انقلاب کا مدفن (کہانی) – عامر حسینی

دن ڈھل چکا تھا۔ شام کے سائے گہرے ہورہے تھے۔ دور مغرب میں سورج تانبے جیسا زرد ہوکر ڈوبنے کو تیار تھا۔مغربی افق کے کنارے پہ سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ایسے لگتا تھا جیسے مغربی افق پہ کسی کا ماتم کیا جارہا ہو۔ہفتے میں دو دن اس کا آف ہوتا تھا اور ان دو دنوں میں اسی وقت میں وہ گھر سے نکلتا تھا۔

وہ گھر سے نکلنے کی تیاری کررہا تھا۔اس نے نہانے کے بعد کپڑے بدلے اور بال سنوارنے ڈریسنگ ٹیبل پہ لگے آئینے کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔سامنے جو عکس تھا وہ اسے اجنبی دکھائی دے رہا تھا۔ گئے ماہ و سال نے اس کے سر اور داڑھی کے سارے بال سفید کرڈالے تھے حالانکہ ابھی وہ محض 45 سال کا تھا۔وزن بڑھ گیا تھا اور اس کی آنکھوں پہ لگی نظر کی عینک کا نمبر بھی۔

ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اس کے عکس کے پیچھے دیوار کے ساتھ الماری میں سینکڑوں کتابیں ریک میں بے ترتیبی کے ساتھ لگی ہوئی تھیں۔اور الماری کی سائیڈ پہ ایک بڑی پوٹریٹ کارل مارکس کی لگی ہوئی تھی جس کی پیشانی پہ لکھا تھا

‘دنیا بھر کے محنت کشوں ایک ہوجاؤ۔’

مگر یہ نعرہ لگانے والوں کے لیڈر ایک ہونے کی بجائے’نیک ‘ ہوگئے تھے اور سٹیٹس کو سے ہدائیت یافتہ ہونے کی سند پاگئے تھے۔

اس وقت میں عجب سی اداسی اور ملال گھلا ملا اسے نظر آتا تھا اور اس کے گھر کے سامنے اور اردگرد کے گھروں کے پاس کھڑے پیڑ بھی اسے اداس و ملال زدہ دکھائی دیتے تھے۔سڑک پہ چنگ چی رکشے ان کے تباہ حال نوجوان،بوڑھے، کم سن ڈرائیور اور بدحال یا نچلے متوسط طبقے کی سواریاں(زیادہ تر عورتیں،بچے) سب کے سب اداسی کی کہر میں لپٹے ہوتے۔

وہ گھر سے باہر نکل آیا۔اس کے گھر کے سامنے سڑک پار کوڑے کے ڈھیر پہ اونگھ رہے دو آوارہ کتّے اور تھوڑے سے فاصلے پہ ڈری سہمی تین بکریاں۔ آوارہ کتّوں کی اونگھ بھی اداس تھی اور بکریوں کی سہم بھی۔ایک بلّی نجانے کہاں سے آئی اور اس کے پاؤں کے قریب سے آہستہ سے بنا آواز پیدا کیے گزری تو اس کی ایک لمحے کے لیے اس سے نظریں ملیں اور اس نے دیکھا کہ بلّی کی آنکھوں میں سوگ کے رنگ بھرے تھے کالے سیاہ حاشیے عین آنکھوں کے درمیان اداسی کو مزید گہرا کررہے تھے۔

ہوسکتا ہے یہ اس کا فریب نظر ہو اور اس کے اندر کی حالت سے بننے والا خارجی عکس مگر اسے ہر جگہ اداسی ڈیرے ڈالے دکھائی دیتی تھی۔وہ اسی احساس کے ساتھ چلتا چلا گیا۔دو کلومیٹر کا فاصلہ اس نے اسی احساس کے تحت طے کیا اور وہ ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔

شہر کا ریلوے اسٹیشن جنکشن تھا۔برٹش راج کی نشانی یہ ریلوے اسٹیشن 1885ء میں تعمیر ہوا تھا اور اس وقت اس کا مقصد بلوچستان تک برٹش آرمی کو گولہ بارود کی سپلائی اور فوجی دستوں کو لانے لیجانے میں آسانی پیدا کرنا تھا۔ورنہ انگریز سامراج کو اس شہر کے لوگوں کی کوئی پرواہ نہ تھی کہ وہ پیدل سفر کرتے یا بیل گاڑیوں، اونٹوں پہ سفر کرتے یا پیدل ہی منزل کو چلے جاتے۔

پلیٹ فارم نمبر سات جہاں شاذ و نادر ہی کوئی گاڑی آکر رکتی تھی،وہ مشرقی سمت میں پلیٹ فارم پہ بنے آخری بنچ پہ جاکر بیٹھ گیا۔یہیں آکر وہ بیٹھتا تھا۔یہ پرسکون گوشہ اسے بہت پسند تھا۔گھنٹوں تنہا بیٹھا وہ اپنے اندر چلی رہی گھمسان کی جنگ کو روکنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔

اس کے اندر یہ جنگ اس وقت سے جاری تھی جب وہ سب چھوڑ چھاڑ کر اس چھوٹے سے قصباتی شہر میں آکر بس گیا تھا۔ایک میٹروپولٹن شہری ایک دم سے قصباتی زندگی کا حصّہ بننے کی کوشش کرے تو یہی کوشش اسے نفسیاتی اعتبار سے بہت مہنگی پڑجاتی ہے۔جبکہ وہ تو بہت ہنگامہ خیز زندگی گزارنے کے بعد اس قصبے میں ٹھہرجانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔

بہت سارے خواب اس نے دیکھے تھے۔سب چکنا چور ہوگئے۔ بہت سارے محاذ اس نے کھولے،سب محاذوں سے اسے بھاگنا پڑا تھا۔ لگی بندھی اور ٹکا دینے والی زندگی کا خواب اس نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ مگر اب اسے لگتا تھا کہ اس کی خواہش تو ایسی ہی زندگی تھی۔اس قصبے میں زندگی کچھ زیادہ ٹھہری ہوئی نہیں تھی۔

گزشتہ پندرہ سالوں میں دنیا واقعی عالمی گاؤں میں بدل گئی تھی۔ فور جی کنکشن نے تو کمال ہی کرڈالا تھا۔ساری دنیا اس کے سمارٹ فون میں سماگئی تھی۔اب کچھ بھی دوافتادہ نہیں لگتا تھا۔

اس چھوٹے سے قصبے میں اب تین پارک تھے۔بیس کے قریب فاسٹ فوڈ کے ایسے ریستوران تھے جہاں دنیا بھر کے کھانوں کی ڈشیں موجود تھیں۔ اطالوی پیزا سے لیکر چینی مشروبات اور عربی کھانے یہیں مل جاتے تھے۔ چار پانچ کافی ہاؤس تھے۔دو یونیورسٹیوں کے کیمپس اور درجنوں کالج، سینکڑوں پرائیوٹ اسکول، تین پرائیویٹ میڈیکل کالج،نیسلے اور کوکا کولا کے دو بڑے پلانٹس،چار ٹیکسٹائل ملیں اور درجنوں کاٹن اینڈ جننگ پریس ملیں،فلور مل،فوڈ پیکجز انڈسٹری،ايگرو بیسڈ ٹریڈنگ کارپوریشن،فیڈز انڈسٹری، پولٹری انڈسٹری سمیت درجنوں کارپوریٹ سیکٹر کے چھوٹے چھوٹے یونٹوں نے اس قصبے کے اندر ہزاروں ورکرز کو جنم دے ڈالا تھا۔سروسز سیکٹر الگ سے کم و بیش دو لاکھ سے زائد لوگوں کو ورکنگ کلاس میں بدل چکا تھا۔سیلز ورکر سے لیکر سیلز سپروائزز اور ایریا سپروائزر تک سروسز سیکٹر سے جڑے کارکنوں کی بڑی تعداد جنم لے چکی تھی۔اور ساتھ ہی فارماسویٹیکل کمپنیوں کے درجنوں میڈیکل ریپ بستے اٹھائے اس شہر میں کھمبیوں کی طرح اگنے والے میڈیکل سنٹرز، ہسپتال اور کلینک ک گرد چکر لگاتی نظر آتی تھی۔درجنوں میڈیکل اسٹورز اور بڑی بڑی فارمیسی شاپس کھل گئی تھیں۔ان سب جگہوں پہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی بڑی تعداد معمولی تنخواہوں پہ کام کرنے میں مصروف تھی۔

