اسلام آباد حملے پر وزیر داخلہ چودھری نثار کا نیا شوشہ – از علامہ اقبال فیس بک پیج

اسلام آباد حملے پر وزیر داخلہ چودھری نثار کا نیا شوشہ – از علامہ اقبال فیس بک پیج

1230054_645760465460595_1966581423_n

وزیر داخلہ نے فرمایا ہے کہ اسلام آباد کچہری میں جج رفاقت اعوان اپنے ہی محافظ کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ جب دہشت گرد عدالت میں داخل ہوئے تو محافظ نے پستول نکال لی اور جب دھماکہ ہوا تو اس کی شدت سے پستول کی لبلبی دب گئی اور گولی جج کو لگ گئی۔ عجیب محافظ تھا کہ جس شخص کو بچا رہا تھا اسی کی طرف پستول تان کر کھڑا تھا!! یہ گولی دہشت گردوں کو کیوں نہ لگی؟؟
وزیر موصوف کا یہ بھی فرمانا ہے کہ طالبان کی اکثریت پاکستان کی دشمن نہیں، ان میں سے صرف چند گروہ ایسا کر رہے ہیں۔

طالبان کے ’’دفاع‘‘ میں ایسی بیہودہ گوئی سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نواز حکومت کے ارداے کیا ہیں۔ یہ کسی بھی طرح طالبان سے اس ظالمانہ حملے کی ذمہ داری ختم یا کم کرنا چاھتے ہیں اور انہیں امن دوست اور پاکستان دوست ثابت کرنا چاھتے ہیں تاکہ پاکستانیوں کے ذہن ان سفاک درندوں کو درندے نہیں بلکہ عام انسان کے طور پر قبول کر لیں اور اس طرح دہشت گرد طالبان کو قومی دھاری میں شامل کر لیا جائے۔
یہ کسی بھی سانحے کی سنگینی کو کم کر کے دکھانے کا ایک خاص نفسیاتی طریقہ ہوتا ہے کہ یا تو حقیقت کو تسلیم کرنے سے مکمل انکار کر دو (کہ طالبان دہشت گرد نہیں یا حملہ انہوں نے کیا ہی نہیں) اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کی شدت کم کر کے دکھانے کی کوشش کرو کہ جناب ان میں سے صرف کچھ گروہ پاکستان کے دشمن ہیں، باقی تو امن پسند لوگ ہیں.


One response to “اسلام آباد حملے پر وزیر داخلہ چودھری نثار کا نیا شوشہ – از علامہ اقبال فیس بک پیج”

  1. پاکستان کے ٹھیکداری تو پاکستان توڑنے والے ذوالفقار بھٹو حرامی کے چیلوں نے اٹھائی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی خاطر ذوالفقار بھٹو نے ۳۰ لاکھ بنگالیوں کا قتلِ عام کیا ۔۔۔۔۔۔

    تم لوگ پاکستان کے ٹھیکدار بن بیٹھے ہو۔ تمہارا باپ ذوالفقار مرز خبیث جس نے قسمیں اُٹھائیں تھی کہ وہ الطاف حسین کو بے نقاب کرے گا۔ اور بظاہر ذرداری کا مخالف بھی ہو گیا۔لیکن بیوی اُس کی پھر بھی زرداری کے پاس ہی تھی۔ اور ایک سیٹ کی ہڈی پھینکی دوبارہ زرداری کے پاس بھاگتا ہوا پہنچ گیا۔

    اگر کوئی ملک میں قتل و غارت کے خاتمے کے لئے مخلص کوشش کرے تب بھی تم لوگوں کو تکلیف ہوتی رہیتی ہے۔ تم ہی لوگ ہو جو طالبان کے نام پر کاروائیاں کرتے ہو۔

    اسلام آباد وقوع کے وقت جو ۴۶ پولیس والے کھڑے تھے کیا وہ بے نظیر کے ولیمے کا انتظار کر رہے تھے ؟ اپنے باپوں کو مارا کیوں نہیں ؟