جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے: طاہر اشرفی بنام یاسر لطیف ہمدانی اورمحمل سرفراز – از عامر حسینی

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے: طاہر اشرفی بنام یاسر لطیف ہمدانی اورمحمل سرفراز – از عامر حسینی

48

مجهے بڑی حیرانی ہوئی پچهلے دنوں ٹویٹر پر اچانک ایک ایسے آدمی کی مولوی طاہر اشرفی کے خلاف ٹویٹس پڑھکر جو ابهی کچه عرصہ پہلے خود اپنے مرشد خاص نجم سیٹهی اور لبرلز میں اینٹی شیعہ، اینٹی سنی بریلوی موقف رکهنے والے بعض دیوبندی مولویوں کی سافٹ امیجنگ کے مرتکب رضا رومی کے تتبع میں مولوی طاہر اشرفی کو ایک روشن خیال ملا ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا

یہ سلسلہ ماضی قریب میں اس وقت شروع ہوا تها جب نجم سیٹھی کے دی فرائیڈے ٹائمز میں اچانک کالعدم دیوبندی دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ نام نہاد اہل سنت والجماعت کے سربراہ محمد احمد لدهیانوی اور اورنگزیب فاروقی سمیت مولوی طاہر اشرفی جیسے دیوبندی مولویوں کی ہروجیکشن شروع ہوئی اور ناقدین نے یہ بهی دیکهنا شروع کردیا کہ دی فرائیڈے ٹائمز میں لکهنے والے لوگوں اور شیری رحمان کے جناح انسٹی ٹیوٹ، ان کے شوہر کے میزان بینک اور آئی ایس آئی کے درمیان تانے بانے ملتے ہیں اور جن دیوبندی مولویوں کی پروجیکشن کی جارہی ہے ان کے ملٹری کی قیادت خاص طور پر جنرل کیانی سے ربط ضبط بارے بہت سے تصویری اور دیگر ثبوت بهی گردش میں ہیں

ویسے جنرل کیانی اور جنرل پاشا کے ساته دیوبندی تکفیری تنظیموں اور مولویوں کے تعلقات کی کہانی کئی ایک بین الاقوامی صحافیوں نے بیان کرڈالی ہے رضا رومی جب جناح انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر بنے اور اعجاز حیدر ، معید یوسف ، یاسر لطیف ہمدانی اس تهنک ٹینک کے ساتھ ملے جس نے لبرل شیڈ کے ساته درپردہ تزویراتی گہرائی اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کی افغان پالیسی کو سپورٹ کیا اور یہ خبر بهی پوائنٹ آوٹ ہوئی کہ میزان بینک کے زریعے آئی ایس آئی جناح انسٹی ٹیوٹ کو فنڈز دے رہی ہے اور عائشہ صدیقہ نے دعوی کیا کہ اس انسٹی ٹیوٹ کے معید یوسف جیسے ریسرچ سکالر امریکی تهنک ٹینکس میں آئی ایس آئی کے ایما پر داخل کئے گئے ہیں تو سمجه میں آنے لگا کہ یہ لبرلز کا ایک ٹولہ پاکستان کی غیر منتخب عسکری هئیت مقتدرہ کی امیج بلڈنگ اور اس کے حامی ملاوں کی سافٹ امیجنگ اور پروجیکشن کا پروجیکٹ چلا رہا ہے

