Tribute to Shahbaz Bhatti – by Naveed Ali


Related articles: Shahbaz Bhatti assassinated: Thank you, Deep State!

LUBP Archive on Shahbaz Bhatti

It is a day which one wishes it never came. A wish that if time can go back and mistakes can be corrected, if bloodshed could be avoided and lives can be spared. Every passing day like this is increasing doubts on the future of our Pakistan, where this country will end up? It is not strange and there are examples that extreme totalitarian regimes can take over in situations and make a relatively large moderate and reasonable population a hostage.

With every passing day like this we will bear the loss of brave and honest, we will end up mourn our beloved and we will see ugly ghosts of hatred and fear taking us over. It is time for Pakistanis to ask themselves and decide, and decide for once what they actually want? They want this game of hatred and intolerance continued or they want it stopped? They want to keep on dividing, separating and isolating ourselves or they want to be united? They want peace or they want bloodshed and violence? They want their children to prosper and grow or they want them ditched in all ills, hunger and devastation? Choices to be made are to give up and take back, it is to give up false pride and deceitful beliefs and take back right to live and let live, It is to give up emotions and loathing and take back harmony and peace.

In short, it is a choice they have to make, a choice between life and death, yes, it is not just ‘another’ life which is lost in every such incident, it is ‘them’ the Pakistanis, who suffer, their own, their brothers and their sisters, their fathers and their mothers, their sons and their daughters, no one else but Pakistanis.

Right choices can be made, but right choices demand sacrifices, they demand self control and discipline, they demand respect and love. Pakistanis will have to ask themselves to stop; to stop every deed and action which brings disregard of humanity, which makes division on the basis of religion, cast, race or community. They will have to change the very basics of their society, they very life of their own, they will have to give up all signs of discrimination, from the very roots; they will have to change themselves, roots of hatred are nowhere else but inside them, they will have to see if their children can brought up respecting others as humans, they will have to understand that before being a Shia or Sunni or Barelvi or Deobandi or Hindu or Christian, everyone is a human, they will have to decide if they are ready to respect a place of worship and people’s right to carry on their believes, they will have to learn not to discriminate humans, they will have to decide if they want to have a religion column in their passports or not. They will have to say no to the menace of sectarianism and hatred, they will have to resist every presentation of this menace whether it is an arm carrying, short sighted, brain washed person or a falsely respected, sweet worded, scholarly attired confused, double standard and double minded, so called intellectual or leader, for those who teach us to hate each other, cannot be sincere to us.

And this is the message of every sacrifice made for us, us who are still alive. No matter who we are, and what we do, Shahbaz and every other victim, they gave their lives for us, we have to at least acknowledge it.

دعا

=====

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

ہم جنھیں رسم دعا یاد نہیں

ہم جنھیں سوز محبت کے سوا

کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں

آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی

زہر امروز میں شیرینی فردا بھر دے

وہ جنھیں تاب گراں باری ایام نہیں

ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے

جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیں

ان کی راتوں میں کوئی شمع منّور کر دے

جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں

ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے

جن کا دیں پیروی کذب و ریا ہے ان کو

ہمّت کفر ملے، جرّات تحقیق ملے

جن کے سر منتظر تیغ جفا ہیں ان کو

دست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

عشق کا سر نہاں جان تپاں ہے جس سے

آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے

حرف حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹوں کی طرح

آج اظھار کریں اور خلش مٹ جائے

——–فیض احمد فیض


9 responses to “Tribute to Shahbaz Bhatti – by Naveed Ali”

  1. Islamists achieved another medal to decorate their believe… and sad to see coward PPP govt stayed extraneous…

  2. یا کوئی حکومت، اس بہادری کی متحمل ہو سکتی ہے؟

    عامر احمد خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

    فوری طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے پیچھے کون سا فوری مقصد کار فرما تھا۔

    شہباز بھٹی نے پاکستان میں توہینِ رسالت کے قانون میں موجود خرابیاں دور کرنے کا بیڑا ضرور اٹھایا تھا لیکن ان کا عزم حکومت کی سیاسی مصلحتوں اور کمزوریوں کی نذر ہو گیا۔ یوں وہ جنگ جو نہ صرف ان کے بلکہ پورے ملک کے سیاسی و سماجی مستقبل کا تعین کر سکتی تھی چھڑنے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔

    توہینِ رسالت کے قانون پر حکومتی موقف کی حتمی پسپائی کے بگل اتنی شان سے بجے کہ اس کا اعلان کہیں اور سے نہیں بلکہ وزیرِ اعظم کی اپنی زبان سے ہوا۔ پچھلے مہینے یوسف رضا گیلانی نے ملتجی ہو کر مذہبی شخصیات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ وہ ان کی اس بات کا یقین کر لیں کہ حکومت توہینِ رسالت کے قانون پر نظرِ ثانی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

    انتہا پسندوں کی یہ خاموشی شاید اطمینان میں ڈوبا ہوا سکوت ہے جس کی بنیاد اس تسلی پر ہے کہ ان کے ایجنڈے کو کوئی خطرہ نہیں۔
    پنجاب کے گورنر کے خون میں ڈوبی اس پسپائی کے بعد شہباز بھٹی چاہتے بھی تو کیا کر سکتے تھے۔ سلمان تاثیر منجھے ہوئے سیاست دان، جانی پہچانی مجلسی شخصیت اور صدر زرداری کے بہت سے ارب پتی دوستوں میں سے ایک تھے۔ ان کے مقابلے میں شہباز بھٹی نہ تو ایسے منصب کے حامل تھے اور نہ ہی ریاستی ایجنڈے پر اثرانداز ہونے والی سیاسی قوت کے مالک۔

    کسی حد تک اس بات کا ثبوت سوشل میڈیا پر انتہا پسندوں کی پراسرار خاموشی سے بھی ملتا ہے۔ شہباز بھٹی کے قتل کے بعد یہاں لے دے کے آپ کو دکھ میں ڈوبی ہوئی چند ایک آوازیں سنائی دیں گی جو پاکستان کے معروف ترین لبرل افراد کی ہیں۔ اور ان میں بہت سے تو ملک میں رہتے بھی نہیں۔

    شہباز بھٹی کو قتل ہوئے گھنٹوں بیت چکے ہیں لیکن سلمان تاثیر کے قتل کے چند ہی منٹوں بعد سوشل میڈیا پر آزادیِ رائے کے خلاف جس غضبناکی کا آغاز ہوا تھا، آج ویسا کچھ نہیں ہے۔فیس بک بھی شہباز بھٹی کے قاتلوں کی مدح سرائی سے اس طرح سے بھری ہوئی نہیں ہے جیسے سلمان تاثیر کے قتل کے بعد تھی۔

    انتہا پسندوں کی یہ خاموشی شاید اطمینان میں ڈوبا ہوا سکوت ہے جس کی بنیاد اس تسلی پر ہے کہ ان کے ایجنڈے کو کوئی خطرہ نہیں۔

    تو پھر ایسے شخص کو کیوں قتل کیا گیا جو خود بھی یہی سمجھتا تھا اور اس کے اردگرد کی دنیا کا بھی یہی خیال تھا کہ وہ اتنا غیر مؤثر ہے کہ وہ اپنے لیے مناسب سکیورٹی بھی حاصل نہ کر سکا حالانکہ پاکستان میں اسے لاکھوں کٹر افراد سے مستقل دھمکیاں مل رہی تھیں۔

    شہباز بھٹی ایک ایسا ہدف بن گئے تھے جسے نہ برداشت کیا جا سکتا تھا اور نہ نظر انداز

    اس کا جواب شاید اس فرق میں ہے جو حکومت اور انتہا پسندوں کی اپنے اپنے ایجنڈے سے وابستگی کے درمیان پایا جاتا ہے۔

    سلمان تاثیر کے قتل کے بعد حکومت کو اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے میں کچھ دیر نہ لگی۔ اس کا فیصلہ فوری اور واضح تھا کہ وہ توہینِ رسالت کے قانون سے دستکش رہے گی۔ وزراء نے بھی پسِ پردہ ایسے اشارے دیے کہ بھڑوں کے اس چھتے میں ہاتھ نہ ہی ڈالا جائے تو بہتر ہے۔ ملک کے لبرل اور ملک کی سیاسی اور سماجی قیادت بھی اسی راہ پر چل پڑی تھی اور ان کا ایسا کرنا قابلِ فہم بھی تھا۔

    شاید ان کی خاموشی میں یہ امید پنہاں تھی کہ اپنا ایجنڈا ترک کر کے ہو سکتا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو خاموش رکھ سکیں گے۔ گویا ایک ایسے قانون کو بدلنا جو ابھی تک ناانصافی کے سوا کسی کو کچھ نہ دے سکا حکومت کے لیے کسی نظریاتی عہد بندی کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ سیدھی سادی سیاست کا معاملہ تھا۔ سیاست بگڑی تو کیا صدر اور کیا وزیر اعظم، ہر کوئی سب کچھ چھوڑ کر گھر ہو لیا۔

