کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

The search for truth in the rubble of Douma – and one doctor’s doubts over the chemical attack

ڈوما کے ملبے میں سچائی کی تلاش۔۔۔۔۔۔۔ اور کیمیائی حملے پہ ایک ڈاکٹر کے شبہات

مڈل ایسٹ میں ہونے والی جنگوں بارے سب سے مستند رپورٹنگ کرنے والی برطانوی نژاد صحافی رابرٹ فسک ڈوما پہنچا اور وہاں جاکر اس نے کیمیائی گیس حملے کی تحقیقات اپنے انداز میں شروع کیں۔ اس نے اپنے ڈوما میں حالیہ دورے کی جو تفصیل بتائی اس کا خلاصہ یہ بنتا ہے

اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ کیمائی گیس استعمال ہوئی کہ نہیں
ایک ڈاکٹر جو خود تو اس کلینک میں موجود نہ تھا جہاں کی فوٹیج وائرل ہوئی مگر کام اسی کلینک میں کرتا ہے۔اس کا بیان پھر ‘وائٹ ہیلمٹ’ کے ایک رضاکار کو لیتا ہے ہے جس نے کلینک کے دروازے پہ کھڑے ہوکر ‘گیس’ کا نعرہ لگایا اور ہیجان پھیل گیا۔

وائٹ ہیلمٹ سب کے سب ان بسوں میں بیٹھ کر باغیوں کےآخری ٹھکانے ادلب چلے گئے جس میں جیش الاسلام کے لوگ بیٹھ کر چلے گئے تھے۔ان کی کہانی کیا ہے سننا ضروری ہے مگر ڈوما میں ممکن نہیں۔

ڈوما میں رہنے والوں کو کیمیائی گیس کا حملہ یاد نہیں مگر ترکی کے کیمپ میں آنے والے پناہ گزین سب اس بارے میں بات کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کہتا ہے کہ جو مریض مبینہ حملے کی رات لائے گئے وہ آکسجین کی کمی کا شکار تھے اور اس دن گردو بار کا طوفان اور شیلنگ بہت شدید تھی جس نے زمین دوز سرنگوں میں ریت کا طوفان داخل کرڈالا تھا جس سے آکسجین کی کم مقدار اور کم ہوگئی تھی اور ان مریضوں پہ زھریلی گیس کے آثار نہیں تھے۔

“I was with my family in the basement of my home three hundred metres from here on the night but all the doctors know what happened. There was a lot of shelling [by government forces] and aircraft were always over Douma at night – but on this night, there was wind and huge dust clouds began to come into the basements and cellars where people lived. People began to arrive here suffering from hypoxia, oxygen loss. Then someone at the door, a “White Helmet”, shouted “Gas!”, and a panic began. People started throwing water over each other. Yes, the video was filmed here, it is genuine, but what you see are people suffering from hypoxia – not gas poisoning.”

“اس رات یہاں سے تین سو میٹر دور میں اپنے خاندان کے ساتھ اپنے گھر کے تہہ خانے میں تھا لیکن سب ڈاکٹرز جانتے ہیں جو ہوا تھا۔ بہت زیادہ گولہ باری سرکار کی جانب سے ہوئی تھی اور رات کو ہمیشہ کی طرح لڑاکا طیارے ڈوما کی فضا میں منڈلاتے تھے۔لیکن اس رات بہت بڑی گرد و بار کا طوفان بیسمنٹ اور سیلوں میں آنا شروع ہوگیا تھا جہاں لوگ رہ رہے تھے۔ہائی پوکسیا اور آکسجین کی کمی کا شکار لوگوں نے پہنچنا شروع کردیا تھا۔پھر ایک ‘وائٹ ہیلمٹ’ دروازے پہ نمودار ہوا اور چلایا،”گیس”، اور ایک ہیجان پھیل گیا۔لوگوں نے ایک دوسرے پہ پانی ڈالنا شروع کردیا۔ہاں جو فلم بنائی گئی وہ اصلی ہے لیکن آپ جو دیکھتے ہو وہ ہائپوکسیا تھا نہ کہ زھریلی گیس کا نتیجہ۔”

یہ کہانی ہے اس شہر کی جسے ڈوما کہا جاتا ہے۔ ایک برباد اور مکانات کے ملبے پہ مشتمل بدبو مارتا شہر، ایک ایسا شہر جس کے زیر زمین ایک کلینک میں لی گئی متاثرین کی تصویروں نے دنیا کی تین سب سے طاقتور ترین اقوام کو گزشتہ ہفتے شام پہ بمباری کا جواز فراہم کردیا۔