اس پر جب ناقدین نے تنقید شروع کی اور اس دوران شیعہ اور سنی بریلوی پس منظر رکهنے والے کچھ روشن خیال، ترقی پسند دانشوروں نے رضا رومی ، نجم سیٹهی ، اعجاز حیدر ، شیری رحمان اور ایسے دیگر لوگوں پر تنقید شروع کی تو اچانک سے رضا رومی کے پاک ٹی ہاؤس بلاگ کا ایڈیٹر، احمدی حقوق کے لئے سرگرم بلاگر یاسر لطیف ہمدانی بہت زور و شور کےساتھ میدان میں کود پڑے – یاسر ہمدانی نے اس بات کا جواب تو نہ دیا کہ ان کے ممدوح اور گرو رضا رومی ،نجم سیٹهی اینڈ کمپنی شیعہ نسلی کشی کے زمہ دار اور حامیوں کو کیوں پروجیکشن دے رہے ہیں اور ان کے انٹرویوز تزک و احتشام سے کیوں شایع کئے جارہے ہیں اور رضا رومی نے تو یہ تک بهی کہا کہ اس پر لدهیانوی و اشرفی کے انٹرویوز اور پروجیکشن پر جو شیعہ لوگ تنقید کررہے ہیں ان کے نام اور لوکیشن وہ لدهیانوی اور ملک اسحاق کو بتلادیں گے بلکہ یہ ہوا کہ یاسر لطیف ہمدانی نے یہ ثابت کرنے پر ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ شیعہ اور سنی بریلوی تمام کے تمام احمدیوں کو واجب القتل اور ان کو نیست و نابود کرنے جیسے ویسے ہی خیالات رکهتے ہیں جیسے تکفیری دیوبندی رکهتے ہیں ، یاسر لطیف ہمدانی نے اس حوالے سے تاریخ کو مسخ بهی کیا اور دیوبندی مولوی مظہر علی اظہر احراری کو زبردستی شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کی

اس سارے عرصے میں یاسر ہمدانی ، رضا رومی سمیت عسکری اسٹبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ جانے والے اور کہیں کہیں دستر خوان نواز شریف سے مستفید ہونے والوں نے اپنے آپ کو کبهی لدهیانوی تو کبهی طاہر اشرفی کے پیچهے چهپایا

یاسر لطیف ہمدانی کا حال یہ تها کہ وہ دیوبندی سلفی عالمی دہشت گردی کی جڑیں پشتون نسل میں تلاش کرتے اور پشتون و بلوچ کے حوالے سے نسل پرستانہ خیالات کا اظہار کرتے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نے سنی صوفی اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف بھی پروپیگنڈہ جاری رکھا

ان کے اس سارے ابہام پرست ڈسکورس کا مقصد یہ تها کہ عالمی سلفی وهابی دیوبندی تکفیری دہشت گردی کے کثیر النسلی ،کثیر القومی اور کثیر العلاقائی کردار اور اس کی جڑوں کا وهابی دیوبندی آئیڈیالوجی میں پیوست ہونے کا انکار کرنا تها اور شیعہ نسل کشی ، سنی بریلوی پر حملوں ،عیسائی ، ہندو ،احمدیوں کی منظم مذهبی پراسیکیوشن میں دیوبندی تکفیری نیٹ ورک کا ایک بنیادی اور جوہری کردار ہونے سے انکاری ہونا تها

1m1m249

یاسر ہمدانی ، رضا رومی سمیت ان جعلی لبرلز کا خیال یہ تها کہ شیعہ اور سنی بریلوی پس منظر سے آنے والے اپنے نقادوں کو یہ ایرانی ملائیت کے ڈسکورس سے مدافعانہ پوزیشن پر لے آئیں گے لیکن ان کی یہ خام خیالی تهی کیونکہ ان پر تنقید کرنے والے شیعہ بلاگرز تو خود اس ملائیت کے ناقد تهے لیکن پاکستان میں شیعہ کے مارے جانے ، بریلویوں پر حملے ،عیسائیوں اور ہندووں کی مذهبی پراسیکیوسن کو وہ شیعہ سنی یا ایران سعودی تنازعے کی وجہ نہیں مانتے تهے اور نہ ہی وہ شیعہ کیا کثریت کو ایرانیوں کے پے رول پر خیال کرتے تهے

خیر تقدیر کے چکر بهی نرالے ہوتے ہیں کہ جن قوتوں کی مدد سے رضا رومی میںسٹریم میڈیا کی سکرین پر جگمگانے لگے تهے انہوں نے ہی رضا رومی کو مولوی اشرفی کے ساته ایک ڈویٹ ٹاک شو میں لا بٹهایا ، رضا رومی اپنے تئیں یہ خیال کرتے تهے کہ وہ طاہر اشرفی کی مولویت میں لپیٹ کر پاکستانی سماج میں عوام کو روشن خیالی کا سلیکٹو فلسفہ اپنانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ جس میں شیعہ اور سنی بریلوی نسل کشی کے زمہ داروں اور ان کے حامیوں کی شناخت کو چهپا لیا جائے ، یہی مدعا و مقصد یاسر لطیف ہمدانی کا نظر آتا تها کہ طاہر اشرفی کی حمایت کے ساتھ ساتھ احمدیوں کے لئے پاکستانی سماج میں قبولیت کی فضا کو پروان چڑهایا جائے لیکن پہلے خود رضا رومی دیوبندی تکفیری سوچ کی انتہا پسندی کی زد میں آئے جب ان کے سنی بریلوی ڈرائیور کو سپاہ صحابہ کے دیوبندیوں نے شہید کر دیا اور اب جب گوجرانوالہ والا اینٹی احمدی واقعہ ہوا تو ان کے ممدوح مولوی اشرفی تو سیدهے سبهاو حملہ آوروں کے کیمپ میں کهڑے ہوگئے

