اصغر خان کیس کا فیصلہ – گلاس توڑے بارہ آنے – by Imam Bux


آج چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور عارف حسین خلجی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رُکنی بینچ نے 1990ءکے انتخابات میں آئی جےآئی  بنانے سےمتعلق سولہ سال پُرانے اصغر خان کے مقدمےکا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ نوے کے انتخابات میں اِسٹیبلشمنٹ کے بنائے گئےسیاسی سیل کے ذریعے دھاندلی ہوئی۔ سپریم کورٹ نے اُس وقت کے آرمی چیف  جنرل(ر) مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی چیف  جنرل(ر) اسد درانی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے اور عدالت نے یہ بھی کہا  ہے کہ جو سیاستدان اس سے مُستفید ہوئے ان کی تحقیقات کی جائیں۔ اس کے علاوہ فیصلے میں سب سے اہم حکم کہ اگر ایوان  صدر میں سیاسی سیل موجود ہے تو ختم کیا جائے، صدر حلف وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتاہے۔

 

گزشتہ صدارتی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے صدارتی اُمیدوار اور سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ سعیدالزمان صدیقی کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ انھوں نے 11 اکتوبر 1999ء کو اصغر خان کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ مگر ایک دن بعد  نواز شریف کی حکومت ٹوٹنے کے بعد وہ فیصلہ سُنایا  نہ جا سکا۔  مشرف کے دور میں اصغر خان نے  سپریم کورٹ کو بارہا عرضیاں لکھیں کہ اُن کے کیس کا فیصلہ سنایا جائے مگر آزاد عدلیہ کے قدیم اور  لاڈلے رجسٹرار نے اِن عرضیوں کو اصغر خان کے سامنے اُچھالنے کا شُغل جاری رکھا۔ مگر جب لعلوں کی جوڑی   یعنی  چیف ورجسٹرار کا  یہ کھیل زبان زدِ خاص و عام ہوا تو آزاد عدلیہ نے مجبورا ً  اپنا پسندیدہ اور آپس میں کمال محبت رکھنے والاتین رُکنی معروف “سَنجَوگ بینچ”  بنا کرسپریم کورٹ کےمحفوظ فیصلے کوسنانے کی بجائے کیس کی سماعت نئے سِرے سے شروع کر دی۔

 

نوے کی دھائی میں کیس کی سماعت کے دوران اصغر خان، جنرل بیگ، جنرل درانی، جنرل بابر مرحوم کے آٹھ کے قریب بیاناتِ حلفی عدالت میں جمع کرائے گئے ۔ جن میں جنرل بیگ اور جنرل درانی کی عدلیہ کی شان میں دھمکی آمیز باتیں بھی شامل تھیں۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ جنرل بابرمرحوم کے سپریم کورٹ میں  جمع کرائے گئے دو حلفی بیانات جنرل اسلم بیگ، جنرل اسد درانی اور دوسرے ملوث لوگوں کے لیے انتہائی خطرناک ٹھوس گواہی کی حیثیت رکھتےتھے  اور ملزموں کے لیےکسی طور پر بھی ممکن نہیں تھا کہ وہ جنرل بابر کے ان بیانات کو جُھٹلا کر عدالت سے کوئی ریلیف مانگ سکیں اور اِسی طرح آزادعدلیہ کے لیے بھی آسان نہ تھا کہ  وہ اپنے پیاروں کو بچا  سکے۔  شائد اِنھی ٹھوس ثبوتوں کو دیکھ کر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افضل ظُلہ نے بھری عدالت میں جنرل اسلم بیگ کو کہا تھا کہ “اب مجھے خُدا بھی کہے تو میں تجھے نہیں چھوڑوں گا”۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مگر اصغر خان کیس کی دوبارہ سماعت کے دوران بتایا  گیا کہ دوسرے اہم کاغذات کے ساتھ جنرل بابر کے حلفی بیانات سپریم کورٹ کے ریکارڈ سے غائب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حق شناس اور غیر جانبدار حلقے اُسی  وقت  کیس کی دوبارہ نئے سِرے سے حیرت آفرین سماعت کی حقیقت  ٹھیک  طرح سےسمجھ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اِس “اِنصاف” پر مبنی مَعرِکَتُہ الآرا فیصلے نے آزاد عدلیہ کا جُھرلو پھیرنے والے شریفین و صالحین سیاستدانوں اور مولویّوں کے ساتھ لو افئیر کو ایک بار پھر بُری طرح آشکارہ کیا ہے۔ اِ س فیصلے کو سُننے کے بعد چند  سوالات ذہن میں اُبھرتے ہیں، کچھ باتیں خُوب واضح ہوتی ہیں۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

