برداشت اور توازن


لوگ اپنے خیالات کو اعتقادات  میں بدلنے میں بہت ماہر ہیں کہ عموما مفادات کو تحفظ دینا مقصود ہوتا ہے.  اورمعاشرے جتنے عمل سے دور ہوتے ہیں اتنے ہی علم دشمن اور خیال پرور ہو جاتے ہیں. تضادات کی اس دنیا میں، شہروں میں بسنے والا قومیت اور سماج کے ایک اعلیٰ ارفع تصّور کو گلے سے لگائے خیالوں کے گھوڑے دوڑا رہا ہے جو کبھی کبھی بحر ظلمات تک جا پہنچتے ہیں اور گاؤں دیہات کا باسی اس سب سے بے خبر ذات برادری نسل قبیلے اور ایسے ہی دیگر ہزار سال قبل کے  سماجی اداروں کو اپنے شکستہ کندھوں پر سنبھالےعزت اور غیرت   کے نام پر بے وقوف بنتا باقی دنیا سے بے خبر جہالت کے اندھیروں میں گم  ہے. اور چند گرگ باران دیدہ ان مختلف گھن کھائے فرسودہ سماجی اور خیالی رویوں کی بیک وقت حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ ان کا راج پاٹ اسی کے دم سے قائم ہے.

عموما  اوپر بیان کردہ  خیالات کو کم علمی اور نادانی ہی نہیں بلکہ کفر اور ارتداد سمجھا جاتا ہے، غالب نے کہا تھا

ملتیں جب مٹ گئیں  اجزاۓ ایمان ہوں گئیں

زمانہ آگے بڑھ چکا ہے، اور کبھی کبھی تعمیر میں ہی تخریب چھپی ہوتی ہے، یہاں تو

ملتیں جب بن گئیں اجزائے ایمان ہو گئیں

اب کوئی کچھ بول کر تو دیکھے, یہاں فیصلے پہلے کیے جاتے ہیں، اور توجیہات بعد میں ڈھونڈی جاتی ہیں، ٹیڑھی میڑھی لنگڑی لولی باتوں سے دستاویزات کے پیٹ اور لوگوں کے دماغ بھر دیے جاتے ہیں. جہاں حال ماضی سے منسلک نہ رہے وہاں ماضی کو کھوجا نہیں جاتا بلکہ تراشا جاتا ہے, بنایا جاتا ہے اور پھر پوجا جاتا ہے

بتان فکر ، تراشیدم، پرستیدم ، شکستم

اس خرابات میں ایسے فرزانے بھی ہیں جو منطق اور استدلال کی بات کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ استدلال وہاں کام آتا ہے جہاں اسے اہمیت دی جائے اور ضرورت محسوس کی جائے. جہاں ضرورت ہی نہ ہو وہاں بھینس کے آگے بین بجاتے رہیں. جہاں زور کو سلام کیا جاتا ہے، جہاں طاقت فیصلہ کرتی ہے اور انصاف کی آنکھوں پر چڑھی کالی پٹی کو ہٹانے کی کوشش کرنے والوں کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کر دی جاتی ہیں, وہاں گونگے بہرے زیادہ اچھے شہری ثابت ہوتے ہیں، یا پھر وہ جو ہاں میں ہاں ملا سکتے ہوں، جو وہ بولیں جو آقا کی زبان ہو. جن کواختلاف کی جرّات اور بولنے کا شوق ہو, ان کے لئے پہلے اپنی جان بچانا مقدّم ہے،

اس شہرخرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

ویسے زیادہ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ایسے دیوانے خواہ مخواہ کا سر درد  ہیں اور محض ایک مستقل تکلیف،

زندہ ہیں یہی بات بری بات ہے پیارے

اس لئے سب مل کر کوشش کرتے ہیں کہ جیسے مچھروں کی صفائی کی جاتی ہے ایسے ہی تمام بھنبھنانے والے اورتمتمانے  والے یا تو بھگا دیے جائیں یا مچھروں کی طرح پٹا پٹ مار ڈالیں جائیں. مگر مصیبت یہ ہے کہ مچھر مارنے کا اسپرے ہمیشہ مہلک ہوتا ہے اور اگر مستقل استعمال ہوتا رہے تو پوری فضا زہر آلود ہو جاتی ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر اس زہر آلود فضا میں کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا. اس لئے آج بھی بہتر یہی  ہے کہ مچھروں سے بچت کے پرانے طریقوں پر ہی عمل کیا جائے جیسے مچھر دانی، فایدہ یہ ہے کہ مچھر بھی زندہ اور آپ بھی صحت مند.

جو سیانے ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں اور اختلاف کی ناگوار بھنبھناہٹ کو بھی برداشت کرتے ہیں, توازن ہی زندگی کا حسن اور معاشرے کی سلامتی کا ضامن ہے، توازن بگڑ جاے تو پھر بڑی بڑی عالیشان عمارتیں مٹی کا ڈھیر بن جاتی ہیں، بڑی بڑی تہذیبیں خس و خاشاک کی طرح وقت کے ریلے میں بہہ جاتی ہیں.  ویسے بھی ہر جگہ اور ہر وقت میں کبھی نہ کبھی اقتدار یافتہ افراد کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ یا تو وہ اپنے مفادات کو گلے سے لگائے ماضی کی دھول بن جائیں یا پھر مستقبل کی خاطر اپنی طاقت سے دست کش ہو کر ترقی پذیر قوتوں کا ساتھ دیں.

 

,

One response to “برداشت اور توازن”