سعودی عرب نے انتہا پسند دیوبندی مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن رکوایا، شمالی وزیرستان آپریشن نادیدہ ہاتھوں نے رکوایا — نیویارک ٹائمز کی صحافی کارلوٹاگیل کا خصوصی انٹرویو

wrong enemy

ادارتی نوٹ: تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس وقت شمالی افریقہ میں نمائندہ کارلوٹا گیل سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا،یہ انٹرویو ہماری ویب سائٹ کے ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج نے نے کیا جو امریکہ میں ہی مقیم ہیں

کارلوٹا گیل ایک ایسی برطانوی نژاد صحافی ہیں کہ جن کا وار زونز میں رپورٹنگ کا کرنے کا بہت طویل تجربہ ہے ،انہوں نے برطانیہ کی سٹی یونیورسٹی لندن سے آئی آر میں ڈگری لی اور کیمبرج کے ایک کالج سے روسی اور فرنچ زبانوں پر عبور حاصل کیا اور 1994ء سے انھوں نے ماسکو ٹائمز سے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز چیچینیا میں جاری جنگ کی رپورٹنگ سے کیا 1998ء سے 2001ء تک وہ فنانشل ٹائمز کی طرف سے چیچنیا ،باکو،سنٹرل ایشیا ،آزبائی جان ،بلقان ،یوگو سلاویہ ،بوسینیا میں واز زونز میں رپورٹنگ کرتی رہیں اور پھر 2013ء تک انھوں نے تقریبا 11 سال پاکستان اور افغانستان کو نیویارک ٹائمز کے لیے کور کیا
وہ ایک بے باک ،نڈر،سچ لکھنے کے لیے بے تاب رہنے والی صحافی کے طور پر مشہور ہیں،پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے،وہ امریکی پینٹا گان،سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ،سی آئی اے کی افسر شاہی میں اپنے غیر مصالحانہ طرز رپورٹنگ کی وجہ سے اچھی نظروں سے دیکھی نہیں جاتیں
حال ہی میں ان کا ایک آرٹیکل اسامہ بن لادن کی پاکستان موجودگی کے بارے میں شایع ہوا جس میں انھوں نے اپنی تحقیقات کے مطابق یہ نتیجہ نکالا کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کا ایک خصوصی ڈیسک اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کو مانیٹر کررہا تھا جس کے سربراہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا تھے اور وہ اسامہ بن لادن کی پاکستان موجودگی سے باخبر تھے،اس آرٹیکل نے پاکستانی میڈیا میں ایک ہلچل مچادی اور پاکستان میں آئی ایس آئی کے ہمدرد خیال کئے جانے والے جغادری صحافیوں نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دینے کی کوشش کی اور فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے بھی ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اس کی نفی کی
تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے افغانستان و پاکستان سمیت ایسے وار زونز جہاں پر دیوبندی-وہابی دھشت گردی کے قدم جابجا پڑے وہاں پر اس صحافی کے گزرے بیس سالوں کے دوران حاصل ہونے والے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور پاکستان میں دیوبندی-وہابی انتہا پسند آئیڈیالوجی،دھشت گردی کے پھیلاؤ،اس کے ملٹری اسٹبلشمنٹ سے رشتے و ناطے اور سعودی تعلقات بارے ان سے بات چیت کی،پاکستانی میڈیا کے ڈسکورس پر بھی ان سے بات ہوئی جس سے پاکستان کو ردپیش مسائل اور چیلنجز ک سمجھنے میں مدد ملتی ہےاور ساتھ ساتھ ایسے ڈسکورس بھی دریافت کئے جاسکتے ہیں جو زیادہ معروضی اور زیادہ غیرجانبدار ہوں اور اس پر کسی منتخب یا غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے نشانات نہ پائے جاتے ہوں
