ہندوستانی سیکولر ازم اور ڈاکٹر خورشید انور -از عامر حسینی

khurshid

نوٹ:عامر حسینی نے یہ لیکچر ڈاکٹر خورشید انور جوکہ سنٹر فار ڈیموکریسی دہلی کے ڈائریکٹر اور معروف فیمنسٹ و کمیونسٹ دانشور تھے کی یاد میں ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس میں  دیا تھا جو ہم ان کے شکریہ کے ساتھ شایع کررہے ہیں

برصغیر جس میں ہندوستان،پاکستان اور بنگلہ دیش کے معاشرے آتے ہیں ایسے معاشرے ہیں جہاں انسانیت،توقیر آدمیت اور جملہ انسانی اقدار ہمیشہ سے جاگیرداری فرسودگی سے جنم لینے والی اشرافیت کے ہاتھوں پامال ہوتی آئی ہیں
یہ جاگیردارانہ اشرافیت ذات پات،نسل،قبیلہ،فرقہ اور حسب نسب کی بنیادوں پر قائم ہوئی ہے
یہ ایسے معاشرے ہیں جہاں آج بھی مرد عورت کو پیر کی جوتی خیال کرتے ہیں اور عورت دشمنی کو فخر خیال کرتے ہیں
یہاں بہت سے زاتوں اور بہت سی نسلوں کو آج بھی رزیل اور کمینہ خیال کیا جاتا ہے
غریبی آج بھی یہاں ایک بڑا جرم ہے اور بہت سے پیشے اور کام ایسے ہیں جن کے کرنے والوں کو کبھی معزز خیال نہیں کیا جاتا
ان معاشروں میں بہت سی مذھبی اور مسلکی شناختیں ایسی ہیں کہ ان سے وابستگی کا مطلب پوری شہریت اور مساوی حقوق سے محرومی ہے
فرقہ پرستی،برادری ازم،کمیونل تنازعات ،نسل پرستی،عورت دشمنی،غریب دشمنی عام ہے
آج کا ہندوستان اگر ہندوتواء کے زیر اثر پنپنے والے ہندؤ فاشزم کی یلغار کا سامنا کررہا ہے تو پاکستان اور بنگلہ دیش طالبانیت کے لباس کے ساتھ ابھرنے والے اسلامو فوبک فاشزم کا سامنا کررہے ہیں
ہندوستان جس کی بنیاد سیکولر ڈیموکریسی پر رکھی گئی ہندؤفاشزم،کمیونل ازم ،کاسٹ ازم اور دور جدید کے کاروپوریٹ ازم اور مارکیٹ اکنامی کے بے رحم کلچر سے لہو لہو نظر آتا ہے
سیکولر،لبرل،تکثیری ڈیموکریسی کو ہندوستان میں سخت خطرات لاحق ہیں اور ہمیں ہندوستانی سماج میں ننیدر مودی کی قیادت میں ہندؤ فاشزم ترقی کرتا نظر آتا ہے
ہندوستان میں گجرات،کشمیر،چھتیس گڑھ،تری پوری،آسام،ناگا لینڈ میں جو انسانیت سوز مظالم ریاستی اور غیر ریاستی سطح پر ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور جس طرح سے کمزور اور نچلے طبقات کی عورتوں کی آبرو کی پامالی،کسانوں کی خود کشیاں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی قبائلیوں کے وسائل کی لوٹ مار اور ان کی زمینوں پر قبضوں کی لہر دکھائی دیتی ہے اس سے ہندوستان کے سیکولر،لبرل،تکثیری جمہوری ریاست کے دعوے پر کئی سوالیہ نشان لگتے دکھائی دیتے ہیں
تو کیا ہندوستان میں جب ہندؤفاشزم عروج پر ہے اور یہاں پر کارپوریٹ کلچر کا سونامی تباہی پھیلارہا ہے یہاں ہر سمت خاموشی ہے یا اس کے خلاف کسی نے بند باندھنے کی کوشش کی ہے؟
کیا ہندوستان کے اہل دانش نے ہندوستان میں جمہوریت کی گل ہوتی ہوئی شمع کو روشن رکھنے کی کوشیشیں ترک کرڈالی ہیں؟
میرا جواب ہے کہ نہیں،ایسا نہیں ہے بلکہ ہندوستانی سماج کے اندر سے ایسی آوازوں نے جنم لیا ہے جنہوں نے ہندوستانی سماج کے اندر سیکولرازم،جمہوریت اور تکثریت کے ساتھ ساتھ عورتوں سمیت کمزور سماجی گروہوں کے حقوق کے لیے شاندار جدوجہد کے باب رقم کئے ہیں
سیکولرازم،تکثیری جمہوریت اور انسانی حقوق کی تحریک میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے والوں کی اگر ہم درجہ بندی کریں تو ان میں خورشید انور کا نام بہت نمایاں اور اوپر نظر آئے گا
خورشید انور جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے فاضل اور استاد تھے اور جے این یو دہلی کمیونسٹوں،فیمنسٹوں کا گڑھ خیال کی جاتی ہے اور وہ بھی ایک سچے کمیونسٹ،فیمنسٹ اور انسانی حقوق کے علمبردار تھے