یاسر لطیف ہمدانی کے لئے یہ ایک سخت شاک تها اور انہوں نے پہلے تو خوشامد اور تعریفوں سے رام کرنے کی کوشش کی لیکن مولوی طاہر اشرفی جیسا خرانٹ تکفیری ملا اس کل کے لونڈے کے دام میں بهلا کہاں آنے والا تها طاہر اشرفی کو بخوبی معلوم ہے کہ اس کی فکری ،نظریاتی اور مادی سپورٹ کی جڑیں کہاں گڑی ہیں وہ بهلا عطاء اللہ شاہ بخاری ، شورش کاشمیری سمیت دیوبندی احراری انتہاپسندوں سے خود کو کیسے الگ کرسکتا تها اور اس نے جو ایک ماڈریٹ، روشن خیال ملا کا سانگ بهرا تها تو یہ کوئی فکری انقلاب نہ تها بلکہ کیموفلاج تها جو حالات کی خرابی اور کچه نادیدہ هاتهوں کے اشارے پر کیا گیا ہے جیسے آج کل حافظ سعید کہتے ہیں کہ کشمیر میں جدوجہد کی صورت بدل گئی ہے اب انتفاضہ احتجاج ،جلوس اور ہڑتال کا نام ہے قتال کا نہیں تو کیا ہم اسے شبیر شاہ ، یسین ملک اور مجید ڈار مرحوم کی طرح کا فکری انقلاب کہہ سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں بهئی بهیڑیا شکار کو دهوکہ دینے کے لئے بهیڑ کی کهال پہن لے تو وہ بهیڑ نہیں بن جاتا ہے، یا جنگ والے اگر امن کی آشا کا لباس فن لیں تو ان کی جنگی جنونیت نہیں چھپ سکتی

یاسر لطیف ہمدانی کیوں کہ احمدیوں کے دفاع کی آڑ میں شیعہ اور سنی بریلوی کے خلاف نفرت کی وجہ سے خود بہت متنازع تهے تو جب اشرفی نے گوجرانوالہ والے واقعہ پر دیوبندی و سلفی بلوائیوں کی سائیڈ لی تو انہوں نے اپنا سارا غبار ڈیلی ٹائمز میں چهپے ایک آرٹیکل کی صورت نکالا یاسر لطیف ہمدانی کو یاد آگیا کہ طایر اشرفی کا سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی مزمت کرنا اس وجہ سے تها کہ وہ بریلوی تها اور وہ عیسائیوں ، ہندوں کے حوالے سے جو اعتدال پسندی دکهارہا تها اس کے پیچهے یورپی یونین اور امریکی ڈونر ایجنیسیز کی گرانٹس تهیں یاسر لطیف ہمدانی کو اشرفی کا تکفیری ہونا بهی یاد آگیا

لیکن یہ سب اسے اس وقت یاد نہیں تها جب اس کا گرو رضا رومی، جناح انسٹیٹوٹ کے پلیٹ فارم سے اشرفی کی پروجیکشن میں مصروف تها اور اس دوران اس نے اشرفی کی بریلوی دشمنی ،شیعہ کے خلاف تعصب اور احمدیوں کے خلاف متعصب خیالات کا پول نہ کهولا آج حالت یہ ہے کہ یاسر لطیف ہمدانی اور ان کے جملہ گرو و ارادت مند طاہر اشرفی کو جنونی ملا کہہ رہے ہیں رو دوسری طرف طاہر اشرفی اور ان کے حامی یاسر لطیف کو گستاخ ، قادیانی ، یہودی لابی کا ایجنٹ اور نہ جانے کیا کیا القاب سے نواز رہے ہیں

