کیا ہم پوسٹ طالبان دور میں پہنچ گئے ہیں؟ – محمد عامر حسینی

کیا ہم پوسٹ طالبان دور میں پہنچ گئے ہیں؟

کیا تکفیری دیوبندی ریڈیکل ازم اپنے زوال کو پہنچا اور اس کی جگہ صوفی بریلوی ریڈیکل ازم نے لے لی ہے؟

کیا پاکستان کی ریاست فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی سے گزر رہی ہے؟

کیا ریاست نے دیوبندی-سلفی عسکریت پسندی کی جگہ مبینہ بریلوی عسکریت پسندی کو دے دی ہے؟

کیا پاکستان میں بریلوی عسکریت پسندی موجود ہے تو وہ کہاں دہشت گردی میں ملوث ہوئی ہے؟

کیا مفروضہ بریلوی عسکریت پسندی نے پشتون سماج میں ابتک کسی جگہ دیوبندی،سلفی،شیعہ، احمدی، کرسچن کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے؟

احمد شاہ ابدالی کے درانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے لبرل ایکٹوسٹ اور کمرشل لبرل مافیا کے بارے میں معذرت خواہی رویہ رکھنے والے ایک دانشور صحافی نے سجاگ کی نیوز ویب سائٹ ‘نکتہ نظر’ پہ پشتون تحفظ تحریک کی قیادت منظور پشتین اور علی وزیر کے جامعہ حقانیہ دورے پہ ایک مضمون لکھا ہے۔اس مضمون میں ان کی جانب سے کچھ انتہائی کمزور اور غلط پوزیشن لی گئی ہیں۔

سب سے پہلے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ‘پوسٹ طالبان’ دور میں داخل ہوگیا ہے۔سوال یہ جنم لیتا ہے کیا پاکستان واقعی پوسٹ طالبان دور میں داخل ہوگیا ہے؟علی ارقم پاکستان کے اس لبرل سرکل سے تعلق رکھتے ہیں جو ایک طرف تو نواز شریف اینڈ کمپنی کی موجودہ اقتدار بچاؤ مہم کو اینٹی اسٹبلشمنٹ تحریک قرار دیتا ہے تو دوسری جانب وہ پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ عسکریت پسند، جہادی و تکفیری نیٹ ورک کو مین سٹریم کرنے کے پروجیکٹ کو خالص ملٹری اسٹبلشمنٹ کا پروجیکٹ قرار دیتا ہے اور یہ ماننے سے انکار کرتا ہے کہ اسے مین سٹریم کرنے میں خود پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت اور قیادت بھی پوری شریک کار ہے۔

علی ارقم ہمارے سامنے ایک اور کہانی لیکر حاضر ہوگئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست کی فرقہ وارانہ شناحت کی تبدیلی کا عمل جاری ہے اور اس میں فتوے کا ہتھیار دیوبندیوں سے نکل کر صوفی بریلوی ریديکل فورسز کی طرف شفٹ ہوگیا ہے۔انہوں نے جو بات بین السطور کہی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر ‘تکفیریت کا نیٹ ورک’ اب بریلویت کے ہاں اور اس کی سرپرست ریاست ہے۔جبکہ تکفیری دیوبندی نیٹ ورک تو ریاست کے نشانے پہ ہے۔

یہ اتنا بڑا جھوٹ اور حقائق کو مسخ کیے جانے کا عمل ہے جس پہ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ علی ارقم کے اندر چھپا متعصب دیوبندی باہر آگیا ہے۔

علی ارقم کہتے ہیں کہ ہم پوسٹ طالبان/پوسٹ تکفیری دیوبندی دور میں ہیں اور تکفیری بریلوی دور میں سانس لے رہے ہیں۔تو کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ 2018ء کے آغاز سے ہی ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ کے اندر جو شیعہ سرائیکی اور شیعہ ہزارہ کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی ان کی اس ٹارگٹ کلنگ میں کیا صوفی سنّی بریلوی ملوث تھے؟ کوئٹہ میں حال ہی میں جن چار کرسچن کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا کیا ان کے قتل میں بھی بریلوی ملوث تھے؟ کیا داعش کے نام سے پاکستان میں صوفی بریلوی دہشت گردی کررہے ہیں؟

حال ہی میں کراچی میں نیو رضویہ سوسائٹی میں ایک شیعہ بینکر کو قتل اور ایک دو سالہ بچے اور اس کے چچا کو زخمی کیا گیا کیا ان کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی صوفی بریلوی ملوث تھے؟