وہ ایک این جی او “سوشل ڈیموکریسی ” کے نام سے چلارہے تھے جوکہ ہندوستان میں سیکولرازم،ڈیموکریسی کے تکثیریت پسند تصورات کے فروغ کے لیے کام کررہی تھی
خورشید انور دہلی میں رہنے والے ایسے انسانی حقوق کے کارکن،کمیونسٹ اور فیمنسٹ تھے جنہوں نے جنوبی ایشیا کے اندر مذھبی فاشزم،کاسٹ ازم،کیمونل ازم اور مارکیٹ اکنامی کے خلاف سیکولر تکثریت پسند ڈیموکریسی اور جمہوری سوشل ازم کو فروغ دیا
انہوں نے ہندوستان میں ہندؤ فاشزم ،عورت دشمنی اور طبقاتی تقسیم کے خلاف کام کیا اور عورت کی محکومیت کے خلاف بیداری میں بھی اپنا کردار ادا کیا
وہ ہندوستان کے ایسے دانشور کارکنوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے ہندوستان میں سیکولر تکثیریت پسند جمہوریت کو ایک تحریک کی شکل دی
میں نے ہندوستان کے معروف ادیب،افسانہ نگار اور سیاست دان ساجد رشید سے انور خورشید ،جاوید اختر،شبانہ اعظمی ،خود ان کی اور دیگر کئی اور ادیبوں،شاعروں،صحافیوں،سماجی کارکنوں اور سیاسی کارکنوں کی جانب سے ہندوستان میں سیکولر تکثریت پسند ڈیموکریسی کے احیاء اور تحفظ کے لیے شروع کی جانے والی تحریک کے بارے میں سنا
ساجد رشید کی ادارت میں ممبئی سے شایع ہونے والا ادبی جریدہ “نیا ورق”اس حوالے سے بہت سے اداریے اور مضامین،نظیمں اور فکشن شایع کرتا رہتا تھا اور وہیں کہیں خورشید انور کا تذکرہ بھی سننے کو ملتا رہتا تھا
خورشید انور ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ وہ بنگلہ دیش،پاکستان،سری لنکاء،تھائی لینڈ اور دیگر کئی ملکوں میں مذھبی ہم آہنگی،سیکولرازم،جمہوریت اور تکثریت کو پھیلانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے
اگرچہ پاکستان کی حکومت ان کو ويزہ دینے سے انکاری تھی لیکن پاکستان میں ان کے کافی دوست ،احباب اور شاگرد موجود تھے جنہوں نے ان سے انسانیت،رواداری،احترام آدمیت کے اسباق پڑھے تھے
ڈاکٹر خورشید انور اگرچہ ایک لبرل مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کے اندر بغاوت کی جو آگ سلگتی تھی اس کی تپش سے خود خورشید کے گھر والے بھی گبھرا گئے اور بقول ان کے انھیں گھر سے الگ ہونا پڑا
کرسچن اسٹڈی سنٹر میں کمپوزٹ کلچر پروگرام کے آفیسر عمران منور جن کی خورشید سے بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر خورشید نے ان کو اپنی ایک کزن کی آزاد خیالی اور اپنی آزاد حثیت کو منوانے والی عادات کا زکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کیسے وہ گھر کے واحد آدمی تھے جو اس عورت کی آزاد خیالی کی سپورٹ کیا کرتے تھے
ڈاکٹر خورشید انور کے خیالات سے میری باقاعدہ آشنائی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب جماعت اسلامی انڈیا کے فرحان اصلاحی نے مجھے ڈاکٹر خورشید کے خیالات کی تردید میں دو تین باقاعدہ مضمون ارسال کئے اور ان مضامین میں انہوں نے ڈاکٹر خورشید کی جانب سے جماعت اسلامی،آرایس ایس اور دیوبندی ریڈیکل نظریات کو ایک ہی چیز کے مختلف رنگ قرار دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ سب فاشزم کے مختلف مذاہب کے اندر ابھرنے والے رجحانات ہیں
خورشید انور ایک ملحد تھے اور کمیونسٹ تھے اور ساتھ ساتھ فیمنسٹ بھی تھے اور وہ ان سب کے ساتھ ساتھ ہندوستان سمیت ان معاشروں میں جہاں مذھبی تنوع موجود تھا جس سے ملکر ان معاشروں کا کلچر تشکیل پایا تھا یہ تصور سامنے لیکر آئے تھے کہ یہ جو ترشول،چاند ستارہ،کیس و کرپان کڑا ،کچھا وغیرہ ہیں اور اسی طرح سے مندر،مسجد،کلیسا،گردوارہ،آتش کدہ ہیں یہ سب مشترکہ ثقافتی ورثہ ہیں اور یہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ نہ بنانے والی علامتیں ہیں اور ان کے خیال میں مذھبی فاشزم ان کے باہمی رشتوں کو کاٹنے اور محبت کی بجائے نفرت میں بدلنے کا کام کرتا ہے اور وہ کمپوزٹ کلچر سے منفی علامتوں کو نکال کر جوڑنے والی علامتوں کو فروغ دینے کا کام کرتے تھے اور کمپوزٹ کلچر ان کا خصوص آئیڈیا تھا جو انھوں نے ایشیا اور خاص طور پر جنوبی ایشیا میں متعارف کرایا تھا