وفاقی ،صوبائی اور ضلعی حکومتوں کے مختلف محکموں میں بھی لاکھوں نوجوان کنریکٹ،ڈیلی ویج اور پارٹ ٹائم ملازمت کررہے تھے۔لیکن جتنے کارپوریٹ،نیم کارپوریٹ، دیسی سیکٹرز میں کام پہ لگے ہوئے تھے اس سے کہیں زیادہ کم از کم لاکھوں نوجوان بے روزگار تھے یا ریڑھیاں لگانے یا ماشہ خوری کرنے پہ مجبور تھے۔

کسی زمانے میں جب وہ بڑے میٹروپولٹن شہر کا سرگرم حصّہ تھا تو اس کے زمانے کی نسل کے پاس یونیورسٹی کی تعلیم تک آسانی سے پہنچ جانے کی سہولت تھی۔اس نے ڈھائی سو روپے فیس دیکر ایم اے کی ڈگری لے لی تھی۔اور وہ تعلیم،صحت،روزگار،رہائش سے آگے خوشحال اور آسائش کی زندگی کو ممکن بنانے کی کوشش کررہے تھے۔اور آج اس چھوٹے سے قصبے میں پینے کا صاف پانی، سیوریج جیسی بنیادی سہولت خواب بن کر رہ گئی تھی-جیسے یہ سب کچھ بڑے شہروں میں خواب و خیال ہوچکا تھا۔مستقل نوکری/پکے مزدور اور پکّے ملازم ہونا اب بس کتابوں میں موجود شبد تھا۔لیکن پھر بھی مزدور انقلاب کا نعرہ اب بس کونے کھدروں سے سنائی دیتا تھا۔اور نئی نسل کی اکثریت کو سرخ انقلاب کا پتا تک نہ تھا۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان نے اسے یہ کہہ کر حیران کردیا تھا

‘سر، کمیونسٹ وہی ہیں نا جن کو قادیانی کہتے ہیں۔جنھوں نے ربوہ جنت بنائی ہوئی ہے’
تو اس نے کہا تھا
‘نہیں بیٹا! کمیونسٹوں کی جنت تو کبھی روس ہوا کرتا تھا جو سوویت یونین کہلاتا تھا اور وہ جنت تو کب کی مسمار ہوچکی اور اب کہاں ہے کچھ پتا نہیں۔’

سرمایہ داری ایک ایک کرکے سب علاقوں کو اپنے مرکز سے جوڑ رہی تھی اور جو اس جوڑے جانے کے آڑے آتا تھا تو اسے فوج،پولیس،انٹلی جنس ایجنسیوں،لوکل و صوبائی و وفاقی ایڈمنسٹریشن کی بے ہنگم اور بدمست مشین سے کچلنے کا پورا اہتمام موجود تھا۔اور ایسے میں اس چھوٹے سے قصبے میں اسے دور کہیں بلوچستان کے کسی پہاڑی علاقے میں لگی آگ کی تپش بھی ایسے محسوس ہوتی تھی جیسے یہ آگ اس چھوٹے سے میدانی علاقے کے قصبے میں اس کے گھر کے عین سامنے لگی ہوئی ہو۔

