کافر کافر میں بھی کافر کافر کافر تُو بھی کافر

کافر کافر میں بھی کافر کافر کافر تُو بھی کافر

جب اس ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی خبریں سنتا اور دیکھتا ہوں تو بہت دکھ ہوتا ہے۔کیا یہ وہی ملک ہے جس کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔قائد اعظم نے ہرگز ایسے پاکستان کا خواب نہیں دیکھا تھا جہاں اقلیتوں پر یہ مظالم ہوتے ہیں کہ ان کو زندہ جلادیا جاتا ہو۔یہ ملک اب مذہبی اقلیتوں کے لیئے دن بدن غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے۔نہ صرف اقلیتوں کے لیئے بلکہ اس ملک میں مسلمان کہلانے والے بھی غیر محفوظ ہیں۔کوئی دن اب ایسا نہیں جاتا ہے جب کسی نہ کسی کو مذہب کے نام پر قتل نہ کیا جاتا ہو۔اس ملک میں اب سب سے آسان کام یہ رہ گیا ہے کسی بیگناہ انسان کو موت کے گھاٹ اتارنا۔سو سو قتل کرنے والے قاتل نہ صرف آزاد گھومتے ہیں بلکہ ان کے لیئے حکومت وظیفہ کا بندوبست بھی کرتی ہے۔دوسری طرف روز کسی نا کسی بے قصور کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

عید الفطر سے ایک روز قبل گجرانوالہ میں ایک احمدی خاندان کو زندہ جلادیا گیا تھا جس میں سات سال کی ایک بچی تھی اورایک آٹھ ماہ کی بچی کائنات بھی تھی جس کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کا مذہب اور مسلک کیا ہے۔عید الاضحیٰ سے پہلے کوئٹہ میں ایک دھماکہ میں تین ہزارہ بچے شہید ہوگئے تھے جن کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کا جرم کیا ہے وہ تو خوشی خوشی عید کی خریداری کے لیئے بازار گئے تھے لیکن وحشی درندوں کی حیوانیت کا نشانہ بن گئے۔ پھر اس عشرہ عاشورہ میں کراچی کی نو مہینے کی  معصوم کلی بتول کو قتل کیا ،جس کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس کا نام کیا ہے  وہ ان وحشی درندوں کی حیوانیت کی بھینٹ چڑھ گئی۔اور پھر اس کے بعد کوئٹہ کی چھے سال کی ہزارہ بچی سحر، جس کو قتل کرنے سے قبل جنسی درندگی کا بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔کیا یہ واقعات ہمارے معاشرے کے لیئے ایک المیہ نہیں کہ معصوم بچے مذہب کے نام پر درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں اور اب ہم بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش رہیں یا صرف روایتی بیانات سے کام چلالیں۔
عاشورہ کے دن کوٹ رادھا کشن میں مسیحی میاں بیوی شہزاد اور شمع کو اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دیا گیا – دونوں کا قصور یہ تھا کہ دونوں میاں بیوی نے بھٹہ مالک کا رقم واپس کرنے سے متعلق مطالبہ مسترد کر دیا تھا – اور بھٹہ کے مالک نے اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیئے ان پر قرآن کے اوراق جلانے کا جھوٹا الزام لگادیا اور مسجد سے اعلان کروایا گیا کہ ایک عیسائی جوڑے نے قرآن کی توہین کی ہے-بس پھر کیا تھا پوراگاؤں اکٹھا ہوگیا اور دونوں مسیحی میاں بیوی کو زندہ جلا دیا – اس سارے واقعے میں پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے؟گوجرانوالہ میں جس احمدی ماں کو زندہ جلایا گیا وہ بھی حاملہ تھی اور کوٹ رادھا کشن کی شمع بھی ۔اس عورت کے پیٹ میں بھی ایک بچہ  تھا جس نے اس دنیا میں آنکھ بھی نہیں کھولی تھی اور وہ بچہ ان ظالموں کے ظلم کا نشانہ بن گیا اور اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی جل گیا۔ماں بننے کے خوبصورت احساس کو ایک بهیانک حقیقت میں بدل دیا گیا.جسم میں پلتی معصوم جان بهی آگ کے شعلوں کی نذر ہوگئی اور قرآن کی عزت بچ گئی۔ابھی اس واقعے کی بازگشت جاری تھی کہ گجرات میں ایک اور شخص کو توہین صحابہ کا جھوٹا الزام لگا کر قتل کردیا گیا۔یہ سب  وارداتیں اسلام کے نام پر کی گئیں۔بحثیت معاشرہ ہم تیزی سے جہالت کی پستیوں میں تیزی سے  گرتے جا رہے ہیں اور اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سے زیادہ پستی بھی ممکن ہے ؟ کیا اس بھی ذیادہ پستی کوئی ہوگی کہ صرف ذاتی دشمنی نکالنے کے لیئے کسی پر بھی توہین مذہب کا الزام لگا کر اس کو زندہ جلادو اور عوام صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے بغیر تحقیق اس کے ساتھ وہ درندگی کرے کہ ہلاکو اور چنگیز خان کی روح بھی شرماجائے؟بدقسمتی سے ہم ایسی قوم بن چکے ہیں جو سنی سنائی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور کوئی بات ثبوت کے ساتھ کی جائے تو اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔اس ملک میں اب اقلیتیں تو دور کی بات ہے مسلمانوں پر بھی دشمنی نکالنے کے لیئے توہین مذہب کا الزام لگا دیاجاتا ہے  ان الزامات میں زیادہ تر ذاتی رنجش اور چپقلش کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور زیادہ تر کیسز میں الزام لگتے ہی اس کو مشتعل ہجوم موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے اور اگر وہ اس سے بچ بھی جائے تو جیل میں کسی نہ کسی جنونی کے ہاتھوں قتل ہوجاتا ہے۔