 

1۔  یہ فیصلہ آزاد عدلیہ کا  ایک طرح سے ایک بارپھر کُھلا اعتراف ہے کہ وہ حکومتیں توڑنے اور بنانے والے جرنیلوں کے سامنے بالکل بے بس ہے۔

 

2۔  عدالت میں  بنک ٹرانزَیکشَنز کے ریکارڈز، حلفیہ بیانات کے ساتھ ساتھ  پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا  میں اِسی مَد میں پیسے لینے والے چند  سیاستدانوں  کےاپنے  اقراری  بیانات  کے بعد واضح سزائیں دینے کے بعد آخر کون سے ثبوتوں کی ضرورت تھی؟

 

3۔  آئی جے آئی  کی باقی اتحادی پارٹیوں کے سیاست دانوں  کا ذکر نہ بھی کریں  تو یہ بات بالکل ہضم ہونے والی نہیں ہے کہ 1990ء کے الیکشن میں سیاستدانوں میں پیسے تقسیم ہونے، دھاند لی  کا فائدہ اُٹھانے  اور وزیرِاعظم  بننے والے شخص  یعنی نواز شریف کا فیصلے میں ذکر تک نہیں۔  اُنھیں عدالت میں بُلانے کا تکلف  تک نہیں کیا گیا۔  حالانکہ ایف آئی اے کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی انکوائری رپورٹ کہتی ہے کہ یونس حبیب نے الیکشن میں دھاندلی وغیرہ کے لئے آئی ایس آئی کے ذریعے دیئے گئےپینتیس لاکھ روپے کے علاوہ نواز شریف کو بیس کروڑ روپے کی رشوت دی تھی۔

 

4۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اصغر خان کیس میں انصاف پر مبنی فیصلہ آ جائے تو اس وقت آزاد عدلیہ کے معنوی کولیشن پارٹرز نا اہل ہو کر جیلوں کی ہوا کھا رہے ہوں۔

 

5۔  آزاد عدلیہ کا یہ فیصلہ عوام کا مینڈٹ چوری کرنے والے ثابت شُدہ  چوروں کی واردات چھپانے کی گھناؤنی سازش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

 

6۔  سماعت کے دوران ہمیشہ اپنی ذاتی خواہشات اور جذبات پر  تڑپ  پھڑک دکھانے والے سَنجَوگ بینچ کا دل اصل کیس سے ہٹ کر موجودہ حکومت اور صدر  کی طرف ہی اٹکا رہا ۔جس کا مَوقَع بے مَوقَع اظہار بھی ہوا۔  اور یہ بات عوام سے پوشیدہ نہ رہی کہ معزز  جج حضرات کے کان، آنکھیں ، دماغ اور زبانیں  ہر  وقت  “ایک ہی آدمی” کے خلاف سُننا، دیکھنا، فیصلہ کرنا اور بولنا چاہتی ہیں۔

 