وہ اپنے اندر چل رہی گھمسان کی جنگ کو شانت کرنے کے لیے اس چھوٹے سے قصبے میں آکر بس گیا تھا۔ لیکن اس جنگ کو وہ کسی طور شانت کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوا تھا۔بس ہر ہفتے ملی دو چھٹیوں میں وہ پلیٹ فارم نمبر 7 کے اس خالی بنچ پہ بیٹھ کر اندر چلی رہی جنگ کے کرداروں کو خوب لڑنے بھڑنے دیتا تھا اور یہ آزادی آگلے پانچ دن اسے کام کرنے کے قابل بنادیتی تھی۔

وہ بنچ پہ بیٹھا اپنے اندر کرداروں کی باہمی جنگ ہوتے دیکھنے میں اتنا مگن تھا کہ اسے آس پاس کا کچھ ہوش نہ تھا۔اتنے میں اس نے دھماکوں اور گولیاں چلنے کی آواز سنی۔یہ آوازیں اس کے اندر لڑرہے کرداروں کی آوازوں سے کہیں زیادہ تیز تھیں۔وہ واپس ہوش کی دنیا میں آگیا۔اس نے پلیٹ فارم کی حد جہاں ختم ہوتی تھی اس سے کچھ فاصلے سے ایک نوجوان لڑکے کو بھاگتے ہوئے پلیٹ فارم کی طرف آتے دیکھا۔اس کے ہاتھ میں بندوق تھی جسے وہ وقفے وقفے سے پیچھے مڑ کر چلا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ پہلو میں لٹکے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکالتا اور پیچھے آنے والوں کی جانب اچھال رہا تھا۔ شاید دستی بم تھے۔گولیوں اور دھماکوں سے فضا گونچ رہی تھی۔نوجوان کے پیچھے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورس کے نوجوان تھے۔ جنہوں نے کافی فاصلے پہ پوزیشن لی ہوئی تھی۔

نوجوان بھاگتا ہوا چھلانگ لگاکر پلیٹ فارم پہ چڑھا ہی تھا کہ پیچھے سے پوزیشن لیے سیکورٹی فورسز کے لوگ بھی پلیٹ فارم کی طرف بھاگے۔اس نے خطرہ محسوس کیا اور آہستہ سے وہ بنچ کے نیچے سرک گیا۔کہنیوں کے بل لیٹ گیا۔اور کرالنگ کرتا ہوا وہ پلیٹ فارم کی پچھلی طرف نیچے لائنوں پہ اترگیا۔سیکورٹی فورسز کے لوگ شاید اس کے اترنے کا ہی انتظار کررہے تھے۔گولیوں کی باڑھ آئی اور بھاگتے نوجوان کی پشت میں چھتا بناگئیں۔نوجوان پشت کے بل گرا۔تھوڑا تڑپا اور مرگیا۔دو منٹ میں سیکورٹی فورسز کے لوگ وہاں پہنچ گئے۔اور لاش کو گھیر لیا۔

دس منٹ بعد ہی میڈیا کی گاڑیاں وہاں پہنچنے لگیں۔سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن ایک شخص نے جو اپنی حرکات و سکنات سے ان کا باس لگتا تھا،جوانوں کو ان کو نہ روکنے کا اشارہ کیا۔میڈیا کے لوگ جیسے ہی آگے بڑھنے لگے تو اس نے بھی لائنوں سے چھلانگ لگائی اور پلیٹ فارم پہ آگیا۔اس نے جیب سےاپنا میڈیا کارڈ نکالا اور گلے میں لٹکالیا۔بھیڑ کو چیرتا ہوا جیسے ہی وہ مارے جانے والے آدمی کے گرد پہنچا اور اس کی نظر مارے جانے والے آدمی کے چہرے پہ پڑی تو وہ چونک گیا۔

عبداللہ کا چہرہ وہ سیکنڈوں میں پہچان گیا تھا۔اس کے اندر چلنے والی کرداروں کی گھمسان کی جنگ کا ایک کردار اس کے سامنے بے جان پڑا تھا۔

منظر بدلتا ہے۔

‘سرخ ہے سرخ ایشیا سرخ ہے۔’
‘مارکس کے افکار سے۔ایشا سرخ ہے’

‘لینن کے کردار سے۔ایشیا سرخ لے۔’

