کیا فوجی ڈاکٹرائن بدل گئی ہے؟ لیل و نہار /عامر حسینی


کشمیر کے پاس لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی اور پہلے
ایک پاکستانی فوجی مارا گیا تو اگلے دن دو بھارتی فوجی مارے گئے

یہ کاروائی اس موقعہ پر سامنے آئی جب نیشنل ڈیفنس کالج میں وزیر اعظم نے
تقریر کرتے ہویے کہا تھا کہ فوج کو نیشنل سیکورٹی کی ڈاکٹرائن کو بدلنے
کی ضرورت ہے-اس پر ایک رسپانس تو اگلے ہی روز کور کمانڈرز کی کانفرنس میں
سامنے آگیا جس میں آئی ایس پی آر نے چیف آف آرمی سٹاف کے حوالے سے خبر دی
کہ فوج نے اپنی جنگی ڈاکٹرائن تبدیل کردی ہے-اس تبدیلی کا مرکز یہ قرار
دیا گیا کہ اب خطرہ بیرونی سے زیادہ اندرونی ہے-

کنٹرول لائن پر کیشدگی اس موقعہ پر بھی سامنے آئی ہے کہ جب پاکستان بھارت
کو پسندیدہ تجارتی ملک قرار دینے جارہا ہے اور منفی لسٹ بھی ختم کرنے
جارہا ہے-اس سے بہت سے حلقوں میں یہ خدشہ بھی جنم لے رہا ہے کہ اس کیشدگی
کا ایک مقصد اس اقدام کو بھی روکنا ہے-اور اس کے پیچھے عسکری اسٹیبلشمنٹ
کا زہن کارفرما ہے-اور فوجی ڈاکٹرائن میں تبدیلی ایک ڈرامہ ہے-