7۔  اس فیصلے میں انصاف نہیں ہوا بلکہ ظلم کی ضِد اور غیر آئینی عادتوں کو مزید پروان چڑھایا گیا ہے۔مگر اس کو حالات کا جبرہی کہنا پڑے گا کہ آ ج پاکستان پیپلز پارٹی کی معنوی  دُشمن کو چار و ناچار علی الاعلان اِقرارکرنا پڑاکہ  نوے کی دھائی میں پی پی پی کے خلاف دھاندلی ہوئی تھی اور انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو چرانے والی اسٹیبلشمنٹ کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوگیا ہے۔

 

8۔  جب آزاد عدلیہ ایک صوبائی ضمنی الیکشن کی اُمیدوار وحیدہ شاہ کو پریزائیڈنگ آفیسر کو ایک تھپڑ مارنے پر نااہل قراردے دیتی ہے۔ تو  پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ پوری  قومی اسمبلی چاروں اسمبلیوں سمیت لُوٹنے والےقومی  ڈاکوؤ ں کی طرف خفیف سا اِشارہ تک نہیں کیا گیا۔

 

9۔  اِس فیصلے سے عدالت نے اپنا بوجھ  اُ ٹھا کر حکومت کے سر پر رکھ دیا ہے۔ کیس میں نامزد سیاست دانوں، ریٹائرڈ فوجیوں اور صحافیوں سے پُھوٹی کوڑی بھی وصول نہیں کی جا سکے گی۔  یہ قومی غنڈےآج سے ہی میڈیا کی بھرپور سنگت سے  اپنے آپ کو  پاکدامن قرار دینا شروع کر دیں گے۔  اگر موجودہ حکومت ان کے خلاف تحقیقات  شروع کرے گی توخود عدالتِ عظمٰی کا حکمِ امتناعی اور دوسرے اقدامات اس کو بے بس کرد یں گے۔ (ویسے ذرا تصّور کریں  کہ اگرعدالت کی طر ف سے تصدیق شدہ  سابق جُھرلووزیرِاعظم میاں نواز شریف  تفتیش کے لئے ایف آئی اے یا نیب میں تشریف لائیں تو میڈیا کی ان کو ہیرو جیسی  کوریج دیکھنے لائق ہوگی)

 

10-  مَذْکُورۂِ بالا فیصلےسے اور کچھ ہو نہ ہو مگر صدر آصف علی زرداری کے دو عہدوں کی بات شَدّ و مَد طریقے سے ضرور ہوگی۔

 

11-  کیا اس  فیصلے سے ایک بار پھر آئین کے نمائشی آرٹیکل6  کابودا پن ظاہر نہیں ہوا ؟ (سوچنا پڑے گا کہ یہ عدالتی بودا پن ہے یا آئینی)

 

12-  کیا عوام عدالت کے تفصیلی فیصلے میں توقع رکھے کہ عوامی مینڈٹ  کوچُرانے والوں کو نااہلی اور واضح سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا؟ کیا افواج پاکستان اپنی ساکھ کو بہتری کی طر ف لے جانے کے لئے اِس کیس میں ملوث اپنے جرنیلوں کاکورٹ مارشل  کرکے سزا دے گی؟

 

13-  کیا ہم اِس کیس میں ملوث لوگوں کے بارے میں میڈیا کی غیرت بریگیڈ سے ویسی ہی امید کر سکتے  ہیں جس طرح انھوں نے یوسف رضا گیلانی  کے مختصر فیصلے کے بعد اِخلاقی فرض، صادق اور امین کے پرچار کئے؟

 

14۔   اِس فیصلے سے  پاکستانی عوام میں یہ سوچ پہلے سے کئی گنا  زیادہ مضبوط ہوئی ہے کہ شریف برارز  کے کسی  بھی غیر آئینی اور غیر قانونی   عمل پر  گرفت ہو ہی نہیں سکتی۔

 