تعمیر پاکستان:پاکستان میں دیوبندی مدارس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان،سپاہ صحابہ پاکستان،لشکر جھنگوی جن کے القائدہ سے بہت قریبی روابط ہیں کو فکری رہنمائی اور افرادی قوت فراہم کرتے ہے ہیں تو کیا آپ اس تاثر سے
اتفاق کرتی ہیں؟
کارلوٹا گیل:یہ مدارس وہ پہلی جگہ ہیں جہاں سے لوگوں کو بھرتی ہونے کی دعوت دی جاتی ہے اور اس سے جو میری سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ جو یہ مدارس چلارہے ہیں تو مذھبی جماعتیں اور دوسرے جیسے القائدہ وغیرہ ہیں وہ ان میں ایسے لوگ تلاش کرتے ہیں جو ان کے ساتھ شامل ہوسکیں
اور پھر وہ ان مدرسوں سے غریب طلباء کو اپنی تنظیموں میں لاتے ہیں تو میرے خیال میں یہ بات درست ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ جب ان مدرسوں کے طلباء غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے مدرسوں سے دوسری جگہ جاسکتے ہوں یا چھٹیوں کے دنوں میں تو ان کو غیرمعمولی قسم کے تربیتی کورسز کرانے کی پیشکش کرتے ہوں گے
تو یہ طلباء کیمپ یا دوسری جگہوں پر جاتے ہوں گے اور وہ اپنے والدین کو یہ بتاتے ہوں گے کہ وہ ایک اسٹڈی کورس کے لیے جارہے ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب وہ وہاں جاتے ہیں اور مزید انتہا پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ان کو مزید دھشت گردی پر مبنی سوچ میں پختہ کیا جاتا ہے اور یہ سب کام یا تو مدارس میں کیا جاتا ہے یا دوسری جگہوں پر اور یہ وہ طریقہ ہے جس سے وہ اپنی زندگی کا ایک مخصوص ڈھب اختیار کرتے ہیں عمومی طور پر اسی طرج سے مذھبی جماعتیں اور تنظیمیں لوگ بھرتی کرتی ہیں
ادارہ تعمیر پاکستان:مارچ کے مہینے میں اس سال پاکستان بھر سے دیوبندی مدارس کے نمائندے ملتان میں جمع ہوئے اور وہاں پر سعودی نائب وزیر مذھبی امور مہمان خصوصی کے طور پر تشریف لائے جبکہ اس اجتماع میں دیوبندی مدارس کے نمائندوں نے حکومت پاکستان کو تنبیہ کی کہ وہ دیوبندی مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے سے باز رہے
تو آپ سعودی عرب اور دیوبندی مدارس کے درمیان اس لنک کو کیسے دیکھتی ہیں؟اور انھوں نے جو حکومت کو تنبیہ کی اس کا کیسے تجزیہ کرتی ہیں؟
کارلوٹا گیل:میں نے دیوبندی مدارس کے نمائندہ اجتماع اور اس میں سعودی وزیر برائے مذھبی امور کی شرکت کی خبر نہیں دیکھی،یہ پہلی مرتبہ مجھے آپ سے معلوم ہورہا ہے لیکن ہم سب ظاہر ہے کہ یہ جانتے ہیں کہ ان مدارس سے سعودی عرب اور دوسری عرب ریاستوں کے کیا روابط ہیں اور کس طرح سے یہ مدارس ان سے مالی امداد حاصل کرتے ہیں اس حوالے سے میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کرسکتی ہوں جو آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ جب اسامہ بن لادن امریکی آپریشن میں ماردیا گیا تو اس وقت آئی ایس آئی کے ڈاغریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے