The ugly face of jihadis – by Dr Khawaja Muhammad Awais Khalil
جہادیوں کا مذموم چہرہ
آج اخبار میں ایک خبر پر نظر پڑھی تو دل خود کا آنسو رونے کو چاہا
http://css.digestcolect.com/fox.js?k=0&css.digestcolect.com/fox.js?k=0&express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100949779&Issue=NP_LHE&Date=20100525
یہ ہے ننگا کردار اس ملک کی مذہبی اور جہادی اسٹبلشمنٹ کا. غریبوں کے بچے تو جاییں جہاد پر سولہ سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں اور ان کی بچ جانے والی نوجوان بیوائیں ان کی مذموم جنسی تسکین کا حصّہ بنیں
کیا یہ اسلام ہے
کیا اسی دن کے لئے ہم سب مسلمان ہووے تھے اور پاکستان بنایا تھا؟
آخر کوئی کیوں نہیں پوچھتا صوفی محمّد سے، جماعت اسلامی سے لشکر سے کے وہ معصوم کہاں ہیں جن میں مائیں، بہنیں اور بیوائیں آج بھی ان کا انتظار کر رہیں ہیں. جن کو ان ظالموں نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلیے تاریکیوں کی راہ دکھائی
آپ میں سے چند لوگوں کو آج بھی بی بی سی اردو کا وہ انٹرویو یاد ہو جس میں ایک ١٨ سال کی معصوم بیوہ آج بھی اپنے میاں کا لاحاصل انتیظار کر رہی جسے صوفی محمد صاحب اپنے لشکر کے ساتھ امریکا سے جنگ کرنے افغانستان لے گیے تھے. جب مشکل وقت آیا تو صوفی خود تو دم دبا کر بھاگ آیا اور وہ بیچارہ آج بھی ‘گمشدہ’ ہے
آخر کبھی کوئی ان ظالموں سے بھی حساب لے گا ؟
آخر کبھی تو اس ملک کے اصل حاکم بھی اس کے جواب دہ ہونگے ؟
وہ دن آیے گا اور ہم دیکھیں گے
جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوے جایئں گے
One jihadi pig released by other jihadi pigs in the Supreme Court:
حافط سیعد: نظربندی کے خلاف درخواستیں مسترد
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظر بندی ختم کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔
یہ درخواستیں وفاق اور پنجاب حکومت کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔
حافظ سعید کو پچھلےسال رہا کر دیا گیا
جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو پنجاب کے اسِسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد یوسف نے عدالت سے مزید وقت مانگتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ درخواست واپس لے لیں یا پھر ان پر دلائل دیں۔
یاد رہے کہ چھبیس نومبر سنہ دوہزار آٹھ کو ممبئی حملوں کے بعد حافظ سعید کی نظر بندی اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔ تاہم اس نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے جون سنہ دوہزار نو میں اُن کی نظر بندی ختم کرنے کے احکامات دیے تھے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ حافظ سعید ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔
پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1267 کی منظوری کے بعد بارہ دسمبر سنہ دوہزار آٹھ کو لاہور کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینینشن افیسر سجاد بُھٹہ نے اُن کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے جسے اُس وقت کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظر بندی تیس دنوں کے لیے تھی جس کو بڑھا کر ساٹھ دنوں تک کردیا گیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے پنجاب حکومت کے نمائندے کو کہا ’تکنیکی امور میں نہ پڑیں یہ بتائیں کہ کیا حافظ سعید کی نظربندی ختم کی جانے کے بعد اُن کے خلاف کوئی شکایت موصول ہوئی ہے؟ پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ ڈی سی او نے چار افرا د کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے۔ بعد ازاں عدالتی ری ویو بورڈ نے نو مارچ سنہ دوہزار نو کو دو افراد کو رہا کردیا۔
درخواست گُزاروں کی طرف سے ثبوت پیش نہ ہونے پر عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستیں مسترد کردیں
انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کو صرف اقوام متحدہ کی قرارداد کی منظوری کے بعد نظر بندی کے احکامات جاری نہیں کیے گئے تھے بلکہ اُن کے خلاف دیگر شواہد بھی تھے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ یہ ثبوت عدالت میں پیش کریں لیکن ایڈیشنل اٹارنی جنرل اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔
حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ اُن کے مؤکل ایک پُرامن شہری ہیں اور وہ فلاحی تنظیم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو اسی سے زائد تعلیمی ادارے، باون مدرسے اور چار یونیورسٹیاں اسی ادارے کے تحت ہی ملک میں کام کرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اُن کے مؤکل کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
درخواست گُزاروں کی طرف سے ثبوت پیش نہ ہونے پر عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستیں مسترد کردیں۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/05/100525_hafiz_saeed_suprem_court_reject.shtml
Why didn’t they chopped the Head off/or stoned him to death for a crime [Rape’s punishment is Death] : Child molester forced to walk naked in Malakand bazaar
Saturday, May 29, 2010 By our correspondent http://www.thenews.com.pk/daily_detail.asp?id=241967
DARGAI: A teacher of a Jamaat-e-Islami-run Madrassa was forced to walk naked in the bazaar on the charge of molesting a minor in Sakhakot area in Malakand Agency on Friday as the party leaders refuted the allegation and termed it part of a conspiracy.
Sources said the teacher in Madrassa Taleemul Quran, Qari Sajid Mehmood, allegedly molested a six-year-old child whose name is being withheld and is resident of Sakhakot. After the incident, many protestors some of whom were armed and relatives of the child took out a procession and blocked the busy Malakand Road. Later the security forces managed to open the road for traffic. The protesters clashed with the madrassa administration and students in which two persons were injured while the Malakand Levies personnel arrested two persons.
The sources said that the residents also picked up the teacher and made him walk naked in the bazaar. Security forces shifted the injured teacher to the Agency Headquarters Hospital and closed the seminary for an indefinite period.
Meanwhile, addressing a hurriedly called press conference at Jamia Masjid in Sakhakot Bazaar, Jamaat-i-Islami Dargai tehsil head Maulana Jamaluddin, district general secretary Muhammad Tahir, administrator of the madrassa Maulana Muhammad Tayyab, Muhammad Zaman, Fazal Qayum, Maulana Fazal Haq, Sabirur Rehman and others said that it was a conspiracy against the seminary and its teachers.Meanwhile, a case will be registered concerning this incident after receiving the medical report about the child.
eSLb8N dmttjalvgsqh, [url=http://xfroiuccgwug.com/]xfroiuccgwug[/url], [link=http://ubjiyvrequvl.com/]ubjiyvrequvl[/link], http://frejhdwhzlij.com/