پشتون سماج میں اینٹی شیعہ ازم کمپئن آئی ایس آئی کی پیداوار نہیں ہے, فرحت تاج – عامر حسینی

منظور احمد پشتین اور علی وزیر کے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے دورے پہ معروف ماہر پشتون تاریخ اور دانشور فرحت تاج نے ‘اختلافی نوٹ’ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار فیس بک پہ اپنی وال پہ کیا۔انہوں نے اس اقدام کو ‘صدمہ پہنچانے’ والا قرار دیا۔اور واضح طور پہ کہا اگر عمران خان کا دارالعلوم حقانیہ کو عوام کے پیسوں سے خطیر رقم دینا غلط ہے تو یہ دورہ بھی غلط ہے۔

ان کی وال پہ جیسے ہی یہ خیالات ظاہر کیے گئے تو ایک دم سے فرحت تاج پہ پی ٹی ایم کے ان پشتون حامیوں نے ہلّہ بول دیا جو دارالعلوم حقانیہ کے پشتون سماج میں بالخصوص اور پورے پاکستان میں بالعموم خون آشام کردار کو چھپانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

سب سے افسوس ناک اور حقائق سے پرے جواب اور ردعمل پشتون تحفظ موومنٹ کے علی وزیر کی جانب سے آیا۔ان کو فرحت تاج کی جانب سے پشتون سماج کے اندر مکتب دیوبند کے اندر سے اٹھنے والی دیوبندی عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کی نشان دہی اور اس دیوبند مکتب فکر کے اندر سے پیدا ہونے والی شیعہ نسل کشی کی مہم کی نشاندہی کرنے کی بڑی تکلیف ہوئی۔

انھوں نے فرحت تاج پہ سوقیانہ اور گھٹیا طنزیہ جملے کسے۔ ان کو لیپ ٹاپ پہ پشتونوں کا دفاع کرنے والا کہا اور آغاز یہاں سے کیا کہ فرحت تاج نے بار بار دیوبندی اور شیعہ جیسے الفاظ کیوں استعمال کیے۔

فرحت تاج نے علی وزیر کو بہت ہی مسکت جواب دے ڈالا ہے۔اس سے ان کی کافی تسلی ہوگئی ہوگی۔لیکن یہاں میں اس جواب کے اندر موجود کچھ چیزوں کی تشریح کرنا چاہتا ہوں تاکہ پڑھنے والوں کو سیاق و سباق اچھے سے سمجھ آئے۔

فرحت تاج نے اپنے جواب میں علی وزیر کو یہ کہا ‘ آپ کو اچھے سے پتا ہوگا کہ پاکستان بننے سے بہت پہلے شیعہ پشتونوں کو دیوبندی انتہا پسندوں سے جان بچانے کے لیے برطانوی ایڈمنسٹریشن کی پناہ لینی پڑی تھی’ تو وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے ان رہنماؤں کو یہ بتانا چاہتی تھیں کہ ‘شیعہ نسل کشی’ کی مہم اور ‘اینٹی شیعہ ازم’ کمپئن آئی ایس آئی یا ایم آئی کی ایجاد کردہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ پاکستان بننے کے بعد 80ء کی دہائی میں پشتون سماج کے اندر آئی ہے بلکہ اس کا وجود پاکستان بننے سے پہلے سے تھا اور محرک دیوبندی انتہا پسند تھے (جن کو میں تکفیری دیوبندی لکھتا ہوں)۔پاکستان میں عام طور پہ اور پشتون سماج میں شیعہ کی نسل کشی میں دیوبندی انتہا پسندوں کا مرکزی کردار ریاست کی پراکسی کی مرہون منت نہیں ہے۔اگرچہ ایجنسیوں نے اس سے فائدہ ضرور اٹھایا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پشتون سماج میں دیوبندی انتہاپسندوں نے صرف اینٹی شیعہ ازم کی مہم نہیں چلائی بلکہ انہوں نے بریلوی سنّی/صوفی سنّی کے خلاف بھی تباہ کن مہم چلائی اور یہ مہم ابتک جاری ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ علی وزیر کو شیعہ نسل کشی، اینٹی صوفی سنّی کمپئن کی علمبردار تکفیری دیوبندی/دیوبندی انتہا پسندی پہ پردہ ڈالنے اور گول مول موقف پیش کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ہے اور ان کے ساتھ بیٹھنے پہ اگر ان کا اصرار جاری رہا تو ہم یہ سمجھنے پہ مجبور ہوں گے کہ وہ شیعہ نسل کشی پہ پردہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اختلافی نوٹ

