اداریہ تعمیر پاکستان : خادم رضوی کا دھرنا: لبرل کمرشل مافیا پھر بے نقاب ہوگیا

یہ بات امر واقعہ ہے کہ لبرل کمرشل ٹولہ پاکستان میں بار بار دوھرے معیار اپناتا ہے، ہمیشہ اس اس کے موقف میں پایا جانے والا تعصب بے نقاب ہوجاتا ہے۔اور اس مرتبہ پھر اسلام آباد میں جاری تحریک لبیک یارسول اللہ و سنّی تحریک کی جانب سے جاری دھرنے بارے موقف میں یہی دوہرے معیار اور تعصب بے نقاب ہوا ہے۔

اسلام آباد میں راستوں کو بند کرنا،اکتا دینے والے اور بدمعاشی پہ مبنی رویہ اپنانے کے ساتھ ساتھ نفرت بھری تقریروں سے یہ بات یقینی ہوگی کہ پاکستان کا کمرشل لبرل گروہ سب سنّی بریلویوں کو ان کی مذہبی شناخت کے ساتھ انتہاپسندوں کے درجے میں گردانے گا۔

لیکن تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے 70 ہزار شہریوں کا قتل اور بلاامتیاز ان پہ ہونے والے حملوں کے باوجود یہی پاکستانی کمرشل لبرل ٹولہ پھر بھی دہشت گردوں،ان کے سہولت کاروں کی دیوبندی شناخت کا کبھی ذکر نہیں کرے گا۔نہ صرف یہ کہ وہ دیوبندی شناخت کا بھولے سے بھی ذکر نہیں کریں گے بلکہ جو اس شناخت بارے حقیقت کو بیان کرے گا وہ اسے ‘فرقہ پرست’ گردانے گا۔

ہم ایک عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کے اس دوھرے معیار کی وجہ سے دوسرے مذہبی گروہ اور مسالک کے اندر سے بھی ایسے گروپ اور ٹولے سامنے آئیں گے جو تکفیری دیوبندیت کا سا رویہ اور پوزیشن اختیار کریں گے۔

پاکستان کے سنّی بریلویوں نے ہزاروں جانوں کا نقصان برداشت کیا ،جب دیوبندی خودکش بمباروں نے صوفی مزارات کو ملک بھر میں نشانہ بنایا۔صوفیاء کے مزار میں سے اکثر کا کنٹرول ان صوفی سنّی مسلمانوں کے پاس ہے جن کو جنوبی ایشیا میں سنّی بریلوی کہا جاتا ہے۔کئی عشروں سے،یہ سنّی بریلوی طالبان کے سامنے کھڑے رہے اور انہوں نے اپنے علماء،مشائخ اور کارکنوں کے ٹکڑے ہوتے دیکھے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سول سوسائٹی کے کئی حصّے ان کے مصائب پہ غیر ہمدردانہ رویہ اختیار کئے رہے،بلکہ سول سوسائٹی کے کئی حصّوں نے اس معاملے پہ ان کے ساتھ یک جہتی کرنے کے لئے مختلف جواز فراہم کرنے والی بائنری تشکیل دیں۔اس وجہ سے یہ بات فطری اور قدرتی تھی کہ پاکستان کے اندر ایک معتدبہ تعداد نے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ معاشرے میں دوہرے معیارات کی فضا کے اندر ان کی بقا کہ لئے ضروری ہے کہ وہ بھی ویسا ہی رویہ اپنائیں جو ان کو نشانہ بنانے والوں نے اختیار کیا ہوا ہے۔دوسروں نے ریاست اور لبرل دانشوروں کی بہت سی پرتوں کی جانب سے تکفیری دیوبندی دہشت گردی کی حمایت اور اس پہ پردہ ڈالتے دیکھ رکھا ہے۔

کیا کوئی دیانت داری سے یہ سوچ سکتا تھا کہ ایک گروپ کی جانب سے عشروں سے اپنئے گئے اس رویے کا دوسرے مسالک اور فرقوں پہ اثر نہیں پڑے گا؟

انیس اٹھتر سے، امریکہ-فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی حمایت کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ ریاست کے زرایع نے دیوبندی بلوائی ہجوم اور مسلح ملیشیا کو پیدا کیا اور سپانسر کیا۔اور یہ بلوائی ہجوم شیعہ پہ حملے کرتا اور ان کو قتل کرتا آیا ہے۔کراچی سندھ میں علی بستی گولی مار کے علاقے میں ضیآء کے حمایت یافتہ دیوبندی بلوائی ہجوم نے حملے کئے۔یہ بلوائی اسلامی جمعیت طلباء کے غنڈوں کو گھسیٹ لائے تھے،متعدد شیعہ مارے کئے اور انھوں نے شیعہ گھر جلادئے تھے۔

