کابل بم دھماکہ: تکفیری دیوبندی دہشت گردی پہ کمرشل لبرل کے ہاں سناٹا کیوں ہے؟ – گل زہرا رضوی

کابل بم دھماکہ تکفیری دیوبندی دہشت گردی بارے ایک اور المناک یاد دہانی ہے۔

تکفیری دیوبندیت کا پاکستان اور افغانستان کے اندر شیعہ کا قتل عام بہت چالاکی اور آسانی سے کمرشل لبرل مافیا کی کوششوں سے چھپادیا جاتا ہے تاکہ داعش و القاعدہ و طالبان سے ڈھیلے ڈھالے اتحاد میں جڑی تنظیموں سپاہ صحابہ /اہلسنت والجماعت وغیرہ بارے عوام کی اکثریت کی رائے منظم مزاحمت بنکر سامنے نہ آسکے۔

کمرشل لبرل اشرافیہ شیعہ کی افغانستان و پاکستان میں نسل کشی پہ اتنی بھی توجہ نہیں دیتی جتنی یہ اس سے کم شدت کی خوفناکی اور المیوں کو دیتی رہتی ہے۔

جو لوگ افغانستان یا پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے ذمہ داروں کی شناخت پہ پردہ ڈالتے ہیں وہ خود بھی اصل میں شیعہ کے قتل کرنے والوں کے بالواسطہ مددگار ہیں۔ کابل بم دھماکے نے ان کے بارے میں اس تاثر کو ان کی خاموشی سے اور تقویت دے دی ہے۔

گزشتہ چند عشروں سے، پاکستان کے کمرشل لبرل نے شیعہ کے قتل اور ان کی نسل کشی کو غلط، بددیانت اور تضاد سے بھری جن دلیلوں سے جائز قرار دینے کی کوشش کی ان میں سے چند ایک تو درج ذیل ہیں:
اول: یہ سعودی بمقابلہ ایران پراکسی وار ہے
دوم: یہ سعودی اور جنرل ضیاء کے حامی ارب پتی مارکسی کسانوں کی طبقاتی جنگ ہے۔
سوم: یہ شیعہ بمقابلہ سنی لڑائی ہے
چہارم: شیعہ کو اہل بیت اطہار سے اپنی محبت و عقیدت اور ان کے مصائب پہ اپنے حزن و غم و عزاداری کو ظاہر کرنے کے لآئنسس اور پرمٹ جاری نہیں کرنے چاہیں۔
پنجم: شیعہ کو داعش سمیت وہابی سورماؤں اور ہیروز پہ تنقید نہیں کرنی چاہئیے
ششم: یہ فسادات ہیں ناکہ ایک کمیونٹی کی نسل کشی ہے۔
ہفتم: یہ شیعہ نسل کشی نہیں بلکہ تاریخ اسلام کے اوائل سے شروع ہونے والی خلافت و امامت کی لڑائی ہے۔

ان بددیانت اور مغالطہ آمیز بیانیوں کے سبب ‘تکفیری دیوبندی دہشت گردی’ ناسور بنکر پوری دنیا مین پھیل گیا ہے۔یہ سنّی،شیعہ،کرسچن،ہندؤ، سکھ، بدھسٹ،یزیدی، دیروزی یہاں تک کہ دھریوں کو بھی نشانہ بناتا ہے۔بنگلہ دیش سے شام اور لندن سے سان برنارڈینو تک تکفیری دیوبندی دہشت گردوں نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔

اگر پاکستان کی لبرل اشراف دانش اس قدر فرقہ پرست، دھوکے باز، فریبی ، بد دیانت نہ ہوتی تو مین سٹریم میں دہشت گردی کی اس جڑ کو پہچان لیا گیا ہوتا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*