منظور احمد پشتین اور علی وزیر کو اکوڑہ خٹک میں طالبان کے باپ مولانا سینڈوچ کی زیر قیادت چلنے والے جامعہ جہاد کا دورہ کرتے دیکھ کر میں صدقے سے دنگ رہ گئی ہوں۔

لوگ غصّہ کیوں تھے جب طالبان خان نے حقانیہ مدرسے کو عوام کے پیسے سے ایک خطیر رقم دی تھی؟ ہمارے طالبان خان کے لیے اور دوسروں کے لیے الگ الگ معیار کیوں ہونے چاہیں؟

انتہا پسند دیوبندی کافی عشروں سے ہنسی خوشی،مرضی سے پشتون کی موت اور تباہی میں آئی آیس آئی کے ساتھ شراکت دار بنے ہوئے ہیں۔ان کے رہنماؤں کو انسانیت کے خلاف جرائم میں اپنے کردار کے سبب انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان میں سے کچھ کو غیر مشروط طور پہ اپنے خون آشام کردار پہ معافی مانگنا ہوگی اور ان میں سے ہر ایک کو اعلانیہ صدیوں پرانی تحکم پرستی، شیعہ کے خلاف منافرت انگیزی اور معاشرے میں عورتوں کی برابری کی مخالفت ترک کرنا ہوگی۔یہ سب کیے بغیو دیوبندی آسانی سے پی ٹی ایم کی پشتونون کو انصاف دلانے اور سب کے لیے حقوق کی بنیاد پہ معاشرے کے قیام کی کوشش کو تباہ کرسکتے ہیں۔

میں اب بھی پشتو تحفظ موومنٹ-پی ٹی ایم کی مضبوطی سے حمایت کرتی ہوں۔مجھے توقع ہے کہ پی ٹی ایم کی قیادت قتل عام میں ملوث دیوبندی مذہبی طبقے سے معاملہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لے گی۔

اس اختلافی نوٹ پہ دارالعلوم حقانیہ کا دورہ کرنے والے علی وزیر نے جواب میں لکھا

” یہ ٹھیک بات نہیں ہے۔آپ بار بار ‘شیعہ’ اور ‘دیوبندی’ جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں۔پی ٹی ایم کی لغت میں یہ دونوں الفاظ وجود ہی نہیں رکھتے۔ہم نے ان الفاظ کو ظالم اور مظلوم سے بدل ڈالا ہے۔ہم مظلوم ہیں اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔پشتون کا زمین پہ دفاع کرنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا لیپ ٹاپ پہ دفاع کرنا آسان ہے۔آپ مجھے بہتر طور پہ جانتی ہیں کہ میں کس قسم کی سوچ رکھتا ہوں۔اور ہم نے اعلان کیا ہے کہ ہم مظلوم کے لیے پارہ چنار بھی جائیں گے۔اور حقانیہ میں ہم نے ان نوجوان اور تعلیم یافتہ مولویوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے دورہ کیا ہے جو پی ٹی ایم کے لیے اچھا کردار ادا کریں گے۔”

