Who is to blame- Fasihullah Marwat

Related :  Taliban regrouping in Dir to strike back – Zia ur Rehman

The flawed impression that Army has fully done its job in Swat and the Civil Administration now is responsible for sustaining peace in the region is absolutely unjustified. Despite  many commentator claims the army operation that cleared the Swat area of terrorists  however recent public appearance of top Taliban leadership tells a different story , the Army shares a big share of responsibility to sustain peace and prevent any inroads of terrorists into Swat again. It is primarily the military’s responsibility to ensure that no trouble makes it way in Swat from the adjoining areas which are heavily radicalized.


Daily Times Columnist Dr Taqi Writes :
Pakistan’s security establishment can perpetuate on the US and the world a fraud like the hashtag de-radicalisation on Twitter and buzzwords like de-programming suicide bombers by trotting out the so-called intelligentsia whose understanding of the Pashtun issues is woefully flawed. But it is unlikely that Kurramis are about to fall for this sham of an operation that paves the way for their genocide.







With Thanks : BBC Urdu

پاکستان کی وادی سوات میں طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ کے دست راست اور سرگرم سنیئر عسکریت پسند کمانڈر سراج دین دو سال کی روپوشی کے بعد آچانک منظر عام پر آگئے ہیں اور انہوں نےحکومت کے خلاف نئے سرے سے جنگ کا اعلان کردیا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت کی طرف سے سراج دین کے سر پر ایک کروڑ روپے کا انعام مقرر ہے۔

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ بدھ کو طالبان کمانڈر نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مالاکنڈ میں فوجی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور سیاسی قیادت نے انتہائی ظلم کیا۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ انھیں پورے مالاکنڈ ڈویژن کے لیے طالبان کا ترجمان مقرر کیا گیا ہے جس میں سوات ، سانگلہ، دیر آپر دیر لوئیر، بونیر اور چترال کے اضلاع شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سنئیر شدت پسند کمانڈر سراج دین کا شمار مولانا فضل اللہ کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔

سوات میں دو ہزار سات میں جب طالبان کا عروج شروع ہوا تو سراج دین کو سب سے پہلے ترجمان مقرر کیا گیا تھا وہ سوات میں عسکریت پسندوں کے مالی امور کے انچارج سمجھے جاتے ہیں۔ وہ مالم جبہ اور زمرد کے کانوں کے کمانڈر بھی رہے ہیں۔
تاہم طالبان کمانڈر سوات میں مئی دو ہزار نو میں شروع ہونے والے فیصلہ کن آپریشن کے بعد سے زیر زمین چلے گئے تھے۔

علاقے میں جب آپریشن راہ راست کا آغاز کیاگیا تو جیٹ طیاروں نے پہلا حملہ بھی مینگورہ کے قریب واقع زمرد کی کانوں پر کیا تھا جہاں ان دنوں سارا علاقہ سراج دین کے کنٹرول میں تھا۔

بعد میں یہ اطلاع بھی آئی کہ شاید وہ اس حملے میں شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ سوات میں جب آپریشن آخری مراحل میں تھا تو سراج دین کی ایک ساتھی سمیت نوشہرہ کے قریب موٹر سائیکل پر گرفتاری کی اطلاع بھی ملی۔ تاہم باضابط طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔



The Media Pundits who are of the opinion that Army has done its fair job in Swat and it is now up to the Civil Administration to control the reigns of a war torn area, they must not ignore some very intriguing ground realities. PPP and ANP have sustained heavy damage in Sawat during and after the ‘ ‘successful’ military operation. PPP and ANP leadership has been particularly sigled out and targeted by the extremist elements ever since the government was formed. Both of parties have recently lost of their important  leader this years including ANP MPA Dr Shamshar  . Dr Shamshar was ruthlessly killed on Eid last year in a similar pattern the way terrorist killed celebrated PPP MPA Badiuz Zaman.

Shaheed Dr Shamshar










Latest Comments
  1. samiullah
  2. Shahdab Anwar