تکفیری دہشتگردی کا ابلاغی مقابلہ – دعوتی نقطۂ نظر – از خرم زکی

تکفیری دہشتگردی کا ابلاغی مقابلہ – دعوتی نقطۂ نظر – از خرم زکی

میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا قائل ہوں، شیعہ, سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، سب کو مسلمان سمجھتا ہوں، ان میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا، لیکن تکفیری خارجی دہشتگردوں کا کوئی احترام نہیں نہ ہی ان کے ہمدردوں کا

بعض لوگ کسی ایک یا دوسرے مسلک کی آڑ لے کر ان تکفیری دہشتگردوں کا دفاع کر رہے ہیں یا ان دہشتگردوں کو سنی نمائندہ ثابت کرنے پر تلے ہیں. یہ خود اصل میں ذہنی طور پر تکفیری ہیں اور ان کے مقاصد سے ہمدردی رکھتے ہیں. ان افراد کا بھی کوئی احترام نہیں. یہ بات ایک حقیقت ہے کہ تکفیری خارجی دہشتگردوں کی بڑی تعداد پاکستان میں دیوبندی مدارس سے اور عرب ممالک میں سلفی مکتب سے سامنے آ رہی ہے اور اسلام دشمن طاقتیں انہی دو مکاتب سے وابستہ افراد کو مسلمانوں کے درمیان قتل و غارتگری کے لیۓ استعمال کر رہی ہیں. ایسا نہیں کہ دیگر مکاتب میں ان کے کارندے موجود نہیں، شیعہ اور سنی دونوں مکاتب میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو اسلام دشمن طاقتوں کے راستے پر چل رہے ہیں. شیعہ مکتب میں بعض ذاکرین کا صریح طور پر یہی ایجنڈہ ہے کہ ایسے افکار کی ترویج کی جاۓ جس سے عوام نظام ولایت و راہبری سے دور ہو جائیں یا ایسے غالیانہ عقائد کا شکار ہو جائیں جو مکتب تشیع کا بد نامی کا سبب ہو، یا دوسروں کے مقدسات کی ایسی توہین کریں جس سے نفرت و فرقہ واریت میں اضافہ ہو

اسی طرح لبرل و سیکولر خیالات کے حامل افراد کو دینی لبادہ پہنا کر بھی سامنے لایا جا رہا ہے جن کا اصل ہدف دین کی ایسی تعبیر و تشریح ہے جو مغربی ثقافت،نظریات، خیالات و اخلاقیات (اگر مغرب میں کچھ ہوں تو) سے ہم آہنگ ہو. یہ لوگ دین کے ہر اس حکم کو منسوخ کردینا چاہتے ہیں جو مغربی معاشرے کو قبول نہیں، دین و سیاست کی جدائی کا نظریہ بھی ایسا ہی ایک فتنہ ہے جس کے فروغ کے لیۓ ان تکفیری خارجی دہشتگردوں کی حرکتوں کو ڈھال بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ دیکھ لو اسلام ایسا ہے، اگر اسلام آیا تو ایسے ہی ذبح کر دیۓ جاؤ گے، اسلام کا نتیجہ فرقہ واریت اور قتل و غارتگری ہے ، اسلام سے بہتر سیکولرزم ہے، اسرائیل سے دشمنی کا کوئی فائدہ نہیں، یہ اسلام کی جنگ نہیں بلکہ عرب اسرائیل مسلہ ہے، اسرائیل سے ہمارا براہ راست کوئی جھگڑا نہیں، وغیرہ وغیرہ. ہمارا مقابلہ، اور ہم سے مراد ہر وہ مسلمان ہے جو نظام امامت و ولایت پر یقین رکھتا ہے، ان تمام افکار سے بہ یک وقت ہے، ہم زمانۂ غیبت کبریٰ میں ولی فقیہ کو اپنا امام و راہبر سمجھتے ہیں، اور اس بات کے قائل ہیں کہ پوری امت کا قائد و امام ایک ہی شخص ہے اور ایک امت کا قائد ایک سے زیادہ ہو بھی نہیں سکتا