یہ سب ایرانی انقلاب سے پہلے ہوا تھا۔پاکستان کا کمرشل لبرل مافیا جو ہر دور میں برائے فروخت کا بورڈ لگاکر ہمہ وقت اپنی دستیابی کا اعلان کرتا رہا ہے جیسے ندیم فاروق پراچہ ہے،کثرت سے ایرانی انقلاب کو پاکستان میں دہشت گردی اور تعصب کے لئے ایک عذر کے طور پہ استعمال کرتا آیا ہے۔

اگلے 33 سالوں تک، سنّی بریلوی،شیعہ، کرسچن،ہندؤ اور احمدی بے رحمی سے نشانہ بنائے جاتے رہے اور ان کو جنرل ضیاء الحق کے زیر سایہ کمتر بنایا جاتا رہا ہے اور پھر اس کے وارث نواز شریف نے یہ کھیل جاری رکھا۔نواز شریف نے اکثر، اعلانیہ دیوبندی نفرت پھیلانے والے اور دہشت گردی کرنے والے گروپوں سپاہ صحابہ پاکستان عرف اہلسنت والجماعت/لشکر جھنگوی کو اپنے دور میں سپورٹ کیا اور آج بھی اس کی حکومت کے کل پرزے اس کی حمایت کرنے سے باز نہیں آتے۔

لیکن کیا منافقت ہے پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کی، ان کے لئے انتہا پسندی، دہشت گردی اور تعصب اس وقت کوئی بڑا مسئلہ نہیں بنتا جب دیوبندی معاون فرقہ پرست اس میں ملوث ہوں۔یہ مسئلہ اس وقت بنتا ہے جب دوسرے مسالک کے کچھ گروپ تکفیر اور وائلنس کے ساتھ ساتھ نفرت کے دیوبندی ہتھکنڈے اپنانا شروع کردیں۔

ہمیں سب یاد ہے اس وقت کیا ہوا تھا جب پی پی پی گورنر سلمان تاثیر کو بزدلانہ حملے میں مسلم لیگ کی پنجاب حکومت کے متعین کردہ ایلیٹ فورس کے ایک گارڈ نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا،اور یہ پہلا موقعہ تھا کہ پاکستان کا کمرشل لبرل مافیا یک زبان ہوکر ‘قاتل’ کی مسلکی شناخت ‘سنّی بریلوی’ بتانے میں سب سے آگے تھا۔اس واقعے سے جڑی دوسری تمام حقیقتیں ایک دم سے بالائے طاق سجادیں گئیں تھیں۔اور پاکستان کا کمرشل لبرل مافیا اس قتل کا ذمہ دار سنّی بریلوی مسلک پہ ڈال رہا تھا اور ان سب کو دہشت گرد و انتہا پسند بتانے پہ تلا بیٹھا تھا۔

اس کمرشل لبرل مافیا نے ایک بار بھی اپنے پڑھنے، سننے والوں کو یہ بتانے کا تکلف نہیں کیا کہ سنّی بریلوی مسلمانوں کے بڑے اہم رہنما تاثیر کے قتل کی مذمت کررہے تھے۔طاہر القادری،مولانا الیاس قادری ان کو نظر ہی نہ آئے۔انہوں نے یک دم سے ان جیسے ناموں کو چھپانے پہ اتفاق کرلیا تھا۔

ہم کمرشل لبرل مافیا کا ٹریک ریکارڈ چیک کرنے کا اپنے قاری سے مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے قاری کو پتا چلا کہ اس کمرشل لبرل مافیا کے بڑے بڑے اینکرز اور صحافیوں نے کبھی تو اپنے ٹاک شوز اور کالموں میں احمد لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی اور طاہر اشرفی جیسے تکفیری دیوبندیوں کو امن کا سفیر اور اعتدال کا ماڈل بناکر پیش کیا لیکن کبھی سنّی بریلوی حقیقی امن کے سفیروں کو پرائم ٹائم میں یا تحریروں میں بطور ماڈل لیکر نہیں آئے۔

اس کمرشل لبرل مافیا نے تاثیر کے قتل کے بعد ایک بار بھی بھولے سے سپاہ صحابہ پاکستان اور مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ ہولڈر عباد ڈوگر کی جانب سے سلمان تاثیر کے سر کی قیمت مقرر کرنے کا ذکر نہ کیا۔نہ ہی انھوں نے تاثیر کے خلاف جمعیت علمائے اسلام کے مولویوں اور لیڈروں کا تاثیر کے خلاف سنّی بریلویوں کے چند مولویوں کی طرح بیانات کا ذکر نہ کیا۔

