جماعت اسلامی اور سپاہ صحابہ کا پاکستان کے شیعہ سنی بریلوی مسلمانوں کے خلاف اتحاد

10614365_941324472551054_7099426874372137321_n-vert

سراج الحق کے امیر جماعت اسلامی منتخب ہونے پر جہاں ان کو باقی تمام علما کی جانب سے مبارک بادی کے پیغامات بھیجے گیے تھے ان میں سے چند ایک سنی بریلوی علما اور شیعہ علما کی جانب سے بھی اس خواہش کے اظہار کے ساتھ بھیجے گیے تھے کہ سراج الحق کی سربراہی میں جماعت اسلامی منور حسن کی روش کے بر خلاف شیعہ سنی مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کی کوششوں پر زور دیتے ہوے تکفیری عناصر سے دور رہے گی – لیکن افسوس کہ جماعت اسلامی میں ابھی تک دیوبندی تکفیری عناصر کے بارے میں ہمدردی اور حمایت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے

d8b3d8b1d8a7d8ac-d988-d984d8afdabed8a7d986d988db8c-d8a7daa9d9b9dabedb92 10626504_940890202594481_4901491983804482619_n BwbdEQ9CEAAacG0-vert BwY4kG_CcAAPrLP-vert

10420076_941374632546038_5462823873903907169_n

آج سے کچھ روز قبل لدھیانوی تکفیری دیوبندی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں سراج الحق کے متمد خاص معراج الہدا صدیقی نے یہ انکشاف کیا تھا یہ ملاقات اچانک اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہوئی تھی – لیکن گزشتہ روز سراج الحق کے دورہ جھنگ کے موقعہ پر ان کا محمودیہ مسجد کا دورہ جو جھنگ میں تکفیری دہشت گردی کا مرکز ہے اور وہاں پاکستان کے ہزاروں شیعہ سنی بریلوی عوام کے قتل لدھیانوی سے ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی تکفیریت کی روش سے کسی صورت واپس آنے کو تیار نہیں ہے –

پاکستان کے شیعہ سنی بریلوی عوام میں جماعت اسلامی کی اس منافقت کے بارے میں شدید تحفظات پاے جاتے ہیں اور پاکستان کے شیعہ سنی اپنے قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہونے والے سراج الحق کو بھی اپنا قاتل خیال کرتے ہیں

یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ جب بھی پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کسی جماعت یا مسلک نے کوئی جد و جہد شروع کی ہے جماعت اسلامی ہمیشہ سے ان دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی نظر آی ہے – ماضی قریب میں بھی جماعت اسلامی نے طالبان کی حمایت میں تمام شیعہ سنی جماتوں کے خلاف جاتے ہوے اندھا دھند حمایت کا سلسلہ جاری رکھا اور جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر منور حسن تو اس حد تک چلے گیے کہ انہوں نے طالبان کو شہید تک کہہ ڈالا

اگر سراج الحق صاحب بھی اسی روش پر گامزن رہنا چاہتے ہیں تو انھیں بہت جلد شیعہ سنی بریلوی مسلمانوں کی جانب سے صاف پیغام مل سکتا ہے جس میں انکو اور ان کی جماعت سے قطع تعلق کرنے کا اعلان سامنے آ سکتا ہے – جیسے سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی اس وقت عملی طور پر تنہا ہو چکی ہے ویسے ہی سیاسی اور سماجی تنہائی جماعت اسلامی کا مقدر ٹھہرے گی

جہاں ایک جانب تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں شیعہ نسل کشی جاری ہے وہاں دوسری جانب دیوبندی جماعت اسلامی کی دیوبندی سپاہ سحاب سے اتحاد پر پاکستان کی دوسری سیاسی جماعتوں کی خاموشی بھی کیی سوالات کو جنم دیتی ہے – آے روز پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے لیکن وفاقی و صوبائی حکومتیں بے حسی سے یہ سب دیکھ رہی ہیں اور تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی – اسی بارے میں رضوی صاحب نے اپنے کرب کا اظہار کن الفاظ میں کیا وہ قارئین کے لئے پیش ہیں

BxMivY6IcAAfeJ4

Comments

comments

Latest Comments
  1. efwefewrfew
    -