سبط جعفر جیسے استاد قتل کیوں ہوجاتے ہیں – عامر حسینی

آج اٹھارہ مارچ 2018ء ہے۔اور آج سے پانچ سال پہلے اسی دن پروفیسر سبط جعفر پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج لیاقت آباد(لالو کھیت) کراچی اپنی موٹر سائیکل پہ گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک سپیڈ بریکر ان کی بائیک جیسے ہی آہستہ ہوئی تو موٹر سائیکل پہ سوار دو افراد نے ان پہ نائن ایم ایم پسٹل سے فائر کھول دیا۔ان کو متعدد گولیاں ماری گئی تھیں اور وہ موقعہ پہ ہی شہید ہوگئے۔اپریل 2013ء میں ان کے دو قاتل گرفتار کرلیے گئے۔اس وقت کے ایس ایس پی فیاض احمد نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ پروفیسر سبط جعفر کا قتل سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کے کارکن شیخ محمد اطہر عرف خالد اور محمد شاہد عرف چورن نے کیا۔یہ دونوں سپاہ صحابہ پاکستان کے رکن تھے اور ساتھ ہی لشکر جھنگوی کے بخاری گروپ کا حصّہ تھے جس کا الحاق تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

پروفیسر سبط جعفر،استاد سبط جعفر کے نام سے مشہور تھے۔وہ کراچی کے تعلیمی، سماجی فلاحی اور ادبی حلقوں میں بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ان کے شاعری اور تعلیم کے میدان میں سینکڑوں شاگرد تھے۔کئی ادبی و سماجی تنظیموں کے قیام میں انھوں نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔انتہائی درویش صفت آدمی تھے۔برسوں سے لوگ ان کو ایک موٹر سائیکل پہ سوار پورے شہر میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں آتے جاتے دیکھتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ آپ جب بھی ان کو مدد کے لیے پکاریں گے استاد موٹربائيک پہ آپ کے پاس حاضر ہوجائیں گے۔اور اس معاملے میں وہ رنگ،نسل،ذات پات،فرقہ،برادری کسی چیز کی پرواہ نہیں کریں گے۔ان کے قتل نے کراچی میں بسنے والے ہر شخص کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

یہاں پہ سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اتنا ہر دل عزیز اور درویش صفت آدمی کو کیوں مارا گیا؟ان کو مار کر کن مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے معاملہ کرتے ہوئے پاکستان کا مین سٹریم میڈیا ابہام پرستی،جواز مائل یا بعض اوقات ذمہ داران کی شناخت سے نفی کی جانب چلا جاتا ہے۔

پاکستان کے قیام سے قریب قریب 14 سال پہلے 1929 کے آخر اور 1930 کے آغاز میں لکھنؤ میں دارالعلوم دیوبند سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالشکور لکھنؤی،لاہور سے تعلق رکھنے والے احراری دیوبندی مولوی اظہر علی نے آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف اچانک سے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے تکفیری مہم شروع کی۔اور ایسے شواہد موجود ہیں کہ دیوبندی سخت گیر مولویوں کی اس تکفیری مہم کے پیچھے آل انڈیا کانگریس میں موجود مہا سبھائی عناصر تھے جنھوں نے ان مولویوں کو کافی پیسہ فراہم کیا۔

حال ہی میں آکسفورڈ پریس پاکستان سے چھپنے والی کتاب’ جمال میاں-دی لائف آف مولانا جمال الدین عبدالوہاب فرنگی محلی بھی ہمیں اس مسئلے پہ کافی روشنی ڈالتی محسوس ہوتی ہے کہ کیوں دیوبندی علماء کے کانگریس نواز دھڑے جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کی قیادت نے تکفیری مہم کا آغاز کیا۔