وہاں مجھے ایک دوستانہ انداز لیے ڈاکٹر ملا جب میں نے اسے اسی کلینک میں تلاش کرلیا تھا اور وہ مجھے خوش گوار انداز میں بتاتا ہے کہ ‘گیس ویڈیو ٹیپ’ جس نے دنیا کو دہلادیا تمام تر شکوک رکھنے والوں کے باوجود ہر طرح سے اصلی ہے۔

جنگ کی کہانیوں کو تاہم اور زیادہ تاریک ہوجانے کی عادت ہوتی ہے۔ اس لیے اسی 58 سالہ بوڑھے شامی ڈاکٹر نے ایک ایسی بات کا اضافہ کیا جو کہ بالکل بے چین کردینے والی تھی:

مریض کی حالت گیس سے نہیں بلکہ آکسجین کی انتہائی کمی سے خراب ہوئی تھی جو کہ انتہائی خستہ حال سرنگوں اور زمین دوز پناگاہوں میں جہاں وہ رہ رہے تھے انتہائی کم تھی۔اور ایک رات وہاں طوفانی ہوا اور شیلنگ نے ریت کا طوفان بپا کردیا تھا

ڈاکٹر عاصم رہبانی نے تو اپنا غیر معمولی نتیجہ بیان کردیا۔لیکن یہ قابل مشاہدہ بات ہے کہ وہ بقول اس کے خود عینی شاہد نہیں ہے اور جیسا کہ وہ کافی اچھی انگریزی بولتا ہے، وہ جیش الاسلام کے بندوق بردار جہادیوں کا دو بار ‘دہشت گرد’ کہہ کر حوالہ دیتا ہے۔

‘دہشت گرد’ ایک ایسا لفظ ہے جو رجیم (بشار حکومت) اپنے دشمنوں کے لیے استعمال کرتی ہے،اور پورے شام میں بہت سے لوگوں کی طرف سے استعمال ہوتا ہے۔کیا میں ٹھیک اسے سن رہا ہوں؟ واقعات کا کون سا بیان درست ہے؟

بدقسمتی یہ بھی ہے کہ اس رات سات اپریل کو جتنے ڈاکٹرز فرائض سرانجام دے رہے تھے وہ دمشق میں کیمکل ویپن انکوائری میں شہادت ریکارڈ کروارہے تھے،جو کہ آنے والے چند ہفتوں میں اس سوال کا حتمی جواب فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

اس دوران فرانس نے کہا ہے کہ اس کے کیمیائی ہتھیار استعمال ہونے کا ٹبوت ہے۔اور امریکی میڈیا نے اس بات کو نقل کیا ہے کہ پیشاب کے ٹسٹ بھی اس کا ثبوت ہیں۔ عالم صحت تنظیم نے کہا کہ اس کی پارٹنر تنظیم نے 500 مریضوں کا علاج کیا جن پہ تابکار کیمکلز کے اثرات اور علامات ظاہر تھے۔

جب کہ اسی وقت کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے انسپکڑز کو مبینہ گیس حملے کی جگہ پہ آنے سے روک دیا گیا ہے۔کیونکہ ان کے پاس اقوام متحدہ کے ٹھیک اجازت نامے نہیں تھے۔

اس سے پہلے ہم آگے بڑھیں،پڑھنے والوں کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ(گیس) کہانی ڈوما کے بارے میں واحد کہانی نہیں ہے۔بہت سے لوگ ہیں میں نے شہر کے کھنڈرات کے درمیان بات کی اور ان میں سے کسی کو بھی گیس کی کہانیوں پہ یقین نہیں تھا۔۔۔۔جو ان کے مطابق عام طور پہ مسلح اسلام پسند(سلفی تکفیری گروپوں) نے پھیلائی تھیں۔ یہ مخصوص جہادی گولہ باری کے طوفان میں اس لیے بچ گئے تھے کہ وہ دوسرے لوگوں کے گھروں میں اور وسیع و عریض زیرزمین راستوں میں بنی سرنگوں میں قیدیوں کے ساتھ کلہاڑوں کے ساتھ رہے رہے تھے۔تین متوازی سرنگیں شہر میں بنائی گئی تھیں۔میں کل ان تینوں سرنگوں میں گھما پھرا یہ چٹانوں سے بنے بڑے کوریڈورز کی طرح تھیں جن میں ابتک جلی ہوئی روسی-ہاں روسی راکٹ اور جلی ہوئی کاریں موجود تھیں۔