کیا آپ کو یاد ہے کہ گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے چند ہفتوں بعد وفاقی مذہبی امور و حج کے وزیر حامد سعید کاظمی کو سعودی اور نواز شریف اینڈ کمپنی نے حج فراڈ کیس میں ناجائز ملوث کردیا۔جے یو آئی ایف نے حامد سعید کاظمی کے وفاقی وزیر مذہبی امور برقرار رکھے جانے پہ پی پی پی کی حکمت سے نکل جانے کا عندیہ دیا اور جیسے ان کو ہٹایا گیا اس کا ارادہ بدل گیا۔میڈیا نے جے یو ائی اور پی ایم ایل-این کے ساتھ ملکر چند متشدد بریلوی مولویوں کی تاثیر کے خلاف حوصلہ افزائی کی تھی۔

نفرت پھیلانے والا ملّا طاہر اشرفی، جو پاکستان کے کمرشل لبرل مولویوں کا فیورٹ ملّا ہے، آج بریلوی مولویوں کے دھرنے کی سپورٹ کررہا ہے۔ایسے ہی جب تاثیر مارے گئے،تو طاہر اشرفی نے اعلانیہ اگلا ہدف شہباز بھٹی وفاقی وزیر برائے اقلیتیں کو بنالیا،چند ہفتوں بعد ہی شہباز بھٹی دیوبندی طالبان کے ہاتھوں مارے گئے۔ایک بار پھر کمرشل لبرل مافیا کا دوھرا معیار پھر بے نقاب ہوگیا۔انھوں نے بھٹی کے قتل پہ نہ تو طالبان کی دیوبندی شناخت بتائی،نہ ہی انھوں نے ملّا اشرفی کے انتہا پسندانہ بیانات کو بنیاد بناکر دیوبندیت کو ویسے ہی انتہا پسند بتلایا جیسے وہ سنّی بریلوی مکتبہ فکر کو بتارہے تھے۔

گزشتہ 33 سالوں میں کمرشل لبرل مافیا نے کبھی بھی مذہبی تشدد اور عسکریت پسندی کی تکفیری دیوبندی شناخت کو نہ تو بیان کیا ہے اور نہ اس کی بنیاد پہ دیوبندی مکتبہ فکر پہ انتہا پسند ہونے کا الزام عائد کیا جیسے یہ شوق سے سنّی بریلوی مکتبہ پہ عائد کرتے ہیں۔آج بھی ان کا نشانہ سارا سنّی بریلوی مکتبہ فکر ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سپاہ صحابہ پاکستان، دیوبندی پاکستان علماء کونسل، جماعت اسلامی سمیت کئی تکفیری انتہا پسند مولوی اس دھرنے کی حمایت کررہے ہیں بلکہ اس دھرنے میں جاکر ملے بھی ہیں،لیکن کمرشل لبرل مافیا اس بات کو چھپاتا ہے۔

کمرشل لبرل مافیا کا دوھرا معیار اور منافقانہ ردعمل ایسا کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ اس مافیا نے پاکستان کے اندر شیعہ نسل کشی کو زبردستی سنّی-شیعہ خانہ جنگی، لڑائی پہ مبنی مغالطہ آفریں مساوات/بائنری بناکر دکھایا ہے۔یہ بالواسطہ طور پہ یہ کہنے کی کوشش کرتا آیا ہے کہ شیعہ نسل کشی کی ذمہ خود شیعہ پہ عائد ہوتی ہے اور وہ ایران میں شیعہ انقلاب پہ اس کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ کمرشل لبرل مافیا کے سب سے بڑے فنڈنگ کے زریعہ امریکی اور یورپی این جی اوز اپنی حکومتوں کے مفادات اور ان کی آل سعود اور سعودی عرب سے رشتہ داری کے طفیل تکفیری دیوبندی-وہابی فاشزم کو دنیا بھر میں غیر وہابی مسلم فرقوں اور غیر مسلم مذاہب پہ حملوں کا ذمہ دار قرار دے ہی نہیں سکتے ورنہ فنڈنگ بند ہوجائے گی۔اور پھر مال نواز شریف کے خزانوں سے ملنا شروع ہوگیا جس کے لئے یہ بات زھر قاتل ہوتی کہ تکفیری دیوبندی فاشزم کی تباہ کن فطرت کا پول کھولا جاتا۔

ادارہ تعمیر پاکستان کمرشل لبرل مافیا کے دوھرے معیارات کو پہلے بھی بے نقاب کرتا آیا ہے۔آنے والے دنوں میں بھی کرتا رہے گا۔چاہے ان کو کتنا ہی ناپسند ہو۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*