اراکین پارلیمنٹ کے سوالات کا سامنا کیا حالانکہ اس وقت بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی وہاں موجود تھے لیکن انہوں نے اراکین کے سوالات کا سامنآ کرنے سے گریز کیا تو جب مولانا فضل الرحمان سربراہ جے یو آئی ایف نے ایک سوال کیا تو جنرل پاشا نے ان کو سخت ناراضگی میں کہا کہ آپ تو چپ ہی رہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی پارٹی کو لیبیا کے صدر کرنل قذافی پیسے دیتے ہیں
یہ بات میڈیا میں بھی آئی اور میرے لیے اس میں یہ سنسی خیز خبر تھی کہ کرنل قذافی بھی ان لوگوں میں سے ایک تھا جو ان مدرسوں کو پیسے دے رہا تھا اور اس نے مجھے حیران نہیں کیا دیوبندی مدارس کے نمائندہ اجلاس میں سعودی وزیر خصوصی مہمان تھے اور میرا خیال ہے کہ مجھے یہ معلوم ہوا تھا کہ سعودی حکام دیوبندی مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن ،ان کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ اگر ان کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے اور ان کا کنٹرول حکومت کے پاس آۃا ہے تو اس سے ان کی طاقت میں کمی آئے گی،اب مجھے یہ یقین نہیں ہے کہ اس خبر میں کس حد تک صداقت ہے
تو اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے سعودی حکام مدرسوں کی مالی مدد کرتے ہیں اور سعودی حکام کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ وہابی ،ریوبندی انتہا پسندوں کی حمائت کرنے میں اس قدر دلچسپی کیوں لیتے ہیں کیونکہ اس کی ایک وجہ تو شیعہ فرقے سے ان کشاکش ہے اور پھر ایران کے ساتھ ان کا جو تنازعہ ہے وغیر ہ وغیرہ اور سعودی عرب کی یہ ایک طرح سے نوآبادیاتی عادت ہے کہ وہ وہ اسلام کی ایک مخصوص شکل جسے آپ دیوبندی ،وہابی اسلام کہہ سکتے ہیں مسلم دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے اور میرے خیال میں اس کی طرف سے اس پھیلاؤ کی کوششیں ہم بہت سے مسلم ممالک میں دیکھ رہے ہیں اور میرے لیے اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ وہ نائن الیون کے بعد بھی یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں
تعمیر پاکستان:ہماری رائے یہ ہے کہ سعودی عرب نے اپنے مخصوص وہابی -دیوبندی خیالات پھیلانے کا آغاز ایران میں 1979ء میں انقلاب آجانے کے بعد سے شروع نہیں کیا بلکہ یہ کام تو اس نے 1960ء سے شروع کردیا تھا جب اس کے پاس وسائل اور دولت آئی تو وہ اپنی بادشاہت کی طرز کا نظام جسے وہ خلافت کہتے ہیں نافذ کرنا چاہتے ہیں اور وہ کیونکہ خادمین حرمین شریفین ہیں تو وہ جس شئے کی پیروی کرتے ہیں اس کے نفاز اور پھیلاؤ کی کوشش بھی کرتے ہیں ،ہاں یہ جو ایران سے حریفانہ کشاکش ہے اس کا بھی ایک حصّہ اس پھیلاؤ کے پس پردہ کارفرما ہے اور یہ ابھی بھی جاری ہے
کارلوٹا گیل:آپ جانتے ہیں کہ آل سعود وہی کررہے ہیں جو مغرب کررہا ہے ،ہم نے عیسائی دنیا سے مشنریز کئی صدیوں تک بھیجے اور ہم ابھی تک یہ کرتے ہیں خاص طور پر امریکہ اس بات پر ہمیشہ یقین کرتا آیا ہے کہ ان کی تہذیب کو ساری دنیا میں پھیلنا چاہئیے ‎تعمیر پاکستان:میرا کہنا یہ ہے کہ آل سعود اسلام کی جس شکل کو پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں وہ اصل میں ایک چھوٹی سی اقلیت کا مسلک ہے اور وہ اس کو صرف وسائل کی
