دہشت گرد نواز حکومت کے خلاف شیعہ سنی متحد – از سید عبّاس حسن

دہشت گرد نواز حکومت کے خلاف شیعہ سنی متحد – از سید عبّاس حسن

3566_500926800025318_657502155_n

پے درپے طالبان/لشکر جھنگوی و سپاہ صحابہ کے دیوبندی تکفیریوں کی جانب سے پاکستان کی عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں پچاس ہزار سے زائد لوگ شہید ہوچکے ہیں

تازہ واقع میں ایران سے آنے والی شیعہ زائرین کی بس کی کالعدم لشکر جھنگوی کی جانب سے درینگر، مستونگ کے علاقے میں ایف_سی کی چیک پوسٹ سے ذرا دوری پر نشانہ بنایا گیا جس میں 30 سے قریب شیعہ مسلمان شہید جب کہ 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے

اس حملے کے بعد شیعہ ہزارہ برادری نے علمدار روڈ پر دھرنا دیا اور ملک بھر میں بالخصوص کوئٹہ میں سخت آپریشن کا مطالبہ کیا جس کے بعد وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں کی آپریشن کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کیا!
اس مطالبہ کے 4 روز بعد ہی آپریشن کا فیصلہ حکومت کی جانب سے مسترد کردیا گیا اور مذاکرات کی حمایت کی جو کہ آج تک طالبان/لشکرجھنگوی دیوبندی تکفیری کے حملوں میں شہید ہونے والے شہدا کے لہو سے غداری ثابت ہوئی اسی حکومتی غداری اور کوئٹہ کے شہدا سے اظہار یکجہتی کیلئے مجلس وحدت المسلمین، سنی اتحاد کونسل اور وائس اف شہدا کی جانب سے ایک ” پیام شہدا کانفرنس ” رکھی گئی جس میں سنی بریلوی لیڈر صاحب زادہ حامد رضا کا خطاب یہ تھا

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ
” منور حسن نے اسامہ بن لادن کو سید الشہداء کہہ کر دین کے وقار کو مجروح کیا ہے، پاکستانی عوام کیلئے اسلام پر قربانیاں دینے والے، نبی کے دین کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دینے والے پیغمبر اسلام کے نواسہ حضرت امام حسین کی ذات سید الشہداء ہے نہ کہ ملک دشمن اور انسانیت دشمن اسامہ بن لادن ، اب ہم کسی کو بھی اسلام کے نام پر مزید ٹھیکہ داری کی اجاز ت نہیں دے سکتے۔

دہشتگردوں قوتوں اور ہم میں یہ فرق ہے کہ وہ اسامہ اور حکیم اللہ محسود کو روتے ہیں لیکن ہم کربلا کے مظلوموں کی یاد میں روتے ہیں ،میں ان حکمرانوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو قوتیں پاکستان اور قائداعظم کو نہیں مانتیں، آپ انکے پاس تو ہاتھ جھوڑ کر جاتے ہیں لیکن کوئٹہ میں بیٹھے مظلوم عوام کی دل جوئی کرنے کیلئے آپ کے پاس وقت نہیں۔ہم طالبان، ظالمان،لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ اور کسی بھی دہشتگرد قوت کو نہیں مانتے۔

وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کی مظلوم عوام اسلام آباد کا رخ کریگی اور ان سعودی نواز حکمرانوں کو بھاگنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا۔اگر حکومت نے دہشتگردوں کیساتھ اب بھی مذاکرات کئے تو اس بار ہم اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گیاور اس ملک سے دہشتگردوں سمیت انکے سیاسی و مذہبی سپورٹروں کو بھی ملک بدر کردینگے۔ “