اس وقت جو سب سے بڑا فتنہ ہمارے سامنے ہے وہ تکفیری خارجی دہشتگردی ہے جو عالم اسلام پر حملہ اور ہے. مغربی میڈیا کی پوری کوشش ہے کہ اس کو سنی شیعہ لڑائی بنا کر پیش کیا جاۓ، تکفیری دہشتگرد اور ان کے ہمدرد و سپورٹرز بھی یہی چاہتے ہیں کہ انجمن سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، القاعدہ، تحریک طالبان، جبہ نصرہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کو سنی مکتب کی نمائندہ بنا کر پیش کریں اور ان گروہوں کی دیگر مسلمانوں پر یلغار کو سنی “مجاھدین” کے جہاد سے تعبیر کریں، تاکہ ایک طرف تو خود سنی شیعہ منافرت پھیلا سکیں مسلمانوں میں، مسلمان ممالک کو کمزور کر سکیں، اور وہاں اپنی پٹھو حکومتیں مسلط کر سکیں اور دوسری طرف ان تکفیری خارجی دہشتگردوں کا مکروہ چہرہ اور بربریت مغرب کو دیکھا کر ان کو اسلام سے متنفر کر سکیں. اسی طرح ایک گروہ وہ ہے جو مختلف حیلہ بہانوں سے شیعہ نسل کشی پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے، یہ گروہ پاکستان سے بحرین تک شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کو یہ کہ کر اس کی اہمیت کو کم کرتا ہے کہ یہ گویا شیعہ سنی کی دو طرفہ جنگ ہے، یہ بھول جاتا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروہ معتدل سنی دیوبندیوں کا بھی اتنا ہی بڑا دشمن ہے جتنا شیعہ مسلمانوں کا. پاکستان میں کوئٹہ میں پہ در پہ شیعہ مسلمانوں کا قتل ہو، بلوچستان میں شیعہ زائرین پر مسلسل حملے ہوں، گلگت و بلتستان میں شیعہ مسلمانوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر ان کا قتل عام ہو، پارا چنار میں شیعہ آبادیوں پر حملے ہوں یا کراچی میں شیعہ ڈاکٹرز، پروفیسرز، علماء دین، پروفیشنلز اور عام شیعہ مرد و خواتین کا قتل عام ہو، مفتی سرفراز نعیمی کا قتل ہو، مولانا حسن جان کی شہادت ہو، قاضی حسین احمد پر خود کش حملہ ہو، داتا دربار پر حملہ ہو، عید میلاد النبی کے موقعہ پر نشتر پارک پر حملے میں بریلوی سنی علماء و عوام کا قتل عام ہو، جی ایچ کیو اور آئ ایس آئ ہیڈ کوارٹر پر حملہ ہو، راولپنڈی میں سرجن جرنل کا قتل ہو فوجی مسجد پر حملہ ہو یا عاشور کے جلوس پر حملہ، یہ ذہنی مریض گروہ یہی راگ الاپتا رہے گا کہ یہ دو طرفہ فرقہ واریت ہے، اور اس کے لیۓ اس کی آخری دلیل یہ ہے کہ تکفیری خارجی دہشتگرد گروہ کے بھی کچھ لوگ مارے گۓ ہیں، گویا ان قاتل درندوں کا جہنم واصل ہونا اور ملک کے مظلوم و نہتے عوام کے قتل میں کچھ فرق ہی نہیں اور دونوں برابر ہیں