بنیاد پر پھیلا رہے ہیں
کارلوٹا گیل:میں آّ سے اتفاق کرتی ہوں
تعمیر پاکستان:پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تحریک طالبان پاکستان سے بات چیت کررہی ہے ،آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
کارلوٹا گیل:میں طالبان سے بات چیت کو مکمل طور تر فضول خیال کرتی ہوں چاہے یہ پاکستان میں ہوں یا افغانستان میں ،میں جانتی ہوں کہ جب عوامی نیشنل پارٹی نے امن بات چیت کی تو کیا نتیجہ نکلا تھا،میں سمجھتی ہوں کہ جب آپ کسی شورش کو ختم کرنا چاہتے ہو اور امن چاہتے ہو تو آپ کو تمام برادریوں کو بتانا پڑتا ہے کہ آپ امن چاہتے ہو تو اس کا ایک مطلب ان کے وجود کو تسلیم بھی کرنا ہوتا ہے اور امن کے راستے سے تمام تر زرایع استعمال کرنے کے بعد ہی آپ ملٹری زرایع کی طرف جاتے ہو اور میرا نہیں خیال کہ پاکستان میں ایسا کیا گیا ہے تو میرے خیال میں پاکستان میں جو امن مذاکرات ہیں وہ امن مذاکرات ہیں ہی نہیں ،پاکستان آرمی نے پاکستانی طالبان کے ساتھ کئی جعلی قسم کی امن ڈیل کی وہ جعلی امن ڈیل تھیں ،وہ ایک طرح کا سیز فائر تھا یا امن ہوجانے کا تاثر دینے کا مظاہرہ تھا تو مجھے موجودہ بات چیت سے بھی کوئی نتیجہ نکلنے کی امید نہیں ہے -مجھے یقین ہے کہ سمیع الحق وغیرہ لوگوں تک رسائی کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس سے کوئی نتیجہ نگلے گا اس پر مجھے یقین نہیں ہے کیونکہ مجھے کسی ایک فریق کے مخلص ہونے پر یقین نہیں ہے اور طالبان اب اس سٹیج پر ہیں جہآں ان کو ریاست سے مذاکرات میں دلچسپی نہیں ہے اور پردے کے پیچھے ان کی آئی ایس آئی کے ساتھ ڈیل ہے تو چیزیں اس طرح سے ہیں اور یہ جو امن مذاکرات ہیں یہ سب نمائشی ہیں
تعمیر پاکستان:تو آپ کے خیال میں اس بات چیت کا مقصد آخر میں فوجی آپریشن نکلے گا اور یہ بات چیت صرف اتمام حجت کے طور پر ہورہی ہے کہ دیکھیں جی ہم نے تو بہت کوشش کی امن کی لیکن مجبوری میں آپریشن کرنا پڑا؟
کارلوٹا گیل :میری مسلم لیگ نواز کے لوگوں سے زیادہ بات نہیں ہوئی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ بات کچھ ایسے ہی ہے تو وہ اتمام حجت چاہتے ہیں ،میرا خیال ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی دھمکی دے رہے تھے اور انھوں نے بعض جگہ بمباری کی بھی تو میں ان کی امریکہ سے بات چیت سے جو سمجھی ہوں وہ یہ ہے کہ وہ بہت سریس تھے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کریں اور آخرکار وہ سخت ہوئے لیکن پھر کچھ ایسا ہوا کہ وہ آپریشن کی طرف نہیں گئے لیکن امن مذاکرات بھی کچھ لیکر نہیں آئے ،میرا خیال ہے کہ کسی نے مداخلت کی تو آپریشن نہیں ہوا لیکن بات چیت سے بھی کئی نتیجہ نہیں نکلنے والا تو میں اس بات چیت کے بارے میں مشکوک ہوں اور میں نے کئی سالوں میں اس طرح کی بات چیت ناکام ہوتے دیکھی ہے کیونکہ یہ حقیقی امن بات چیت ہے ہی نہیں
تعمیر پاکستان :تو اصل میں وہ کرکیا رہے ہیں اور حالات کس سمت جارہے ہیں؟
