دیوبندی مکتب فکر میں جہاد و تکفیر اور پشتون و پنجابی فیکٹر – عامر حسینی

فرنود عالم نے ایک پوسٹ افغان اور کشمیر جہادی پروجیکٹس اور پاکستان میں دیوبندی ریاست کے لیے ہتھار اٹھانے والے پروجیکٹس کی ساخت کے بارے میں لگائی ہے۔اور اس پوسٹ میں انہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ یہ سارے پروجیکٹ پنجابی لیڈ کررہے تھے ناکہ پشتون۔

فرنود لکھتے ہیں:

پاکستان میں جتنے بھی جہادی پراجکٹس ہیں یہ اللہ کے فضل سے پنجاب سے متعارف ہوئے۔ جیسے سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، حرکۃ المجاہدین، جیش محمد، غلبہ اسلام، حرکۃ الجہاد اسلامی، سنی جہاد کاونسل، لشکر طیبہ، جماعۃ الدعوہ اور دیگر۔ ان تمام جہادی پراجکٹس کے ہیڈ کوارٹرز پنجاب میں تھے اور ہیں۔ جیسے بہاولپور، رحیم یارخان، جھنگ، راولپنڈی اور لاہور۔

جب تحریک طالبان کی بنیاد پڑی تو اس کی اہم طاقت پنجابی طالبان تھے۔ کیونکہ پنجابی طالبان دو چیزیں فراہم کرنے کے لیے ذمہ دار تھے۔ ایک ملک بھر کے مدارس سے افرادی قوت فراہم کرنا اور دوسرا شہری علاقوں سے مالی امداد اکٹھی کرنا۔ مالی وسائل فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ بینک ڈکیتی اور بھتہ گیری بھی تھا۔ یہ دونوں فریضے پنجابی طالبان انجام دیتے تھے۔

سنّی اتحاد کونسل صاحبزادہ فضل کریم اور کراچی سے قاری حنیف طیب سمیت سندھ اور پنجاب کے علماء کی مشترکہ کاوش تھی اور یہ کوئی جہادی یا تکفیری تنظیم نہیں تھی۔ ہوسکتا ہے کسی غیر معروف دیوبندی تنظیم کا نام سنّی جہاد کونسل ہو۔لشکر طیبہ جس سے بعد میں جماعت دعوہ بنی سب سے پہلے جماعت دعوۃ والارشاد کے نام سے مولوی ارشاد الرحمان پشتون نے بنائی تھی اور اس کا ہیڈکوارٹر پاکستان میں پشاور میں تھا۔یہ واحد سلفی تنظیم تھی اور یہ بعد میں لشکر طبیہ بنی اور پروفیسر حافظ سعید اس میں بعد میں آئے۔اب آئیں حرکت المجاہدین،حرکت الانصار ، جیش محمد اور غلبہ اسلام کی کہانی کی جانب۔

یہ سب تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی سے نکلی ہیں۔

(صرف پنجابی طالبان ہی نہیں دیگر پاکستانی طالب بھی ڈکیتیوں، اغواء برائے تاوان اور لوٹ مار میں ملوث تھے۔فرنود یہاں بے خبری میں نہیں بلکہ دانستہ ڈنڈی مار گئے۔ قاری حسین (محسود) پنجابی نہیں تھا۔)

ویسے تو مذہبی بنیادوں پہ استوار ہونے والی عسکریت پسندی میں نسلیاتی شناخت کو بنیادی اور اول وجہ قرار دینا میرے خیال میں جہاد ازم، تکفیر ازم بارے کوئی موقف بنانے کے لیے ایک گمراہ کن تصور ہے۔کیونکہ اگر ہم دیوبندی جہاد اور دیوبندی عسکریت پسندی کے 80ء کی دہائی سے ابھار کے فنومنا کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر اس کے لیے ہمیں ایک اور طرح سے چيزوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس معاملے میں دو صحافیوں کے کام سے مدد لینا بہتر ہوگا۔ایک خالد احمد ہیں اور دوسرے عارف جمال ہیں۔میں لبرل صحافیوں کے حوالے اس لیے پیش کررہا ہوں تاکہ بات کو یہ کہہ کر متنازعہ نہ بنادیا جائے کہ صاحب فلاں تو پاکستانی لبرل کے ایک سیکشن کو کمرشل لبرل مافیا کہتا ہے اور وہ دیوبندی فوبیا کا شکار ہے۔