تو ڈوما کی کہانی محض گیس کی کہانی نہیں ہے۔۔۔ یا ہوسکتا ہے سرے سے گیس کی کہانی ہو ہی نا۔۔۔۔ یہ تو ان ہزاروں لوگوں کی کہانی ہے جنھوں نے ڈوما سے گزشتہ ہفتہ روانہ ہونے والی بسوں کے زریعے انخلاء نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ان بسوں میں وہ ان بندوق برداروں کے ساتھ نہیں گئے جن کے ساتھ وہ ان غاروں میں مہینوں جان بچانے کے لیے ایسے رہ رہے تھے جیسے وہ ہمیشہ سے غارنشین ہوں۔ کل میں آزادی سے شہر میں ایسے گھوما کہ میرے ساتھ نہ کوئی فوجی تھا،نہ پولیس کا سپاہی نہ ہی کوئی میرے نقش پا کا تعاقب کرنے والا تھا، صرف میرے ساتھ دو شامی دوست ،ایک کیمرہ اور ایک نوٹ بک تھی۔بعض اوقات مجھے 20 فٹ اونچے ملبوں پہ چڑھنا پڑھا اور بعض اوقات بالکل زمین سے لگی دیواروں پہ نیچے آنا پڑتا تھا۔ غیر ملکیوں کو اپنے درمیان پاکر وہ خوش ہوتے اور زیادہ خوش اس بات پہ تھے کہ محاصرہ ختم ہوچکا ہے، ان میں سے اکثر مسکراتے ہیں، جن کے چہرے آپ دیکھ پاتے ہو بہرحال وہاں حیرت انگیز طور پہ ایک بہت بڑی تعداد میں عورتوں نے پورا حجاب پہنا ہوا تھا۔

پہلے تو میں بھی صحافیوں کے ایک قافلے کے حصّہ کے طور پہ ڈوما کے اندر چلاگیا۔لیکن جب ایک اکتادینے والے جنرل نے تباہ شادہ کاؤنسل ہاؤس کے باہر اعلان کیا کہ ‘” میرے پاس کوئی انفارمیشن نہیں ہے۔” جوکہ اس بے کار عرب سرکاری اہلکار کی جانب سے سب سے زیادہ کارآمد بات تھی تو میں وہاں سے چل دیا۔ بہت سارے رپورٹرز، اکثر ان میں سے شامی تھے نے بھی یہی کیا۔یہاں تک روسی صحافیوں کا ایک گروپ جو حلیے سے فوجی لگتے تھے وہاں سے کھسک لیے۔

ڈاکٹر رہبانی سے یہ تھوڑے قدموں کا فاصلہ تھا۔اس کے خستہ حال کلینک کے دروازے سے 200 قدم دور۔یہ ایک کوریڈور ہے جو نیچے پہاڑی میں لے جاتا ہے جہاں اس نے مجھے اپنا کم معیار کا ہسپتال اور اس میں لگے چند بستر دکھائے، جہاں ایک لڑکی چیخنے لگی تھی جب نرسیں اس کی آنکھ کے اوپر لگے ایک زخم کا علاج کررہی تھیں۔

“I was with my family in the basement of my home three hundred metres from here on the night but all the doctors know what happened. There was a lot of shelling [by government forces] and aircraft were always over Douma at night – but on this night, there was wind and huge dust clouds began to come into the basements and cellars where people lived. People began to arrive here suffering from hypoxia, oxygen loss. Then someone at the door, a “White Helmet”, shouted “Gas!”, and a panic began. People started throwing water over each other. Yes, the video was filmed here, it is genuine, but what you see are people suffering from hypoxia – not gas poisoning.”

“اس رات یہاں سے تین سو میٹر دور میں اپنے خاندان کے ساتھ اپنے گھر کے تہہ خانے میں تھا لیکن سب ڈاکٹرز جانتے ہیں جو ہوا تھا۔ بہت زیادہ گولہ باری سرکار کی جانب سے ہوئی تھی اور رات کو ہمیشہ کی طرح لڑاکا طیارے ڈوما کی فضا میں منڈلاتے تھے۔لیکن اس رات بہت بڑی گرد و بار کا طوفان بیسمنٹ اور سیلوں میں آنا شروع ہوگیا تھا جہاں لوگ رہ رہے تھے۔ہائی پوکسیا اور آکسجین کی کمی کا شکار لوگوں نے پہنچنا شروع کردیا تھا۔پھر ایک ‘وائٹ ہیلمٹ’ دروازے پہ نمودار ہوا اور چلایا،”گیس”، اور ایک ہیجان پھیل گیا۔لوگوں نے ایک دوسرے پہ پانی ڈالنا شروع کردیا۔ہاں جو فلم بنائی گئی وہ اصلی ہے لیکن آپ جو دیکھتے ہو وہ ہائپوکسیا تھا نہ کہ زھریلی گیس کا نتیجہ۔”

بیس سے زیادہ لوگوں سے تفصیل سے بات چیت کرنے کے باوجود بھی میں نے ایک بھی ایسا آدمی نہیں پایا جسے مغربی فضائی حملوں کو لانے میں ڈوما کے کردار بارے کوئی دلچسپی ہو۔دو نے تو مجھے یہ بتایا کہ ان کے باہمی تعلق بارے وہ نہیں جانتے۔

