UN calls on Pakistan to probe abductions, extrajudicial killings & human rights violation


The United Nations is urging Pakistan to investigate human rights violations, including several recent attacks on journalists.

A spokesman for the U.N. human rights commissioner, Rupert Colville, said Friday the U.N. agency has recently received reports on the killing of a journalist in Baluchistan province and the disappearance of another in the North Waziristan tribal region .

Colville said the attacks are the latest in a series of reported abductions, disappearances and extrajudicial killings in Pakistan since 2007.

Speaking to VOA, Colville said media rights groups name Pakistan as one of the most dangerous places, if not the most dangerous place, for journalists.

He cited the Committee to Protect Journalists as saying that at least 16 reporters were killed last year, while nine others have been killed this year.

Colville said Pakistani authorities have failed to fully investigate any of the cases.

The U.N. human rights spokesman said that in Baluchistan alone, there were reports that 25 people — including journalists, writers, students and human rights defenders — had been extrajudicially killed during the first four months of this year.

In June, the Human Rights Commission of Pakistan said that 140 people, including journalists, were found dead between July 2010 and May 2011 after initially being reported missing.

Source: Voice of America

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پرتشویش

بلوچستان میں لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے خلاف کئی بار احتجاجی مظاہرے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے حکومت پاکستان سے اغواء، ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے سلسلے اور صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں اس طرح کے واقعات کا سلسلہ سال دو ہزار میں جاری ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفترکے ترجمان رپرٹ کولیویل نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں پاکستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل کئی رپورٹیں وصول کی ہیں، جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے اس ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

خضدار، فائرنگ سے مقامی صحافی ہلاک

’حکومتی دعوؤں پر اعتبار ختم ہو چکا ہے‘

’ہمیں کہاں انصاف ملے گا اس ملک میں‘

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے چودہ اگست کو نامعلوم افراد نے بلوچستان کے شہر خضدار میں صحافی منیر احمد شاکر کوقتل کیا گیا جبکہ گیارہ اگست کو وزیرستان سے صحافی رحمت اللہ درپہ خیل کو نامعلوم افراد نے اغواء کیا۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان کولیویل نے پاکستان میں تمام حکومتی اورسیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں اغواء، ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے سلسلے اور صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ روکنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے جبکہ ان واقعات میں ملوث افراد کوگرفتار کر کے ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ملک ہے اور سال دو ہزار دس میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں سولہ صحافی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیٹی (سی پی جے ) کے مطابق اس سال کے دوران گیارہ صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن ان واقعات میں نہ کوئی ملزم گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی ملوث افراد کو سزا ہوئی ہے۔

رپرٹ کولیویل کے مطابق بلوچستان میں سال دو ہزار گیارہ کے ابتدائی چار ماہ میں پچیس افراد ماورائے عدالت میں مارے جا چکے ہیں جن میں صحافی، سیاسی کارکن، طالب علم اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔

بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جون میں جاری ہونے والے رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ مئی کے مہینے تک صوبے کے مختلف علاقوں سے ایک سو تینتالیس افراد لاپتہ ہوئے ہیں۔

اسی رپورٹ میں بتایا کیا کہ جولائی دو ہزار دس سے مئی دو ہزار گیارہ کے درمیان صوبے میں لاپتہ بلوچوں کی ایک سوچالیس مسخ شدہ لاشیں مل چکی تھی۔

Source: BBC Urdu