الیکشن اور کالعدم تکفیری گروہ اہلسنت و الجماعت ۔ گل زہرا رضوی

خبر یہ ہے ، جو کچھ لوگوں کے لیے کسی اہمیت کی حامل نہیں ہوگی لیکن کچھ کیلئے بہت تشویشناک ہے، کہ کالعدم تکفیری گروہ اہلسنت و الجماعت المعروف سپہ صحابہ کے مرکزی رہنما اورنگزیب فاروقی نے آنے والا الیکشن کراچی کے حلقے PS-128 سے لڑنے کا عندیہ دیا ہے ۔ یہ وہی تنطیم ہے جسے ریاست نے دہشتگردوں سے تعلقات اور دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث ہونے کی باعث بین کر دیا تھا اور یہ وہی اورنگزیب فاروقی ہے جو اپنے فرقہ پرستانہ خیالات اور متشددانہ نظریات کی وجہ سے شیڈول فور میں ہے اور جس پر کئی پاکستانیوں بشمول سول سوسائٹی رہنما خرم ذکی کے قتل کی ایف آئی آر درج ہے ۔

 

اول تو اس گروہ کے رہنما کا الیکشن لڑنا بذاتِ خود نیشنل ایکشن پلان اور الیکشن کمیشن کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ آخر کیوں ایک ایسی تنظیم الیکشن لڑنے کی مجاز ہے جسے آئینِ پاکستان نے بین کر رکھا ہو؟ آخر کیوں ایک ایسی تنطیم اسمبلیوں تک راستہ بنا رہی ہے جس پر کئی ہزار پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ داری ہو؟ یہ تنظیم جو لشکرِ جھنگوی، داعش اور تکفیری طالبان کی ہم نظریہ ہے، اگر ایوان میں اسی طرح پہنچتی رہی تو آنے والا مستقبل کتنا متشدد ہو گا؟ تکفیر کے نام پر قتل کر دینے والی یہ تنظیم اگر حکمران طبقے میں آئی تو پاکستان سے غیر مسلموں کو بوریا بستر لپیٹ لینا چاہئے یا وصیتیں تیار کر لینی چاہیں ۔ شیعہ مسلمانوں کا ذکر اسلئے نہیں کیا کہ وہ پہلے ہی اس گروہ کے نشانے پر ہیں ۔

 

جو بات مزید تشویش ناک ہے وہ یہ کہ اس حلقے PS-128 میں پچھلے انتخابات جیتنے والا ایم کیو ایم کا امیدوار سید وقار حسین شاہ ، اورنگزیب فاروقی کے مقابلے میں محض ۲۰۲ ووٹس لیکر جیتا تھا ۔وقار شاہ کی جیت کیبعد فاروقی نے رد الفساد کو منہ چڑاتے حلقے میں آزادانہ گھومنا پھرنا جاری رکھا، تعلقات بڑھائے، لوگوں کی شادیوں سے لیکر جنازوں تک میں شرکت کی، وعدے وعید ہوئے اور نتیجتا اس بار فاروقی کی جیت کے امکانات کافی واضح ہیں ۔ یہ بھی یاد رہے کہ ملکی مفاد کی ڈگڈگی بجانے والی سیاسی جماعتوں کو محض اپنے پارٹی نمائندے سے سروکار ہے اور کوئی بھی کالعدم جماعتوں کے نمائندوں کیخلاف سیاسی اتحاد یا مشترکہ امیدوار کھڑا کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ (بلکہ الٹا کالعدم جماعتوں کے ووٹ بنک کے چکر میں انہی سے اتحاد بنائے جا رہے ہیں!) ۔ ۲۰۱۳ میں بھی پی پی پی ، پی ٹی آئی اور اے این پی نے حلقے میں ری۔ الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا ظاہرہے جسکا فائدہ باقی رہ جانے والے دو امیدواروں کو ہوا ۔ اگر یہ ملکی مفاد کی داعی پارٹیاں ایک مشترکہ امیدوار کھڑا کر دیتیں تو کالعدم جماعت کے اس رہنما کو وائٹ واش کیا جا سکتا تھا ۔

 

مجھے امیرالمومنین علی ع کا ایک قول یاد آگیا کہ حق اگر منتشر ہو گا تو شکست کھا جائے گا اور باطل اگر متحد ہو تو فتح پا جائے گا ۔ یہ باطل گروہ متحد ہے اور ہماری قوم مرنے کیلئے تو تیار ہے لیکن متحد ہونے کیلئے نہیں ۔ مجھے یاد ہے کیسے سپہ صحابہ کا مرکزی رہنما لدھیانوی تین سال تک اانتخاب میں حصہ لینے کی اجازت طلب کرتا رہا ، تین سال بعد جب اجازت ملی تب بھی بجائے خود میدان میں آنے کے مسرور جھنگوی کے حق میں دستبردار ہو گیا ، نتیجتا مسرور جھنگوی آج صوبائی اسمبلی میں ہے ۔

 

بہرحال، ابھی الیکشن کی گہما گہمی شروع ہی ہوئی ہے ، اب بھی اگر ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کریں تو اس کالعدم گروہ کو شکست ہو سکتی ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کو اسکی روح کے ساتھ لاگو کرنا ہوگا ، الیکشن کمیشن پاکستان کو اس جماعت کے کسی بھی رہنما کو الیکشن لڑنے کی اجازت سے روکنا ہو گا، رینجرز، پولیس کو اس گروہ کو الیکشن کیمپن چلانے سے روکنا ہوگا ، سیاسی جماعتوں کو محض ایک رٹے رٹائے بیانئے سے آگے بڑھ کر واقعا کالعدم گروہوں کابائیکاٹ کرنا ہوگا ۔ اس بار اگر فاروقی جیت جاتا ہے تواسکی ذمہ داری ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں پر بنتی ہے ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*