میں کہتا ہوں کہ یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے کہ فوجی ڈاکٹرائن میں اول فوکس
اب داخل ہے خارج سے زیادہ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ڈاکٹرائن اب
انڈیا فوکس نہیں رہی بلکہ انڈیا فوکس ہونے اور اس میں امریکہ اور اسرائیل
کو بھی فوکس کرنے کے سبب ڈاکٹرائن میں سب سے زیادہ خطرہ اندرونی بتلایا
گیا ہے-اور یہ اندرونی خطرات بھی اس ڈاکٹرائن کے تحت انڈیا ،اسرائیل اور
امریکہ کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں-اس ڈاکٹرائن کے مطابق ان تین ملکوں نے
پاکستان آرمی کو اس ملک کے اندر ہی انسرکل کرنے اور پاکستان کو توڑنے کی
منصوبہ بندی کررکھی ہے-اور وہ اس حوالے سے سب سے زیادہ خطرہ بلوچستان کو
خیال کرتے ہیں-اور وہ بلوچستان میں اپنے نزدیک ملک دشمن طاقتوں کا آلہ
کار بننے والے عناصر کو سب سے زیادہ خطرہ خیال کرتے ہیں-اس لیے یہ ان کو
پوری طاقت کے ساتھ کچلنے کی تیاری کررہے ہیں-اس کے لیے کئی طرح کے کام
کیے جاررہے ہیں-ایک طرف تو شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے نام پر ان
علاقوں پر دھاوا بولا جارہا ہے جہاں پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں بلوچ
تحریک کی حمایت بہت زیارہ ہے-جیسے حال ہی میں مشکے کے علاقے میں فوجی
آپریشن ہوا اور یہ پوری آبادی کے خلاف آپریشن تھا اور اس آبادی کو یہ سزا
اس لیے دی گئی کہ وہ ڈاکٹر اللہ نذر کا آبائی علاقہ تھا-اس آپریشن میں
تین سو سے ذائد افراد مارے گئے تھے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل
تھے-اس کو شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا نام دیا گیا تھا-اور مین سٹریم
میڈیا نے بھی اس کو یہی نام دیا اور اس میں مارے جانے والے بچوں اور
عورتوں تک کا زکر بھی نہیں کیاگیا-اب جو ڈاکٹرائن بنی ہے اس میں اس طرح
کے ظلم کو اور بھی زیادہ خفیہ اور زیادہ فول پروف بنایا جائے گا-اب تک
بلوچستان کے ایشو سے نبردآزما ہونے کی جو حکمت عملی عسکری اسٹیبلشمینٹ کی
جانب سے سامنے آئی ہے اس میں ایک طرف تو یہ ہے کہ بلوچستان میں بلوچ
تحریک کو بدنام کرنے اور بلوچ ایشو کو دبانے کے لیے نسلی اور فرقہ وارنہ
ٹارگٹ کلنگ کو موثر ھتیار کے استعمال کیا گیا ہے-اور اس کے شیعہ ہزارہ
اور نان ہزارہ شیعہ کو قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے-اس
میں آبادکار پنجابی کو بھی استعمال کیا گیا ہے-اور اسی طرح سے پشتونوں کو
بھی مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی ہے-ایک طرف تو بلوچ تحریک کو توڑنے کے لیے
یہ بیرونی حربے استعمال کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف خود بلوچ قوم کے اندر
ایسے کردار تلاش کیے جارہے ہیں جو اس تحریک کو غیر موثر بنانے کے کام
آئیں-اس حوالے سے ایک طرف تو اختر مینگل کو رام کرنے کی کوشش ہے-دوسری
طرف طلال بگٹی ایک اہم مہرے کے طور پر سامنے آیا ہے-طلال بگٹی اور حافظ
سعید کی ملاقات اور دفاع اسلام کونسل کی تشکیل کے مقاصد بھی اب سامنے آتے
جارہے ہیں-یہ اتحاد پنجاب سے زیادہ بلوچستان کے لیے وجود میں آئے
ہیں-حافظ سعید اور طلال بگٹی بلوچستان پر ایک آل پارٹیز کانفرنس بلانا
چاہتے ہیں جس کا مقصد تمام “محب وطن”پارٹیزکو متحد کرنا بتایا جاررہا
ہے-اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بلوچ آبادی میں جو آزادی کی مانگ کرتے ہیں ان
کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا جاسکے-طلال اور حافظ سعید کے ساتھ بلوچستان کی
حد تک جماعت اسلامی،سپاہ صحابہ،مسلم لیگ نواز بھی جائے گی-اس طرح سے طلال
اور حافظ سعید کا سامنے آنا ظاہر کرتا ہے کہ اختر مینگل کو دام لانے کی
کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے-اسٹیبلشمینٹ کی یہ کوشش ہے کہ کسی حد
تک اگلا سیٹ اپ بلوچستان میں ایسے چہروں کے ساتھ ہو جو زرا قوم پرستی کا
تڑکہ لیے ہو-اس کے لیے حاصل بزنجو،عبدالحئ ،طلال بگٹی اہم کردار ہیں اور
ان کے ساتھ ساتھ پشتون اچکزئی اور اے این پی بھی اہم کردار ادا کرسکتی
ہے-اس طرح سے یہ فوجی ڈاکٹرائن عسکری جہت کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی جہت بھی
رکھتی ہے-اور اس پر عمل درآمد کے لیے ایک پورا پلان عسکری اسٹیبلشمینٹ کے
پاس ہے-کچھ ساتھیوں کے خیال میں فوجی ڈاکٹرائن کو کامیاب بنانے کے لیے
ہنگ پارلیمنٹ اور پوسٹ الیکشن میں اسٹیبلشمینٹ کے گھوڑوں کا فیصلہ کن
کردار ہونا بہت ضروری ہے-اس حوالے سے ایم کیو ایم اور ق لیگ کی پھرتیوں
پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے-طاہر القادری کا لانگ مارچ بھی اس کی کڑی
ہے-میں کہتا ہوں کہ خطرہ سسٹم کو ڈی ریل ہونے کا نہیں ہے بلکہ جمہوریت کو
عسکری ڈاکٹرائن سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ کرنے کا ہے-اب دیکھنا یہ ہے کہ
دو بڑی جماعتیں کہاں تک جاتی ہیں-بلوچ اور شیعہ ،ہزارہ ،اس حکمت عملی میں
ایندھن کے طور پر ہی استعمال ہوں گے-پاکستانی نیشنل ازم اور زیادہ تنوع
مخالف ہوکر سامنے آسکتا ہے-اور اس کی زیادہ تنگ نظر تعبیر سامنے آسکتی
ہے-اور جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ہماری اسٹیبلشمینٹ نے ماضی سے کوئی سبق
سیکھا ہے وہ غلطی پر ہیں-بلوچ قوم کو ان کی حریت فکر کی اور ان کی جانب
سے ریاست کے جبر اور استحصال کو چیلنج کیے جانے تر ان کو سبق سکھایا جائے
گا-چئیرٹی کی آڑ میں جماعۃ الدعوۃ کو بلوچستان میں اندر تک رسائی دینے کا
مقصد بھی یہی تھا-کیا یہ اتفاق تھا کہ بلوچستان میں جماعۃ الدعوۃ کے
کارکنوں کو ہیلی کاپٹر تک امداد پہنچانے کے نام پر دئے گئے-اسی طرح کی
رسائی جماعت اسلامی کو دی گئی-جبکہ بلوچ علاقوں میں دوسری این جی اوز اور
اقوام متحدہ کو رسائی کی اجازت نہیں دی گئی-

میرے ایک دانشور دوست زوالفقار علی کا کہنا ہے کہ بیرونی سکورٹی تھریٹ کو
کم کرنے اور اندرونی تھریٹ کو زیادہ دکھانے کا مقصد سوائے اپنی بالادستی
کو قائم رکھنے کے مفروضہ رسک کو پیدا کرتے چلے جانے کے اور کچھ بھی نہیں
ہے-انہوں نے جنرل وحید کاکڑ کی کورکمانڈرز کے اجلاس میں کی گئی تقریر کا
حوالہ بھی دیا ہے جس میں کہا گیا تھا “سول حکمران اگر کشمیر ایشو حل
کربھی لیں تو ہمیں ایک اور کشمیر ایشو پیدا کرنا ہوگا-میرے خیال میں
جرنیل وہ ایشو بلوچستان کی شکل میں پیدا کرچکے ہیں-

,

One response to “کیا فوجی ڈاکٹرائن بدل گئی ہے؟ لیل و نہار /عامر حسینی”