    ان کے مقابلے میں انتہا پسندوں کی اپنے نظریے سے گہری وابستگی دیکھیے۔ یہ بات بے محل ہے کہ مسٹر بھٹی کی جنگ کو جیت نہیں تھی یا یہ کہ وہ غیر مؤثر اور بے اختیار وزیر تھے۔ جو بات اہم ہے وہ یہ تھی کہ شہباز بھٹی نے ماضی میں توہینِ رسالت کے قانون کے خلاف بات کی تھی اور اگر حالات تقاضا کرتے تو وہ پھر ایسا ہی کرتے۔ اسی وجہ سے وہ ایک ایسا ہدف بن گئے تھے جسے نہ برداشت کیا جا سکتا تھا اور نہ نظر انداز۔

    سلمان تاثیر نے کہا تھا کہ وہ تنہا بھی رہ گئے تو بھی توہینِ رسالت کے قانون کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ لیکن وہ زیادہ رہے ہی نہیں۔

    شہباز بھٹی کو قتل ہوئے گھنٹوں بیت چکے ہیں لیکن سلمان تاثیر کے قتل کے چند ہی منٹوں بعد سوشل میڈیا پر آزادیِ رائے کے خلاف جس غضبناکی کا آغاز ہوا تھا، آج ویسا کچھ نہیں ہے۔
    اور اُس نظریے کی طرف سے جو مسٹر تاثیر کے قتل کا سبب بنا تھا، اب ریاست کو ایک مزید پرُعزم اور خطرناک پیغام ملا ہے۔ یعنی یہ کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری لبرل کا بھی خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے حکومت کو اپنے لبرل ایجنڈے سے اتنا ہی لگاؤ دکھانا ہوگا جتنا کہ انتہا پسندوں نے اپنی تنگ نظری سے دکھایا ہے۔

    کیا یہ، یا کوئی بھی پاکستانی حکومت، اس بہادری کی متحمل ہو سکتی ہے؟

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110302_bhatti_murder_rza.shtml

  3. Government presents people, isn’t it? I am not convinced that criticising government or pressurising them alone can be the real solution. It is more on people themselves, they will decide what they want and government and media will follow them, if they want jokers they will get jokers, if they feel their leaders are ignorant, one should assure them that they they are equally ignorant, just see an example, two events same day, more people cheering victory of Ireland. What the hell Ireland has to do with them? I can understand one’s affiliation with game and it is not bad, but common sense should also be there.
    I have seen how individuals in real democracies react to such events as murder of Mr. Bhatti, and Pakistanis are far behind, far away from any realisation that they carry the responsibility as well. Rather their reactions attest to the notion that Pakistan is slipping into hands of extremists and sooner or later these same people (from top to bottom) will be paying the price of their ignorance.

  4. Sukoon har dil ka barbad ho gya hai
    Ik khouf hai jo aankh mein aabad ho gya hai
    Lahoo beh raha hai koocha-o-bazar mein
    Lagta hai zulm sahib-e-aulad ho gya hai.

  5. R.I.P. mr bhatti-a brave heart. we will never forget the way u have sacrificed ur life 2 live upto Jinnah’s dream.a progressive , democratic and liberal pakistan. u r an insipration 4 ur fellow countrymen. i salute u.my condolences 2 his family. LONG LIVE PAKISTAN

  6. اسمبلی میں حکومت، حزب اختلاف کا ’واک آؤٹ‘

    ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں
    پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اقلیتوں کے امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل پر تین روزہ سرکاری سوگ منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ قتل کے خلاف حکومت اور حزب مخالف نے علامتی واک آؤٹ کیا ہے۔

    بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کیا گیا

    وزیراعظم نے سوگ کا اعلان جمعرات کو قومی اسمبلی میں شہباز بھٹی کے قتل پر قواعد معطل کر کے بحث کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پرچم سرنگوں رہے گا۔ ان کے بقول پرچم میں جو سفید حصہ ہے وہ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

    کلِک پاکستان میں ابھی باضمیر لوگ زندہ ہیں: انٹریو سنیے

    کلِک وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو قتل کر دیا گیا

    جب کارروائی شروع ہوئی تو سابق رکن قومی اسمبلی پیر آف رانی پور عبدالقادر شاہ جیلانی کی وفات پر فاتحہ خوانی کی گئی۔ پیر عبدالقادر شاہ جیلانی شکار کے بڑے شوقین تھے اور سندھ میں انہیں ایک بہت بڑا نشانہ باز سمجھا جاتا ہے۔

