غامدی مکتب فکر اور خانوادہ رسول – از مولانا محمد زاہد

تمنا عمادی اور عمر عثمانی جیسے ’’اہل قرآن‘‘ کے بارے میں تو اندازہ ہے کہ انہیں خانوادہ نبوی صلی الله علیہ والہ وسلم سے خدا واسطے کا بیر ہے، اس کے لئے بظاہر وہ بعض صحابہ کی عظمت کا نام محض جذباتی فائدہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مجھے لگتا یہ ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگ دین میں عقیدت ومحبت کے عنصر کو بالکل نکال کر اسے محض ایک عقلیت بنانا چاہتے ہیں، جبکہ دین جس طرح علم وعقلیت کا نام ہے اسی طرح کائنات کی عظیم ترین اور خوب صورت ترین قدر محبت بھی اسی دین کا جزو لاینفک ہے، اسی سے عقیدت وجود میں آتی ہے (جس میں اعتدال کی ضرورت مسلمہ ہے)۔ خصوصا ذات رسالت مآب ﷺ سے والہانہ لگاؤ۔ اس لگاؤ کی بڑی علامت آپ کی اولاد سے محبت ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے جاتے ہوئے دو چیزوں کا فرمایا ، قرآن اور عترت، پہلی چیز علمیت کا سرچشمہ ہے اور دوسری عقیدت ومحبت کی سب سے بڑی رمز۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوبکر رضی الله عنہ کا ارشاد آتا ہے ارقبوا محمدا ﷺ فی اہل بیتہ ، اہل بیت کے بارے میں رویہ أپناتے ہوئے محمد مصطفی کو مد نظر رکھو، سید نفیس شاہ صاحب رح اسی کو یوں بیان کرتے تھے کہ اہل بیت کو رسول اللہ ﷺ کی نظروں سے دیکھو۔

اس تمہید کے بعد اصل مدعا کا تعلق مکتب غامدی کی طرف منسوب بعض دوستوں کی حالیہ پوسٹوں سے ہے۔

میں یہ مثالیں دینا نہیں چاہتا تھا لیکن تفہیم کے لئے دے رہا ہوں، دل آزاری ہو تو معذرت، غامدی مکتب فکر کی بعض شخصیات کو ظلما شہید کیا گیا، جس کی ہم بھی مذمت کرتے ، مظلوم کے ساتھ ہمدردی کرتے اور ظلم کو برا کہتے ہیں ، بعض اوقات ایسے مظلوموں کی تاریخِ شہادت پر بعض دوست کوئی پوسٹ لگادیتے ہیں۔ ذرا سوچئے! جب آپ ان کی مظلومانہ شہادت کا ذکر کررہے ہوں اس دوران کوئی یہ کہے کہ یہ تو دیکھو وہ اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے مارے گئے، دیکھیں فلاں کتنے بڑے بڑے عالموں نے کتنا مصلحت پسندانہ رویہ اختیار کیا، ان کی طرح کھل کر یہ باتیں نہیں کیں ، اس طرح کے کئی عالموں نے انہیں سمجھایا بھی ، لیکن نہ مانے، مسئلہ تو ان کی بے احتیاطی کا ہے یہ کوئی راہِ حق کی شہادت تھوڑی ہے، تو ایسا کہنا کیسا لگے گا، حالانکہ ان شہید سے ہمارا رشتہ زیادہ سے زیادہ احترام اور تقدیر کا ہوگا اس طرح کی محبت کا نہیں جو اللہ کے رسول ﷺ کو حسن اور حسین رضی الله عنہم سے تھی۔

یہ شاید کوئی بھی نہ کہہ سکے کہ حضرت حسین رضی الله عنہ کی طرف سے کسی پر زیادتی ہوئی، جو کچھ پرامن طور پر ان کے لئے کرنا ممکن تھا وہ کیا ، جب ’’اتما مِ حجت‘‘ ہوگیا تو اپنی بات پر اصرار بھی نہیں کیا، ہر لمحہ اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنے اور ہر معقول تجویز ماننے کے لئے تیارنظر آتے ہیں، حضرت حسین کی طرف سے کیا زیادتی ایسی ہوئی جس کی سزا وہ ہوتی جو کچھ انہیں اور ان کے خانوادے کو دی گئی۔ جو ہوا ہر پیمانے سے یقینا دنیا کی تاریخ کا ایک بد ترین ظلم تھا۔ اگر ذات رسالت مآب ﷺ کے ساتھ کچھ بھی والہیت کا لگاؤ ہے، اتنا جتنا جناب غامدی صاحب اور ظلما شہید ہونے والے ان کے کسی شاگرد کے ساتھ تو ذرا رک کر سوچئے ، اس واقعے کو اللہ کے نبی کی نظر سے دیکھئے، آپ کی آج کل کی پوسٹیں کہاں کھڑی ہیں اور آپ کہاں کھڑے ہیں۔ چلو مان لیا آپ عقیدت سے زیادہ عقلیت کے تابع ہیں، لیکن ایسی بھی کیا عقلیت ہوئی کہ بنیادی انسانی جذبات سے بھی عاری ہوکر ظلم سے نفرت اور مظلوم سے ہمدردی کے دو بول آپ کے پاس تو کیا ہوتے دوسروں کی زبان پر بھی اس طرح کے بول آپ سے برداشت نہیں ہوپاتے۔ حضرت حسین کے اقدام کی صحیح تکییف زیرِ بحث نہیں، اس پر پھر کبھی بات ہوگی ، تاہم وہ نہ تو معروف معنی میں باقاعدہ عملی مسلح خروج تھا، نہ معاشرے کے امن کو تلپٹ کرنے والی کوئی شورش تھی، نہ آج کل کی تشدد پسندانہ تحریکوں جیسی کوئی تحریک تھی، اس کی نوعیت بالکل الگ تھی اور اس کی ایک خاص قانونی پوزیشن تھی، یوں ہی الل ٹپ معاملہ نہیں

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*