15-  اصغر خان کیس کی سولہ سالوں میں عدالتی  پروسیڈنگز کا کروڑوں روپے  کا  خرچہ عوام کے ٹیکسوں سے ادا ہُوا ہے (یہ ممکن ہے کہ ہِندسے اربوں تک جا پہنچے ہُوئے ہوں)۔ ابھی تک تو آزاد عدلیہ اپنے بجٹ سے اربوں روپے زیاد ہ خرچ کا حساب اپنے عزیزِمن رِجسٹرار کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے سے غیرآئینی طور پر کترا رہی ہے۔ اگر رِجسٹرار تشریف لے آئیں اور اصغر خان کیس کی طرح کے  “گلاس توڑے بارہ آنے ” قسم کے کیسز کا آڈٹ کیا جائے تو ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ نقصا ن کا تخمینہ کھربوں روپے سے ہرگز کم نہ ہو گا۔ کیا اِس کے  ذِمہ داروں اور ان کے جاں نثاروں، بے شماروں  کو اس چیز کا ذرا برابر بھی احساس ہے؟

 

آخر میں عرضِ حال یہ ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے سے ایسے لگتا ہے کہ آزاد عدلیہ نے ایک مرتبہ  پھر  حق داروں کی حق تلفی  اور  غاصبوں کی مزید  پرورش کر کے انصاف کے گلے پر نہ صرف چھری پھیری ہے بلکہ دانستہ طور پر پاکستان کی  آنے والی نسلوں کے راستے میں کانٹے دار فصلوں کی پنیری بوئی ہے۔ آئندہ آنے والی پاکستانی عوام کے لئے اس سےبڑھ کر کوئی غضب اور آفت  ہو ہی نہیں سکتی  کہ ان کو ورثے میں  مسلط کئے گئےجعلی یا فوجی ساختہ  لیڈرز ملیں۔ آزاد عدلیہ کا فریبی  لیڈرز کی کھلم کھلا حمائت کرنا درحقیقت بدخواہی سے آئندہ نسلوں کے واسطے ٹھگوں کی بھاری جماعت پیدا کرنا ہے۔


3 responses to “اصغر خان کیس کا فیصلہ – گلاس توڑے بارہ آنے – by Imam Bux”

  1. سپریم کورٹ کا حکم، احترام بھی، تحفظات بھی
    اعجاز مہر
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
    آخری وقت اشاعت: منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 21:17 GMT 02:17 PST
    Facebook
    Twitter
    دوست کو بھیجیں
    پرنٹ کریں