‘خون ذوالفقار سے-ایشیا سرخ ہے۔’

‘خون نذیر عباسی سے-ایشیا سرخ ہے۔’

‘ہم سب جام ساقی ہیں۔’

‘حیرت ہے بھئی حیرت۔۔۔ مارشل لاء سرکار بے غیرت ہے۔’

نعروں سے یونیورسٹی میں وسی آفس کے سامنے کا برآمدہ گونج رہا ہے۔ سر پہ سرخ پٹیاں اور بازو پہ سیاہ پٹیاں باندھے نوجوان لڑکے اور کچھ لڑکیاں گلے پھاڑ کر نعرے لگارہے ہیں۔

آفس سے وی سی، رجسٹرار اور کچھ اور عہدے دار باہر آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔وی سی چلاکر کہتا ہے

‘پانچ منٹ ہیں آپ سب کے پاس۔منتشر ہوجائیں۔نہیں ہو‏ئے تو سب کو شرپسندی پھیلانے کے الزام میں یونیورسٹی سے نکال دیا جائے گا۔پولیس اور فوجی دستے آنے والے ہیں اور ان کے آنے کے بعد آپ سے جو ہوگا،اس کی ذمہ دار خود آپ پہ ہوگی۔’
وی سی کی دھمکی آمیز تقریر ختم ہی ہوئی تھی کہ نعرے لگانے والے لڑکوں،لڑکیوں کے پیچھے شور بلند ہوتا ہے اور پک اپ، موٹر سائیکلیں رکنے کی آوازیں آتی ہیں۔اور پھر فضاء میں نعرے گونجنے لگتے ہیں

‘سبز ہے سبز ایشیا سبز ہے۔’
رہبر و رہنما۔مصطفی مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
‘کافر کافر۔۔۔کمیونسٹ کافر۔’
روسی ایجنٹ۔ٹھاہ
بھارتی ایجنٹ۔ٹھاہ
چینی ایجنٹ۔ٹھاہ
لاشرقیہ ولا غربیہ۔۔۔ اسلامیہ اسلامیہ
شلوار قمیص میں ملبوس خشخشی داڑھی رکھے ہوئے،ہاتھوں میں زنجیریں، آہنی راڈ اور چند ایک کے پاس نئی نئی آئی کلاشنکوفیں اور بارہ بور پسٹل نظر آرہے تھے۔ایک چوڑے شانے والا نوجوان ان کا لیڈر معلوم ہورہا تھا۔

‘سر! آپ اور آپ کا سٹاف دفتر کے اندر چلا جائے۔’
اس چوڑے شانے والے لیڈر نے وی سی اور اس کے سٹاف سے بڑی نخوت سے کہا۔وی سی اور اس کے سٹاف نے زرا دیر نہ لگائی اور آفس میں چلے گئے۔

‘تم بے دینوں کو بارہا سمجھایا تھا کہ اسلامی حکومت کی مخالفت سے باز آجاؤ اور لادینیت پھیلانا بند کردو۔مگر تمہارا دماغ روبل نے خراب کیا ہوا ہے۔واڈکا کی گرمی تمہارے اندر سے جاتی نہیں ہے۔اور ان کنجری،گشتیوں کو ساتھ لاکر تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو۔آج تمہیں کوئی سرخ ریچھ بچا نہیں پائے گا۔

لیڈر نے یہ کہہ کر کلاشنکوف سیدھی کی۔ لڑکے لڑکیوں میں سراسیمگی پھیلی اور وہ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگے۔تڑتڑ کی آوازیں آئیں اور ایک ہلّے میں کئی لڑکے لڑکیاں گولیاں کھاکر گرپڑے۔

تین لڑکے گولیوں سے بچ نکلے تھے اور وہ فلاسفی ڈیپارٹمنٹ کی طرف بھاگ رہے تھے جو وہاں سے نزدیک ترین تھا۔لیڈر اور اس کے دیگر اسلحہ بردار ساتھی ان کے پیچھے بھاگے۔

