دہشت گرد طالبان سے مذاکرات کے گناہ میں اہل سنت بریلوی شریک نہ تھے – مفتی اعظم پاکستان مولانا منیب الرحمان سے تعمیر پاکستان کا خصوصی انٹرویو

نوٹ: مفتی منیب الرحمان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین اور جامعہ نعیمہ کی کراچی شاخ کے پرنسپل ہیں جو فیڈرل بی ایریامیں اہل سنت حنفی بریلوی کی قدیم دینی درسگاہ ہے اور وہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے جن کو بھکر کے ایک دیوبندی مدرسے کے طالب علم نے خودکش حملہ کرکے شہید کردیا تھا کیونکہ ڈاکثر سرفراز نعیمی نے خود کش حملوں کے غیر شرعی اور غیر اسلامی ہونے کا فتوی دیا تھا جس پر دیوبندی تحریک طالبان پاکستان ان سے ناراض ہوگئی اور ان کے قتل کے احکامات جاری کردئے گئے تھے

مفتی منیب الرحمان گذشتہ روز ملتان فاطمہ فرٹیلائزر کے نزدیک اہل سنت بریلوی کی معروف دینی علمی درسگاہ جامعہ محمدیہ اسلامیہ میں دئے گئے ایک استقبالیہ میں شریک ہوئے ،اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعمیر پاکستان ویب سائٹ نے ان سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا جس سے اہل سنت بریلوی کے پاکستان میں جاری مذھبی دھشت گردی اور اس حوالے سے سٹیک ہولڈرز کی روش بارے رائے معلوم ہوتی ہے

مفتی منیب الرحمان نے بہت سے ایشوز پر بے باکی اور کھل کر جوابات دئے(مدیر تعمیر پاکستان ویب سائٹ محمد بن ابی بکر )

تعمیر پاکستان:مفتی صاحب سب سے پہلے تو تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی ادارتی ٹیم آپ کی شکر گزار ہے کہ آپ نے ہمیں اپنے قیمتی وقت سے کچھ لمحات مرحمت فرمائے،

آپ سے ہم یہ جاننے کے مشتاق ہیں کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور ان کی حکومت نے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے کے لیے جو ٹیم بنائی اور مذاکرات کا جو فیصلہ کیا گیا تھا تو کیا اہل سنت بریلوی کی قیادت کو اس پر اعتماد میں لیا گیا تھا؟اور کیا آپ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کو کسی بھی لحاظ سے ایک نیک شگون خیال کرتے ہیں؟

مفتی منیب الرحمان:میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اہل سنت بریلوی سواد اعظم پاکستان کا موقف جاننے کے لیے ہم سے رجوع کرنا مناسب خیال کیا

میں آپ کو بہت واضح بتانا چاہتا ہوں کہ اہل سنت بریلوی کی نمائندہ جماعت “جماعت اہل سنت ” ہے جس کے جھنڈے تلے اہل سنت کی تمام سیاسی ،غیر سیاسی تنظیمیں اکٹھی ہیں اور اس کے امیر صاحبزادہ مظہر سعید کاظمی ہیں جبکہ تںطیم المدارس کے نام سے اہل سنت بریلوی کے تمام مدارس کی نمائندہ تنظیم موجود ہے ان دونوں تنظیموں کی قیادت سے حکومت کے کسی نمائندے نے مشاورت نہیں کی اور بلکہ میری اطلاعات کے مطابق اہل سنت بریلوی کے کسی بھی جید عالم اور رہنماء سے اس حوالے سے کوئی رآئے یا مشاورت نہیں کی گئی

تحریک طالبان پاکستان ہو یا کوئی اور مسلح دھشت گرد گروپ ہو اہل سنت بریلوی کی رائے اس بارے میں دو ٹوک ہے کہ پہلے ایسے تمام گروپ ہتھیار ڈالیں اور اس کے بعد ان سے کوئی بات چیت ہوسکتی ہے اور جو اس دوران معصوم لوگوں کے گلے کاٹنے اور ان کو بم دھماکوں کا نشانہ بنانے جیسے جرائم میں ملوث رہے ہیں ان کے لیے معافی ہرگز نہیں ہے

تعمیر پاکستان :مین سٹریم میڈیا اور اکثر سیاسی رہنماء پاکستان کے اندر تحریک طالبان،لشکر جھنگوی ،جنودالحفصہ ،جیش العدل وغیرہ کو سنّی شدت پسند یا سنّی دھشت گرد کہتے ہیں ،آپ کی اس بارے میں رائے کیا ہے؟