میرے دوست شہزاد فرانسس کو کرسچن اسٹڈی سنٹر راولپنڈی کی طرف سے ایک وفد کے ساتھ بنگلہ دیش جانے کا موقعہ ملا اور ڈھاکہ میں اس نے کئی دن اور کئی راتیں خورشید انور کے ساتھ بسر کیں
خورشید انور سے شہزاد فرانسس کو ملکر جو فیض ملا اس کا تذکرہ شہزاد نے اپنی گفتگو میں کرڈالا ہے اور شہزاد جب ڈھاکہ سے واپس پاکستان آیا تو اس نے مجھے خورشید انور سے اپنی صحبت اور ملاقاتوں کا احوال سنایا
شزاد فرانسس کو نہ جانے کیوں یہ لگا کہ خانیوال جیسے چھوٹے ٹاؤن میں زندگی بسر کرنے والا یہ نفس ناتواں جو باتیں کرتا ہے وہی باتیں تو دلّی کی کاسموپولیٹن روشنیوں میں رہنے والا خورشید انور کرتا ہے
شہزاد خوش قسمت تھا کہ وہ اپنے دور کے ایک عظیم دانشور،سیاسی،سماجی کارکن اور بڑے اشتراکی سے ملا اور اس کے ساتھ اس نے وقت گزارا
شہزاد نے خورشید انور کو ایک ای میل بھیجی اور اس میں راقم کا تذکرہ کیا جس کے جواب میں خورشید صاحب نے مجھے ایک جوابی ای میل ارسال کی اور کہا کہ وہ جلد ہی مجھے دلّی بلوانے کی سبیل نکالیں گے
مجھ ے بھی ان سے ملنے کا چاؤ تھا اور میں اس لیے بھی دلّی جانا چاہتا تھا کہ ایک تو خورشید انور سے ملوں دوسرا ارجمندآراء آپا سے بھی ملنے کی سبیل نکالوں اور لگے ہاتھوں ممبئی جاؤں اور ساجد رشید ،جاوید اختر سے بھی مل کرآؤں
یہ خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھا تھا کہ پہلے ساجد رشید کے مرنے کی خبر آئی اور پھر ایک دن خبر آئی کہ خورشید انور صاحب نے خودکشی کرلی ہے
میں نے ہندوستانی میڈیا میں یہ خبریں پڑھی تھیں کہ ان پر ایک خاتون کی ابروریزی کا الزام عائد کیا جارہا ہے اور ہندوستانی میڈیا ان کا میڈیا ٹرائل کررہا تھا جبکہ ہندوستان کی فمینسٹ لابی کے کئی بڑے بڑے نام اس الزام کے پس پردہ حقائق جاننے کی بجائے خورشید انور پر سنگ زنی کرنے لگے تھے
خورشید انور کے اکثر سیکولر ،فیمنسٹ مداح ان کے خلاف میڈیا میں طنز اور تشنیع کے نشتر چبھو رہے تھے اور ان کو جعلی فیمنسٹ قرار دیا جارہا تھا
سب سے زیادہ ان کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا سرگرم تھی اور ان کو سنہری موقعہ ملا تھا سیکولرازم اور جمہوری تکثریت پسندی کی توانا آواز اور ہندؤ فاشزم کے سب سے بڑے مخالف کو ناک آؤٹ کرنے کا
خورشید انور شاید ہندؤ فاشزم اور زعفرانیت کے علمبرداروں کی گندی اور ڈرٹی گیم کا مقابلہ بھی کرجاتے اور وہ اس عورت کو بے نقاب بھی کرتے جس نے یہ سب ڈرامہ کیا تھا مگر ان کو سخت اذیت اس حلقے کی سنگ زنی سے ہوئی جن کے ساتھ وہ ملکر بال ٹھاکرے،نندر مودی،ایل کے ایڈوانی کے سامنے ڈٹ گئے تھے اور آج وہی حلقہ میڈیا میں ان کۓ حلاف بے تکان بول رہا تھا
انہوں نے اچانک فیصلہ کیا کہ وہ اپنی جان دیکر،اپنے لہو سے غسل کرکے اپنی بے گناہی کا ثبت دیں گے اور وہ خود ہی آپ مصلوب ہوگئے اور سب کو ششدر کرگئے
انہوں نے اپنے فلیٹ سے کود کر جان دے دی اور پولیس جب فلیٹ پر گئی تو انہیں وہاں پر ایک ڈائری ملی جس میں خورشید انور نے اپنی بے گناہی کے حوالے سے سارا واقعہ لکھا تھا
Everybody consumed alcohol. After consuming alcohol, a girl began to feel unwell. I don’t know when somebody made her lie down in my bedroom. I was sitting in the drawing room with the others. Then came the time to leave. I had called two taxis to ensure that everybody could go back and that nobody stayed back..

