علمی مباحث اور عام منطقی مغالطے ۔ خرم زکی

9155817c396cbdcd2f51d2146a75e0d4

کیوں کہ ہمارے بہت سارے دوست یہاں پر علمی اور منطقی گفتگو کے خواہشمند ہوتے ہیں اس لیئے سب کی آسانی و معلومات کے لیئے کچھ منطقی مغالطوں یعنی لاجیکل فیلیسیز کا ذکر مناسب رہے گا۔ منطقی مغالطوں سے مراد ایسے دلائل ہیں جو دیکھنے میں بظاہر خوشنما نظر آتے ہیں لیکن منطقی اعتبار سے ان میں جھول موجود ہوتا ہے۔

1۔Ad Hominem یعنی جب آپ کسی شخص کے دلائل کو علمی انداز میں رد کرنے کے بجائے اس کی ذاتیات پر حملہ شروع کر دیتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ اس شخص کے دلائل اس لیئے قابل قبول نہیں کیوں کہ اس شخص میں کوئی ذاتی خامی ہے۔ مثال کے طور پر :
“یہ دیکھو اصحاب رسول کی شان میں گستاخی کر رہا ہے”، “یہ دیکھو آئمہ کی شان گھٹا رہا ہے” “یہ نظریہ تو مقصروں کا ہے” وغیرہ وغیرہ

2۔ Fallacy of the Converse اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ اگر میں کہوں کہ:
بطخیں پرندوں کی قسم ہیں
بطخیں پانی میں تیرتی ہیں
مرغیاں بھی پرندوں کی قسم ہیں
اور ان ساری باتوں کا نتیجہ یہ نکالوں کہ:
مرغیاں بھی پانی میں تیرتی ہیں تو یہ ایک مغالطہ ہو گا۔ یعنی ہر بات کا برعکس ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔

3۔ Argumentum ab Auctoritate یعنی جب ہم کسی شخص کی بات کی سچائی کو اسی شخص کے قول سے ثابت کریں۔ مثال کے طور پر امام خمینی کے کسی نظریہ کو ثابت کرنے کے لیئے خود امام خمینی کا قول نقل کر دیں کہ یہ نظریہ صحیح ہے۔ علمی بحث میں کسی رائے کی اصابت کو خارجی دلائل سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ یعنی خود قران کی سچائی بھی خارجی دلائل سے ثابت ہو گی یعنی جیسا کہ قران نے چیلنج کیا کہ اگر اس کے کلام خدا ہونے میں شبہ ہو تو اس جیسی ایک سورہ بنا لاؤ۔ خود فقہا اپنی رائے کے پیچھے موجود دلائل کو فقہ استدلالی اور اپنے دروس خارج مین بیان کرتے ہیں۔

4۔ Argumentum ad Ignorantiam یہ بھی بہت ہی معروف مغالطہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چوں کہ کسی بات کا غلط ہونا یا اس کے برعکس کا درست ہونا ثابت نہیں ہوا اس لیئے اس بات کی سچائی پر ایمان لے آیا جائے۔ کئی دفعہ کسی بات کے اثبات کے حق میں کافی و شافی دلائل نہیں ہوتے لیکن اس کی سچائی کو ماننے پر زور دیا جاتا ہے کیوں کہ اس بات کی رد میں دلائل موجود نہیں ہوتے اور یہ صورتحال مذہبی مباحث میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔ منطقی اعتبار سے ایسی صورتحال کا اصل حل اس بات کے اعتراف میں ہوتا ہے کہ اس نظریہ کے اثبات یا تردید میں کافی شواہد موجود نہیں۔

5. Argumentum ad Populum or Bandwagon یہ مغالطہ بھی اکثر بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے یعنی چوں کہ اکثر فقہا یا اکثر ماہرین کی رائے یہ ہے اس لیئے یہ نظریہ بھی صحیح ہے، حالاں کہ نظریہ کی صحت و سقم کا اثبات اکثریت و اقلیت کا محتاج نہیں بلکہ خود نظریہ کے دلائل کا محتاج ہے۔ کسی قول کو صرف اس لیئے نہیں قبول کیا جا سکتا کیوں کہ وہ اکثریت کی رائے ہے اور نہ ہی کسی نظریہ کو محض اس لیئے رد کیا جا سکتا ہے کیوں کہ وہ کسی قلیل گروہ کی رائے ہے۔

6۔Argumentum ad Passiones اس مغالطے میں آپ کا زور مخالف کے دلائل کو رد کرنے کے بجائے مخالف کے جذبات کو ابھارنا ہوتا ہے، جیسا کہ آپ اکثر مذہبی مباحثوں میں دیکھتے ہیں کہ دلائل کا جواب دینے کے بجائے مخاطب کے جذبات سے کھیلا جا رہا ہوتا ہے، “یار اگر تمہاری بات صحیح ہو تو کیا تمہارے اور میرے آبا و اجداد سب غلط تھے کیا”، “اس بات کو مان لیں تو اس کا مطلب ہے کہ صحابی سے غلطی ہوئی، کیا تم سوچ بھی سکتے ہو کہ کوئی صحابی غلطی کرے گا، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ”، “اگر قمع زنی غلط ہوتی تو کیا فلاں مرجع اس کی کبھی اجازت دیتے ؟ کیا تم سوچ بھی سکتے ہو کہ اتنا بڑا عالم غلط بولے، کیا ہمارے بڑے بوڑھے جو یہ کام کرتے آ رہے ہیں سب غلط تھے؟”

ان کے علاوہ بھی منطقی مغالطوں کی کئی اقسام ہیں لیکن آج کے لیئے اتنا کافی ہے۔

 

Comments

comments

Latest Comments
  1. Umair
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*