انہوں نے جنازے پہ تیر برسائے اور یہ رونے والوں پہ گولیاں و بم برساتے ہیں – مستجاب حیدر نقوی

آج 28 صفر المظفر ہے۔

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس دن وہ مسجد نبوی کے احاطے میں بیٹھے تھے کہ اعلان ہوا :

يا أيّها الناس! مات اليوم حبّ رسول الله (صلى الله عليه وآله)

اے لوگو! آج حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت ہوگئی

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جیسے ہی یہ اعلان سنا تو کہرام مچ گیا،لوگ رونے لگے

امام حسین رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کے معززین کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے حضور پیش ہوئے۔اور آپ کو بھائی کی آخری خواہش بیان کی، وہ آبدیدہ ہوئیں اور انھوں نے نانا کے پہلو میں نواسے کو دفن ہونے کی اجازت دے ڈالی ۔

پھر کیا ہوا ؟

اور کیا کسی کو پتا ہے کہ مروان بن حکم اور اس کے ساتھیوں نے اس روز مدینہ منورہ میں کیا کیا تھا؟

ٹھہرئیے میں ایک مثال سے آپ کو بتاتا ہوں :

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر 22 جولائی انیس سو پچاسی کو بے نظیر بھٹو جب شاہنواز بھٹو کی میت لیکر لاڑکانہ لیکر آئی تھیں وہاں بھٹو خاندان کی دشمنی میں پیر پگاڑا اور دیگر سندھی وڈیرے ہتھیار بند ہوکر لاڑکانہ میں گڑھی خدا بش میں بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان میں آکر بیٹھ جاتے اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے گرد سنائپر بٹھا دیتے اور جیسے ہی شاہنواز بھٹو کا جنازہ ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کی طرف رخ کرتا تو جنازے پہ فائر کئے جاتے اور بے نظیر بھٹو ،بیگم نصرت بھٹو کو کہا جاتا کہ ہر صورت جنازہ لیکر عام قبرستان جائیں اور گمنامی میں شاہنواز بھٹو کو دفنادو تو جب جب 22 جولائی آتا تو کیا حرف ہائے مذمت نہ لکھے جاتے۔

سارا مدینہ ایک طرف اور مروان کے ہتھیار بند مسلح جتھے ایک طرف تھے۔

ادھر انصار و مہاجر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور ان کی اولاد تھی ، ام المومنین حضرت عآئشہ صدیقہ،ام المومنین ام سلمہ ودیگر رضی اللہ عنھم جو بقید حیات تھیں وہ سب نانا کے پہلو ميں نواسے کو دفن ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔ اور دوسری طرف وہ مفسدین کا گروہ تھا جس نے پہلے تو کامل حیاء وایمان خلیفہ سوم حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف سازشیں کیں اور جب مدینہ کا محاصرہ ہوا تو یہ بزدل بھاگ گئے تھے اور بعد میں انھوں نے حضرت عٹمان ابن عفان کی مظلوم شہادت پہ سیاست چمکاکر مدینہ کی گورنری ہتھیالی تھی اور اس سے پہلے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور امام علی المرتضی کی شہادت کی راہ ہموار کی تھی اور پھر اشعث کی بیٹی جعدہ سے امام حسن کو زھر دلوایا اور اب ہتھیار بند ہوکر آئے اور جنازے پہ تیر برسائے۔

اس فسادی ٹولے نے تہیہ کررکھا تھا کہ اس دن مدینہ میں خون ریزی کریں مگر امام حسن رضی اللہ عنہ نے وصیت فرمائی تھی تو فساد سے بچنے کے لئے اہل مدینہ اپنے پانجویں خلیفہ اور خانوادہ اہل بیت نے اپنے گھرانے کے دوسرے سربراہ امام حسن رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں ماں کے پہلو میں دفن کردیا تھا۔

 

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*