سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے دہشت گرد آزاد – آپریشن ضرب ازب کس کے خلاف ہو رہا ہے ؟
ایک طرف جہاں پاکستانی آرمی وزیرستان میں دیوبندی اور وہابی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے میں مصروف ہے وہاں دوسری طرف کراچی سے تعلق رکھنے والے سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے دیوبندی دہشت گرد ہنگو میں آزادی سے گھومتے ہوے دیکھا جا سکتا ہے جس کے ساتھ دیوبندی دہشت گرد اسلحہ اٹھاے گھوم رہے ہیں –
سپاہ صحابہ کے دہشت گرد فاروقی کے ہنگو کے جلسے کے اگلے ہیں دن کرم ایجنسی سے ہجرت کر کے ہنگو آنے والے ایک شیعہ خاندان کے آٹھ افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں ، دیوبندی سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بن کے شہید ہوگیے –
دوسری طرف کویٹہ میں سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے پےدر پے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہ کرنا بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے نام پر رچاے جانے والے ڈھونگ پر ایک سوالیہ نشان ہے –
کراچی کے بعد بلوچستان میں بھی سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے ساتھ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ازبک دہشت گردوں کا الحاق اور اس کا اعلانیہ اظہار بہت سے سوالوں کو جنم دے رہا ہے – یہی ازبک دہشت گرد جو کراچی ائیرپورٹ پر حملے میں ملوث تھے آج سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی سے اعلانیہ اتحاد اور الحاق کا اعلان کر رہے ہیں اور ہماری ریاست اور ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں
سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی جہاں ایک طرف شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہے وہاں ہی وہ پاکستانی فوج کے خلاف بھی پراپیگنڈے میں مصروف ہے – سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی دیوبندی کے ایک ٹویٹر اکاونٹ سے پاکستانی فوج کے خلاف پروپیگنڈے پر مبنی ٹویٹ کی جا رہی ہے کہ پاکستانی فوج کا کپتان اپنے اہلکاروں سے سمیت دیوبندی طالبان سے جا ملا جس کے ساتھ فوج کا اسلحہ اور سامان بھی طالبان کے قبضے میں چلا گیا –
یہ یقیناً غداری کے زمرے میں آتا ہے – لیکن سوال یہ ہے کہ ان غدار دہشت گرد دیوبندیوں کے خلاد کیا ہماری فوج اور ریاست کوئی سنجیدہ قدم اٹھاے گی؟