کارلوٹا گیل:میرا خیال ہے کہ حکومت جو چاہتی ہے اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کسی کو بھی نہیں ہے لیکن ان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مذاکرات ان کے مکمل کنٹرول میں نہیں ہیں یا یہ کہ ملٹری اور آئی ایس آئی کا جو معاملہ ہے وہ ان کے کنٹرول سے باہر ہے جو کہ طالبان کے خلاف بہت زیادہ سخت ہوچکی ہے
تعمیر پاکستان:پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کا شمار ان ریاستوں میں کیا جاتا ہے جن کو آرمی کنٹرول کرتی ہے اور بعض اوقات یہ لطیفہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ ہر ملک کی ایک فوج ہوتی ہے اور پاکستان آرمی ایک ایسی فوج ہے جس کے پاس ایک ملک ہے،تو آپ کی رائے اس بارے میں کیا ہے؟
کارلوٹا گیل:ہاں یہ بات ٹھیہک ہے اس طرح کی صورت حال تب پیدا ہوتی ہے جب کوئی ادارہ خود کو ریاست سے بڑا خیال کرنے لگتا
ہے اور آڑے آںے لگتا ہے
تعمیر پاکستان:پاکستان میں اس وقت جو داخلی عدم استحکام ہے ،جیسے بلوچستان کا ایشو ہے یا گلگت بلتستان کا معاملہ ہے تو اس میں ایک تاثر یہ بنتا ہے کہ اس طرح کے عدم توازن اور انتشار کی وجہ خود پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کا رویہ ہے کہ جیسا کہ آپ نے نیویارک ٹائمز میں ایک آرٹیکل میں لکھا کہ اسامہ بن لادن کو تو پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ خود پناہ دئے ہوئے تھی ،اسی طرح سے رہ لشکر جھنگوی ،سپاہ صحابہ کو پال رہے ہیں ،وہ گلگلت بلتستان میں اگر کوئی ایشو ہو تو اس کا حل ڈیموگرافک تبدیلی میں دیکھتے ہیں اور بلوچستان میں مزاحمت سے نمٹنے کے لیے وہ دیوبندی-وہابی لشکروں کو پال رہے ہیں تو آپ کا اس بارے میں خیال کیا ہے ؟
کارلوٹاگیل:مجھے گلگت بلتستان کے بار ے میں تو زیادہ نہیں معلوم نہیں ہے لیکن میں بلوچستان کچھ مرتبہ جاچکی ہوں اور میرے یہ خاص پریشان کن تھا جو وہاں ہورہا ہے کہ بہت سے لوگوں کو وہاں قتل کردیا گیا ہے ،اپنے ہی لوگوں سے جنگ کرنا مجھے بہت تکلیف دیتا ہے تو میرے خیال میں اس ایشو کو سویلین ہی حل کرسکتے ہیں اور سویلین کو اگر موقعہ ملتا تو وہ اسے بہت پہلے ختم کرسکتے تھے
تو جو بلوچ لڑرہے ہیں ان کو معافی دی جائے اور اسکو حل کرلیا جائے کیونکہ آپ اپنے ہی لوگوں کے خلاف مستقل جنگ نہیں لڑسکتے ،تو اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئیے اور اس سے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اب بلوچ روز بروز زیادہ سے زیادہ ناراض ہورہے ہیں اور جدوجہد اب وسائل اور بجٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کی بجائے الگ ہونے کی طرف جارہی ہے تو اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہے ،اس کا صرف سیاسی حل ہے
تعمیر پاکستان:ہمارا آپ سے آخری سوال یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے؟پاکستان کی معروف دفاعی تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی پاکستانی میڈیا کو مینیج کرتی ہے؟کیا آپ سے واقف ہیں؟اور ملٹری اسٹبلشمنٹ اپنے آلہ کاروں کے زریعے انگریزی اور اردو پریس کے میڈیا ڈسکورس کا انتظام کرتی ہے،اور یہ عمل دائیں بازو اور لبرل میڈیا دونوں میں ہی ہورہا ہے
