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ مونیکا اور کلنٹن کے جنسی تعلقات جیسا گندہ سچ بھی بول لیتے ہیں بلکہ ان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ کم از کم اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بولتے۔ اس میں کوءی شک نہیں کہ ہمارے مذہب میں مشترکہ طور پر شراب حرام سمجھی جاتی ہے لیکن تمباکو نوشی کے بارے میں ہمارے اکثر لکیر کے فقیر علماء بھی خاموش رہتے ہیں۔ لہذا بعض ایسے لوگ بھی دیکھنے کو ملے جو شراب کو حرام سمجھ کر نہیں پیتے تھے مگر یہ کہہ کر چرس پی لیا کرتے تھے کہ یہ “درویشی دھواں” ہے۔ تاہم یہ لوگ اپنے طور پر رمضان میں چرس بھی چھوڑ دیا کرتے تھے۔ کبھی پوچھنا کہ باقی گیارہ ماہ تمھیں مذہب کیوں یاد نہیں آتا تو کہتے کہ احترام رمضان ضروری ہے۔

صبح صبح فیس بک پر ایک تصویر دیکھی جس میں افتخار چوہدری اپنے دو ساتھی ججوں کے ہمراہ شراب کا گلا ہاتھ میں تھامے بیٹھے ہیں۔ ایک جج کے ہاتھ میں شراب کی بوتل ہے۔ تصویر کافی جعلی محسوس ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کل کی تاریخ لکھنے والے منافق نہ ہوءے تو وہ میران نام افتخار چوہدری کے چند ابتداءی نقادوں میں ضرور لکھیں گے کہ جتنے تواتر اور حوالوں کے ساتھ میں نے ان پر تنقید کی شاید ہی کسی اور کالم نویس نے کی ہو۔ مجھے نہیں پتا کہ افتخار چوہدری یا کو ءی دوسرا شراب نوشی میں ملوث ہے یا نہیں۔ لیکن کیا اچھاءی اور براءی کو ماپنے کا یہی ایک پیمانہ رہ گیا ہے؟ جناب افتخار چوہدری نے جو اس ریاست میں قانون اور انصاف کے ساتھ ظلم و زیادتی کی کیا وہ ان کے شراب پینے سے چھوٹا جرم ہے؟ یقینا ان کے کسی بھی زاتی فعل کی نسبت ان کے یکطرفہ انصاف کے گناہوں کے اثرات جنرل ضیا کے گناہوں کی طرح اس سماج پر آءندہ کءی نسلوں تک اثرانداز ہوتے رہیں گے۔

تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ منافق سماج میں مذہبی بلیک میلنگ اسقدر مقبول اور حاوی ہو چکی ہے کہ غیر مذہبی لوگ بھی کسی ثابت شدہ شیطان اعلی کو قابل نفرت استعارہ بیان کرنے کے لیے فوٹو شاپ کا سہارا لے کر ہاتھ میں شراب کے گلاس تھما دیتے ہیں۔ جبکہ شراب اور سگریٹ سے دور بہت سے مولوی زنا اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ پتا نہیں ہم کسی کی اچھاءی براءی کا تعین شراب اور تمباکو نوشی سے کرنا کب چھوڑیں گے اور جھوٹ کی پہلی سیڑھی کو کب توڑیں گے۔


One response to “جھوٹ کی پہلی سیڑھی – عمار کاظمی”