آصف علی زرداری کونسی سیاسی مفاہمت کے خالق ہیں ؟ – از عامر حسینی

آصف علی زرداری کونسی سیاسی مفاہمت کے خالق ہیں ؟ – از عامر حسینی

index

آصف علی زرداری کل دوپہر کو جاتی عمرا(جسے جاتی امراء کہنا زیادہ ٹھیک ہے)کے ان محلات کے مکینوں سے ملنے گئے جن کی تعمیر میں استعمال صرف اینٹ ،پتھر ،سنگ مرمر اور دیگر مصالحہ نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے محنت کشوں کی محنت کی لوٹ اور ان کے خون پیسنے کی کمائی کو چوری کرکے بنایا جانے والا سرمایہ بھی شامل تھا

وہ انتخابات کے بعد سے ان کے بقول سیاست نہیں کررہے اور اس کی وجہ ان کے ںزدیک پاکستان کے حالات ہیں کہ ایک طرف طالبان ہیں ،دوسری طرف عالمی حالات ہیں جو ان کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور اسی لیے وہ ایک ایسی پارلیمنٹ اور ایک ایسی حکومت کے دفاع پر مجبور ہیں جس کا کا وجود دھاندلی کی پیداوار ہے جو ان کے بقول ایک ایسے الیکشن کے زریعے وجود میں آئی جو ریٹرننگ آفیسرز کا الیکشن تھا

وہ کہتے ہیں کہ “بی بی صاحبہ دھاندلی کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پارلیمنٹ میں بیٹھی تھیں اور انھوں نے نواز شریف کو وزیر اعظم مان لیا تھا”میں ان کے اس بیان کو تب سچ مان لیتا جب وہ سارا دور میری نظر میں نہ ہوتا ،بے نظیر بھٹو نے 17 نشستوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا فیصلہ لازمی کیا تھا لیکن یہ وہ وقت تھا جب ملک کی کوئی ایک بھی پارٹی پی پی پی کا ساتھ نواز شریف کے خلاف دینے کو تیار نہ تھی ،فوج اور عدالتیں میاں نواز شریف کے ساتھ تھیں ،پی پی پی کا بدترین میڈیا ٹرائل ہورہا تھا اور پی پی پی بدترین سیاسی تنہاہی کا شکار تھی ،مرتضی بھٹو کے قتل کا الزام بی بی صاحبہ پر تھا اور یہ وقت اپنک صفوں میں پھر سے ڈسپلن پیدا کرنے اور ملک میں نواز شریف کے خلاف اور ضیاء الحق کی باقیات کے خلاف اتحادی اور دوست تلاش کرنے کا تھا

بے نظیر بھٹو نے نواز شریف یک طرفہ کھل کر کھیلنے کا موقعہ ہرگز فراہم نہیں کیا تھا اور بے نظیر بھٹو نے ڈمیج کنٹرول کی سیاسی حکمت عملی پر عمل کیا تھا بے نظیر بھٹو نے لاہور کے ایک ہوٹل میں اپنی معروف تقریر “ایجنسیوں کی حکومت ” کی اور اس دوران بین الاقوامی جریدوں کو انٹرویوز دیکر بتایا کہ کیسے نواز شریف عدالتی اسٹبلشمنٹ اور ضیاء الحق کی باقیات کے ساتھ ملکر پی پی پی کی سیاست کو دفن کرنے کے درپے ہیں اور اس دوران ہی بے نظیر بھٹو نے مقامی سیاست میں خاص طور پر پنجاب میں نواز شریف مخالف سیاسی قوتوں کے ساتھ اشتراک کی بنیاد ڈالی اور اس کے نتیجے میں نواز شریف کے خلاف پاکستان عوامی اتحاد جیسا الائنس تشکیل پایا اور اس اتحاد کے صدر پاکستان عوامی تحریک کے چئیرمین اور بانی ڈاکٹر طاہر القادری تھے

اور سچی بات یہ ہے کہ پنجاب میں اور کراچی میں یہ ڈاکٹر طاہر القادری کا منظم تنظیمی نیٹ ورک تھا اور سینکڑوں کارکن تھے جو سٹریٹ پاور کا بھرم رکھتے تھے اور نواز شریف کے خلاف پنجاب کی سڑکوں پر ایک مزاحمت کا سماں پیش کرتے تھے اور یہ الائنس غواہز شریف کی حکومت کو گرانے کے لیے بنا تھا اور ظاہر سی بات ہے کہ یہ حکومت کا جانا سٹریٹ پالیٹکس کے زریعے سے ہی ہونا تھا نہ کہ پارلیمنٹ کے زریعے جہاں پی پی پی کے پاس محض 17 نشستیں تھیں