343012

رضا رومی آجکل امریکہ میں مقیم ہیں اور شاید پاکستان آنے کے امکانات مفقود ہیں ،میرے ایک دوست گذشتہ دنوں امریکہ گئے تو وہاں ان کی ملاقات رضا رومی سے ہوئی تو رضا رومی نے ان کو کہا کہ عامر حسینی کو میرے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے اور میں نے مذهبی انتہاپسندوں کو پروجیکشن دینے کی کوشش نہیں کی – میرے وہ دوست خاصے ستم ظریف واقع ہوئے وہیں سے مجهے فون کیا اور میں حق بات کہنے میں کسی دوست یا دشمن میں تمیز کرنے کا قائل نہیں ہوں میں نے صاف کہا کہ عذر گناہ بدتر از گناہ والی کہاوت آج مجهے اپنے پورے فیہ مافیہ کے ساته سمجه میں آئی ہے

رضا رومی ، یاسر لطیف ہمدانی ،اعجاز حیدر ، شیری رحمان، بینا سرور سمیت بہت سے لبرل ایسے ہیں جو منافع بخش پروجیکٹس پر کام کرتے ہوئے تاثر یہ دینے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں جیسے وہ یہ سب کسی اخلاص کے تحت کررہے ہیں لیکن پیچهے محرکات اور ہوتے ہیں اور رضا رومی اور یاسر لطیف ہمدانی طاہر اشرفی کو ایک ماڈریٹ مولوی زبردستی بناکر دکهانے کی کوشش کررہے تهے اور یہ ان کی کوشش بری طرح سے ناکام ہوگئی ،اب تو وہ خود اشرفی کے تکفیری فتووں سے جان بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں

sethi


m3m4
33m5h

11

یہی حال کامریڈ نجم سیٹھی کی ایک اور کامریڈ محمل سرفراز کا ہے جنہوں نے آج تک نجم سیٹھی کی نگران وزارت کے دوران ایک سو سے زیادہ لشکر جھنگوی کے ددہشت گرد چھوڑنے اور اپنے پروگراموں اور جریدے میں لدھیانوی کی پروموشن پر تو کچھ نہیں لکھا بلکہ اس تنقید پر ایل یو بی پی کے خلاف مہم چلائی لیکن انہی محمل صاحبہ کی طاہر اشرفی کے خلاف لکھی ہوئی چند لائنیں ان کے گلے کا پھندہ بن گئیں

طاہر اشرفی کا ایک خاص طریقه ہے (جس میں اس کو سبق رضا رومی نے پڑھایا ہے) کہ نفرت انگیز باتیں کر کے مکر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کسی اور نے اس کے ٹویٹر اکاونٹ سے لکھ دیا تھا لیکن ٹیلی ویژن پروگراموں اور یو ٹیوب پر ویڈیوز سے اس آدمی کی احمدیوں اور دیگر غیر دیوبندیوں سے نفرت کھل کر واضح ہو جاتی ہے

آخر کار دھمکیوں اور رضا رومی و نسیم زہرہ جیسوں کی بدولت یاسر لطیف ہمدانی اور محمل سرفراز کے سامنے معافی مانگنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا یاد رہے کہ یہی حضرت یاسر ہمدانی و رضا رومی وغیرہ اکثر سنی بریلوی اور شیعہ ترقی پسند بلاگرز کو مقدمہ کرنے کی دھمکی دیتے رہے ہیں لیکن عملی میدان میں ایک دیوبندی تکفیری ملا کے سامنے یہ سجدہ ریز ہو گئے – یہ ہے نواز یافتہ نجم سیٹھی برانڈ پاکستانی لبرلز کی حقیقت 

832

92 93 94
97 98 99 100 101 102 103 104

ایک دن یہ پول بهی کهل جانا ہے کہ یوروپی اور امریکی ڈونرز کے سامنے کس نے طاہر اشرفی اور اس کی تنظیم کا سافٹ اور ماڈریٹ پروفائل پیش کیا تها اور کس نے اسے انٹرفیته هارمنی کا پروپوزل پروجیکٹ بناکر دیا تها ؟یہ طاہر اشرفی صاحب پچهلے دنوں شہباز بهٹی کے بهائی اکرم پال کی این جی او کے تحت ایک سیمنار میں چیف گیسٹ تهے ان کو بهی نوشتہ دیوارپڑھ لینا چاہئیے تکفیری اور مذهبی فاشسٹوں کے بارے میں گول مول ڈسکورس کسی کو کوئی فائدہ پہنچانے والا نہیں ہے

