شام کا معاملہ کیا ہے؟ – عثمان قاضی

نوٹ :یو این ڈی پی کے لبنان میں ایڈوائزر عثمان قاضی شام گئے تھے اس لئے شام کے معاملے میں وہ چشم دید گواہ کی حیثیث رکھتے ہیں۔

باغیوں کا آخری ٹھکانا دمشق کے مرکز سے چھ کلومیٹر پر شروع ہونے والے مضافاتی علاقے “غُوطہ” کے مشرقی حصے میں ہے۔ جنگ سے پہلے یہ ایک پُر فضا جگہ تھی جہاں چیری اور سیب کے باغات تھے۔ یہ در حقیقت بہت سے دیہات پر مشتمل علاقہ ہے اور اردن کی سرحد سے قریب پڑتا ہے۔ شامی افواج نے اسے دو برس سے مکمل گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس تک اسلحے کی رسد کو منقطع کردیا ہے۔ باغیوں کے ساتھ یہاں دو لاکھ کے قریب سویلین آبادی بھی محصور ہے۔ اشیاے خورد ونوش بمشکل اقوام متحدہ اور ہلال احمر کی وساطت سے امدادی قافلوں کی شکل میں پہنچائی جاتی ہیں اور ان کی مقدار اور کیفیت پر شامی حکومت کڑی نظر رکھتی ہے۔

مقامی لوگوں کی یہاں سے نقل مکانی ممکن نہیں ہو پا رہی جس کی متعدد اور متضاد وجوہات سننے میں آتی ہیں۔ علاقے سے نکل پانے والے ایک دو لوگوں نے رازداری کی شرط پر بتایا کہ سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ علاقے پر قابض القاعدہ اور فری سیرین آرمی کے جنگجو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر کوئی جان جوکھم میں ڈال کر نکل جاے تو اس کے پیچھے رہ جانے والے اہلِ خاندان کو اس کی سخت ترین سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ نکل آنے والوں کو شامی فوج شدید شک کی نظر سے دیکھتی ہے اور پریشان کرتی ہے۔ ذرا سے شبہے پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے یا اس بد تر صورت حال پیش آسکتی ہے۔

بھاری اسلحہ تو باغیوں کے پاس ختم ہو چکا ہے چنانچہ وہ بلا ناغہ ہر روز بیسیوں مارٹر گولے اندھا دُھند دمشق شہر پر پھینکتے ہیں جو اکثر قدیم شہر کے گنجان محلوں میں گرتے ہیں جن سے سینکڑوں سویلین مرد، زن اور بچے ہلاک یا معذور ہو چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ باغیوں میں بڑی تعداد غیر ملکیوں کی ہے جن کی اپنے ممالک کو واپسی ناممکن، یا کم از مخدوش ضرور ہے چنانچہ وہ محفوظ راستے کی پیشکش سے فائدہ اٹھانے سے بھی انکاری ہیں۔ مستقل مارٹر گولوں کے جواب میں شامی فضائیہ نے مشرقی غوُطہ پر حملوں کا آغاز کیا ہے جو باغیوں کے ٹھکانے بستیوں کے بیچوں بیچ واقع ہونے کے سبب اکثر سویلین آبادی کی اموات اور معذوری پر منتج ہوتے ہیں۔

مشرقی غوُطہ شام میں القاعدہ اور مغرب نواز باغیوں کا آخری مرکز بچا ہے۔ اس سے پھینکے جانے والے مارٹر گولے کئی ماہ سے دمشق کے شہریوں کی زندگیاں اجیرن کیے ہوے ہیں۔ اس خادم کے گمان کے مطابق شامی حکومت نے ایک حکمت عملی کے تحت اسے طرح دیئے رکھی کہ راے عامّہ اس کے مکمل خلاف ہو جاے۔ دو ہفتوں سے مشرقی غُوطہ پر فضائی اور زمینی حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جن میں ہونے والی سویلین ہلاکتوں کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں مگر اس سے مفر ممکن نہیں کہ بے گناہ لوگ اس میں گھُن کے مانند پِس رہے ہیں جو ہر لحاظ سے ناقابل قبول اور لائقِ مذمّت ہے۔