دیکھئے اس سے بڑا ظلم اور ناانصافی کوئی نہیں ہے کہ پاکستان میں بالخصوص اور دنیا میں بالعموم مذھبی دھشت گردی کے موجودہ مظہر کو سنّی دھشت گردی قرار دے دیا جائے،پاکستان کے اندر اس وقت دھشت گردی کا بازار گرم کرنے والے اور ان کاروائیوں کو قبول کرنے کا اعلان کرنے والے اور اب تک پکڑے جانے والے دھشت گردوں کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے ہے اور سب کے سامنے ہے کہ ان کی حمائت یا ان کے لیے عذر تراشنے والوں میں بھی دیوبندی سب سے آگے ہیں

میں پوچھتا ہوں کہ اگر طالبان سنّی ہیں تو ان کی طرفداری کے لیے مولانا سمیع الحق،مولوی عبدالعزیز ،مولوی فضل الرحمان ،اور ديگر دیوبندی مولویوں کے ہی نام کیوں سامنے آتے ہیں اور وفاق المدارس بار بار ان کی حمائت میں آگے کیوں آتا ہے اور جب بھی کسی مدرسے کا دھشت گردی کے حوالے سے نام سامنے آتا ہے تو وہ مدرسہ دیوبندی مدرسہ ہی کیوں نکلتا ہے

دھشت گرد جو کہ پاکستان کے اندر اہل سنت بریلوی،شیعہ اور دیگر مذھبی گروہوں کو نشانہ بنارہے ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج،پولیس اور سول سروس کے لوگوں اور ملک کی فوجی اور سول تنصیبات کو نشانہ بنارہے ہیں ان کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے ہے اور ان کی فکر اور سوچ پر خارجی مکتبہ فکر کا بہت اثر ہے ،ان کی شناخت سنّی ہرگز نہیں ہے

تعمیر پاکستان:مفتی صاحب! پاکستان میں ہونے والی دھشت گردی کے پیچھے بار بار غیرملکی ہاتھ کارفرما ہونے کا زکر ہوتا ہے اور اس حوالے سے بہت سی سازشی تھیوریز بھی گردش کرتی ہیں ،آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

مفتی منیب الرحمان:سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ پاکستان،افغانستان ،وسط ایشیا ،مڈل ایسٹ میں اس وقت جو دھشت گردی ہے اور عام مسلمان جس کا نشانہ بن رہے ہیں اس کی جڑیں اس نام نہاد جہاد افغانستان کے اندر پیوست ہیں جو امریکی سامراج کا ایک پروجکیٹ تھا اور اس پروجیکٹ کے لیے سعودی عرب کا کردار بہت ہی اہمیت کا حامل تھا جبکہ پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور ایک فوجی آمر نے اس پروجیکٹ میں جونئیر شراکت دار کے طور پر شرکت کی

میں اسی لیے کہتا ہوں کہ امریکی ڈالر سے زیادہ سعودی ریال نے پاکستان کے اندر مذھبی دھشت گردی اور انتہا پسندی کے پروجیکٹ کو جلانے میں اہم کردار ادا کیا اور امریکی سامراج تو سرد جںگ کے خاتمے کے بعد اس پروجیکٹ سے الگ ہوگیا لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سعودیہ عرب اور پاکستان کی مقتدر طاقتیں اس پروجیکٹ سے الگ نہ ہوئیں اور یہاں ایک نام نہاد جہادی عسکریت پسند ایمپائر وجود میں آگئی جن کے مراکز دیوبندی اور غیر مقلد مسالک کے مدارس اور ان کی تنظیمیں تھیں اور آج بھی ہیں

ماضی کی طرح آج بھی پاکستان سعودیہ عرب کے عزآئم کی تکمیل کے لیے ایک اہم مہرے کی صورت اختیار کئے ہوئے اور دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بہت سے ادارے اور شخصیات سعودیہ عربکے تزویراتی مفادات کی تکمیل کے لیے سٹریٹجک اثاثوں کا کردار ادا کررہے ہیں

سعودی عرب کی پاکستان کے معاملات میں مداخلت کا ایک واضح اثر یہاں پر بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی،مذھبی عدم برداشت اور پاکستان کے سواد اعظم اہل سنت سمیت کئی مذھبی برادریوں پر بڑھتا ہوا دباؤ اور ان کی نسل کشی ہے

تعمیر پاکستان:اہل سنت بریلوی کا موجودہ سیاسی منظر نامے میں اور خاص قسم کی جیو پالٹیکس میں موقف کیا ہے؟

مفپی منیب الرحمان:اہل سنت بریلوی کے اسلاف نے پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہمیشہ امن پسندی،برداشت اور رواداری کا علم بلند رکھا ہے اور اہل سنت بریلوی نے پاکستان،افغانستان سمیت کسی بھی مسلم ملک کے اندر کبھی بھی دھشت گردی یا پرائیوٹ لشکر سازی کی حمائت نہیں کی اور نہ ہی ہم کسی بھی پراکسی کا حصّہ بننا چاہتے ہیں