    شریف برادران پر آئی ایس آئی سے پیسے لینے کا الزام ہے
    اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ مختصر حکم کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے ظاہر کردہ رد عمل کے بعد پاکستان کی سیاست میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا کہ کشیدگی بڑھے گی اور اس کے اثرات آئندہ عام انتخابات پر بھی پڑیں گے۔
    گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت اعظمیٰ کے کسی فیصلے سے براہ راست مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت متاثر ہوئی ہے۔ تاحال مسلم لیگ (ن) کا یہ موقف رہا ہے کہ سپریم کورٹ کاجو بھی فیصلا ہو اس پر من و عن عمل ہونا چاہیے اور اس سے ہی قانون کی عملداری قائم ہوگی۔
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان, سیاست
    لیکن اصغر خان کیس میں آنے والے فیصلے کے بارے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز جو دو ٹوک بات کہی ہے کہ وہ عدالتی حکم کا احترام کرتے ہیں لیکن انہیں اس حکم پر تحفظات بھی ہیں۔
    ان کے بقول انیس سو نوے میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) بناتے وقت آئی ایس آئی نے کروڑوں روپے جو سیاستدانوں میں تقسیم کیے تھے اس میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو رقم ملنے کی تحقیقات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سے کرانے کا عدالتی حکم انہیں قبول نہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ تحقیقات عدالتی کمیشن کرے۔
    حالانکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے جو بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا اس میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مرحوم پیر پگاڑہ، غلام مصطفیٰ جتوئی، میاں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت متعدد سیاستدانوں میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے کہنے پر رقوم تقسیم کی تھیں تاکہ پیپلز پارٹی کا راستہ روک کر ’آئی جے آئی‘ کو جتوایا جائے۔
    اگر عدالت اعظمیٰ چاہتی تو میاں نواز شریف سمیت تمام سیاستدانوں کو بلا کر ان کا موقف معلوم کرکے اُسے ریکارڈ کا حصہ بناسکتی تھی لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر عدلیہ نے ایسا نہیں کیا۔ اگر عدالت چاہتی تو ’میمو سکینڈل‘ کی طرح اسد درانی کے بیان حلفی کے بنیاد پر عدالتی تحقیقات کا حکم بھی دے سکتی تھی لیکن انہوں نے اصغر خان کیس میں ایسا نہیں کیا۔
    گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اپوزیشن کی کسی جماعت کے خلاف عدالت اعظمیٰ کا کوئی فیصلہ آیا ہے۔ حالانکہ جعلی ڈگریوں کا معاملا ہو یا دوہری شہریت کا اس میں عدالتی احکامات کی وجہ سے کم و بیش تمام جماعتیں متاثر ہوئیں اور انہوں نے عدالتی احکامات پر سرِ تسلیم خم کیا۔ لیکن اب جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر انگلی اٹھی ہے تو وہی جماعت عدالتی فیصلے پر خوش نہیں اور جس انداز میں انہوں نے رد عمل دیا ہے وہ بظاہر ’ڈکٹیشن‘ لگتی ہے۔
    حکمران پیپلز پارٹی اصغر خان کیس کے عدالتی فیصلے پر خوش ہے اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے عدالتی حکم پر عمل کرنے اور آئی ایس آئی کے ذریعے بانٹی گئی رقم کی پائی پائی وصول کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ لیکن تاحال حکومت نے عدالتی حکم کے مطابق تحقیقات کے لیے کوئی ٹیم نہیں بنائی۔ جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ حکومت کو تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے۔
    بعض مبصرین کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے عدالتی حکم پر عمل کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس سے پاکستان کی دو بڑی جماعتوں میں کھینچا تانی بڑھے گی اور اس کی وجہ سے سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایسے میں حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھائے اور مسلم لیگ (ن) جو پہلے ہی سیاسی تنہائی کا شکار ہے اُسے مزید سیاسی طور پر تنگ کرے۔ اگر حکومت نے سخت اقدامات اٹھائے تو اس سے مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی میں اتحاد بھی ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں پر انیس سو نوے میں آئی ایس آئی سے پیسے لینے الزام ہے۔
    اصغر خان کیس میں عدالتی حکم کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی ساکھ کو بہت زیادہ دھچکہ پہنچا ہے جس کے خمیازہ انہیں آئندہ انتخابات میں بھگتنا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ اب تک مسلم لیگ (ن) نے س طرح آئی ایس آئی سے پیسے لینے کی تردید کی ہے اس سے ان کا موقف مبہم نظر آتا ہے۔
    جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جس طرح رواں سال مارچ میں یونس حبیب نے بیان دیا کہ انہوں نے میاں نواز شریف کے لاہور والی رہائش گاہ پر بنفس نفیس انہیں پینتیس لاکھ روپے دیے اور بعد میں پچیس لاکھ روپے میاں شہباز شریف کو ٹیلی گرافک ٹرانسفر کے ذریعے علحدہ بھیجے، اس کے بعد یونس حبیب کے خلاف ہر جانے کا دعویٰ داخل کرنے کے اعلانات کے باوجود تاحال مسلم لیگ (ن) نے کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی۔
    اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت کتنا جلد اور کیسے عدالتی حکم پر عمل کرتی ہے اور عدالت اپنے اس حکم پر عملدرآمد میں کتنی دلچسپی لیتی ہے؟

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/10/121022_pak_pml_react_fz.shtml

  2. asghar khan seyasi haramzada hy
    court ne bhi zardari haramzade ko khush kiya hy