محترم آصف علی زرداری صاحب اپنے دور اقتدار کی مفاہمت کی پالیسی کے فلسفے کو زبردستی حزب اختلاف کی سیاست پر ڈھونسنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ پاکستان کے پی پی پی سمیت دیگر نوچوان سیاسی کارکنوں کو نہ جانے کیوں گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں

پاکستان عوامی اتحاد پھر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس میں بدل گیا تھا اور اس الائنس میں پاکستان تحریک انصاف بھی شامل ہوگئی تھی اور اس زمانے میں آج کی جمہوریت پسند ،سیکولر جماعت اے این پی میاں نواز شریف کی اتحادی تھی اور سندھ کی کئی ایک قوم پرست جماعتیں بھی نواز شریف کی ہم قدم تھیں ،اس زمانے میں نواز شریف کو سنٹر رائٹ بریلوی اور سنٹر رائٹ وہابی جماعتوں کی بھی مکمل حمائت حاصل تھی اور مذھبی جماعتوں کی حمائت کے معاملے ميں نواز شریف اتنے غریب نہ تھے جتنے آج ہیں لیکن اس کے باوجود گرینڈ ڈیموکریٹک الانئس وجود میں آیا اور نواز شریف کے خلاف بھرپور جدوجہد کا آغاز ہوا اور اس سفر میں ڈاکٹر طاہر القادری بے ںظیر بھٹو کے بہت قریب تھے

بلکہ میں نئی نسل کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان دنوں پی پی پی کے خلاف ميڈیا ٹرائل میں تھرمل پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی کے معاہدوں میں کدپشن کرنے کا پروپیگنڈا بہت عروج پر تھا اور پی پی پی کا میڈیا سیل اس پروپیگنڈے کا جواب دینے میں کمزور تھا اور یہ ڈاکٹر طاہر القادری تھے جنھوں نے ایک کتاب اس موضوع پر تحریر کی ،درجنوں لاہور پریس کانفرنسز کیں اور تقریریں کرکے نواز شریف کے احتساب سیل کے پروپیگنڈے کا پول کھولا اور یہ ڈاکٹر طاہر القادری کی نواز رجیم کے خلاف بے باک تقریریں تھیں جس نے بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے امیج کو پنجاب کے متوسط طبقے میں بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا اور یہک وجہ تھی کہ ان ہی دنوں بے ںطیر بھٹو ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی افادیت اور ان کی سیاسی قدر قیمت سے آکاہ ہوئی تھیں اور انھوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کو پی پی پی دوست بنے رہنے اور ان کو قریب رکھنے کے لیے بہت سے خیر سگالی پر مبنی اقدامات اٹھائے ،منھاج القرآن کا دورہ کیا ،منھاج القرآن کی تاحیات ممبر شپ لی اور ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں فوقتا فوقتا خیرمقدمی کلمات کہے

ان سارے حقائق کے ساتھ گرینڈ ڈمیوکریٹک الائنس کا سفر جاری رہا ،بے نظیر بھٹو نے سندھ -پنجاب کی سرحد پر دھرنوں میں شرکت کی اور پھر جب ان کو جلاصطن ہونا پڑا تو ایک مرتبہ پھر گرینڈ ڈمیوکریٹک الائنس کے جلسوں اور ریلیوں کو افراد کی شرکت کے حوالے سے کامیاب بنانے کی زیادہ زمہ داری ڈاکٹر طاہر القادری کے کندھوں پر آن پڑی اور ہم سب کو معلوم ہے کہ گرینڈ الائنس کا سفر ابھی جاری تھا کہ نواز شریف کی اپنی حماقتوں کے سبب فوج نے اقتدار پر قبضہ جمالیا

آج تو حالات 1997ء سے 1999ء کے بدترین دور سے کہیں بہتر ہیں اور پی پی پی کو ميڈیا اور فوج میں بھی اس دشمنی کا سامنا نہیں ہے جو 1999ء تک تھا اور پارلیمنٹ میں بھی اس کی نشستیں کہيں زیادہ ہیں اور ایک صوبے کی حکومت بھی ان کے پاس ہے

ایسے میں نواز حکومت کی بدترین لوٹ مار ،مہنگآئی ،بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی نہ کرنے اور ٹیکسز کی شرح میں بدترین اضافہ کرنے جبکہ کالعدم ،فرقہ پرست دھشت گرد تنظیموں سے روابط رکھنے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسی بربریت اور خون آشامی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود آصف علی زرداری رائے ونڈ جاتی امراء پیلس میں نواز شریف سے بغل گیر ہوتے ہیں اور ان کو آئینی وزیر اعظم کہتے ہیں اور موجودہ پارلمینٹ کو عوام کا عکاس ادارہ کہتے ہیں تو ان کے ان ارشادات پر انا للہ وانا علیہ راجعون ہی پڑھا جاسکتا ہے