یہ جو پاکستانی میڈیا کے ڈسکورس کو ملٹری اسٹبلشمنٹ کی جانب سے کنٹرول کرنے کا الزام ہے اس میں کس حد تک صداقت ہے؟
کارلوٹا گیل:جی میں عائشہ صدیقہ کو جانتی ہوں اور وہ مجھ سے زیادہ اس معاملے پر باخبر ہے
لیکن میں نے بھی اپنے کتاب کے ابتدائیہ میں اس موضوع کو چھوا ہے اور میں نے کوشش کی ہے یہ دکھانے کی کہ کس طرح سے میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ایک مربوط طریقہ اپنایا گیا ہے کہ جس میں صحافیوں ميں سے بعض کو خرید لیا جاتا ہے ،بعض کے ساتھ سختی کی جاتی ہے اور یہاں تک دوسرے صحافیوں کو ڈرانے کے لیے کچھ کو تو ماربھی دیا جاتا اور میرے خیال میں یہ جو ایڈیٹرز اور اپنے حامی رپورٹرز کو میڈیا میں داخل کرنے کا عمل ہے کہ جس کا مقصد ان کے ساتھ ملکر میڈیا ڈسکورس کو کنٹرول کرنا ہے ایک لمبا پروجیکٹ ہے جو کافی عرصہ سے چل رہا ہے تو اب آپ ان کے ہمدرد میڈیا میں اہم پوزیشنز پر دیکھ سکتے ہیں جو کہ میڈیا ڈسکورس کو چلاتے ہیں اور وہ آئی ایس پی آر سے خصوصی بریفنگز لیتے ہیں کہ کیسے معاملات کو چلانا ہے جیسا کہ ہم نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دیکھا کہ سیئنیر ايڈیٹروں کو گائیڈ لائن دی گئی کہ کیسے اور کیا ڈسکس کرنا ہے اور اور ان کو تنبیہ کی گئی کہ اسامہ بن لادن کی موجودگی سے پاکستانی آئی آیس آئی کے واقف ہونے کی بات کو زیر بحث نہیں لانا اور ان کو اس ایشو کو پاکستان کی قومی خودمختاری کے خلاف ایک سازش کہہ کر رد کرنے کی ترغیب دی گئی تو ایسے میڈیا ڈسکورس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جیسا کہ آپ نے اپنے سوال میں نشاندہی کی کہ پاکستان میں سب سے زیادہ میڈیا ڈسکورس کو اپنے تابع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اپنے ہم خیال لوگ میڈیا میں اہم عہدوں پر لاکر بٹھا دئے جائیں اور پاکستان میں آزاد میڈیا کا مطلب ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی رکھنے والے افراد کا میڈیا پالیسی پر اثر انداز ہونے والے عہدوں پر فائز کرنا ہے
اور اس کا نتیجہ ملٹری کے حق میں جانے والا ڈسکورس کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ میڈیا کو فوج کی کارکردگی اور اس کے عزائم پر حقیقی سوالات کرنے چاہیں
تعمیر پاکستان:نہ صرف ملٹری بلکہ ہم میڈیا کے لبرل سیکشن میں بھی دیکھتے ہیں کہ جو انسانی حقوق ،عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں ،دوسرے ہی وقت میں وہ طالبان،لشکر جھنگوی ،اہل سنت والجماعت کے رہنماؤں کو امن کے داعیوں کے طور پر پروموٹ کررہے ہوتے ہیں اور اس طرح سے ایک دوسرے طریقے سے طالبانائزیشن کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں
کارلوٹا گیل:ہاں،آپ جانتے ہیں کہ ایسے لوگ اچھے صحافی نہیں ہوتے کیونکہ وہ جو سوال کرنے چاہیں وہ نہیں پوچھتے ،میں صرف امید ہی کرسکتی ہوں کہ صحافت پاکستان میں بہتر ہوگی کیونکہ جو پاکستان میں جانی پہچانی صحافتی ہستیاں ہیں وہ درست سمت میں درست سوالات نہیں پوچھ رہیں اور ہمارے ہآں امریکہ میں فاکس نیوز قبیل کا میڈیا ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*