لیکن میں جہاں چل رہا تھا وہ بہت عجیب تھی۔ دو آدمی حسام اور نذیر ابو عیش نے کہا کہ ڈوما میں کتنے لوگ مارے گئے وہ اس بارے کچھ نہیں جانتے، اگرچہ ابو عیش نے مانا کہ اس کے ایک کزن کو حکومت کے قریب ہونے کے الزام میں جیش الاسلام نے قتل کردیا تھا۔انہوں نے کاندھے اچکائے جب میں نے ان سے پوچھا کہ کہا جارہا ہے ڈوما گیس حملے میں 43 لوگ مارے گئے۔

وائٹ ہیلمٹ ۔۔۔ حملے کے بعد سب سے پہلے پہنچنے والے جو مغرب میں پہلے ہی افسانوی شہرت رکھتے ہیں ان کی کہانی کے کچھ دلچسپ گوشے سامنے آئے ہیں۔۔۔۔۔ انہوں نے جانا پہچانا کردار لڑائیوں کے دوران ادا کیا۔ان کو جزوی طور پہ غیر ملکی حلقوں سے مدد ملتی ہے اور زیادہ تر ان کا سٹاف ڈوما کے مقامی لوگوں پہ مشتمل تھا۔ میں نے ان کے تباہ حال دفاتر کو دیکھا جو کہ رہبانی ڈاکٹر کے کلینک سے زیادہ دور نہ تھے۔ ایک گیس ماسک فوڈ کنٹینر میں اور کیموفلاج گندی وردیاں ایک کمرے کے اندر چھوڑ دیے گئے تھے۔۔۔۔۔

Planted ?

خود ساختہ

میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔اس بارے مجھے شک ہے۔یہ جگہ کیپسول،ٹوٹے میڈیکل آلات اور بستروں اور گدوں سے بھری ہوئی تھی۔

تاہم ہمیں ان کی طرف سے بھی کہانی کا بیان سننا ضروری ہے، لیکن یہ یہاں نہیں ہوگا: ایک عورت نے ہمیں بتایا کہ ڈوما میں وائٹ ہیلمٹ کا ہر ایک رکن اپنے مرکزی ہیڈکوارٹر کو چھوڑا اور حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی بسوں میں روسی فوج کی حفاظت میں باغی صوبے ادلب مسلح گروپوں کے ساتھ چلے گئے جب فائنل معاہدہ طے پاگیا۔

کھانے پینے کے سٹال کھلے تھے اور روسی ملٹری پولیس والے گشت کررہے تھے (اب ہر شامی سیز فائر کے بعد یہ دیکھنے کو ملتا ہے) اور کوئی ممنوعہ سمجھے جانے والی اسلام پسندوں کی جیل جو کہ شہید چوک کے قریب ہے جہاں بیسمنٹ میں مظلوموں کے سر اڑائے جاتے تھے میں جانے سے کوئی ڈرتا نہیں ہے۔

یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ جب ڈوما سے آنے والے پناہ گزین ترکی میں کیمپ میں پہنچنے کے بعد سب کے سب گیس حملے بارے بات کررہے تھے جبکہ جو ڈوما میں تھے وہ اس بارے میں کچھ بھی جانکاری نہ رکھتے ہوں ایسے دکھائی دیتے تھے؟ جب میں ان افتادپا قیدیوں کو رکھنے والی سرنگوں میں ایک میل دور تک چل لیا تو مجھ پہ منکشف ہوا کہ ڈوما کے شہری ایک لمبے عرصے تک ایک دوسرے سے اس قدر کاٹ کر الگ رکھے گئے تھے کہ ہمارے ہاں جو ‘نیوز’ کے معنی ہیں وہ ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ شامی جیفرسن جیسی جمہوریت نہیں رکھتے،جیسا کہ میں اکثر اپنے عرب ساتھیوں کو بتاتا ہوں اور حقیقت میں یہاں بے رحم آمریت رہی ہے۔ لیکن اس چیز نے ان کو بالکل ڈرا ہوا نہیں بنادیا۔بلکہ وہ اپنے درمیان غیر ملکیوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور سچائی کے چند الفاظ کے ساتھ وہ ردعمل دیتے ہیں۔تو وہ مجھے یا بتارہے تھے؟

انہوں نے ان اسلام پسندوں کے بارے میں مجھے بتایا جن کے تحت وہ رہ رہے تھے۔انہوں نے بتایا کل کیسے مسلح جتھوں نے شامی حکومت اور روسی بمباری سے بچنے کے لیے سویلین گھروں کو چھین لیا تھا۔جیش الاسلام نے جانے سے پہلے اپنے دفاتر کو آگ لگادی تھی

ترجمہ و تلخیص/عامر حسینی

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*