ان خارجی دہشتگردوں کے ہاتھوں میں پاکستان میں ٥٠،٠٠٠ کے قریب افراد قتل ہو چکے لیکن اس ذہنی پرورٹ گروہ کی “دو طرفہ جھگڑے” کی راگنی جاری ہے تاکہ ٥٠٠٠٠ لوگوں کے قتل عام کی اہمیت کم کر کے اس کو دو طرفہ جھگڑے کا رنگ دیا جا سکے. عراق میں یہ تکفیری دہشتگرد گروہ پچھلے ١٠ سالوں میں بلا مبالغہ پاکستان سے بھی زیادہ قتل عام کر چکا لیکن وہاں بھی تکفیری دہشتگردوں کا یہ گروہ زبانی لنترانی کر کے اس کا سارا الزام مالکی پر رکھنا چاہتا ہے اور لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ عراق کے موجودہ حالات کا سبب یہ ہے کہ نور المالکی کا سلوک سنی مسلمانوں سے مناسب نہیں تھا. تکفیری دہشتگردوں کا یہ ہمدرد گروہ و مدافعین کبھی یہ نہیں بتاتا کہ پچھلے دس سالوں میں عراق میں دہشتگردی کا شکار ہونے والوں کی عظیم اکثریت شیعہ مکتب سے تعلق رکھتی ہے اگر چہ عراق ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اس کے باوجود وہاں کے شیعہ عوام اور علماء نے جواب اور رد عمل میں بھی سنی مسلمانوں پر حملوں کو جائز نہیں سمجھا ہے، وہ یہ بتانا بھی پسند نہیں کرتا کہ عراق میں سنی مسلمانوں کے درمیان کردوں کی اکثریت ہے جو شیعہ حکومت کے ساتھ کسی بھی غیر معمولی چپقلش کہ سکون سے رہ رہے ہیں اگر چہ کردوں میں علیحدگی پسند رجحانات بھی موجود ہیں. بات واضح ہے، ایک گروہ شیعہ مسلمانوں کی تکفیر اور قتل پر مامور ہے، دوسرا اس قتل عام کی وجوہات اور جسٹیفیکیشن ڈھونڈتا ہے اور تیسرا ایسے کسی بھی قتل عام کا انکاری ہے، یہ سب اس معاشرے کے کسی نہ کسی سیگمنٹ کو بیوقوف بنانے میں مشغول ہیں

ایک داعی کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ اس تکفیری دہشتگرد گروہ اور ان کے ہمدردوں کے مظالم فاش کریں، ان کے جھوٹ و منافقت لوگوں کے سامنے لائیں اور بتائیں کہ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ یہی تکفیری دہشتگرد گروہ ہمارے ملک کی جڑیں بھی کھوکلی کر رہا ہے، فوج، پولیس، رینجرز، سول و فوجی تنصیبات، ائیرپورٹس، ملٹری بیسز، انٹیلیجنس اداروں، بازاروں پر بھی حملے کر رہا ہے، اور دوسری طرف لوگوں کے گلے کاٹ کر، لوگوں کو ذبح کر کے، ان کی ویڈیوز ریلیز کر کے، اسلام کو بھی بدنام کر رہا ہے. اس حوالے سے ملک میں پچھلے ١٤ سال کے دوران ہونے والے دہشتگرد حملوں کی فہرست اور ان کی ذمہ داری قبول کرنے والوں اور ان حملوں میں مرنے والوں کی شناخت لوگوں کے سامنے رکھی جا سکتی ہے اور عوام کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ خود تحقیق کریں کہ مر کون رہا ہے اور مار کون رہا ہے. لیکن اس سارے عمل کے دوران جو ہمارا دشمن حقیقی ہے یعنی امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب ان کو فراموش نہ کریں کیوں کہ ان تکفیری دہشتگردوں کے اصل مددگار یہی ممالک ہیں، شام اور عراق کے قضیه میں یہ بات واضح ہو چکی. ایک اہم بات اور، جتنے بھی افراد دعوه میں مشغول ہیں، ان کی زبان سیرت و اخلاق رسول کے مشابہ ہونی چاہیے اور گالم گلوچ سے محفوظ


2 responses to “تکفیری دہشتگردی کا ابلاغی مقابلہ – دعوتی نقطۂ نظر – از خرم زکی”

  1. These TAKFIRIS look like Sikhs or Sadhoos and call themselves Muslims on Gun Power.
    They are Kafir themselves as they are using Flag of Islam for their Terrorist Activities.

  2. زکی صاحب آپ جتنا اعتدال پسندی کا لبادہ اوڑھ لیں آپ کے اندر کا متعصب شیعہ آخر باہر آہی جاتا ہے جسکا جواب انتہائی ادب کے ساتھ اسی ٹون میں دینا ضروری ہے ۔یہ یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ دنیا ہے جب تک
    1- شیعہ اجارہ دار طبقہ حصول عہدوں کے لیے جنسی اور مالی رشوت لینا دینا بند ہیں کرے گا
    2- صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کے خلاف غلیظ لیٹریچر پر پابندی نہیں لگائی جائے گی
    3- ایرانی امداد کا سلسلہ نہیں روکا جائے گا
    پسا ہوا ہوا طبقہ ہر دور میں مختلف ناموں سے کھڑا ہوتا رہے گا۔