خاموش اکثریت – از سید قمر رضوی
بدنصیب مسلمان اکثریت کو کون سمجھائے کہ مظلوموں کے قتلِ عام، مزارات کی شہادت اور لوٹ مار پر اپنے گھروں سے نکلنے کی بجائے خاموش رہ کر اپنی عبادتی رسومات میں مصروف رہنا دراصل اس قتلِ عامِ مظلومین، مقدسات کی تاراجی اور لوٹ مار میں برابر کا حصہ دار ہونے کے مترادف ہے۔ رسولِ اکرمؑ کے فرمان کے مفہوم کے مطابق مسلمین کے امور کے بارے میں لاتعلق اور خاموش رہنا دراصل کفر کی جانب سفر طے کرنا ہے۔ اس لحاظ سے ایک کافر کا نمازیں، روضے اور عمرے ادا کرنا چہ معنی دارد؟ کاش یہ خاموش اور لاتعلق اکثریت گھروں سے نکل پڑتی تو نہ ہی ثقیفہ جنم لیتا اور نہ ہی خانہء سیدہؑ کو آگ لگتی۔ اسی ڈرپوک اکثریت میں سے دو جوان ہمت کرکے ابنِ زیاد کی ٹانگ کھینچ کر زمین پر گرا دیتے اور چار جوان ایک ایک ٹھوکر ہی مار دیتے تو کربلا برپا ہونے سے بچ سکتی تھی۔
کسی دشت میں وجہِ تخلیقِ کائنات خاندان کو تہہِ تیغ کردیا جائے تو مسلمان لاتعلق ہی رہتا ہے۔ کبھی کسی نمائندہء خدا کا سر نوکِ سناں پر تلاوت کر رہا ہو تو مسلمانوں کو گھروں کے اندر قرآن خوانی برپا کرنے کا ثواب زیادہ متوجہ کرتا ہے۔ کبھی کہیں عفت مآب بی بیاں بے کجاوہ اونٹوں کی کوہانوں پر بے ردا سجدہ ہائے نمازِ شب ادا کر رہی ہوں تو مسلمان اپنے آرام دہ گھروں میں نمازِ تہجد کی ادائیگی کو ترجیح دیتا ہے۔ وارثانِ کعبہ کا قافلہ زنجیروں اور رسیوں میں جکڑا ہوا کسی زندان میں پڑا ہو تو مسلمان کو صرف طوافِ کعبہ سے ہی غرض رہتی ہے۔ کبھی کسی خلیفۃ اللہ کا جنازہ کسی پُل پر تین روز تک پڑا رہے تو جنت کے متلاشی کسی مسلمان میں اتنی جرآت نہیں ہوتی کہ وارثِ جنت کے لاشے کو دفنا کر جنت کا مالک بن جائے۔ ۔۔۔

Hazrat Younus (AS) mosque and shrine demolished by Salafi and Deobandi militants in Mosul, Iraq
– “they cast him out into the sea, where he was swallowed by the fish”. Yet, Prophet Younus (companion of the whale) remained alive for three days –
وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ بات چند دنوں سے بڑھ کر مہینوں، مہینوں سے بڑھ کر سالوں اور سالوں سے بڑھ کر صدیوں تک جا پہنچی، لیکن مسلمان کے رویئے میں رتی برابر فرق نہ آیا۔ آج بھی اسلامی دنیا کے طول و عرض میں مظلوم و بے گناہ انسانوں کے اوپر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ آج کے دور کے قیمتی ترین انسان جو انسانیت کے لئے اثاثہ ہیں، راہ چلتے راہِ شہادت پر گامزن کروا دیئے جاتے ہیں۔ انسانی صورت میں انسانیت کے لئے سرمایہ یہ افراد ڈاکٹر، انجینئیر، وکیل، جج، اساتذہ، افسران، فوجی، رضاکاران، دوکاندار اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں بعنوانِ عبادت انجام دے رہے ہوتے ہیں کہ اچانک سے ثقیفائی قوتوں کا نشانہ بن کر دارِ ابدی کی جانب کوچ کر جاتے ہیں۔ انکی شہادت کی یک سطری خبر لمحوں کے لئے گردش میں آتی ہے اور گردشِ ایام میں کہیں کھو جاتی ہے کہ آج کا مسلمان بھی چودہ صدیوں قبل کے مسلمان کی مانند اپنی انفرادی و اجتماعی عبادات کی رسومات کی ادائیگی میں مصروف ہے، کیونکہ عبادت کا مفہوم جو اسکی فہم کا حصہ بن سکا، وہ محض وقت کے مخصوص حصوں میں چند مخصوص حرکات و سکنات کی ادائیگی ہی تھا۔ اسکی ساری توجہ اس غیر مرئی ثواب کی جانب مرکوز ہے کہ جسکی اصل صورت نجانے وہ دیکھ بھی پائے گا کہ نہیں!