عارف جمال کا جیمزٹاؤن فاؤنڈیشن کے ریسرچ میگزین ‘ٹیرر ازم مانٹیر’ کے جنوری 2010-2009ء کے شمارے میں ‘دی گروتھ آف دیوبندی جہاد ان افغانستان’ کے عنوان سے ایک تحقیقی مضمون شایع ہوا۔اس مضمون کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے:

Three students from Karachi’s Jamia Uloom al-Islamia left their Islamic studies half way to completion and took a train to Peshawar on February 18, 1980 to take part in the nascent anti-Soviet jihad in Afghanistan. Anti-Russian passion was their only weapon, but they wanted to practice what they had learned in the classrooms of their madrassa. [1] The three students – Irshad Ahmed, Abdus Samad Sial and Mohammad Akhtar – later assumed grand religious titles; the first two became Maulana-s (“Our Master,” a title used for religious leaders with formal qualifications) while the third came to be known as Qari (“Reader,” i.e. one who recites the Quran). His colleagues later gave Qari Akhtar another grand title, “Saifullah” (Sword of Allah).

دارالعلوم جامعہ اللاسلامیہ بنوریہ کراچی کے تین طالب علم (جوکہ مفتی نظام الدین شامزئی ) کے شاگرد تھے اور یہ تینوں شاگرد تھے ارشاد احمد،عبدالصمد سیال اور محمد اختر۔یہ 18 فروری 1980ء کو پشاور بعذریعہ ٹرین پہنچے تھے۔ان تینوں ٹین ایج طالب علموں نے بنائی جمعیت الانصار الافغانین اور جب یہ افغانستان کے راستے پہ روانہ تھے تو ان کے ساتھ ہم سفر ہوا ایک چھوٹا سا گروپ جس کا نام تھا حرکت انقلاب اسلامی افغانستان اور یہ پشتون تھے اور مولانا نصر اللہ منصور اس گروپ کی سربراہی کررہے تھے۔یہ دونوں گروپ بعد میں ایک تنظیم میں ضم ہوگئے اور اس کا نام پڑا حرکت الجہاد الاسلامی۔اس گروپ کو پاکستانی دیوبندی مدرسوں سے افغانستان جاکر جہادی تربیت اور سوویت یونین سے لڑنے والی پہلی بانی تنظیم کہا جاسکتا ہے۔اور اس نے قریب قریب 4000 پاکستانی دیوبندی مدرسوں کے طالب علموں کو جہادی تربیت دی اور لڑنے کے لیے تیار کیا۔

عارف جمال کا کہنا ہے حرکت الجہاد الاسلامی نے نہ صرف پاکستانی دیوبندی مدرسہ کے طالب علموں کو جہادی تربیت دی بلکہ اس نے افغانستان سے بھی پاکستانی دیوبندی مدرسوں میں افغانوں کو بھیجا اور یہی دیوبندی مدرسوں سے پڑھے افغان بعد میں تحریک طالبان افغانستان بنانے والے بنے۔

حرکت الجہاد الاسلامی کا نظریاتی رہبر و رہنماء اگر کسی شخص کو قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ مفتی نظام الدین شامزئی تھے۔اور یہ مفتی نظام الدین شامزئی بھی نسلی اعتبار سے پشتون تھے۔اب اگر ہم دیوبندی جہادی و تکفیری تحریک کو کسی نسلی شناخت سے جوڑنا ہی چاہتے ہیں تو اس میں دیوبندی مدرسوں میں پڑھنے والے پنجابی،سرائیکی اور پشتون طالب علموں کو اس لائن پہ لگانے کا سہرا تو ایک دیوبندی پشتون کے سر ہی جائے گا۔کیونکہ مسعود اظہر کے استاد بھی مفتی نظام الدین شامزئی تھے اور جیش محمد کے قیام کا اعلان بھی جامعہ بنوریہ میں ایک پریس کانفرنس میں ہوا تھا اور پریس کانفرنس کی صدارت مفتی نظام الدین شامزئی نے کی تھی اور اس کا پہلا ہیڈکوارٹر بھی یہی مدرسہ تھا۔تحریک طالبان افغانستان کے بانی امیر کے استاد بھی مفتی نظام الدین شامزئی تھے۔