اس کتاب کے مصنف فرانسس رابنسن نے بہت عرق ریزی سے تحقیق کرکے دارالعلوم فرنگی محل کے مولانا عبدالباری فرنگی محلی ،ان کے بیٹے مولانا جمال الدین عبدالوہاب فرنگی محلی کا خلافت کمیٹی میں جمعیت علماء ہند کی دیوبندی قیادت اور بعد میں بننے والے مجلس احرار کے ابن سعود کی طرف جھکاؤ اور صوفی سنّی مسلمانوں کو دھوکا دینے کی تفصیل مہیا کی ہے۔اور بتایا ہے کہ اس کے بعد دارالعلوم فرنگی محل کا جھکاؤ آل انڈیا مسلم ليگ کی طرف ہوگیا۔اور مولانا عبدالباری فرنگی محل کے بیٹے مولانا جمال الدین فرنگی محلی نے لکھنؤ کے راجہ آف محمود آباد، ممبئی پریذیڈنسی کے اصفہانی برادران کے ساتھ ملکر خاص طور پہ یوپی،سی پی ، بنگال اور ممبئی پریذیڈنسی میں کانگریس نواز دیوبندی دھڑے کے مولویوں کا اثر توڑنے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔

دارالعلوم فرنگی محل اور راجا آف محمود آباد کے درمیان باہمی تعلقات کی ایک علامتی اہمیت یہ تھی کہ یہ صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان مثالی ہم آہنگی کا سبب بن رہی تھی۔یو پی،سی پی،بنگال،اور ممبئی کے اندر آل انڈیا مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کانگریس کو بوکھلادیا تھا اور جو سرمایہ دار اور زمین دار جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کو سرمایہ فراہم کرتے تھے ان کا دباؤ بھی مولویوں پہ بڑھ گیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح،راجا آف محمود آباد،خان لیاقت علی خان،خواجہ ناظم الدین ؛ایم ایچ اصفہانی اور دیگر صف اول کے لیگی قائدین یا تو شیعہ تھے یا صوفی سنّی تھے۔ان کو نیچا دکھانے کے لیے احرار اور جمعیت علمائے ہند کے مولویوں نے اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی سنّی بیانیہ اختیار کیا۔اور ان کی پوری کوشش تھی کہ مسلمانوں کے درمیان شیعہ-سنّی منافرت کی آگ بھڑکادی جائے اور اس طرح سے آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست کو بھی غیر موثر بنادیا جائے۔

اس مہم کے پیچھے خود بنیے ساہوکاروں اور بزنس برادری کا بھی مفاد وابستہ تھا۔اصفہانی برادران،سیٹھ حبیب، آدم جی اور ایسے ہی کچھ اور مسلم سرمایہ دار کمیونٹی خاص طور پہ ممبئ اور کلکتہ کے اندر سے اپنے بزنس کو دیگر علاقوں میں پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔اصفہانی اور آدم جی کا کاروبار مڈل ایسٹ،افریقہ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے شہروں میں پھیل رہا تھا اور اس میں ان کا مقابلہ ہندؤ مرکنٹائل بزنس کمیونٹی سے تھا۔اور اس وقت کی ہندوستانی سوسائٹی میں فرقہ پرست تحریکوں کے پیچھے اس تضاد کا بھی بڑا دخل تھا۔اور جمال الدین فرنگی محلی کو بھی اصفہانی برادران نے تجارت میں گھسیٹ لیا تھا،اس بارے میں جمال الدین نے بتایا

،
‘Jinaah had asked Mirza Ahmed(Isphani)to help Jamal Mian. He said,according to Mirza Ahmed: ‘The Maulwis and Ulemaof Jamiatul Ulama are accusing me a lot of problems…. But I have met one young Maulwi who is equalto all of them and he is great orator.I went to him to stand on his feet so he does not have any financial problems.’
Jamal Mian,P126,Oxford Press Pakistan

جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام جن کو کانگریس پورے ہندوستان کے مسلمانوں کا ترجمان بناکر پیش کرتی تھی اور آل انڈیا مسلم لیگ کو وہ ایک فرقہ پرست جماعت بناکر دکھاتی اور اس نے اپنے حامی کانگریسی ملّاؤں کی صوفی سنّی ، شیعہ اور احمدیوں کے خلاف سرگرمیوں سے آنکھیں بند کررکھی تھیں،جیسے اس نے ہندؤ مہا سبھائیوں کی سرگرمیوں پہ آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔حقیقت میں کانگریس مسلمانوں کے درمیان بدترین فرقہ پرستی کا کارڈ دیوبندی انتہا پسند مولویوں کے سہارے کھیل رہی تھی۔اور اس کھیل کی یوپی کے اندر سب سے بڑی مزاحمت دارالعلوم فرنگی محل کے فرزند ارجمند مولانا جمال میاں اور راجا آف محمود آباد کی طرف سے کی جارہی تھی۔یہ حقیقت ہے کہ صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کانگریسی ملّاؤں کی سازش کا ادراک کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔اور تو اور خود دیوبندی علماء میں مولوی اشرف علی تھانوی کی قیادت میں بھی ایک گروپ دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کی سیاست کو پہچان گیا تھا اور ان سے الگ ہوگیا تھا۔راجا آف محمود آباد کا مولانا جمال الدین فرنگی محلی سے کیا تعلق تھا،اس سے پہلے آپ راجا آف محمود آباد کے بارے میں تھوڑا سا جان لیں۔

The Raja Mahummad Amir Ahmad Khan of Mahmudabad was arguably an even closer friend of Jamal Mian Than Dr Faridi.The two were distantly related. But the Raja,as the largest Musim landholder in the UP,lived a different life with differen responsibilities. Neverthless, they shared a love of Urdu and Persian poetry(the Raja’s Takhullus was ‘Mahboob’..) They were both particularly devout. This said,that Raja was a Shia, indeed a prominent supporter of a Shia missionary college, the Madrasat-ul-Waizeen and Jamal Mian was a devout Sunni seemed to make no difference to their personal coloseness.
Jamal Mian..P140-41 Oxford Press Pakistan

ایک خط میں راجا آف محمود آباد جمال میاں کو لکھتے ہیں

Maulvi Hazrat Hujjatul Islam,Faqih ul Mominin, Moin ul Millet, Qari o Hafiz ul Quran, Maulvi, Allama Jamaluddin Abdul Wahab Saheb, Sullamahu, I give my respect to your letter,affection,truthfulness and wisdom…the eye of effection which you have bestowed on this poor,wretch faqir,Amir.We got the lawyer,sought an omen(Istakhara)and turned this lawyer into Quaid-i-Azam.”

انیس سو چالیس کے ایک خط میں انہوں نے لکھا

“Sarkar Maulana I wish you Slaams. The Mullah runs to Masjid and I run to you.”

تو ہندوستان کے سب سے اہم اور بڑے صوبے کے دو بڑے مسالک سنّی اور شیعہ کے دو انتہائی اہم اور بڑے اثر کے حامل سیاست دانوں کے درمیان اس ہم آہنگی نے واقعی آل انڈیا کانگریس اور اس کے اتحادی مولویوں کو گڑبڑا دیا تھا۔کانگریسی دیوبندی مولویوں نے اس کا توڑ اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی سنّی پروپیگنڈے سے کیا اور شیعہ اور صوفی سنّی اسلام دونوں کے خلاف کفر،شرک اور بدعت کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا۔

پاکستان کی تشکیل ان مولویوں کے لیے بہت بڑی ہزیمت اور شکست کا باعث تھی اور انھوں نے اس کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے اندر اپنے فرقہ پرستانہ ڈسکورس کو پھیلانا بند نہ کیا۔اور یہ قائد اعظم محمد علی جناح، خان لیاقت علی خان،جمال میاں،راجا آف محمود آباد سمیت کئ صف اول کے سیاست دانوں کی شیعہ اور صوفی سنّی شناخت کو کبھی فراموش نہیں کرسکے۔اور دارالعلوم دیوبند کے اندر سے اٹھنے والے تکفیری فتنے نے اپنے آپ کو منظم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسّی کی دہائی میں دارالعلوم دیوبند کے تکفیری فاشسٹ منظم نیٹ ورک کو آل سعود کی ایرانیوں سے لڑائی،سی آئی فنڈڈ افغان جہاد اور جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے مزید پھیلنے اور اپنی عسکریت پسند مشین کو اور ہلاکت انگیز بنانے کا موقعہ فراہم کردیا۔انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کی شکل میں اس تحریک کو پھر سے زندہ کیا گیا جو مجلس احرار اور جمعیت علماء ہند کے مولویوں نے یوپی اور پنجاب میں شیعہ اور صوفی سنيوں کے خلاف شروع کی تھی۔