ثقیفہ ہو، شام کی غاصب سلطنت ہو، دارالامارہ میں بیٹھے دہشت گرد ہوں یا آج کا داعش، طالبان، سپاہِ صحابہ یا کسی اور نام کا سہارا لئے دفترِ ابلیس۔ ۔۔ سب کا ایک ہی نعرہ، ایک ہی کام اور ایک ہی طریقہء واردات۔ ۔۔ یعنی مسلمان کے روپ میں اسلام کا خاتمہ۔ خدا کے مقرب اور مظلوم بندوں کو قتل کرنا، انکے سر کاٹنا، انکے اعضا کی بے حرمتی کرنا، انکی ناموس کو بے توقیر کرنا، اس حزب الشیطان کے پسندیدہ ترین کام ہیں۔ ازل سے موجود اس مٹھی بھر ٹولے کی اتنی جرآت کہ لاکھوں، کروڑوں اور اب اربوں انسانوں میں سے چن چن کر ان ہستیوں کو نشانہ بنانا جو خدا کی بنائی اس دنیا میں خدا کے بنائے ہوئے انسانوں کی فلاح اور بہتری کے لئے مصروفِ عمل ہوں، ایک ترنوالہ حلق کے پار اتارنے سے بھی زیادہ سہل ہے۔
ہاں۔ بہت آسان۔ کیونکہ ایک اکثریت کی خاموش تائید نے ثقیفہ کو جنم دیا۔ ثواب کی متلاشی اسی اکثریت کی خاموشی خانہء سیدہؑ کی تاراجی کا باعث بنی۔ ابنِ زیاد کے گھوڑے کی ایک ہنہناہٹ پر سینکڑوں لبیک کہنے والے الٹے پیروں دوڑ گئے۔ دشتِ کربل میں خانوادہء رسالت کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا گیا اور مشرق و مغرب میں پھیلے مسلمان اپنی عبادتوں کی درستگی میں مصروف رہے۔ نواسہء رسولؑ کا سر نوکِ نیزہ پر تلاوت کرکے مسلمانوں کو متوجہ کرتا رہا جبکہ ایک اکثریت اپنے گھروں میں اپنی تجوید و قرآت پر توجہ دیتی رہی۔ رسول زادیوںؑ کو قید کرکے بازاروں اور زندانوں کی نذر کیا جاتا رہا اور مسلمانوں کی اکثریت اپنی نذر میں مصروف رہی۔ ستونِ کعبہ سے زیادہ محترم وارثِ کعبہ ؑکے پیروں کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا اور مسلمان غلافِ کعبہ کو پکڑ کر ثواب حاصل کرتے رہے۔ ایک ملعون اقلیت کے ہاتھوں سینہء زمین پر خدا کی افضل ترین نعمت زندان میں بے دردی سے شہید ہوگئی۔ بعد ازاں اسکے لاشے کو بغداد کے پُل پر دھر دیا گیا۔۔۔ لیکن مسلمان اکثریت۔۔۔۔ ثواب و جنت کے ادھیڑ بن میں ہی غلطاں رہی۔
اقلیت کی اس چیخم دھاڑ اور اکثریت کی پُرخوف خاموشی کا سفر آج بھی اسی رفتار سے جاری ہے۔ دنیا کے طول و عرض میں معصوم اور قیمتی لوگوں کو کمالِ تسلی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انکے لاشوں کو احد و کربلا کی مانند بے حرمت کیا جا رہا ہے۔ انبیاء، اصحاب، اولیاء اور شہداء کی قبور کی تاراجی کے ساتھ ساتھ انکے جسد ہائے خاکی کی بھی توہین کی جا رہی ہے۔ (استغفراللہ ربی واتوب الیہ)۔ اور اکثریت کا رویہ۔۔۔ سحر، افطار، تراویح، شبینہ، عمرہ۔۔۔ کہ ماہِ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک نیکی ستر گنا بڑھ جاتی ہے۔ سحر کرنے کا اتنا ثواب کہ جنت میں سو سال کی مسافت جتنی جائیداد۔ افطار کا اتنا ثواب کہ سحر کا ثواب اسکے سامنے کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ ایک حرف قرآن کا ثواب عام دنوں کے پورے قرآن کے ثواب پر بھی بھاری۔۔۔۔ تو کیوں نہ ایک ایک شب میں ایک ایک قرآن فرفر کیا جائے اور عمرہ۔۔۔ کعبۃ اللہ کا طواف، اسکے غلاف کو تھام کر جنت طلب کرنا گویا جنت کو خرید لینے کے مترادف ہے۔