حرکت جہاد الاسلامی کا سب سے بڑا ڈونر سعودی عرب تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے جب حرکت جہاد الاسلامی میں تقسیم ہوئی تو سعودی عرب اس پہ بہت ناخوش ہوا۔ کہ عارف جمال انکشاف کرتے ہیں

The split in the HuJI, an important recipient of Saudi money, made the Saudis very unhappy. They deputed a Mecca-based Deobandi alim (scholar), Maulana Abdul Hafeez Makki, to reunite the two groups. Maulana Makki immediately established contacts with an emerging jihadi alim, Maulana Masood Azhar, to fulfill this task (Masood later founded Jaish-i-Mohammad in 2000). Maulana Makki became a regular visitor to Pakistan in this period. [5] Their efforts bore fruit when the two groups reunited in 1993 under the name of Harakatul Ansar.

جب کمانڈر فضل الرحمان خلیل(پشتون) پہ بانی ممبران نے یہ الزام عائد کیا کہ وہ آئی ایس آئی کی بہت تابعداری کرتے ہیں اور شہرت کے بھوکے ہیں۔ اور ان سے الگ ہوگئے تو سعودی عرب نے ان میں صلح کے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ دیوبندی کے چئیرمین مولوی عبدالحفظ مکّی کو ان کے درمیان صلح کے لیے روانہ کیا۔صلح ہوئی اور حرکت الانصار کا قیام عمل میں آگیا۔

اس سے یہ بات بہت واضح ہوجاتی ہے کہ دیوبندی جہاد چاہے افغانستان میں تھا یا کشمیر اس کا سب سے بڑا ڈونر سعودی عرب اور نظریاتی سرپرست اکوڑہ خٹک اور جامعہ بنوریہ والے تھے۔فرنود عالم نجانے کیسے دیوبندی جہاد اور تکفیر کو پنجابی پروجیکٹ قرار دیتے ہیں۔

تحریک طالبان افغانستان اور اس کے زیر اثر بننے والی تحریک طالبان پاکستان جس کا اولین آغاز باجوڑ ایجنسی سے ہوا تھا اور اس کے پیچھے صوابی کے پنج شیری گروپ کا ہاتھ تھا کا نظریہ ساز سب سے بڑا حامی مدرسہ اگر ہم تلاش کریں تو وہ اکوڑہ خٹک میں مدرسہ حقانیہ بنتا ہے۔ اور تحریک طالبان پاکستان پہ لال مسجد گروپ کا بھی اثر تھا۔

فرنود عالم نے تحریک طالبان پاکستان بارے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے ‘پنجابی طالبان’ کو اس تحریک کا سب سے بڑا حصّہ قرار دے ڈالا۔تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں اس سے بڑا جھوٹ اور کوئی بولا نہیں جاسکتا۔تحریک طالبان پاکستان باجوڑ ایجنسی سے ہوتی ہوئی خیبر ایجنیسی، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان پہنچی۔اور اسے ٹریننگ سنٹرز کے اعتبار سے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقے کافی سازگار ثابت ہوئے اور اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ القاعدہ کی بڑی لیڈر شپ، ازبک، تاجک اور افغان عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد بھی یہیں محسودوں کے پاس آئی اور وہ ان کے سٹرٹیجک شراکت دار بھی بن گئے اور یہی وجہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی امارت بھی محسود کے ہاتھ آگئی اور یہاں تک ہوا کہ پھر جس نے اس امارت کو محسودوں سے باہر لیجانے کی کوشش کی اس کو اپنا الگ گروپ ہی بنانا پڑا جیسے خالد خراسانی تھا اور خود ملّا فضل اللہ سے بھی لڑائی ہوگئی۔تحریک طالبان میں پنجابی طالبان کا نام جن کو دیا گیا ان میں سے اکثریت سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے ایسے عسکریت پسندوں کی تھی جو پہلے جہاد کشمیر سے وابستہ تھے اور لال مسجد والے واقعے سے ریڈیکل ہوکر وہ پاکستانی اداروں کے خلاف بھی لڑائی لڑنے لگے۔

