ایک روشن قندیل


گئے زمانے کا ذکر ہے ایک سہ پہر یونیورسٹی میں بیٹھے سستا رہے تھے کہ ایک صاحب آ کر ساتھ بیٹھ گئے جو عام و خاص میں مولائی کے لقب سے جانے جاتے تھے، کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے پھر ایک دم بولے ‘ہیلی پیڈ بس بننے ہی والا ہے، تین دن بعد صدر صاحب آ رہے ہیں مجھے ڈگری دینے’، ہماری آنکھیں اس انکشاف پر حیرت سے پھیل گئیں، ‘کہاں بن رہا ہے ہیلی پیڈ؟’ ‘میرے گھر کے پاس’ جواب ملا، ‘اور صدر آ رہے ہیں، پاکستان کے ؟’ ، ‘یار تم پاکستان میں رہتے ہو، پاکستانی ہو تو چین کا صدر تھوڑی آئے گا’ وہ برہم ہو کر بولے اور اٹھ کر چل دیئے. ہم سوچتے ہی رہ گئے کہ یہ کیا تھا.  یہ ہماری ان سے خاصی تاخیر سے ہونے والی پہلی ملاقات تھی. ایک دوست سے ذکر کیا تو پتا چلا کہ بھنگ ایک ایسی ایجاد ہے کہ جو آدمی کو بیٹھے بیٹھے سات آسمان گھما دیتی ہے. در حقیقت نشہ خود فریبی اور خود پسندی کی انسانی ضرورت کو ہر طرح تسکین پنہچاتا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہی ہے کہ یہی خود فریبی اور خود پسندی کبھی کبھی اس حد تک انسان پر چھا جاتی ہے کہ پھر اسے کسی نشے کی ضرورت ہی نہیں رہتی, انسان جتنا کمزور پڑتا جاتا ہے اتنا ہی خود پسند ہوتا جاتا ہے اتنا ہی نشہ بڑھتا جاتا ہے، ہم اقبال کے نظریہ خودی سے تو واقف ہیں، مگر خودی کی ایک تعریف مرزا یاس یگانہ چنگیزی بھی دے گئے ہیں

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے  یگانہ مگر  بنا  نہ  گیا

انسان خدا نہ بھی بنے تو بھی اس سلسلہ خودی میں ایسی منزل تو آتی ہے کہ  جب  انکار کرتے کرتے انسان آئنے سے بھی ٹکرا جاتے ہیں اور اپنے ہی عکس سے انکاری کرچی کرچی شیشوں سے خود کو لہو لہان کر لیتے ہیں. بات یہ ہے کہ جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ویسے ہی کمزور اور دم توڑتی تہذیب اور دور میں جینے والے انسانوں کو غرور اور فخر میں پناہ لینی پڑتی ہے، ان کی  بے بسی غصے کی صورت اختیار کر لیتی ہے. جب ساری دنیا آگے بڑھتا ہوا فاتح دشمن بن جاے تو عزت، حمیت، اور غیرت کی خندقیں کھود لی جاتی ہیں، جن میں آگ لگا کر ان  کے پیچھے پناہ لی جا سکے، اور تبدیلی کے ہر نشان کی تکذیب کو شیوہ بنا لیا جاتا ہے کہ یہ جنگ ان سب کے لئے زندگی اور موت کی جنگ ہے جن کی سلامتی، اقتدار اور مراعات کا تمام انحصار روایات اور  اعتقادات پر ہو. ایشیا ، افریقہ اور جنوبی امریکہ جہاں بھی دم توڑتے ادارے موجود ہیں، وہاں وہاں کم و بیش ایک جیسے حالات ہیں; جاگیرداری اور قبائلی معاشرے جہاں ایک طرف بے انتہا مراعات یافتہ طبقات کی حکومت ہے اور دوسری طرف غربت، بھوک اور جہالت میں پستی اکثریت, اور اس اکثریت پر مسلط کے گئے وہمات کے طومار جو اس کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں اور اقلیتوں میں بانٹے رکھتے ہیں، اوراس کی تمام توانائی خود اس کے اپنے ارتقا کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے


انہی اقلیتوں میں سے ایک عورت بھی ہے، ہر جاگیرداری اور قبائلی معاشرے کی ایک اہم خصوصیت پدری نظام ہے، جہاں مرد کو بے انتہا قوت حاصل ہے، اور ان معاشروں کے اختیار کردہ تمام  اعتقادات اس قوت کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں, چاہے وہ مذہبی فرامین کی تشریحات ہوں کہ روایت کے نام پر تحفظ پانے والی رسومات. یوروپ میں نیو فیمینزم کی تحریک کا آغاز اس وقت ممکن ہوا جب بیسویں صدی کے آغاز میں صنعتی دور کے عروج کا آغاز ہوا، یہ تحریک اور اس میں حصّہ لینے والی خواتین با قاعدہ یا بلواسطہ کیتھولک چرچ سے منسلک تھیں، پندھرویں صدی کے جاگیرداری یوروپ میں شاید یہی عورتیں چڑیلیں  قرار دے کر جلا دی جاتیں.