انھوں نے یوم شہداء کے موقعہ پر ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے سے روکنے کے لیے پنجاب پی پی پی کی قیادت کو جو احکامات جاری کئے وہ ایسا اقدام تھا جس سے پی پی پی کو پنجاب میں صوفی سنیوں کی ایک ماڈریٹ ،پروگریسو اور سنٹر لیفٹ کی پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کی حمائت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا

پنجاب ،خیبر پختون خوا ،سندھ کے شہری متوسط طبقے کی پرتوں کی خواہش نواز شریف کی بادشاہت کو چیلنج کرنا ہے اور پاکستان کا محنت کش طبقہ نواز شریف کی وحشی نجکاری سے سہما اور ڈرا ہوا ہے اور یقینی طور پر لاکھوں نوکریاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں ،ایسے میں پی پی پی کے آصف علی زرداری جس قسم کی مفاہمت کی سیاست کی آواز لگارہے ہیں اس سے ان کی اس سرمایہ دار ،مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کی نگراني کرنے کے لیے اس ملک کے متوسط ،محنت کش اور کسان طبقات کے مفادات قربان کرنے دئے جانے کی پالیسی کا بے نقاب ہونا سامنے آتا ہے

آصف علی زرداری ملک ریاض ، عارف حبیب ،عقیل ڈھڈی ، گوہر اعجاز ،میاں منشاء ، اشتیاق و اختیار بیگ ،ہاشوانی سمیت ملکی سرمایہ داروں کی غیر ملکی سرمایہ دار کمپنیوں سے چل رہی شراکت داری کو کسی خطرے کا شکار کرنا نہیں چاہتے چاہے اس کے لیے اپنی پارٹی کے متوسط طبقے ،محنت کش طبقے اور کسان حامی پرتوں کے مفادات کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے
ان کی نواز شریف کی اس موقعہ پر ریسکیو مہم پنجاب ،سندھ ،بلوچستان ،خیبر پختون حوا اور گلت بلتستان و آزاد کشمیر میں پھیلے لاکھوں سندھی ،بلوچ ،پشتون ،پنجابی ،سرائیکی ،گلگتی بلتی ،کشمیری شعیہ اور سنّی بریلویوں کے اندر بھی دھوکہ دئے جانے کے جذبات کو پیدا کرنے کا سبب بنے ہیں

میرے کالم نگآر دوست عمار کاظمی نے بہت درست لکھا ہے کہ آصف زرداری ! آپ نے نواز شریف کے ہاتھوں متوسط طبقے کو قربان کرکے ہمیں ہر ایک عہد اور قول سے آواد کرڈالا ہے اور اب پی پی کے متوسط طبقے کے جیالے پی پی پی کا ترنگا اٹھا کر جئے بھٹو ،جئے بے نظیر کے نعرے لگاتے ہوئے دھرنوں میں شریک ہونے میں آزاد ہیں

میں کہتا ہوں کہ آصف علی زرداری کے گرد ملک ریاض ، عقیل ڈھڈی ،عارف حبیب اور دیگر سرمایہ داروں کا گھیرا اور پھر پی پی پی کے اہم ترین معاملات کی کمان ڈیفنس و بحریہ و دبئی کے پوش علاقوں کی برگر کلاس کے ہاتھ دینے کا مطلب اس پارٹی کے غریب اور سفید پوش طبقے کے جیالوں کو گڈ بائی کہنا تھا

پانچ سالوں میں غریب اور مڈل کلاس ورکر جس قدر زلیل کیا گیا اور اس کے مقابلے میں گریڈ سترہ کی نوکریاں انھیں بانٹی کئیں جن کے پاس یا تو پیسہ تھا یا جسم کی خیرات تھی ۔لعنت ہے ایسی ایےی شرمناک کہانیاں ہیں بیان کروں تو ان مداریوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی اور یہ ہماری ماں بہنوں ،بیٹیوں کو بے حیا ،بے شرم ،بے غیرت کہنے والوں سے گلے ملتے اور ان کے اقتدار کو محفوظ بنانے کی بات کرتے ہیں ان کو زرا بھر بھی شرم نہیں آتی