ویسے انٹر فیتھ ہارمنی اور انسانی حقوق ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے اور اس میں لبرلز کے ایک ٹولے نے کیا یہ کہ دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان کے چند ایک انتہائی فنکار قسم کے مولویوں کو ماڈریٹ کاستیوم پہناکر اپنے ڈونرز کے سامنے پیش کردیا اور ان کو یہ باور کرایا یہ ملک اسحاق کے چیلوں کو انتہاپسندی سے واپس لے آئین گے ، آشرفی اس کی بہت ہی زبردست مثال ہے ،ویسے تو یہ سامراجی ڈونر ادارے خود بهی کمال کے حضرت ہوتے ہیں ان کو تجاہل عارفانہ کا فن بہت ہی کمال کا آتا ہے یہ خود بهی لبرل اقدار کے پهیلاو کے نام پر کهیلواڑ کرتے ہیں

کیونکہ اصل مقصد تو عالمی سامراجی طاقتوں کے مفادات کی پاسداری ہوا کرتا ہے یاسر ہمدانی توبہ تائب نہیں ہوا بس اپنے ہی پتوں کے ہوا دینے کی وجہ سے بوکهلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے اور سب سےبڑھ کر فیک لبرل اور دیوبندی تکفیری دہشت گروں کے حامی نام نہاد ماڈریٹ ملاوں کے اتحاد کے درمیان شگاف پڑگیا ہے اور بہت بے آبرو ہوکے تیرے کوچے سے نکلے والی صورت حال کا سامنا ہے اس اتحاد کے ایک اور کهلاڑی حامد میر کے ساتھ جو بنا اس سے بهی بیت سوں کو مشتری هشیار باش کا وظیفہ حرز جاں بنالینا چاہئیے

68

67

66

65

64

63

62

60

58

57

56

55

54

53

52

51

50

 

47

46

4591

44

43

42

41

40

39

38

37

36

35

 

 

 

31

 

29

28

27

26

25

2496

23

22

 

20

19

18

17

16

15

14

13

 

10

995

 

 

 

 

4765

3

221

 


51 responses to “جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے: طاہر اشرفی بنام یاسر لطیف ہمدانی اورمحمل سرفراز – از عامر حسینی”

  1. Clarification
    August 09, 2014
    Be First To Comment

    Sir: This is to clear up the controversy that my article “Religious doublespeak” (Daily Times, August 4, 2014), unwittingly ignited. Let me begin by stating that Maulana Tahir Ashrafi’s stance on the Salmaan Taseer and Rimsha Masih issue as well as the support he has given to non-Muslims accused in blasphemy cases is indeed very welcome for any Pakistani who wants to see Pakistan a progressive and egalitarian state. I am sure Maulana Ashrafi shares the goal of a progressive and egalitarian state in Pakistan. This is why I was disappointed by his failure to stand up for another minority community.
    In so far as some of the assertions I made, if these be untrue or a product of a misunderstanding, I unreservedly regret to have proceeded in haste in my accusations. However, there was no malafide intent on my part. What I write, I write because I am proudly an ideological follower of Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah who always stood for freedom of religion and equality of citizenship. I believe in Pakistan and I want to see Pakistan be a nation that is not the laughing stock of the world. As things stand I am most distressed to see Pakistan being presented as an intolerant and bigoted place. It is therefore painful to see Maulana Ashrafi’s followers insinuating that I was operating on Indian instructions — this is absolutely and completely untrue.
    That said, I sincerely regret having caused offence to Maulana Ashrafi and for anything that he deems untrue about my article. I am willing to coordinate my efforts and ask him for his point of view and clarification if I write anything pertaining to him in the future.
    Yasser Latif Hamdani
    Lahore

    http://www.dailytimes.com.pk/letters/09-Aug-2014/clarification

  2. لگتا ہے اس بلاگ کا مشن دیوبندی دشمنی ہوگیا ہے، بھئی دیوبندی بھی آپ کی طرح کے انسان ہوتے ہیں اور اس ملک میں کڑوروں دیوبندی بستے ہیں۔