جہاں عالم علم سے عاری ہے اور جرم انصاف پہ بھاری ہے 
اس دھرتی کو اس نگری کو میں ظلم کی نگری کہتا ہوں


اس جنونیت کو ہوا دینے میں سب سے گھناؤنا  کردار علماء سو کا ہے۔جس کی واضح مثال سلمان تاثیر کے قتل کا فتویٰ دینا اور بعد میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھنے اور افسوس نہ کرنے کا فتویٰ دینا ہے اور اس کے قاتل ممتاز قادری کی حمایت میں ریلیاں نکالنا ہے۔ان علماء سو نے اسلام کو غنڈہ گردی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ان کی جنونیت کا زہریلا پھن کئی بیگناہ انسانوں کو ڈس چکا ہے اور ان کا جب دل چاہتا ہے  کسی کے بھی خلاف فتویٰ دے دیتے ہیں جس کو جب اور جہاں جس کا جی چاہے قتل کرادیتے ہیں اور بعد میں اس قاتل کو ہیرو بنادیتے ہیں

قائد اعظم کا پاکستان تو محبت ،رواداری،مساوات،انصاف ،شخصی اور مذہبی آزادی ،روشنی ،ترقی ،علم وآگہی ، جدیدیت اورانسانی قدروں کا ترجمان تھا لیکن نفرتوں کے تصور کو اس عہد کے بدترین آمر جنرل ضیاءالحق نے اپنے مذموم مقاصد کے لیئے فروغ دیا۔اس ہی نے علماء سو اور نام نہاد جہادی عناصر پیدا کیئے اور ایسی دہشت گرد تنظمیوں کو فروغ دیا جو اب بھی مختلف مسالک کے درمیان نفرت کے بیج بورہے ہیں اور تنگ نظری ، مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی پھیلارہی ہیں۔انہی لوگوں نے نفرت کے کاروبار کو فروغ دیا ،مذہبی منافرت کو پھیلایا،مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت آمیز پروپیگنڈہ کیا اور غلیظ لٹریچرکی اشاعت کی۔ 
ضیاء الحق کے دور میں نصاب تعلیم میں تبدیلیاں کرکے درسی کتابوں میں نفرت انگیز لٹریچر ڈالا گیا جس کو پڑھ کر نئی نسل اب اقلیتوں کی وفاداری کو شک اور شبہ کی
نظر سے دیکھتی ہے۔

سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ضیاء الحق نے نفرتوں کا جو بیج بویا تھا اب وہ ایک تناآور درخت بن چکا ہے۔اس انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کرنے کے لیئے سب سے پہلے ہمیں ںصابی کتابوں میں تبدیلیاں کرنا پڑیں گی اور درسی کتابوں میں موجود اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز لٹریچر ختم کرنا ہوگا۔دوسرا علماء حق کو آگے آنا ہوگا۔علماء حق کا فریضہ بنتا ہے کہ اپنی تقاریر اور تحریروں کے زریعے  مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان اخوت اور محبتوں کو فروغ دیں اور مذہب کے نام پر قتل کرنے کی کھل کر مذمت کریں۔مختلف مسالک کے درمیان نفرتوں کو ختم کرنے لیئے ایک دوسرے کے پروگراموں میں شرکت کریں۔مثال کے طور سنی علماء عاشورے کے جلوس میں شرکت کریں اور شیعہ علماء ربیع اول کے جلوسوں میں۔مساجد کی کڑی نگرانی کی جائے اور نفرتیں پھیلانے والے علماء سو کو کڑٰی سزا دی جائے۔علماء سو پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ان کی تقاریر اور تحریروں پر مکمل پابندی ہو اور اگر یہ فساد کے مرتکب ہوں تو ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے.کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کو سو فیصد بند کیا جائے صرف ان پر پابندی لگانا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ کیوں کہ کالعدم تنظیمیں پابندی کے باوجود نام بدل کر کام کررہی ہیں۔ان تنظیموں کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے اور ان کے دہشت گردوں کو سر عام پھانسی دی جائے۔
ملک سے اگر نفرتوں کا خاتمہ کرنا ہے تو ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی آگے آنا ہوگا اور مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان بھائی چارے اور محبتوں کو فروغ دیں۔اس سلسلے میں ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین کا کردار قابل تحسین ہے جو ہمیشہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لیئے کوشاں رہتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ نفرت کی آگ جلاکر ہمارے پورے معاشرے کو بھسم کرڈالے۔ہمیں کچھ اقدامات کرنا ہونگے ورنہ اس ملک کا حال افغانستان سے بھی بدتر ہوگا۔
آخر میں میں اپنی تحریر کا اختتام ان اشعار پر کرتا ہوں۔

میں بھی کافر تُو بھی کافر

پھولوں کی خوشبو بھی کافر
لفظوں کا جادُو بھی کافر
یہ بھی کافر وہ بھی کافر
فیض بھی اور منٹو بھی کافر

نُور جہاں کا گانا کافر

مکدونلدز کا کھانا کافر
برگر کافر کوک بھی کافر
ہنسنا بدعت جوک بھی کافر

طبلہ کافر ڈھول بھی کافر

پیار بھرے دو بول بھی کافر
سُر بھی کافر تال بھی کافر
بھنگڑا، اتن، دھمال بھی کافر
دھادرا،ٹھمری،بھیرویں کافر
کافی اور خیال بھی کافر

وارث شاہ کی ہیر بھی کافر

چاہت کی زنجیر بھی کافر
زِندہ مُردہ پیر بھی کافر
نذر نیاز کی کھیر بھی کافر
بیٹے کا بستہ بھی کافر
بیٹی کی گُڑیا بھی کافر

ہنسنا رونا کُفر کا سودا

غم کافر خوشیاں بھی کافر
جینز بھی اور گٹار بھی کافر
ٹخنوں سے نیچے باندھو تو
اپنی یہ شلوار بھی کافر
فن بھی اور فنکار بھی کافر
جو میری دھمکی نہ چھاپیں
وہ سارے اخبار بھی کافر

یونیورسٹی کے اندر کافر

ڈارون بھائی کا بندر کافر
فرائڈ پڑھانے والے کافر
مارکس کے سب متوالے کافر
میلے ٹھیلے کُفر کا دھندہ
گانے باجے سارے پھندہ

مندر میں تو بُت ہوتا ہے

مسجد کا بھی حال بُرا ہے
کُچھ مسجد کے باہر کافر
کُچھ مسجد کے اندر کافر
مُسلم مُلک میں اکثر کافر

کافر کافر میں بھی کافر

کافر کافر تُو بھی کافر

 

1505476_1514011372179685_8659567758979696228_n
 
کوئٹہ کا معصوم بچہ الیاس جو فرقہ پرستوں کی درندگی کی
بھینٹ چڑھ گیا۔
یہ غزہ کی نہیں بلکہ کراچی کی  نو ماہ کی بچی بتول ہے جو مذہبی جنونیوں کی درندگی کا نشانہ بنی