‘حیدر،صدیقی اور فرحان! کہاں بچ کر جآؤگے۔آج تمہاری قبریں یہیں بننے والی ہیں۔تمہارا مادر پدر آزاد انقلاب آج یہیں ختم کردیں گے۔’
تینوں لڑکوں کے پیچھے بھاگتا ہوا لیڈر چلایا۔

جان بچانے کے لیے تینوں لڑکے میراتھن ریس میں شریک دوڑ لگانے والوں کی طرح بھاگے جاتے تھے۔فلاسفی ڈیپارٹمنٹ پہنچ کر انہوں نے سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں اور ان میں سے ایک لڑکے نے اپنے دو ساتھیوں سے کہا بھاگ کر چھت پہ چلو۔تینوں سيڑھیاں چڑھ کر چھت پہ پہنچے اور جس لڑکے نے چھت پہ پہنچ جانے کو کہا تھا اس نے دونوں لڑکوں کا ہاتھ تھاما اور چھت پہ سامنے بنی منڈیر پہ پہنچا ہی تھا کہ پیچھے تعاقب کرنے والے بھی پہنچ گئے۔انہوں نے للکار کر لڑکوں کو رک جانے کو کہا مگر جس لڑکے نے دونوں لڑکوں کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اس نے کسی کو رکنے نہ دیا اور منڈیر پہ ایک دم سے چھلانگ لگادی۔اسی دوران کلاشنکوف کی تڑ تڑ پھر سنائی دی۔

تینوں لڑکوں نے سولہ فٹ بلند چھت سے چھلانگ لگائی۔نیچے ان کی خوش قسمتی کہ ریت کا ڈھیر تھا وہ اس پہ گرے۔ایک لڑکے کی شرٹ پیچھے سے خون میں سرخ ہوچکی تھی۔دوسرے دو لڑکوں کی پنڈلیوں سے پتلونیں سرخ ہوچکی تھیں۔اور جان بچانے کا سودا ان کے دماغ میں اتنا سمایا تھا کہ مشکل سے لنگڑاتے ہوئے وہ ریت کے ڈھیر سے اٹھے اور بھاگتے چلے گئے۔ پيچھے للکارنے اور فائرنگ کرنے کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں۔

تینوں لڑکے چلتے ہوئے مشکل سے یونیورسٹی سے باہر پہنچے۔ہاتھ دینے پہ بھی کوئی نہیں رک رہا تھا۔وہ ایک رکشے کے آگے آگئے۔سوچا تھا کہ کچلتا ہے تو کچل دے۔رکشے کی بریک لگی تو ایک لڑکا ڈرائیور کے ساتھ چپک کر بیٹھا اور دو پیچھے سوار ہوگئے۔اس کو عباسی شہید ہسپتال چلنے کو کہا۔رکشے والا سہما اور ڈرا نظر آتا تھا۔اس نے رکشہ بھگایا اور عباسی شہید ہسپتال کے گیٹ کے سامنے رکشہ روکا اور اندر جانے سے انکار کیا۔خون آلود سو کا نوٹ ایک لڑکے نے اسے نکال کر تھمایا اور بقایا لیے بغیر اندر لڑکھڑاتے چلے گئے۔ایمرجنسی کے سامنے جیسے ان کی ہمت جواب دے گئی اور وہ دروازے پہ ہی بے ہوش ہوکر گرپڑے۔

تینوں کو جب ہوش آیا تو وہ ایک کمرے میں تین الگ الگ بستروں پہ تھے۔ان کے ہاتھ پلنگ کے ساتھ لوہے کے راڈ میں ہتھکڑی سے باندھے ہوئے تھے۔سامنے سٹول پہ خاکی وردی پہنے ایک سپاہی بیٹھا ہوا تھا۔ان کو ہوش میں دیکھ کر وہ باہر دوڑا اور تھوڑی دیر میں اپنے ایک افسر اور ایک ڈاکٹر کے ساتھ واپس پلٹا۔