    جس کے بعد قواعد معطل کرکے مقتول وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو خراج پیش کرنے اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی، انتہا پسندی اور عدم برداشت کی صورتحال پر بحث کی گئی۔ مذہبی پارٹی جمیعت علماء اسلام (ف) کی اقلیتی رکن آسیہ ناصر نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔

    پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا: آسیہ ناصر

    انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے کے لیے عیسائی برادری نے ووٹ دیا اور قربانیاں بھی دیں لیکن کبھی نصاب میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے کہا پاکستان بننے کے بعد اقلیتوں کو دیوار سے لگایا جاتا رہا ہے۔’ہمیں کبھی برتن علیحدہ کرنے کا کہا جاتا رہا تو کبھی اچھوت کہا جاتا رہا ہے۔‘

    آسیہ ناصر نے انکشاف کیا کہ شہباز بھٹی کو دھمکیاں مل رہی تھیں اور انہوں نے وزیرا داخلہ رحمٰن ملک سے ان کی سکیورٹی بڑھانے پر بات کی تو وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ لیکن ان کے بقول جب انہوں نے شہباز بھٹی سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی سکیورٹی نہیں بڑھائی گئی، ’رحمٰن ملک جھوٹ بول رہے ہیں۔‘

    ان کے بقول شہباز بھٹی کے قتل کی ذمہ دار حکومت ہے اور رحمٰن ملک سے پوچھا جائے کہ انہوں نے سکیورٹی کی فراہمی میں کیوں کوتاہی برتی؟

    شہباز بھٹی کے قتل کی ذمہ دار حکومت ہے اور رحمٰن ملک سے پوچھا جائے کہ انہوں نے سکیورٹی کی فراہمی میں کیوں کوتاہی برتی؟
    آسیہ ناصر
    انہوں نے کہا کہ شہباز بھٹی وفاقی وزیر تھے لیکن انہیں خطروں کے باوجود بلٹ پروف گاڑی ملی اور نہ ہی ’منسٹرز انکلیو‘ میں مکان۔ جبکہ ان کے بقول منسٹرز کالونی میں اب بھی کئی برطرف وزیر رہائش پذیر ہیں۔

    انہوں نے قتل کے خلاف واک آؤٹ کا اعلان کیا تو مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم نے بھی اس میں شرکت کا اعلان کیا۔ جس پر وزیر قانون بابر اعوان نے کہا کہ حکومت بھی واک آوٹ کرتی ہے۔ اس دوران عوامی نیشنل پارٹی کے بعض اراکین نے واک آوٹ نہیں کیا اور کہا کہ یہ واک آؤٹ حکومت کے خلاف ہے اس میں وہ شریک نہیں ہوسکتے۔ لیکن ان کی خواتین اراکین نے واک آؤٹ کیا۔

    گزشتہ روز جب شہباز بھٹی کے قتل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ایوان میں دو منٹ کی کھڑے ہو کر خاموشی اختیار کی گئی تو جمیعت علماء اسلام (ف) کے بعض اراکین اس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ان کی خاتون رکن کی جانب سے جمعرات کو احتجاج کے بعد مولانا عطاء الرحمٰن نے اس کی حمایت میں کہا کہ ’ہم اس قتل کی تردید اور مذمت کرتے ہیں۔‘

    انہوں نے امریکہ کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ اس خطے میں موجود ہے تو ایسی لاشیں اٹھانی پڑیں گی۔

    اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن پلواشہ خان شہباز بھٹی کے قتل پر روتی رہیں اور ان کی ساتھی خواتین انہیں دلاسہ دیتی رہیں۔

    شہباز بھٹی نے بین المذاہب ہم آہنگی کے محمد علی جناح کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا اور ان کے قتل جیسے اقدام اسلام کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم غلط راستے پر چل پڑے ہیں اور یہ تباہی کا راستہ ہے۔ ہمیں ہندو، سکھ اور کرسچن کی ضرورت ہے۔ اس قتل سے ہم نے دنیا میں پاکستان اور اسلام کا چہرہ مسخ کرکے یہ پیغام دیا کہ ہم عدم برداشت کے قائل ہیں
    جاوید ہاشمی
    مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ شہباز بھٹی نے بین المذاہب ہم آہنگی کے محمد علی جناح کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا اور ان کے قتل جیسے اقدام اسلام کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم غلط راستے پر چل پڑے ہیں اور یہ تباہی کا راستہ ہے۔ ہمیں ہندو، سکھ اور کرسچن کی ضرورت ہے۔ اس قتل سے ہم نے دنیا میں پاکستان اور اسلام کا چہرہ مسخ کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ہم عدم برداشت کے قائل ہیں۔‘