ہم نے مڈل ایسٹ کی مخصوص صورت حال ،شام میں جاری سول وار اور دیگر حصوں میں تنازعات میں کسی بھی ملک کا پراکسی ٹول بننا قبول نہیں کیا ہے اور ہم پاکستان کے اندر بھی کسی بھی ملک کی پراکسی وار کا حصّہ نہیں بننا چاہتے اور نہ ہی ہم اہل سنت بریلوی کے نوجوانوں کو عسکریت پسندی اور دھشت گردی کے جہنم میں جھونکنا چاہتے ہیں

ہم اپنے مدارس میں سوآئے علم اور تفوی کی تعلیم دینے کے اور کسی بھی قسم کا رجحان نہیں پالنا چاہتے اور مدارس و مساجد کو ہم امن وآشتي کے مقام ہی رہنے دینا چاہتے ہیں

شاید یہ وہ روش ہے جو پاکستان کے اندر بعض گروہوں کو اور ان کے بیرونی آقاؤں کو پسند نہیں ہے-ہم نے نہ تو ماضی میں امریکی ڈالر لیے،نہ ہی سعودی ریالوں سے اپنے مدارس اور مساجد کو قلعوں میں تبدیل کیا اور آج بھی نہ تو ہم امریکہ اور یورپ سے آنے والی فنڈڈ روشن خیالی اور ماڈریٹ ازم کو اپنے مدارس اور مساجد میں رائج کیا اور نہ ہی آل سعود کے نام نہاد جہادی ایجندے کو اپنے مدارس کے نصاب میں داخل کیا

ہم کسی کا پراکسی ٹول نہیں ہیں لیکن یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ بندوقوں اور بارود کے ساتھ اہل سنت بریلوی کے مذھبی عقائد اور ان کے شعائر کو ہم معاشرے سے خارج نہیں ہونے دیں گے اور اگر کوئی اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ وہ بندوق کے زور پر میلاد النبی کے جلوس،محفل ہائے میلاد ،امام حسین سمیت اصحاب رسول و اہل بیت اطہار رضوان اللہ اجمعین اور اولیائے کرام کے ایام منانے اور درود و سلام کی محافل سجانے سے روک دے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں بستا ہے

ہم حکومت سے بھی کہتے ہیں کہ وہ سواد اعظم اہل سنت بریلوی کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ بند کردے کیونکہ اس سے خود ان کی اپنی کریڈیبلٹی اور ساکھ ہی خراب ہورہی ہےاور اس ملک میں ایک اقلیتی ٹولے کے اشاروں پر ناچنا بند کردے ورنہ بچی کچھی ساکھ بھی ختم ہوجائے گی

میں وفاقی وزیر داخلہ کو بھی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر وہ پورے ملک کے وفاقی وزیر داخلہ نہیں بن سکتے تو ان کو اس منصب کو چھوڑ کر مولانا سمیع الحق کا سیکرٹری بن جانا چاہئیے

تعمیر پاکستان :سعودی حکومت توسیع حرم پروجیکٹ کے نام حرم کے قریب پیغمبر اسلام کی جائے پیدائش کی پر بنی عمارت کو مسمار کرکے وہاں پر صدارتی محل اور حرم کے امام کی رہائش بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے آپ کا اس پر کیا رد عمل ہے؟

مفتی منیب الرحمان:آل سعود ایک مخصوص فرقہ کی پیروی کرنے والا حکمران ٹولہ ہے اور یہ جب سے حجاز پر قابض ہوا ہے اس وقت سے پیغمبر اسلام ،اصحاب رسول ،اہل بیت اطہار،تابعین و تبع تابیعین سے وابستہ نشانیوں ،ان کی قبور کے مزارات وغیرہ کو شرک اور بدعت قرار دیکر مٹانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ،پہلے یہ کام شرک اور بدعت کہہ کر کیا جاتا تھا اور اب یہ توسیع حرم اور حجاج کرام کو سہولتیں فراہم کرنے کے نام سے کیا جارہا ہے

ہم نے گذشتہ سال جب مولد شریف پر میٹرو اسٹیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تب بھی سخت احتجاج کیا تھا اور عالم اسلام کے دوسرے علاقوں سے بھی احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی اور اب بھی ہم پاکستانی حکومت کو بھی کہیں گے کہ وہ سعودی حکام سے بات کرے اور اس مسماری کے منصوبے کو روکا جائے

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sarah Khan
    Reply -
  2. Akash
    Reply -
  3. umar maaviya
    Reply -
  4. umar maaviya
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*