پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج کی شہادت اور تکفیری اساتذہ و مدرسہ کا کردار – خرم زکی
posted by Agahii | September 20, 2014 | In Featured, Original Articlesپروفیسر ڈاکٹر شکیل اوج کو خانہ فرہنگ ایران جاتے ہوۓ شہید کر دیا گیا. پروفیسر شکیل اوج جامعہ کراچی کے کلیہ اسلامی علوم کے رئیس تھے اور خانہ فرہنگ ایران اپنے اعزاز میں رکھے گئ ایک تقریب میں شرکت کے لیۓ جا رہے تھے. جب ان کی گاڑی گلشن اقبال میں واقع دار العلوم کورنگی سے منسلک ایک مسجد بیت المکرم کے نزدیک پہنچی تو ان پر موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے گولیوں کو بوچھاڑ کر دی، ان کو نزدیکی آغا خان اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے، گاڑی میں ان کے ایک ساتھی استاد پروفیسر طاہر مسعود بھی موجود تھے لیکن وہ فائرنگ سے بالکل محفوظ رہے. واضح تھا کہ ڈاکٹر شکیل اوج،ہلال امتیاز، کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے
پروفیسر شکیل اوج کا تعلق بریلوی سنی مسلک سے تھا اور آپ تصوف کی طرف بھی مائل تھے. آپ انقلاب اسلامی ایران کے بانی امام خمینی سے بڑی گہری قلبی عقیدت و وابستگی رکھتے تھے گو خود پاکستان میں کسی تھیوکریٹک حکومت کے حامی نہیں تھے. بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہو گا کہ پروفیسر ڈاکٹر شکیل اوج ایک عرصہ تک ڈاکٹر طاہر القادری کی تنظیم منہاج القرآن سے بھی وابستہ رہے ہیں اور نہ صرف ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسوں میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض انجام دیتے رہے بلکہ بیرون ملک منہاج القرآن کی تنظیم سازی میں بھی مدد کر چکے ہیں. پروفیسر شکیل اوج اپنے علمی منہج کے اعتبار سے تفسیر قرآن بالقرآن کی طرف مائل تھے اور کسی خاص مسلک و فرقہ کے لیۓ کوئی عصبیت یا نفرت نہیں رکھتے تھے. آپ فقہی امور میں روایت پسندی کے بجاۓ لبرل اپروچ رکھتے جیسے کہ ایک نشست میں تین طلاق کے حوالے سے آپ کا نظریہ فقہ جعفری کے قریب تھا یا مسلمان خاتون کے اہل کتاب مرد سے ازدواج کے بارے میں آپ کا نظریہ جمہور کی راۓ سے بالکل منفرد تھا. ڈاکٹر صاحب فقہی اور مذھبی میدان میں روایت پسندی اور قدامت پسندی سے ایک علمی و عقلی جنگ لڑ رہے تھے. آپ فرقہ وارانہ تفریق اور عصبیت کے شدید مخالف تھے اور سنی اور شیعہ مسلمانوں کی وحدت و بھائی چارہ کے نہ صرف خود سختی سے قائل تھے بلکہ اس کا سر عام پرچار بھی کرتے تھے
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس بات کا سراغ ملا ہے کہ شہید استاد شکیل اوج کے خلاف دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے کچھ مولوی حضرات اور پروفیسرز سرگرم تھے اور ان کے خلاف مفتی رفیع عثمانی سے منسوب ایک فتوے پر مبنی ایس ایم ایس مہم بھی چلائی گئے جس میں ان کو واجب القتل قرار دیا گیا تھا – دیوبندی علما اپنے مسلک میں پھیلنے والی تکفیری دہشت گردی کی روش سے بری الزمہ نہیں
Khurram Zaki said:
حضرت محمد بن ابی بکر رضی الله عنہ کے خلاف جو قتل کا خفیہ حکم جاری کیا گیا تھا بعد میں اس کی بھی تردید کر دی گئی تھی، یہ اور بات ہے کہ حکم نامے پر مہر خلیفہ وقت ہی کی تھی اور اس حقیقت کی کوئی تردید نہیں کی جا سکی تھی. سوال یہ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر حافظ شکیل اوج کے خلاف فتویٰ کس مدرسہ کے لیٹر ہیڈ پر جاری ہوا ؟ کس مدرسہ کی مہر لگی تھی ؟ اور جس وقت یہ فتویٰ ایس ایم ایس پر گردش کر رہا تھا، جس وقت ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل کی کھلی مہم چلائی جا رہی تھی اس وقت کیوں نہیں ایک اخباری بیان جاری کر کے مفتی رفیع عثمانی نے اس “جھوٹے فتویٰ” کی تردید ضروری سمجھی ؟ آج بعد از قتل یہ ڈرامہ بازی کیوں کی جا رہی ہے ؟
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہاۓ اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
Abdul Nishapuri said:
Rafi Usmani is a compulsive liar and a coward.