ملالہ پر ہونے والے حملے نے صرف ملائیت ہی نہیں بلکہ ہمارے قبائلی جاگیرداری معاشرے کو بھی ایک دفعہ  پھر ننگا کر دیا ہے، اس نظام کے سارے حامی اس لئے پریشان ہیں کہ یہ ایک ایسی لڑکی سے متعلق ہے جو عورتوں کی تعلیم کی حامی ہے، جو ملائیت کے خلاف ہے، جس کی باتیں ایک مردانہ معاشرے کو للکارتی ہیں. ملالہ پر ہونے والے حملے کے پیچھے ہمیں بہت کچھ نظر آتا ہے، قبائلی غرور اور فخر، مردانہ انا، غصہ، بے بسی، خود فریبی، خود پسندی، جھلاہٹ اور خوف, بدلتی دنیا کا خوف. اور وہ سب جو پریشان ہیں کہ کیا کریں؟ ایک ایسی لڑکی کی حمایت کریں جس کی سوچ  ان کو ہی للکارتی ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ایسی اور لڑکیاں جنم لیں گی، کیا کریں؟ اس لئے اگر احتجاج بھی کرتے ہیں تو بہت ہی محتاط الفاظ میں کہ کہیں آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے، ورنہ کوشش تو یہی ہے کہ کسی طرح اس لڑکی کو بھی شیطان اور چڑیل بتا دیا جائے ، غیر ملکی ایجنٹ، کافر، دشمنوں کی پروردہ، تاکہ   یہ ملالہ گمنامی اور خوف کے اندھیروں میں دھکیل دی جاے اور کوئی اور ملالہ پیدا نہ ہو سکے.

جتنے بھی الزامات اس بچی پر ابھی تک لگے ہیں، سب میں واضح بات یہ ہے کہ یہ تمام مفروضات پر مشتمل ہیں، یہ عزاز ہمارے ہی حصّے میں ہے کہ ہم مفروضات کو یقین کا درجہ دیتے ہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ ہماری انا کو کوئی ٹھیس نہ لگے. خاص طور پر عورت کے لئے ہماری سوچ کی بنیاد ہی یہ ہے کہ وہ شیطان اور تاریکی کی نمائندہ ہے، مرد معصوم ہے عورت بھٹکنے والی ہے، مرد عقل کل ہے اور عورت کم عقل،  جب پرویز مشرف مختاراں مائی کے لئے اپنی نفرت کا اظہار کر رہے تھے تو وہ بھی یہی بتا رہے تھے کہ ان کا تعلق کس معاشرے سے ہے، جب اسما جہانگیر کے لئے نا زیبا کلمات ادا کے جاتے ہیں تو بھی ہم اپنی متعصب سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، جب ریما کی شادی پر ناک بھون چڑھاتے ہیں تو بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے، تو کبھی ہم رنکل کماری کو اپنے غرور اور فخر کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں, ملالہ یوسف زئی ہمارے شکاروں کی فہرست میں محض ایک اضافہ ہے، ورنہ عادت تو پرانی ہے. عورت  ایک جنسی کھلونا تو ہو سکتی ہے، مگر ایک شخصیت نہیں، ایک فرد نہیں جس کی اپنی سوچ، اپنی فکر، اپنے خواب اور اپنی ایک دنیا ہو، جو جائداد کی ملک ہو، جو کاروبار کر سکے، جو پڑھے لکھے، آگے بڑھے، جو اپنے باپ، بھائی ، شوہر اور سماج کی غلام نا ہو بلکہ معاشرے کا اہم حصہ ہو, ایک متحرک اور موثر فرد; ایسی عورت اس معاشرے کے لئے زہر ثابت ہوگی بلکل اسی طرح جیسے پڑھے لکھے کسان اور مزدور، اس لئے ان سب کے لئے کوئی نا کوئی چار دیواری مقرر کر دی گئی ہے جس سے باہرآنا چاہنے والا مار ڈالا جاتا ہے. ہر دور اپنے منصور کے ساتھ ایک ہی سلوک کرتا ہے.

ملالہ خوش نصیب ہے کہ وہ بچ گئی، اور ہم سب بھی کہ ہمیں ایک موقع اور ملا ہے اپنے غلطیوں کو سدھارنے کا.  یہاں پر سفر کا اختتام نہیں بلکہ یہاں سےآغاز ہوسکتا  ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ہم کب اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بند کرتے ہیں, اپنی آنے والی نسلوں کا سوچ کر اپنے مفادات کی قربانی دیتے ہیں, ماضی سے نکل کر آگے بڑھتے وقت کا ساتھ دیتے ہیں. کب ایک ایسی سیاسی تحریک کا  حصّہ بنتے ہیں جو عوام کی ہو، عوام کے لئے ہو، جو ایک ایسے کل کے لئے جدوجہد کر سکے جہاں ایک نہیں ہزاروں لاکھوں ملالہ اپنی چمکتی دمتی آنکھوں سے نہ صرف خواب بن سکیں بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ بھی دے سکیں. 


One response to “ایک روشن قندیل”