اس وقت اپریل کا چوتھا مہینہ چل ہے اگر پاکستان کی ریاست ‘فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی’ کے عمل سے گزر کر صوفی بریلوی ریڈیکل ازم کے دور میں داخل ہوگئی ہے تو کیا علی ارقم ہمیں بتا سکتے ہیں کہ ان چار مہینوں میں پورے پاکستان میں جتنے حملے شیعہ، صوفی سنّی، اعتدال پسند دیوبندی، کرسچن ، شیعہ اور احمدیوں پہ ہوئے ان میں کسی ایک واقعے میں دہشت گردی کی ذمہ دار صوفی بریلوی تھے؟

علی ارقم چالاکی اور علمی بددیانتی کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔وہ پاکستان میں تکفیری دیوبندی ہلاکت انگیز مشین اور اس کی نظریہ ساز فیکڑی کو ‘مظلوم’ اور ریاست کے اس ہلاکت انگیز مشین اور نظریہ ساز فیکڑیوں کے خلاف ‘نیم دلانہ’ آپریشن کو صرف اور صرف منظور پشتین اور علی وزیر کے دورہ حقانیہ کو درست ثابت کرنے کے لیے ‘ مکمل طور پہ کامیاب’ اور ‘طالبان ازم/ تکفیری دیوبندی ریڈیکل ازم’ کے مکمل طور پہ ‘ختم ‘ ہوجانے کو ثابت کرنے پہ تلے ہیں۔جبکہ علی ارقم سمیت ان کے حلقے سے تعلق رکھنے والے لبرل یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستانی ریاست نے نہ تو ‘جہادیوں/تکفیریوں’ کے خلاف آپریشن ٹھیک طرح سے کیے اور نہ ہی نیشنل ایکشن پلان ٹھیک طرح سے نافذ کیا۔مگر آج علی ارقم ہمیں بتارہے ہیں کہ ریاست کا سپاہ صحابہ ، تحریک طالبان پاکستان اور تکفیری دیوبندیوں کے خلاف آپریشن اور کاروائی انتہائی کامیاب رہی ہے اور اب سپاہ صحابہ اور طالبان تو ‘بیچارے’ اپنے خلاف ریاستی جبر پہ بولنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔کیا ہم علی ارقم اور ان کے دیگر ساتھی جو ‘پوسٹ طالبان و پوسٹ تکفیری دیوبندی دور’ کی اصطلاح استعمال کرکے ‘ صوفی بریلوی تکفیری ریڈیکل دور’ کی دہائی دتے ہیں یہ سوال کرسکتے ہیں کہ بھیا اگر ریاست نے طالبان ازم کا خاتمہ کردیا ہے تو پھر پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں ‘ یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے’ کے نعرے کیوں لگتے ہیں؟ اور پشتون تحفظ مومومنٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں جن ‘سرکاری طالبان دفاتر’ کو آگ لگانے کی خبر دی تھی وہ کیا تھے؟ کیا پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ نے ‘سپاہ صحابہ پاکستان/لشکر جھنگوی’ کے بلوچستان میں بنائے جانے والے ڈیتھ اسکواڈ سے ہاتھ اٹھالیا ہے؟ اور پاکستان کا انگریزی پریس کا لبرل سیکشن حافظ سعید اور اس کی ملی مسلم لیگ بارے جو شور مچاتا رہا ہے وہ کیا تھا؟ کیا سپاہ صحابہ پاکستان/ اہلسنت والجماعت نے اینٹی شیعہ تکفیری تحریک اور مہم بند کردی ہے؟ کیا جامعہ حقانیہ ، لال مسجد ، دارالعلوم بنوریہ، جامعہ فاروقیہ سمیت تکفیریت اور جہاد ازم پھیلانے والے مدارس توبہ تائب ہوگئے ہیں؟

علی ارقم سمیت درجنوں لبرل پشتون دانشور تکفیری دیوبندی ازم کی جانب اپنے معذرت خواہانہ رویے کو چھپانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی بددیانتی تو یہ ہے کہ بریلوی مکتب فکر کے مذہبی انتہا پسند ٹولے تحریک لبیک یارسول اللہ /خادم رضوی گروپ کو جن کی تنظیم ابتک پورے پاکستان میں کسی ایک دہشت گردی کے واقعے میں ملوث نہیں پائی گئی اور نہ ہی ابتک اس تنظیم کے لوگ کسی دوسری مذہبی کمیونٹی کی عبادت گاہ، کالونی، جلسہ، عبادتی پروگرام یا تہوار وغیرہ پہ حملے میں ملوث ہے کو زبردستی تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی ، داعش، القاعدہ جیسی تنظیموں کے سرپرستوں کی جگہ لینے والا نیٹ ورک ٹھہرا رہی ہے۔علی ارقم دارالعلوم حقانیہ اور لال مسجد جیسوں کی جگہ جب خادم رضوی گروپ کو دیتے ہیں تو کیا وہ بہت بڑا جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے؟ کیا وہ شیعہ نسل کشی، کرسچن، احمدی، ہندؤ، صوفی سنّی اور اعتدال پسندی دیوبندیوں پہ حملہ کرنے والی اصل قوت تکفیری دیوبندیت شناخت کو چھپانے کے مرتکب نہیں ٹھہرجاتے؟