One person announced that everybody should leave the place and let the girl rest in my house. The person who made the announcement wasn’t ready to stay over herself. But I thought that since this girl was unwell, she should be looked after by a woman only.

She came into the drawing room and demanded of me what she had last night. I was shocked. I said, ‘Stop it’ and asked her to shut up. A girl says those words to me thrice. Why? I kept thinking over this but didn’t think it was a conspiracy at that point.

Anwar also says he spoke to a member of the NGO about the incident, but nothing happened for a few days.

Then I found out that I was being blamed. The members of the NGO who I knew beforehand stopped talking to me. The friend told me they had met the girl. Even after repeated requests, they refused to meet me. Why? I don’t know. Then after a few days, around 8 to 10 people came over to meet me. I also called over somebody from my side. I found out later that one of the members of the NGO was saying that she will put me in trouble.

In the meanwhile, Khurshid Anwar’s separated wife, who is also a feminist, claimed that this media coverage is anti-women. His separated wife, Dr.Meenakshi Sundriyal, is a professor of JNU. At the Press Club of India here on Sunday, Dr. Sundriyal said (link):

“I have been an office bearer of the Gender Sensitisation Committee at Jawaharlal Nehru University. I can say that when we try to take matters into our own hands and not follow laid-down procedures on sensitive matters such as rape, it is usually the women who suffer. Those branding him as a rapist on various media platforms did not follow the process of law and instead took matters into their own hands.”