لیکن بدنصیب مسلمان اکثریت کو کون سمجھائے کہ مظلوموں کے قتلِ عام، مزارات کی شہادت اور لوٹ مار پر اپنے گھروں سے نکلنے کی بجائے خاموش رہ کر اپنی عبادتی رسومات میں مصروف رہنا دراصل اس قتلِ عامِ مظلومین، مقدسات کی تاراجی اور لوٹ مار میں برابر کا حصہ دار ہونے کے مترادف ہے۔ رسولِ اکرمؑ کے فرمان کے مفہوم کے مطابق مسلمین کے امور کے بارے میں لاتعلق اور خاموش رہنا دراصل کفر کی جانب سفر طے کرنا ہے۔ اس لحاظ سے ایک کافر کا نمازیں، روضے اور عمرے ادا کرنا چہ معنی دارد؟ کاش یہ خاموش اور لاتعلق اکثریت گھروں سے نکل پڑتی تو نہ ہی ثقیفہ جنم لیتا اور نہ ہی خانہء سیدہؑ کو آگ لگتی۔ اسی ڈرپوک اکثریت میں سے دو جوان ہمت کرکے ابنِ زیاد کی ٹانگ کھینچ کر زمین پر گرا دیتے اور چار جوان ایک ایک ٹھوکر ہی مار دیتے تو کربلا برپا ہونے سے بچ سکتی تھی۔ قرآن خوانی کے ثواب کے متلاشی اگر گھروں نکل کھڑے ہوتے تو رسول زادیوںؑ کا پردہ قطع نہ ہوتا۔ کعبے کا طواف کرنے والے اگر طواف کی حقیقت سے آشنائی حاصل کرلیتے تو وارثِ کعبہ کے پیروں میں زنجیر نہ پہنائی جاتی۔ اگر مجرم اکثریت کو اپنے ثواب کی گنتی کی فکر نہ ہوتی تو نہ ہی حجتِ خدا کو قید ہوتی اور نہ ہی اسکا لاشہ پُل پر پڑا رہتا۔
اگر اکثریت بیدار ہوتی تو نہ بقیع تاراج ہوتا۔ آج اویس قرنی، عمارِ یاسر، حجر بن عدی، خالد بن ولید اور یونس و شیثؑ کے مزارات کی طرف کسی ملعون کی ناپاک نگاہ نہ اٹھتی۔ شام و سامرہ کی جانب پیش قدمی کرنے والے ناپاک قدم وہیں منجمد ہوگئے ہوتے۔ مسلمان اکثریت خوابِ غفلت میں غلطاں ہے اور ملعون اقلیت کے اگلے قدم اب ۔۔۔۔ خاکم بدہن۔ ۔۔۔۔خدایا! ہمیں بیدار فرما اور ہمارے باقی ماندہ مقدسات کو ہماری جانوں کے عوض محفوظ کرکے ہماری آخرت کو ضائع ہونے سے بچا۔ آمین یا رب العالمین۔
THE SHAMELESS WAHABI Saudi Mufti Fawaz Al-Qarni
Jihad against Israel is Haram, declares WAHABI Saudi Mufti Fawaz Al-Qarni
RIYADH: A top Wahabi Mufti of Saudi Arabia has announced that Jihad against Israel is Haram (forbidden) and declared Jihad against Syria as Wajib (mandatory). Talking to Al Arabia TV channel , the pro-US and pro-Israel Saudi Mufti Aaez al Qarni said that Jihad (holy war) against Israel is not important and necessary and it was Haram, but Jihad against Bashar Al Asad was Wajib (mandatory). Aaez al Qarni openly backed Al Qaeda and its militants and asked them to fight against Bashar Al Assad, and pledged to provide the militants with all necessary weapons. The Saudi Mufti bitterly criticised Syria’s Mufti and termed him a liar.
Ignoring US and Israeli atrocities against Palestinians and Muslims of other countries, Aaez al Qarni condemned Hezbollah leader Seyed Hassan Nasrullah and Syrian President Bashar Al Assad and used derogatory language against them. Saudi Wahabis view those Muslims who fight against Israel as Kaafir, but describe those who do not fight against Israel and cooperate with the Jewish state as Muslims.
————————– ———– —————