میں یہاں علی ارقم کے مضمون کے دو پیراگراف اپنے پڑھنے والوں کے لیے شئیر کررہا ہوں۔پہلا پیرا گراف

False binary

پہ مشتمل ہے اور پاکستان کی ریاست کی فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی کی بات کرتا ہے جو قطعی غلط ہے۔پاکستانی ریاست کے اداروں جن میں مقننہ اور انتظامیہ اور عدلیہ تینوں شامل ہیں بلکہ غیر سرکاری چوتھا ستون مین سٹریم میڈیا بھی شامل ہے اس کا جہاد ازم، تکفیر ازم، دیوبندی-سلفی عسکریت پسندی کو بطور پراکسی استعمال کرنے اور اس کی طرف دوستانہ جھکاؤ رکھنے کا رویہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔پاکستان کے اندر ریاستی اداروں میں بیٹھی تزویراتی گہرائی اور ڈیپ سٹیٹ پالیسی کی حامی لابی اور قوتوں نے دیوبندی عسکریت پسندی کو بڑے موثر ہتھیار کے طور پہ استعمال کرنے کی روش میں تبدیلی نہیں کی ہے۔ہاں ان کا پاکستان کے اندر فرقہ پرست کاروائیوں میں ملوث گروپوں کی جانب نیم دلی والا رویہ ضرور ہے۔اگر پاکستان کی ریاست فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی سے گزر رہی ہوتی تو ‘احسان اللہ احسان’ قوم کا بیٹا بنکر پشتونوں کے سینے پہ دال نہ پیس رہا ہوتا۔

دوسرا پیراگراف صاف صاف طالبان، شیعہ و صوفی سنّی نسل کشی اور کرسچن و احمدیوں پہ حملوں میں ملوث سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کے عسکری ونگ لشکر جھنگوی جو اب داعش کے نام سے سرگرم ہے کو ‘مظلوم، بیچارے’ بناکر پیش کرنے کی کوشش ہے۔اور یہ سب علی ارقم نے منظور پشتین اور علی وزیر کے دورہ حقانیہ کو درست ثابت کرنے کے لیے کیا ہے۔وہ دور کی کوڑی لاتے لاتے خود بری طرح سے بے نقاب ہوگئے ہیں۔

ویسے بھی پاکستان کی ریاست فرقہ ورانہ شناخت کی تبدیلی کے جس عمل سے گزر رہی ہے اس میں فتوے کا ہتھیار دیوبندیوں کے ہاتھ سے نکل کر صوفی بریلوی ریڈیکل فورسز یعنی خادم رضوی اینڈ کمپنی کی طرف شفٹ ہوگیا ہے اور اس نے گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا کی درگاہ کو مورچہ بنایا ہے کسی مدرسے کو نہیں۔

پاکستان کے تناظر میں ہم پوسٹ طالبان دور میں ہیں۔طالبان نواز قوتیں آج خود بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے اس ریاستی صوابدید کے نشانے پر ہیں، جو انہیں اس وقت طالبان سے لڑائی کے دوران عطا کی گئی تھی، یا اسے بادل نخواستہ جائز مان لیا گیا تھا۔نتیجہ یہ ہے کہ آج جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی شکایات ان گروہوں، تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو ہے، جو طالبان اور اینٹی طالبان کی تقسیم میں لکیر کے اس جانب تھیں۔ اسی لیے ایم کیو ایم، شیعہ تنظیمیں، سندھی قوم پرست اور سول سوسائٹی کے لوگ جبری گمشدگیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔رہ گئی طالبان کی حمایتی مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیمیں، وہ تو اپنے کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں اور مسنگ پرسنز کا نام بھی زبان پر نہیں لاسکتیں۔سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت) سے پوچھ لیں یا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق وزیر مولانا فضل علی حقانی سے پوچھ لیں جو جبری طور پر گمشدہ اپنے ذاتی محافظ کا نام زبان پر لانے کے روا دار نہیں۔

http://nuktanazar.sujag.org/manzoor-pashteen-haqqania-post-…

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*