خورشید انور کی خودکشی کے بعد میڈیا ٹرائل کرنے والوں کو ضمیر کے کچوکے جب ناقابل برداشت ہوئے اور ڈرامہ کا ڈراپ سین ہوا سمیا مصطفی سمیت بہت سے ہندوستانی طحافی،تجزیہ نگار ،اینکر اور کئی لبرل فیمنسٹ پیشمانی کا اظہار کرنے لگے
تہلکہ ویب سائٹ،ریڈف ،ہندوستان ٹائمز اور دیگر کئی اخبارات اور رسائل نے خورشید انور والے واقعے میں ہندوستانی صحافت کے کردار پر تنقیدی مضامین شایع کئے اور لکھا کہ اخبارات نے لڑکی کے بیان کی تصدیق کئے بغیر اور کسی ایف آئی آر کے اندراج کے بغیر ہی خورشید انور کا میڈیا ٹرائل شروع کرڈالا اور یہاں تک کے ان کے اپنے بھی گوسپز پر کان دھرنے لگے لیکن جب خورشید انور جدا ہوگئے تو لگے پیشمانی کا اظہار کرنے
بقول غالب
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پیشماں کا پیشمان ہونا
خورشید انور نے ساری زندگی لوگوں کو یہ بتانے میں بسر کردی کہ شیام،انور،جوزف ڈی سوزا،کھڑک سنگھیہ سب اپنے ایشور،اللہ،گاڈ ،خالصہ اور اپنی اپنی مذھبی علامتوں اورفرائض کے ساتھ ساتھ اپنے مندر،مسجد،کلیسا،گرودوارہ کے ساتھ ساتھ ایک ہی محلے اور بازار میں رہ سکتے ہیں اور کام کوئی بھی ہے وہ برا نہیں ہے اور کوئی زات،اونچی اور کوئی زات نیچی نہیں ہے اور ہر ایک انسان اپنی شناخت اور اپنے مقام کا اثبات کسی دوسرے کی شناخت اور نفی کئے بغیر اور کسی کو مٹائے بغیر کرسکتا ہے جبکہ مرد اور عورت کے درمیان ان کی جنس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کا امتیاز جہالت ہے اور وہ اسی تعلیم کو سیکولرازم کی روح کہا کرتے تھے اور اسے تکثیری جمہوریت کا بنیادی اصول کہا کرتے تھے
خورشید انور کو مذکورہ بالا اصولوں کی پاسداری کی وجہ سے انسان دوست حلقوں میں ہمیشہ قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے گا،وہ اپنے کام کی وجہ سے ہم میں زندہ رہیں گے،ان کی عظمت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ آج ہم پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر کے ایک محلے میں اتنے سارے لوگوں کی موجودگی میں ان کی یاد منارہے ہیں
حوالہ جات
1-سیکولرازم سے مراد ایسا نظام ہے جس میں ریاست اپنے شہریوں سے ان کے مذھب،رنگ ،نسل،زات پات،فرقے،قبیلہ اور جنس یا کسی پیشہ کی بنیاد پر کسی قسم کے امتیازی سلوک نہ کرتی ہو نہ ہی کوئی قانون بناتی ہو اور اس معاشرتی مفہوم یہ ہے تمام انسان اپنی اپنی مذھبی اور دیگر شناختوں کے ساتھ کسی دوسرےانسان کی شناخت کی نفی نہ کرتے ہوں اور اس کے مذھبی معاملات میں مداخلت نہ کرتے ہوں
2-تکثریت سے مراد ایسا سیاسی اور سماجی نظام ہے جس میں کوئی مذھبی یا نسلی اکثریت محض اپنی عددی اکثریت کی بنا پر کسی دوسری مذھبی یا نسلی اقلیت کے حقوق سلب کرنے کا آحتیار نہ رکھتی ہو اور معاشرہ مجموعی طور پر کثرت شناخت کو برداشت کرتا ہو
3-فیمن ازم سے عمومی طور پر مراد وہ سب تحریکیں ہں جو مرد و عورت کے درمیان صنفی بنیادوں پر عدم مساوات کے تمام تر تصورات کو رد کرتی ہیں اور مرد و زن کی برابری کے تصورات پر استوار ہوں
4-ہندؤ فاشزم سے مراد ایسا ںطریہ ہے جس کے تحت ہندؤ مت کو نہ ماننے والوں کو تیسرے درجے کا شہری بنادیا جائے اور مذھبی تبدیلی کے عمل سے گزرنے والی نسلوں یا گروہوں کو واپس ہندؤ مت میں لانا ہے
5-طالبانیت یا اسلاموفوبک فاشزم سے مراد ایسی فکر یا آئیڈیالوجی ہے جس کی رو سے صرف ایک خاص قسم کے مذھبی کوڈ پر یقین رکھنے والے ہی زندہ رہنے کا حق رکھتے ہوں یا ان کو فل شہری حقوق حاصل نہ ہوں اور ان کو اپنی مذھبی،ثقافتی سرگرمیوں کو سرانجام دینے کی اجازت نہ ہو
6-مارکیٹ معشیت اور کارپوریٹ کلچر سے مراد ایسا نظام ہے جس میں ریاست ایک طرف تو معشیت کو نجی کمپنیوں کو منتقل کردے اور سروسز و سوشل سیکٹر کی زمہ داریوں سے دست بردار ہوجائے اور شہریوں کو بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کا پابند خیال نہ کرے
7-سوشلزم سے مراد ایسا نظام ہے جس میں وسائل پیداوار اجتماعی ملکیت میں ہوں یعنی زمین اور کارخانوں کی ملکیت اجتماعی ہو اور ہر ایک شہری سے اس کی اہلیت کے مطابق کام اور اس کی محنت کے مطابق اجرت ادا کی جاتی ہو اور ریاست شہریوں کو تعلیم ،روزگار،رہائش،صحت سمیت بنیادی ضرورتیں مفت فراہم کرنے کی پابند ہو

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*