نوازشہباز قربانی کے بکروں کی تلاش میں رانا ثناء اللہ اور چند پولیس افسران کی بلی چڑھانے کو تیار

اے آر وائی نیوز کے بیورو چیف عارف حمید بھٹی ،روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی ،جیو جنگ گروپ کے سہیل وڑائچ سمیت میڈیا کے بہت سے منجھے ہوئے صحافیوں کا کہنا ہے کہ لاہور میں سی پی او لاہور شفیق چودھری کی قیادت میں تحریک منھاج القرآن کے خلاف ہونے والے ایکشن کی منظوری اعلی سطح سے ہوئے بغیر اس طرح کا ایکشن ممکن نہیں تھا

عارف حمید بھٹی بیورو چیف لاہور نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ان کو انتہائی باوثوق زرایع سے معلوم ہوا کہ لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے اس آپریشن کی مخالفت کی تھی لیکن صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا کہ چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف کا حکم ہے کہ آپریشن فوری طور پر کیا جائے

شہباز شریف ،رانا ثناءاللہ اور آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے ملکر ٹی ایم کیو کے دفتر اور طاہر القادری کے گھر سے اسلحہ برآمد کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ اس کی بنیاد پر ٹی ایم کیو کے خلاف پورے پنجاب میں کریک ڈاؤن کیا جاسکے لیکن یہ منصوبہ ٹی ایم کیو کے کارکنوں کی مزاحمت سے ناکام ہوگیا

باخبر زرایع کا کہنا ہے کہ منصوبہ شہباز شریف نے بنایا اور منظوری نواز شریف سے لی گئی لیکن اب نواز شریف اور شہباز شریف اس حوالے سے پولیس افسران کی قربانی دیکر زمہ داری سے بچنا چاہتے ہیں

نواز لیگ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی قربانی بھی دینی پڑی تو دے دی جائے گی

جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس سارے واقعے کے زمہ داران شریف برادران ہیں

عمران خان ،طاہر القادری ،شیخ رشید ،صاحبزادہ حامد رضا نے شہباز شریف کے مستعفی ہونے اور ان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے

TUQ

10415642_889334531083382_8863675904802851667_n

جس طرح نواز حکومت نے سانحہ بادآمی باغ میں مسیح برادری کے خلاف کالعدم سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کا استعمال کیا بالکل اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن میں اہلسنت منہاج القرآن کے خلاف بھی نواز حکومت نے سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کو استعمال کیا، اس حوالے سے ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک کے رہنما عمر ریاض عباسی انکشاف کررہے سنیں اس ویڈيو میں۔۔

Comments

comments

Latest Comments
  1. a
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*