https://twitter.com/AbdulNishapuri/status/513437969295114240/photo/1
Khurram Zaki said:
Just coming back from the funeral of late Prof. Dr. Muhammad Shakil Auj. It is pretty much clear that takfiri kharijite terrorist organization ASS/ASWJ/LeJ targeted this man for his open, liberal and non-sectarian views (especially his frequent academic and intellectual contacts with Iranian culture center) on open incitement from his own colleagues like Dr Abdul Rashid and Dr Shahnaz Ghazi who are openly sympathetic to the takfiri agenda of Deobandi sectarian terrorist outfits like Anjuman Sipah Sahaba (also known as ASWJ) and Lashkar-e-Jhangvi. Dr Abdul Rashid ran an SMS campaign and solicited some fatwa against late Dr. Shakil Auj on blasphemy charges from Darul Uloom Korangi. We demand Vice Chancellor and Governor of Sindh to get rid of such takfiri elements from the faculty of University of Karachi who are openly promoting hatred and violence against other school of thoughts not conforming to their own extremist and sectarian mindset.
انجمن سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے تکفیری خارجی دہشتگردوں کے ہاتھوں ایک اور بریلوی سنی صوفی اسکالر کا قتل. ڈاکٹر شکیل اوج کے خلاف ایک دیوبندی تکفیری مدرسے نے واجب القتل ہونے کا فتویٰ جاری کیا تھا اور ایس ایم ایس کے ذریعہ اس پیغام کو عام بھی کیا گیا تھا. اس طرح ان دیوبندی تکفیری خوارج کا یہ پروپیگنڈہ بھی باطل ہو گیا کہ اس دہشتگردی کا توہین صحابہ سے کوئی دور کا بھی تعلق ہے. انجمن سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے یہ دیوبندی تکفیری خارجی دہشتگرد شیعہ اور سنی دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں اور یہ ہر اس مسلمان کی جان لینا جائز اور مباح سمجھتے ہیں جو ان کے اسلام دشمن، انسانیت دشمن اور درندگی پر مبنی افکار سے اختلاف کرتا ہو. اگر مسلمان اس تکفیری فتنہ کے خلاف کھڑے نہیں ہوۓ تو پھر کوئی گھر بھی ان کی لگائی ہوئی آگ سے محفوظ نہیں رہ سکے گا.
جس دیوبندی مدرسے, دارالعلوم کورنگی، مہتمم مفتی رفیع عثمانی، نے ڈاکٹر شکیل اوج کے خلاف واجب القتل ہونے کا فتویٰ جاری کیا تھا اور اس پیغام کو ایس ایم ایس کے ذریعہ عام بھی کیا گیا تھا، اس دیوبندی تکفیری مدرسہ کے مہتمم کو سر عام پھانسی پر چڑھایا جاۓ اور ایسے تمام دیوبندی مدارس پر فوری پابندی لگائی جاۓ جو معاشرے میں دہشتگردی، فرقہ واریت اور تکفیری خارجی فکر کو پروان چڑھا رہے ہیں.