پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ لاہور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پنجاب میں سیاست کے خدوخال متعین کرگیا

pti meeting lahore minar e pakistan

پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ لاہور  -عامر حسینی 

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اتوار 28 ستمبر 2014ء کو لاہور میں مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا گيا اور غیر جانبدار زرایع کے مطابق دو لاکھ جبکہ پولیس کے زرایع کے مطابق ایک لاکھ اور پاکستان تحریک انصاف کے مطابق 3 لاکھ لوگ اس جلسہ میں شریک تھے
پنجاب کا دارالحکومت لاہور پاکستان مسلم لیگ نواز کا گڑھ خیال کیا جاتا ہے اور خود مسلم لیگ نواز بھی 2008ء سے لیکر 2012ء تک اپنے دور اقتدار کے باوجود مینار پاکستان پر اس طرح کا پاور شو نہیں کرسکی جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے یہ پاور شو ایسے موقعہ پر کیا جب پارلیمنٹ میں بیٹھی ہوئی تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف کھڑی ہیں ، سول سوسائٹی کے نام پر بڑے ، بڑے مقام اور مرتبے کو انجوائے کرنے والے نام اس کے خلاف ہیں اور “لندن سازش ” کے نام پر بہت زیادہ پروپیگںڈا بھی کیا جارہا ہے
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کراچی کے بعد لاہور میں سیاسی پاور شو کا خاصہ یہ ہے کہ اس مرتبہ اس کے ان سیاسی جلسوں میں مقررین اور سٹیج سیکرٹری بار بار تین نعرے لگاتے رہے
نعرہ تکبیر ۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبّر
نعرہ رسالت ۔۔۔۔۔ یا رسول اللہ
نعرہ حیدری ۔۔۔۔۔۔ یا علی
اور پنڈال میں کئی اور ترانوں اور گیتوں کے علاوہ لعل شہباز قلندر کی منقبت چلتی رہی جس میں ٹیپ کا فقرہ ہے
علی دا پہلا نمبر
دما دم مست قلندر
پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک کے شروع ہونے سے لیکر ابتک کے سفر کا جائزہ لیا جائے تو یہ پتہ چلانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی کہ اس نے پاکستان کے ثقافتی سیاسی کلچر بارے بتدریج آگاہی کا سفر طے کیا ہے اور آہستہ آہستہ وہ اپنے امیج کے بارے میں بہتری لانے کی طرف گامزن ہے
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا تحریک طالبان پاکستان سمیت ان تمام تنظیموں کے بارے میں اب موقف پہلے والا نظر نہیں آرہا جو ہمیں پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم اور بعد میں پاکستان کے اندر وزیرستان میں فوجی آپریشن کے حوالے سے چلنے والی بحث کے دوران اختیار کیا تھا
عمران خان کی جانب سے سپاہ صحابہ پاکستان ، لشکر جھنگوی وغیرہ کی جانب سے شیعہ ، صوفی سنّیوں کی ٹارگٹ کلنگ پر کافی حد تک واضح موقف نظر آنے لگا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس ملک کی اکثریتی آبادی صوفی سنّی ، شیعہ اور دیگر مذھبی اقلیتوں کی خواہشات اور ان کی حالت زار پر زمینی حقائق کے مطابق موقف اپنانے کا احساس کرنے لگی ہے
پاکستان تحریک انصاف ایک عوامی پارٹی ہے جس کے حامیوں کی زیادہ تر تعداد شہری ، نیم شہری اور دیہی متوسط طبقات سے تعلق رکھتی ہے اور وہ بھی سب سے زیادہ پنجاب ، پھر خیبر پختون خوا اور اس کے بعد کراچی میں اس کے حامی کافی بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں اور اس کی جو پروفیشنل مڈل کلاس ہے وہ کافی حد کنزرویٹو پس منظر سے آئی ہے جو بہرحال ” دھشت گردی کے خلاف جنگ ” بارے وہ موقف رکھتی ہے جو کہیں نہ کہیں پاکستان میں جماعت اسلامی جیسی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ جاملتا ہے اور اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف ابھی تک سیاست میں سنٹر رائٹ پوزیشن میں کھڑی ہے
عمران خان کی جانب سے ” جنگ ” بارے جن خیالات کا آظہار لاہور کے جلسے میں ہوا اور اس سے پہلے بھی انہوں نے کئی جلسوں میں کیا وہ مغرب کے اندر موجود کسی حد تک ” جنگ مخالف تحریک ” سے متاثر ہے جو مغرب کے اندر بایاں بازو ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سنٹر رائٹ اسلام پسند تںطیموں کی جانب سے چلائی جارہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نئے ورلڈ آڈر کے تحت بنائی جانے والی پالیسیوں کے بارے میں ایک مضبوط نکتہ نظر یہ موجود ہے کہ تیسری دنیا میں اس وقت دھشت گردی اور جنگ کے مہیب سائے امریکی پالیسیوں کی وجہ سے چھائے ہوئے ہيں
اگرچہ عمران خان ” جنگ مخالف ” نظریات کے اظہار کے دوران اپنا جھکاؤ سنٹر رائٹ اسلامسٹ پوزیشن کی طرف شو کرتا ہے اور اس کی سامراجیت پر تنقید سنٹر لیفٹ کی پوزیشن کے ساتھ نہیں ہے اور فار لیفٹ والی پوزیشن کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے
عمران خان کی اصلاح پسند سیاست میں سنٹر لیفٹ پوزیشن کا اظہار اس وقت دکھائی دیتا ہے جب وہ یا پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اعجاز چودھری اس حوالے سے مزدوروں اور کسانوں کے ایشوز پر بات کرتے ہیں اور اعجاز چودھری جن کی سیاست کا آغاز اسلامی جمعیت طلباء اور جماعت اسلامی سے ہوا وہ پی پی پی کے 70 ء کی دھائی کے سوشلسٹ کیمپ کی طرح کی لائن لیتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے اندر وہ ورکرز کی سیاست اور مزدوروں و کسانوں ، طالب علموں کی سیاست کا پرچم ویسے ہی بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسے یہ پرچم ایک زمانے میں پی پی پی کے اندر بابائے سوشلزم شیخ رشید احمد نے اٹھا رکھا تھا
پاکستان تحریک انصاف پاپولسٹ سیاست کررہی ہے جس میں سنٹر رائٹ ، سنٹر لیفٹ دونوں طرح کی پوزیشنوں کو آختیار کرنے کے مظاہر نظر آرہے ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی اور چند لیفٹ گروپوں کے اتحاد سے تشکیل پانے والی عوامی ورکرز پارٹی ، اے این پی ، بلوچستان نیشنل پارٹی کی قیادت اور ان کی ہمدرد دانشور پرتیں پاکستان تحریک انصاف کو مکمل طور پر سنٹر رائٹ کی پارٹی کے طور پر پیش کررہے ہیں اور ان کی جانب سے اس حوالے سے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس پارٹی کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کی حمائت کی جاتی رہی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک آرٹیکل میں بھی اس حوالے سے لکھا ہے کہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے ہمدردوں اور کارکنوں کو جو پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور کسی اور پارٹی میں شامل ہونے کا سوچ رہے ہیں تو وہ ایسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہ کریں جو جمہوریت کی دشمن ہو اور انتہا پسندی کی حمائت کرتی ہو
ان کا اشارہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ان ہمدروں اور کارکنوں کی جانب ہے جو پنجاب اور خیبر پختون خوا سے زیادہ تر تعلق رکھتے ہیں اور پی پی پی کی جمہوریت کے نام پر نواز شریف بچاؤ پالیسی سے سخت نالاں ہیں
لیکن بلاول بھٹو زرداری ان کارکنوں کو پاکستان تحریک انصاف کا سنٹر رائٹ امیج بتلا کر انھیں اس پارٹی میں جانے سے روک رہے ہیں تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انتہا پسندی ، دھشت گردی اور تکفیریت کی حمائت کرنے میں جتنا ریکارڑ پاکستان مسلم لیگ نواز کا خراب ہے اتنا کسی پارٹی کا نہیں ہے اور نواز – شہباز کے رشتے ، تعلقات اور اتحاد و سرپرستی تکفیری دھشت گردوں کی کوئی راز نہیں ہے اور اس کی سعودی نواز پالیسیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ، ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کا نواز شریف کی بجائے عمران خان کی اپوزیشن کرنے پر زور کارکنوں کو مزید مایوسی کے سمندر میں ڈبونے کے مترادف ہے
پاکستان تحریک انصاف کی چند ایک سنٹر رائٹ پوزیشن اس وقت سنٹر لیفٹ میں بدل سکتی ہیں جب اس پارٹی کے اندر موجود سنٹر لیفٹ کے کارکن اپنی کوششیں مزید تیز کریں اور اس پارٹی سے باہر لیفٹ کے دانشور اور سیاسی کارکن جمہوریت اور پارلیمنٹ کے بچآؤ کے نام پر پرو نواز سیاست کی حوصلہ شکنی کریں
پاکستان تحریک انصاف کے جئیرمین عمران خان کی جانب سے پاکستان کی عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا گیا ہے اور ان کی جانب سے اقرباء پروری ، لوٹ مار ، بدعنوانی ، فیورٹ ازم ، ٹیکس چوری کا کلچر ، وی وی آئی پی پروٹوکول رجحانات اور عوام کو ریاست کی جانب سے تعلیم ، صحت ، رہائش اور بہتر ماحول فراہم کرنے سے گریز جیسے ایشوز پر بار بار آواز اٹھانا ایک ایسی سیاست ہے جس سے گریز کرنا عوام میں اپنی ساکھ کھونے کے مترادف ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ اس نے پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور اس کے حامی جاگيردار ، سرمایہ دار ، موقعہ پرست نوکر شاہی کے دباؤ میں آکر 1988ء سے جس سمجھوتہ باز کلچر کو اپنایا تھا اس کی بدترین شکل نام نہاد ” سیاسی مفاہمت ” کو وہ گلے کا ہار بناکر بیٹھی ہوئی ہے اور عوامی خواہشات کا گلہ گھوٹنے میں مصروف ہے
ضیاء الحق کی سیاست کے خرقے کو پی پی پی کے جھنڈے کے تین رنگوں میں رنگنے کے باوجود یہ خرقہ پی پی پی کے جیالوں کے گلے کا پھندہ بنا ہوا ہے اور پی پی پی کا ترقی پسند فلسفہ اور نعرے اس خرقے کی تنگ دامنی کے اندر اٹک اٹک کر سانس لے رہے ہیں
پی پی پی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کی اقتداء کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری پی پی پی کے ریڈیکل سیاسی ورثے کو کباڑ خانے میں ڈال کر پی پی پی کی سیاست کو وینٹی لیٹر پر ڈال چکے ہيں اور اسے آئی سی یو سے باہر نہ لانے پر مصر ہیں
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف اگر بدستور سیاسی میدان میں نواز شریف اینڈ کمپنی کی حقیقی اپوزیشن بنکر سیاسی حمائت کا دائرہ وسیع کررہی ہے تو اس کی وجہ خود پی پی پی سمیت سنٹر لیفٹ اور لبرل سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کے نام پر سٹیٹس کو کی سیاست کی حمائت ہے اور جتنی دیر اس حقیقت کو سمجھنے میں کی جائے گی اتنا ہی دائرہ سکڑتا چلا جائے گا

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*