عدالت صحابہ اور تکفیری خوارج کا باطل نظریہ۔ خرم زکی

آج اس تحریر میں ہم تکفیری خوارج کے معروف پراپیگینڈے “عدالت صحابہ” کا جائزہ آیات قران کی روشنی میں لیں گے۔ واضح رہے کہ تکفیری خوارج اور ان کے حامی و ہمنوا سب سے زیادہ اسی نظریہ کو مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے لیئے استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیئےقران کریم کی مختلف آیات کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان آیات سے بقول ان تکفیری خوارج کہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تمام اصحاب رسول سے راضی ہوگیا اور تمام اصحاب رسول اللہ سے راضی ہو گئے (رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ) اور جب اللہ نے اس بات کا اعلان کر دیا کہ اللہ تمام  اصحاب رسول سے راضی ہو گئےتو اب کسی امتی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اصحاب رسول پرتنقید کر سکے یا ان کے کسی فعل پر لعن طعن کر سکے۔
اس نظریہ کے اثبات کے ضمن میں یہ تکفیری خوارج مندرجہ ذیل آیات قران سے استدلال کرتے ہیں

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿التوبة: ١٠٠﴾

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴿الفتح: ٢٩﴾ 

لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ﴿الفتح: ١٨

بنیادی طور پر یہی وہ تین آیات قرانی ہیں جن سے تکفیری خوارج یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اللہ تمام صحابہ سے راضی ہو چکا اور اب یہ ہمارا کام نہیں کہ ان کے آپس کے جھگڑوں میں ہم حکم بننے کی کوشش کریں۔

گو اگر ان تینوں آیات کے مخاطب تمام اصحاب رسول ہوتے تب بھی اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ صحابہ کو گناہوں کی چھٹی مل گئی مگر اس سے بھی پہلے کی بات یہ ہے کہ آیا ایسا ہی ہے کہ ان آیات میں تمام اصحاب رسول کو رضوان خدا کی خوشخبری دی گئی ہے جیسا کہ یہ تکفیری دہشتگرد دعوی کرتے ہیں یا پھر ان آیات سے ایسا استدلال باطل محض ہے ؟ آیئے اس سوال کا جواب انہی آیات قران کی روشنی میں لیتے ہیں جن سے یہ تکفیری خوارج استدلال کرتے ہیں 

پہلی آیت کا ترجمہ
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

جو شخص بھی عربی زبان سے معمولی سی بھی واقفیت رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ “من” کلمہ تبعیض ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تمام مہاجرین و انصار کی بات نہیں ہو رہی بلکہ مہاجرین و انصار میں سے جو سابقون الاولون ہیں صرف ان کے لیئے ہی رضوان کی بشارت ہے، اگر یہ بشارت تمام مہاجرین کے لیئے ہوتی تو نہ ہی کلمہ تبعیض کی ضرورت ہوتی نہ ہی السابقون اور اولون سے اس کو مشروط و محدود کرنے کی کوئی تک۔ 

دوسری آیت کا ترجم 
محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

اس آیت کے الفاظ و ترجمے پر بھی اگر غور کیا جائے تو وہی صورت واضح ہو گی جو پچھلی آیت کی تھی یعنی اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ تمام اصحاب سے نہیں کیا بلکہ صرف ان صحابہ کرام سے کیا ہے جو ان میں سے ایمان پر باقی و عمل صالح کرتے رہیں۔یہاں اس آیت میں بھی وہی لفظ “منھم” استعمال ہوا ہے جو کہ کلمہ تبعیض ہے یعنی بعض اصحاب سے یہ وعدہ ہے نہ کہ تمام اصحاب سے اسی وجہ سے اس کو مشروط کر دیا ہے ایمان و عمل صالح کرتے رہنے سے یعنی استمرار سے۔ گویا اس آیت میں بھی تمام اصحاب کا ذکر نہیں۔

اب آ جائیں تیسری آیت کے ترجمے پر
(اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

اگر غور سے اس آیت کریمہ پر غور کیا جائے تو واضح ہو گا کہ پچھلی آیتوں کی طرح اس آیت میں بھی خدا کی خوشنودی اور رضوان کو رسول ﷲ کی بیعت سے مشروط کیا گیا ہے۔ اور اس بات پر دلیل اسی سورہ کی پچھلی آیت ہے

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا [الفتح:١٠]

جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا

اس آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کی رضوان بیعت سے وفاداری سے مشروط ہے، جو بیعت پورا کرے گا اس کے لیئے اجر عظیم ہے اور جو اس بیعت کو توڑ دے تو اس کے لیئے نقصان ہے۔ گویا ایسا نہیں کہ ہر صحابی کے لیئے اعلان رضوان ہے بلکہ اﷲ کی خوشنودی صرف ان صحابہ کے لیئے ہے جو بیعت سے وفاداری نبھاتے ہیں۔

آخر میں عدالت صحابہ کے اس نظریہ کے بطلان کے لیئے میں صحیح بخاری سے وہ روایت پیش کرتا ہوں جس سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ہرگز ہرگز تمام صحابہ عادل نہ تھے بلکہ ایسے اصحاب بھی تھے جو رسول اﷲ کی وفات کے بعد منحرف اور مرتد ہو گئے اور دین میں ان چیزوں کو داخل کرنے کے مرتکب ہوئے جو دین کا حصہ نہ تھیں۔

حدثنا سليمان بن حرب حدثنا شعبة عن المغيرة بن النعمان شيخ من النخع عن سعيد بن جبير عن ابن عباس – رضى الله عنهما – قال خطب النبى – صلى الله عليه وسلم – فقال « إنكم محشورون إلى الله حفاة عراة غرلا ( كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين ) ثم إن أول من يكسى يوم القيامة إبراهيم ، ألا إنه يجاء برجال من أمتى ، فيؤخذ بهم ذات الشمال ، فأقول يا رب أصحابى فيقال لا تدرى ما أحدثوا بعدك فأقول كما قال العبد الصالح ( وكنت عليهم شهيدا ما دمت ) إلى قوله ( شهيد ) فيقال إن هؤلاء لم يزالوا مرتدين على أعقابهم منذ فارقتهم

باب ( كما بدأنا أول خلق )سورة الأنبياءصحيح البخارى

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ بن نعمان نے جو نخعی قبیلہ کا ایک بوڑھا تھا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا۔ فرمایا تم قیامت کے دن اللہ کے سامنے ننگے پاؤں ننگے بدن بے ختنہ حشر کئے جاؤ گے جیسا کہ ارشا د باری ہے کما بدانا اول خلق نعیدہ وعدا علینا انا کنا فاعلین پھر سب سے پہلے قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ سن لو! میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے فرشتے ان کو پکڑ کر بائیں طرف والے دوزخیوں میں لے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا پر وردگار! یہ تو میرے اصحاب ہیں۔ ارشاد ہو گا تم نہیں جانتے انہوں نے تمہاری وفات کے بعد کیا کیا کر توت کئے ہیں۔ اس وقت میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں جب تک ان لوگوں میں رہا ان کا حال دیکھتا رہا آخر آیت تک۔ ارشاد ہو گا یہ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل اسلام سے پھر گئے جب تو ان سے جدا ہوا۔


اب ان آیات قران و حدیث رسول کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ تمام صحابہ عادل تھے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

 

Comments

comments

Latest Comments
  1. محمد شمائل شاہد
    Reply -
  2. Mujeeb
    Reply -
  3. Shah faisal
    Reply -
  4. ahsan
    Reply -
  5. nomi
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*