آصف علی زرداری تم نے اپنا “بھٹو ” اور اپنی “بی بی صاحبہ ” تخلیق کرلی ہے ،یہ نہ تو تاریخ کا بھٹو ہے نہ ہی وہ بھٹو ہے جو اس ملک کے سفید پوش طبقے ،کسان ،شہری و دیہی غریب اور محنت کشوں کا بھٹو تھا اور نہ ہی یہ تاریخ_ کی بے ںظیر بھٹو ہے اور نہ وہ شہید رانی ہے جسے اس کی شہادت کے بعد غریب عوام نے تخلیق کیا ہے بلکہ یہ وہ بے نظیر ہے جو تم نے کک بیکس ،رشتوں ،ٹھیکے اور کمیشن کے فلسفے سے تخلیق کی ہے جس میں غریب اور سفید پوش جیالوں کی سیاست کا قبرستان ہی تعمیر ہوسکتا ہے

میں نے تمہارے دور صدارت کے دنوں میں تمہارے خلاف نام نہاد لبرلز ،نام نہاد تحقیقاتی صحافت کے بزرجمہروں اور نام نہاد مذھبی ٹھیکے داروں کے حملوں کا دفاع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی کیونکہ مجھے تھوڑی سی توقع تھی کہ پانچ سال کا اقتدار چھوڑنے کے بعد ہی سہی تم پنجاب میں غریب اور سفید پوش جیالوں کے زحموں پر مرہم رکھو گے اور شہباز شریف کے ظالمانہ اور جابرانہ طرز حکومت کے خلاف ابھرنے والی رائے عامہ کی ترجمانی کرو گے اور نہیں تو کم از کم سلمان تاثیر شہید اور شہباز بھٹی کے قاتلوں سے اتحاد کرنے والوں کو بے نقاب کروگے لیکن تم تو اس وقت نواز شریف سے گلے ملے جب نہ صرف اس کے محل پر سلمان تاثیر شہید اور شہباز بھٹی کے خون کے چھینٹے پڑے ہیں بلکہ اس محل پر 22 اور خواتین و مرد کے خون کے چھینٹے پڑے ہوئے ہیں

کیا تمہیں ظہرانے میں پیش ہونے والے کھانوں سے لاہور کی اس عورت کے خون کی بو نہیں آئی جس نے پولیس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے اور پھر بھی اس کے منہ اور سینے پر سیدھی گولیاں ماری گئیں تھیں ،کاش کے اس شہید عوت کا کھلا منہ تمہیں خواب میں آکر جھنجھوڑے لیکن تمہاری ان بھیڑیوں کے ساتھ جاکر پرتعیش کھانے کھانا یہ ظار کرنے کے لیے کافی ہے کہ تمیہں تو ملک ریاض کا کراچی میں نیا شہر آباد کرنے کا وہ منصوبہ بہت عزیز ہے جسے نواز شریف سے لڑائی میں بند ہونے کا خطرہ لاحق ہے

تمہاری مفاہمت اور تمہاری جمہوریت بچاؤ سیاست کا مطلب سفید پوش اور محنت کش طبقے کی موت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ،اس لیے تم ہمیں الوداع ،الوداع ۔۔۔۔۔نواز شریف الوداع کے نعروں سے دستبردار نہیں کراسکتے تمہیں آحری بار یاد کرات چلوں کہ جب نواز شریف نے جیالوں پر سیاست کے سارے دروازے بند کرڈالے ،غریب جیالے اپنی بی بی شہید کا دفع کرنے کے قابل نہ رہے تو انھوں نے ایک نعرہ بنایا

یاللہ ،یارسول ۔۔۔۔۔۔۔بے ںظیر بے قصور

(یاد رکھو زرداری! بے ںظیر بھٹو کے لیے نعروں میں بھی تکفیریوں کے لیۓ کوئی جگہ نہیں تھی)آج جب غریب جیالوں پر بہت برا وقت آن پڑا ہے اور پارٹی کے عہدوں پر براجمان سب ملک ریاض کی بولی بولتے ہیں تو آج پھر شاید جیالے پی پی پی کا جھنڈا اٹھا کر ایک ہی نعرہ لگائیں گے

یا اللہ یارسول ۔۔۔۔۔۔۔۔بے نظیر بے قصور
اور نوآز اینڈ کمپنی کو رخصت ہونا ہوگا


2 responses to “آصف علی زرداری کونسی سیاسی مفاہمت کے خالق ہیں ؟ – از عامر حسینی”

  1. Don’t try to insult the intelligence of PPP workers for your narrow agenda. It was shaheed BB herself who signed COD. AAZ is merely following BB’s wishes as mentioned in COD. Don’t obfuscate.

  2. Babar bhai it is difficult if not impossible to insult the intelligence of the average PPP worker, hmmm my bad a “Jiyala”, because as we all know they don’t have any intelligence. How do you insult the intelligence of someone who goes around mindlessly uttering ” Zinda hai Zinda ha Benazir Zinda hai”, when we all know she is dead and buried and probably rotted and skeletonized in her grave. huh tell me?