    مسلم لیگ (ق) اکرم مسیح گِل، ایم کیو ایم کے منوہر لال، مسلم لیگ (ن) کے درشن لال، اریش کمار، پیپلز پارٹی کے لال چند اور دیگر اقلیتی اراکین نے کہا کہ شہباز بھٹی کے قتل سے پاکستان میں اقلیتوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ وہ غیر محفوظ ہیں۔

    انہوں نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعض نے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ بھی کیا۔ لال چند نے ایک شعر بھی پڑھا۔

    مسئلہ بلٹ پروف کار کا نہیں یہ انٹیلی جنس حکام کی ناکامی ہے اور ان کی باز پرس ہونی چاہیے: بشرٰی گوہر

    جب کبھی لہو کی ضرورت پڑی، سب سے پہلے گردن ہماری کٹی

    پھر بھی کہتے ہیں ہم سے اہل چمن، یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

    مسلم لیگ (ق) کے میاں ریاض پیرزادہ نے کہا پاکستان کا نظام عدل بیٹھ چکا ہے اور اسٹیبلشمینٹ کا دوغلہ رویہ ہے کیونکہ شدت پسندوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ یہاں دعا تک نہیں کروائی جاتی۔

    عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر نے کہا کہ آئین متضاد ہے اس میں وزیراعظم اور صدر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ہے اور ایسے میں اقلیتوں کو کیسے مساوی شہری مانا جا سکتا ہے۔ مذہبی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جا سکتا اور اس طرح کی منافقانہ پالیسیاں ختم کرنی ہوں گی۔ ان کے بقول مسئلہ بلٹ پروف کار کا نہیں یہ انٹیلی جنس حکام کی ناکامی ہے اور ان کی باز پرس ہونی چاہیے۔

    بشریٰ گوہر نے مزید کہا کہ پنجاب میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں اور پنجاب حکومت فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کرے ورنہ ان کا حال بھی خیبر پختونخوا والا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے دور میں بنائے گئے تمام امتیازی قوانین ختم کریں۔

    پنجاب میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں اور پنجاب حکومت فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کرے ورنہ ان کا حال بھی خیبر پختونخوا والا ہوسکتا ہے
    بشریٰ گوہر
    سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی نے کہا کہ وہ شہباز بھٹی جیسے شفیق انسان سے محروم ہوگئے ہیں اور ان کے قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز بھٹی کو مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

    سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ان کے بارے میں دعائے مغفرت کو متنازعہ بنایا گیا اور اراکین بھی اپنی تقاریر میں کافی محتاط تھے لیکن شہباز بھٹی کے قتل کے خلاف تمام جماعتوں کے نمائندوں نے کھل کر باتیں کیں اور ان کے قتل کو پاکستان پر حملہ قرار دیا ہے۔

    بحث کے دوران کئی اراکین نے وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر غفلت برتنے کا الزام عائد کیا اور وزیر داخلہ ایوان میں موجود ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں بولے۔ لیکن بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’منسٹرز انکلیو میں مکان دینے یا بلٹ پروف گاڑی دینے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے، میرے پاس خود بلٹ پروف گاڑی نہیں ہے۔‘

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110303_na_debate_bhatti_murder_zz.shtml

  7. قومی اسمبلی میں مقتول وزیر کی یاد میں خاموشی:

    اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق بدھ کی شام کو شہباز بھٹی کے قتل کے سوگ میں قومی اسمبلی کے اراکین نے کھڑے ہوکر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی اور کوئی کارروائی کیے بنا اجلاس جمعرات تک ملتوی کردیا گیا۔

    جمیعت علماء اسلام (ف) کے تین اراکین مولوی آغا محمد، مفتی اجمل خان اور حاجی روز الدین نے شہباز بھٹی کے احترام میں دو منٹ کی اختیار کردہ خاموشی میں حصہ نہیں لیا اور وہ بد دستور بیٹھے رہے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110302_shahbaz_bhatti_murdered_rh.shtml