اس تکفیری مہم کا سب سے بڑا ہدف محرم اور میلاد،عرس و میلوں کی ثقافت تھی۔اور اس ثقافت کے جتنے بھی پروان چڑھانے والے تھے وہ اس تکفیری فسطائی تحریک کے دشمن ٹھہرگئے۔اور ان کے خلاف بدترین پروپیگنڈا مشین متحرک ہوئی اور ساتھ ساتھ پاکستان میں صلح کلیت اور سب کے ساتھ امن کا پرچار کرنے اور آل بیت اطہار سے محبت اور وابستگی کا اظہار کرنے والے شاعر،دانشور،ادیب ان کے پروپیگنڈے،سعودی فنڈنگ،ضیاء الحقی اسٹبلشمنٹ کی مدد سے تیار ہونے والے عسکریتی دہشت گرد نیٹ ورک کا سب سے بڑا ہدف قرار پائے۔

سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت دیوبند کے اندر سب سے بڑا منظم تکفیری فاشسٹ تنظیمی نیٹ ورک ہے جس کی سرپرستی میں تکفیری عسکریت پسند ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔اس کا سب سے بڑا مقصد شیعہ اور سنّی مسالک کے درمیان نفرت،دشمنی اور لڑائی کو پروان چڑھانا ہے اور یہ صوفی اسلام سے بھی اسی لیے نفرت کرتے ہیں کہ وہ ان کی منافرت پہ مبنی تحریک کو مدد فراہم نہیں کرتے اور پاکستان میں شیعہ سنّی جنگ کا میدان سجانا نہیں چاہتے۔

استاد سبط جعفر اپنی شاعری اور تعلیمی میدان میں خدمات کے زریعے سے شیعہ اور سنّی مسلمانوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔وہ محرم کی ثقافت کے مشترکہ ہونے پہ اصرار کرتے اور میلاد و عرس و میلوں کو بھی اپنی ثقافت قرار دیتے تھے۔سپاہ صحابہ کی تکفیریت کا مشن اس سے متاثر ہورہا تھا۔انہوں نے ایک دن استاد سبط جعفر کے فن کے سبب ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے معروف صوفی سنّی قوال امجد صابری کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔امجد صابری کے قاتلوں نے خود اعتراف کیا کہ ان کو امجد صابری کے شیعہ اور سنّی مخلوط اجتماعات میں آنے جانے پہ سخت تکلیف تھی۔

تکفیری فاشزم کا نصب العین یہ ہے کہ جو آدمی بھی شیعہ-سنّی مشترکات پہ زور دے اور ان کے درمیان ہم آہنگی اور میل جول پہ اصرار کرے اس کو کافر،مرتد، گستاخ اور بے دین کہہ کر قتل کردو۔

استاد سبط جعفر، امجد علی صابری، پروفیسر ڈاکٹر حیدر علی سمیت سینکڑوں نامور لوگ صلح کلیت اور شیعہ-سنّی ہم آہنگی کے پرچارک ہونے کی وجہ سے قتل ہوگئے۔اور قاتل ایک ہی ذہنیت تھی جسے ہم تکفیری دیوبندی ذہنیت کہتے ہیں۔اور اس بات پہ تکفیریوں کو تو مرچیں لگتی ہی ہیں ساتھ ساتھ نام نہاد لبرل،ترقی پسند اور کئی ایک لیفٹ کا ماسک چڑھائے لوگوں کے منہ بھی بگڑ جاتے ہیں۔لیکن سچ بات کہنے سے ہمیں کون روک سکتا ہے۔

استاد سبط جعفر کے قتل سے شیعہ-سنّی يکانگت میں اور اضافہ ہوا ہے۔اور تکفیری فاشزم اور بے نقاب ہوا ہے۔جس طرح پوری دنیا میں تکفیری فاشزم کی علمبردار جماعتوں اور دہشت گردوں کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے پاکستان میں بھی ان کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔استاد سبط جعفر اور امجد علی صابری جیسوں کا خون ناحق رائیگاں نہیں جائے گا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*