سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ اور کمرشل لبرل مافیا – محمد عامر حسینی

لبرل کمرشل مافیا قانون کی حکمرانی کا درس کہاں بھولتا رہا؟

گولیاں مارنے کے بعد پولیس والے وکٹری کا نشان بناتے رہے

یااللہ میری بہن کے قاتلوں کے محل اجاڑ دے۔۔۔۔۔۔ ماڈل ٹاؤن سانحے میں شہید ایک عورت کے بھائی کی فریاد

لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن جون 2014ء پہ ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ ایک ماہ میں ریلیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے،حکومت پنجاب کی جانب سے دائر کردہ دو درخواستیں مسترد کردیں اور لاہور ہائیکورٹ کا یک رکنی فیصلہ برقرار رکھا۔

اس فیصلہ کے آنے بعد لبرل کمرشل مافیا کہ سب ٹوئٹر ہینڈل خاموش اور فیس بک دیواریں صاف ہیں اور یہ خادم رضوی کے دھرنے کے بعد سے سنّی بریلویوں کو دہشت گرد ثابت کرنے پہ مامور ہیں

اس سے پہلے عاصمہ جہانگیر سمیت سارے کمرشل لبرل ڈاکٹر طاہر القادری کو ریاست کا غدار اور ان کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کا مطا لبہ دھرنے کے دوران کرتے رہے

ماڈل ٹاؤن میں دو عورتیں سمیت چودہ افراد کو پنجاب پولیس نے گولیاں مار کر ہلاک کیا اور درجنوں کو زخمی کیا تھا-17 جون 2014ء کو یہ واقعہ ہوا۔

پنجاب حکومت نے مقتولین کے ورثاء کی درخواست پہ ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے، الٹا احتجاج کرنے والی تنظیم پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پہ مقدمے درج کردئے۔

پرائیویٹ استغاثہ کے لئے ورثاء نے لاہور ہائیکورٹ کا رخ کیا،اس زمانے میں اس استعاثہ کوسننے کی نوبت نہ آئی اور بار بار یہ معاملہ زیر التوا رہا۔

اس دوران حکومت پنجاب نے اپنے ہی قائم کردہ یک رکنی انکوائری کمیشن رپورٹ بھی دبالی اور اسے پبلک ہی نہ کیا۔

اس پہ متاثرین نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ،اس رپورٹ کو پبلک کرنے کی۔لیکن کافی عرصہ تک تو اس پہ سماعت ہی نہیں ہوئی ،ایف آئی آر کے اندراج کے لئے دھرنا دینا پڑا۔اس موقعہ پہ چیف آف آرمی سٹاف کی ضمانت پہ ایف آئی آر درج ہوئی۔

کئی بنچ ٹوٹے اور بنے اور پھر تین سال لگ گئے اس رپورٹ کو پبلک کرانے میں۔

اس دورہن پنجاب کے وزیر قانون جو متاثرین اور مقتولوں کے ورثاء کی نظر میں اس سانحے کے تین بڑے ذمہ داروں میں سے ایک ہیں نے ہائی کورٹ کے جج کی مسلکی و فرقہ وارانہ شناخت کا سوال کھڑا کیا،جس نے رپورٹ شایع کرنے کا حکم دیا۔اور رپورٹ لکھنے والے جج کی بھی فرقہ وارانہ شناخت پہ سوال اٹھایا

ان تین سالوں میں پاکستان کی وہ اشراف سول سوسائٹی جو حالیہ و گزشتہ دھرنوں پہ ‘قانون کی حکمرانی ‘ کی تباہی کہتے رہے ہیں،کبھی ان 14 لاشوں کو انصاف ملنے اور اس رپورٹ کی اشاعت کے حق میں بیانات دیتے نظر نہیں آئے۔ان کے منہ پہ تالے لگے رہے

پاکستان کا یہ کمرشل لبرل مافیا کبھی ان چودہ لاشوں کی تصویروں کو سوشل میڈیا پہ شئیر کرکے ‘انصاف کی دہائی’ دیتا نظر نہیں آیا، جتنی دہائی اس مافیا نے حالیہ دھرنے میں ایک پولیس والے پہ ہوئے تشدد کی تصویر کو بار بار جاری کرکے دی۔

تنزیلہ اور صدف یہ دو عورتیں بھی اس سانحہ ماڈل ٹاؤن میں چہرے پہ اور سر پہ لگنے والی گولیوں سے ماری گئی تھیں۔میں چیلنج سے کہتا ہوں ان دو عورتوں کی تصویر اگر عاصمہ جہانگیر ، ماروی سرمد، نجم سیٹھی، اعجاز حیدر،بینا سرور یا ان کے سوشل میڈیا پہ چیختے چنگھاڑتے بچونگڑوں نے شئیر کی ہو بھول کر بھی کبھی تو زرا سامنے لیکر آئیں۔ان سب نے کبھی ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کے لئے انصاف تک کی مانگ نہیں کی۔

میں ایک وڈیو لنک شئیر کررہا ہوں جو اس درندگی کے واقعے کی ایک عینی شاہد لڑکی کی وڈیو ہے۔یہ مافیا ‘قانون کی حکمرانی’ کا بڑا شور مچاتا ہے لیکن اس نے پنجاب حکومت کی اس بربریت پہ چپ سادھے رکھی۔ بلکہ عاصمہ جہانگیر نے اس سانحہ پہ بہت ہی منفی رد عمل اختیار کئے رکھا۔کل تک یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جس جج کو عدالت کی بجائے ‘ کسی مسجد کا مولوی’ دیکھنا چاہتے تھے وہ آج ان کا ہیرو بنا ہوا ہے۔یہ اس کی انصاف پسندی کے گن گارہے ہیں۔ یہ صوفی اہلسنت اور اہل تشیع کی اکثریت بارے متعصبانہ، فرقہ پرستانہ اور تمام تر تضادات سے بھرے موقف رکھ کر بھی لبرل،روشن خیال، غیر فرقہ پرست رہتے ہیں۔اور جو ان کے تضادات کو سامنے لیکر آئے وہ رجعت پرستوں کا حامی ٹھہرجاتا ہے۔

 

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*