فرحت تاج نے اس کے جواب میں لکھا

الف:تمام تر احترام کے باوجود علی! میری آرزو ہے کہ کاش میں لفظ ‘شیعہ’ اور ‘دیوبندی’ ایجاد کیے ہوتے تو میں فوری طور پہ ان کو واپس لے لیتی۔یہ زمینی حقیقت ہیں۔ شیعہ کے قتل کی وجوہات سو فیصدی سیاسی نہیں ہیں بلکہ اس کی فرقہ وارانہ وجوہات ہیں، (وہ اس لیے مارے گئے) کیونکہ وہ صرف شیعہ تھے اور دیوبندی ملّاؤں اور طالبان اور انتہا پسندوں نے ان کو قتل کیا۔اینٹی شیعہ ازم پشتون معاشرے مں ایک حقیقت ہے ( یہ بھی سچ ہے کہ اسے ایم آئی اور آئی ایس آئی نے ایکسپلائٹ بھی کیا ہے) اور یہ انہوں نے ایجاد نہیں کیا۔مجھے امید ہے کہ آپ کو علم ہوگا کہ پاکستان بننے سے بہت پہلے شیعہ کو دیوبندی انتہا پسندوں سے بچنے کے لیے برٹش ایڈمنسٹریشن کے پاس پناہ لینا پڑی تھی۔تو، ہاں یہ شیعہ کے لیے انتہائی تکلیف دہ بات تھی جب پی ٹی ایم کے رہنماء جہادی یونیورسٹی میں گئے۔اس نے پی ٹی ایم کے بارے میں شیعہ کے ذہنوں میں شکوک کو جنم دیا۔

ب: ہاں،زمین پہ لڑائی لڑنا لیپ ٹاپ پہ لڑنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے لیکن کیا آپ لیپ ٹاپ پہ کسی آدمی کو اپنے خیالات کے اظہار کی اجازت نہیں دوگے؟پشتون تاریخ پہ اچھے سے کیے گئے میرے مطالعے کی بنیاد پہ میرا پختہ خیال ہے کہ علی اور منظور جیسے لوگ اور وہ جنھوں نے دیوبندی انتہاپسندی کو پھیلانے میں اسقدر طاقتور کردار ادا کیا ہو اور وہ قتل عام میں ملوث ہوں ساتھ ساتھ بیٹھ کر پشتون سماج میں امن کی لڑائی نہیں جیت سکتے۔

اگر اس دلیل/وضاحت کے ساتھ جانا ہے جو میں ان لوگوں سے سن رہی ہوں جو دہشت و جہاد کی یونیورسٹی کے دورے کی حمایت کررہے ہیں تو پھر ہم پہ لازم ہے کہ ہم مشال، اے پی ایس کے بچوں کو قتل کرنے والوں اور دوسرے تمام پشتون دیوبندی قاتلوں کو بھی معاف کردیں۔

میں جانتی ہوں کہ آپ کے خاندان نے بہت بڑی مصیبت اٹھائی ہے۔میں آپ کی بڑی عزت کرتی ہوں۔لیکن برائے مہربانی مجھے کہنے دیں کہ آپ کو اپنے عزیز و اقارب کے قاتلوں کو معاف کرنے کا حق ہے اور ان قاتلوں سے ہاتھ ملانے کا بھی۔لیکن آپ ان دوسروں کے بارے میں نہیں سوچتے ہیں جنھوں نے آپ کے خاندان کی طرح مصائب اٹھائے ہیں۔کیا وہ بھی ان قاتلوں کو معاف کرنے پہ آمادہ ہیں؟
میرا خیال ہے کہ پی ٹی ایم تحریک برائے انصاف ہے۔جس کا مطلب ہے قاتلوں کو قانون کا سامنا کرنا ہے ناکہ ان سے اس سماج کے معزز ترین افراد کا سا سلوک کیا جائے۔اگر آپ سوچتے ہیں کہ میرے خیالات مکمل طور پہ بکواس اور احمقانہ ہہیں تو ان کو نظر انداز کردیں،لیکن یاد رکھیں کہ میں ان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتی ہوں۔شکریہ

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*