دیوبندی مدرسے پورے پاکستان کے اندر جہاں جہاں بھی عسکریت پسندی کی جانب راغب ہوئے تو اس کا اولین سہرا حرکت الجہاد الاسلامی کو جاتا ہے جس کے رہنماؤں میں ایک پنجابی(قاری اختر) اور دو سرائیکی ( ارشاد احمد اور عبدالصمد عرف مختار سیال) اور دو پشتون مولانا نصر اللہ منصور اور فضل الرحمان خلیل سب سے نمایاں تھے۔اور ان میں سے اولین تین براہ راست شاگرد تھے شامزئی کے اور باقی کے دو پہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا اثر تھا تو پہنچ دیوبندی جہاد کے اولین معماروں کے استادوں کا پس منظر دیکھا جائے تو وہ پشتون دیوبندی بنتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کا قیام جھنگ میں 1984ء میں عمل میں آیا۔لیکن اپنے جنم کی ابتداء میں یہ بہت چھوٹی سی جماعت تھی لشکر جھنگوی کافی عرصہ تک مقامی دہشت گرد گروہ رہا لیکن جب سپاہ صحابہ پاکستان نے حرکت الجہاد الاسلامی، پھر حرکت المجاہدین اور اس کے بعد جیش محمد اور اس سے آگے تحریک طالبان افغانستان کے کابل پہ قبضے کے بعد کنٹر میں تربیتی کیمپ حاصل کیا اور اس کی قیادت کے القاعدہ سمیت دیگر جہادیوں سے رابطے ہوئے تو یہ انتہائی تباہ کن مشین بن گیا۔اگر فرنود عالم کے مقدمات کے حساب سے نتیجہ اخذ کیا جآئے تو نتیجہ یہ نکالا جاسکتا ہے کہ اینٹی شیعہ لشکر جھنگوی 90ء کی شیعہ ٹارگٹ کلنگ سے آگے خودکش بمبار اور ٹائم ڈیوائس بم دھماکوں کی صلاحیت پشتون عسکریت پسندوں سے رابطے میں آنے کے بعد حاصل کرسکا اور انہوں نے پھر تحریک طالبان کے ساتھ مل کر پاکستان میں 80 ہزار سے زائد لوگوں کی جان لے لی اور شیعہ نسل کشی، صوفی سنّی بریلوی مزارات و میلاد کے جلوسوں پہ بم دھماکے بھی کیے۔

حقیقت یہ ہے کہ تکفیری و جہادی دہشت گردی نہ تو پنجابی پروجیکٹ تھی اور نہ پشتون پروجیکٹ بلکہ یہ ریڈیکل دیوبندی عسکریت پسندی کا نتیجہ تھی جس کا آغاز حرکت الجہاد الاسلامی کے تربیتی کیمپوں سے ہوا تھا اور اس وقت سہولت کار پاکستان ، سعودی عرب اور امریکہ تھے۔

اگر آپ سپاہ صحابہ پاکستان کو دیکھیں تو اس وقت بھی سپاہ صحابہ پاکستان کے دو بڑے مرکز ہیں۔ ایک جھنگ جو پرانا مرکز ہے۔اور دوسرا کراچی میں ملیر میں ہے۔ایک مرکز کو مشرقی پنجاب کا مہاجر احمد لدھیانوی چلاتا ہے تو دوسرے مرکز کو ہری پور ہزارہ کا اورنگ زیب فاروقی چلاتا ہے۔ایک تیسرا مرکز بھی ہے جو اگرچہ ابھی ان دو مرکز جتنا بڑا نہیں ہے اور وہ ہے پشاور میں ابراہیم قاسمی کا مرکزجو پشتون ہے۔ایک چوتھا مرکز بلوچستان میں کوئٹہ میں رمضان مینگل چلاتا ہے۔اور گلگت بلتستان میں کوہستان کے اندر اس کا ایک اور مرکز ہے۔سپاہ صحابہ اپنے ابتداء میں پنجاب کے لہندے لہجے اور مشرقی پنجاب و ہریانہ سے ہجرت کرکے آنے والوں کی جماعت تھی مگر یہ بہت تیزی سے کثیر اللسانی اور کثیر النسلی ہوئی۔اب تو اندرون سندھ یہ سندھی بولنے والوں میں بھی کافی مقبول ہے۔اسی لیے ان کو پنجابی یا پشتون پروجیکٹ کہنا گمراہ کن ہے بلکہ یہ پین ریڈیکل دیوبندی ازم کی بائی پروڈکٹس ہیں جن کو پھلنے پھولنے کا موقعہ مقامی اور بین الاقوامی حالات کے سبب سے مل گیا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*