ڈاکٹر ان کی طرف آیا۔اس نے تینوں کو چیک کیا اور پھر فوجی افسر کی جانب مڑا۔اور کہا

‘یہ تینوں اب ٹھیک ہیں۔ان کے زخم کافی بہتر ہیں۔آپ ان کو لیجاسکتے ہیں۔’

ان کو بعد میں پتا چلا کہ ان کو پٹرول پمپ اور بینک لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ان کو باقاعدہ سیکورٹی فورسز سے مقابلے میں گولیاں لگی تھیں۔ان کے پانچ ساتھی جن میں دو لڑکیاں شامل تھیں مقابلے میں پار ہوگئے تھے۔اور عینی شاہدین میں وہ ‘لیڈر’ بھی شامل تھا جس نے ان کا پیچھا کیا اور فلاسفی ڈیپارٹمنٹ کی چھت پہ ان پہ گولیاں چلائی تھیں۔ یہ افغانستان سے حرکت الجہاد الاسلامی کے کیمپ سے تربیت لیکر آیا تھا۔

‘جہاں پناہ! اگر معائنہ ختم ہوگیا ہو تو ایک طرف ہوجائیں۔’

ایک طنزیہ آواز نے اسے خیالات کی دنیا سے واپس نکال لیا۔

اس کے سامنے عبداللہ مجاہد کا چہرہ تھا۔وہی لیڈر جس نے ان کے مادر پدر انقلاب کو فلاسفی ڈیپارٹمنٹ کی چھت پہ دفن کرنے کی دھمکی دی تھی۔ان کا انقلاب بھی لینن اور سٹالن کے انقلاب چوک ماسکو میں لگے مجسموں کے گرائے جانے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا تھا۔اور پاکستان میں اس انقلاب کو پاکستان میں آکسجین اس دن ملنا بند ہوگئی تھی جب 10اپریل 1986ء کو داتا دربار کے مزار کے سامنے جب نوجوانوں نے امریکی پرچم نذر آتش کیا اور لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے سامنے ایک لیڈر نے اعلان کیا
‘ان شرپسندوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔امریکہ جمہوریت کا علمبردار ہے۔’

اس دن ایوان صدر میں مینڈک جیسی آنکھوں والے جن کے زاویے بگڑے ہوئے تھے شیروانی پہنے ایک شخص نے انتہائی حقارت سے ‘بے نظیر آئی ہے-انقلاب لائے گی’ کے نعرے لگاتے لاکھوں لوگوں کو دیکھا تھا۔اس دن ریگن وائٹ ہاؤس میں دل کھول کر ہنسا تھا۔

مگر ‘لا شرقیہ-ولاغربیہ۔۔۔۔۔ اسلامیہ اسلامیہ’ کے نعرے لگانے والا عبداللہ مجاہد کیا ہوا؟ اس کا اسلامی انقلاب جس نے جہاد کے راستے آنا تھا اس کی قسمت کیا ہوئی۔
اسلامی انقلاب کے لیے اس نے انقلابی کمیونسٹوں کے سینوں پہ لاشرقیہ ولا غربیہ اسلامیہ اسلامیہ لکھا۔جو اس کے نزدیک ‘واڈکا کی گرمی سے سرخ اور روبل کی بارش سے سرشار تھے۔’

اور جب اس سے آگے کی منزل آئی تو پہلے ہندؤ، پھر کرسچن، پھر احمدی، اس کے بعد شیعہ اور پھر بریلوی سب کے سینوں پہ اس نے انقلاب کا جھنڈا گاڑنے کی کوشش کی اور ریاست کے اندر بیٹھے لوگ اس کی پیٹھ ٹھونکتے رہے۔وائٹ ہاؤس اور ریاض کے حرم اس کا سواگت کرتے رہے۔اور پھر نائن الیون ہوا۔ہوا بدل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ریاض،واشنگٹن اور اسلام آباد کی ہوائیں بدل گئیں اور عبداللہ مجاہد کا انقلاب بھی برٹش دور کے بنے اس چھوٹے سے ریلوے اسٹیششن کے پلیٹ فارم پہ ہی دفن ہوگیا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*