ہم ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان کے شیعہ مسلمانوں اور صوفی سنی مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز الفاظ کی مذمت کرتے ہیں

ہم ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان کے شیعہ مسلمانوں اور صوفی سنی مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز الفاظ کی مذمت کرتے ہیں

 

Recep-Tayyip-Erdogan

اپنے ایک حالیہ انٹر ویو میں ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ارد گان سے جب فتح اللہ گلین مکتبہ فکر اور ان کے درمیان تنازعات کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو رجب طیب اردگان نے جواب دیتے ہوے فتح اللہ گلین مکتبہ فکر کو شیعہ مکتبہ فکر سے بھی بد تر قرار دیا – اور یہ بات کہتے ہوے وہ ترکی کی ایک تہائی آبادی کے بارے میں نفرت اور شر انگیز الفاظ کہنے کے مرتکب ہوے ہیں

فتح اللہ گلین ایک قدامت پسند سنی مکتبہ فکر ہے جس مکتبہ فکر کے رہنما گلین ہیں جو کہ امریکا پینسلوینیا میں رہائش پذیر ہیں اور چند ماہ پہلے تک اردگان کے سیاسی حلیف شمار ہوتے تھے  – کچھ حکومتی عہدوں سے شروع ہونے والے تنازت کی وجہ سے دونوں حلیفوں میں معاملات بگاڑ گیے اور اور فتح اللہ گلین مکتبہ فکر کے لوگوں نے اردگان کی کچھ خفیہ فون کالز کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا اور کچھ فون کالز منظر عام پر آیں بھی جس میں اردگان کی کرپشن کے ثبوت اور اس کی ملوث ہونے کے نا قبل تردید شواہد ملے

  ترکی میں شیعہ مسلمانوں کی آبادی پندرہ سے لے کر تیس فیصد تک ہے لیکن اردگان کی حکومت آنے کے بعد صوفی سنی مسلمانوں کو سعودی دباؤ میں وہابی سلفی بنانے کا جو عمل ترکی میں جاری ہے اس کی وجہ سے ترکی میں شیعہ مسلمانوں سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے – ترکی جو کہ پہلے سعودی عرب اور اردن کے ساتھ اور اب پاکستان کے ساتھ مل کر شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کے لئے وہابی دیوبندی تکفیری دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہوے شام میں دہشت گردوں اور القایدہ کے نے گروہ تشکیل دے رہا ہے جس کے نتائج آنے والے وقت میں پورے خطے کو بھگتنے ہونگے