جو امر ذرا محّلِ نظر ہے وہ یہ ہے کہ کئی ماہ سے جاری ظالمانہ ناکہ بندی اور مارٹر گولوں سے دمشقی شہریوں کی ہلاکت کی کسی کو خبر نہ ہوئی مگر جوں ہی غُوطہ پر باقاعدہ فوج کے حملوں کا آغاز ہوا، مغربی انسانی حقوق کی تنظیموں کے بیانات کو اچانک ذرائع ابلاغ پر نمایاں جگہ ملنے لگی اور دردناک لائیو ویڈیوز منظر عام پر آنے لگیں۔ یاد کیجیے، کوئی سال بھر قبل، داعش کے مرکز رقّہ پر امریکی فضائیہ نے کارپٹ بمباری کی جس سے سینکڑوں محصور سویلین ہلاک اور ہزاروں معذور اور بے گھر ہوے۔ کیا اُس موقع پر بھی ایسی ہاہاکار مچی؟ ابھی ایک ہفتہ قبل کُرد گروہ جب داعش کو کامیابی سے اپنے علاقوں سے نکال چُکے تو اچانک ترک افواج نے عفرین نامی کُرد اکثریتی قصبے پر بمباری کا آغاز کردیا جس میں بیسیوں سویلین ہلاکتیں ہوئیں۔ عین اسی موقع پر اسرائیلی فضائیہ نے بھی دمشق کے اطراف پر میزائل داغنے اور جنگی طیاروں سے بم باری کا راگ چھیڑ دیا جن میں سے ایک ایف سولہ طیارہ بھی مار گرایا گیا۔ کیا کسی کو خبر ہوئی؟

اس سے قبل جب حلب میں محصور آبادی القاعدہ اور فری سیرین آرمی پر ہونے والے حملوں کا شکار بن رہی تھی، تو “وائٹ ہیلمٹ” نامی مشکوک تنظیم اور نامعلوم شہریوں کی جانب سے “حلب سے آخری پیغام” کے نام سے لائیو ویڈیوز کا غلغلہ مچا تھا۔ کچھ محققین کے مطابق ان میں سے اکثر ویڈیوز جعلی ثابت ہوئیں جو کسی سٹوڈیو میں تیار کی گئی تھیں، جیسا کہ ان میں بروے کار لائی جانے والی جدید فلمبندی کی “تھری سکسٹی کیمرا” تکنیک کے استعمال سے اندازہ ہوتا ہے۔ ایک حقیقت واضح ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں کے سبب شام کا ٹیلی کام کا نظام فرسودہ ہے اور زیادہ سے زیادہ “ٹُو جی” کی انٹر نیٹ رفتار دستیاب ہے جس پر آواز کی ترسیل بھی بہ مشکل ہوتی ہے لائیو ویڈیو تو درکنار۔

اس میں شک نہیں کہ شام کی جنگ میں انسانی حقوق کی پامالی مہیب اور الم ناک ہے۔ مگر اس کا ارتکاب ہر جانب سے ہو رہا ہے اور ہر اس فریق کی مذمّت ضروری ہے جو ان حرکات کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بشار الاسد کی حکومت کا انسانی حقوق کا ریکارڈ انتہائی داغ دار ہے لیکن اس حمام میں کسی بھی متحارب فریق کے تن پر کپڑے نہیں ہیں۔ یہ ساری کی ساری جنگ جغرافیائی سیاسی مفادات کے ٹکراو کے سبب ہے اور اس میں فرقہ واریت کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اگر کسی طرح سے کھینچ تان کر بشار الاسد کی مفروضہ علویّت کو تشیّع سے نزدیک ثابت بھی کر دیا جاے اور ایرانی فوجی معاونت کو اس سے جوڑ دیا جاے تو روس کی مداخلت کو کس فرقہ ورانہ پیمانے سے ماپا جاے گا؟ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ، رجب طیب اردگان اور بنجمن نیتن یاہو کو کس منطق سے اہل سنّت کا مشترکہ حامی بتایا جائے گا؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*