شہادت امام حسن مجتبی : ہم مسموم ہوتے یا مقتول – مستجاب حیدر نقوی

اٹھائیس صفر المظفر ،پچاس ھجری /23 مارچ 970ء کا دن تھا جب مدینہ کے اندر منادی کرنے والے نے منادی کرنا شروع کردیا

يا أيّها الناس! مات اليوم حبّ رسول الله (صلى الله عليه وآله)

اے لوگو! آج حب رسول اللہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرکز محبت) انتقال ہوگیا

کہا جاتا ہے کہ یہ منادی جس تک بھی پہنچی وہیں پہ ایک کہرام بپا ہوگیا اور محبان اہل بیت کے اندر گریہ شروع ہوگیا۔

میں سوچ رہا تھا کہ تنہائی کے یہ جو لمحات ہمیں میسر آئے ہیں،اس میں ،ہم مکتب علی شناس لوگوں کو کیا بات بتائیں جو ماضی کے سچ سے اور آج کی معروضی حقیقت سے بھی ہمیں جوڑ دے۔

جیسا کہ میں نے آپ لوگوں کو بتایا کہ آج بھی ‘سچ پھیلانے’ کی مشق میں ہمیں خود کو چھپانا پڑتا ہے اور بعض اوقات سچائی جاننے والوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ یہ سچ ان تک پہنچانے والے کون تھے اور کیسے زندگی گزارتے رہے۔بعض اوقات آج ہمیں کئی نام بہت معروف نظر آتے ہیں۔مگر جب ہم ان کے حالات زندگی جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو سب اسرار کے پردے میں چھپا نظر آتا ہے۔

ایک نام ہے’ الشيخ أبو القاسم، علي بن محمّد بن علي الخزّاز الرازي القمّي۔’ آپ کسی مکتب علی شناس کے معارف سے پوچھیں،تو وہ فوری کہے گا کہ ہاں بہت معروف ہیں۔آپ کو یہ سب کچھ سننے کو ملے گا:
قال الشيخ النجاشي(قدس سره) في رجاله: (ثقة من أصحابنا، أبو القاسم، وكان فقيهاً وجهاً)

شیخ نجاشی نے اپنی کتاب رجال میں لکھا ( ہمارے ثقہ،مستند اصحاب میں سے تھے، بہت ہی ذہین بڑے فقیہ تھے۔)

قال العلّامة الحلّي(قدس سره) في خلاصة الأقوال: (كان ثقة من أصحابنا، فقيهاً وجهاً)
علامہ حلّی نے اپنی کتاب ‘خلاصۃ الاقوال میں بھی یہی کچھ کہا جو نجاشی نے کہا تھا۔
قال الشيخ عبد الله الإصفهاني(قدس سره) في رياض العلماء: (الفاضل العالم المتكلّم الجليل الفقيه المحدّث المعروف، تلميذ الصدوق وأمثاله)
شیخ عبداللہ اصفہانی نے ‘ریاض العلماء’ میں لکھا،’فاضل ، عالم، متکلم جلیل ، فقیہ،معروف محدث اور شيخ صدوق اور ان جیسوں کے شاگرد تھے۔
ان کے اساتذہ اور ان کے تلامذہ(شاگردوں) کے نام مل جاتے ہیں۔لیکن جب ہم ان کے ابتدائی حالات زندگی جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے سامنے ایسے بیانات آجاتے ہیں:

لم تُحدّد لنا المصادر تاريخ ولادته ومكانها، إلّا أنّه ولد في القرن الرابع الهجري
مصادر تاریخ میں نہ تو ہم ان کی ولادت کی تاریخ کا تعین کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی جائے پیدائش کا۔بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ چارسو ہجری کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے اور اسی چار سو ہجری میں ہی کسی سال میں ان کی وفات ہوگئی۔اور رے شہر میں فوت ہوئے تھے۔

حالات زندگی پہ اسقدر پردہ پڑا رہنا کوئی اتفاق نہیں ہے۔بلکہ یہ زمانے کی نیرنگی اور اس جبر کی نشانی ہے جو ان جیسے اہل علم کو کرنا پڑتا تھا۔

ان جیسے اہل علم کی تنہائی، بے گانگی کا شاید ہم جیسوں کو کبھی اندازہ نہ ہوسکے۔ان کی زندگی بذات خود ایک زندان کی طرح تھی۔اور یہ اپنے تنہائی و بے گانگی کے زندان میں کس شئے کے سہارے زندہ تھے؟میرا اپنا خیال یہ ہے وہ معرفت اہل بیت اطہار اور ان کی زندگی کے واقعات کے ساتھ ایسے زندگی بسر کرنے کے سہارے زندہ تھے،جیسے یہ واقعات ان کے سامنے رونماء ہورہے ہوں۔

خیر شیخ علی خزاز القمی کی ایک کتاب

كفاية الأثر في النصوص على الأئمّة الإثني عشر
ہے ۔اسی کی پی ڈی ایف ہے میرے پاس، جس کو درکار ہو مجھ سے مانگ سکتا تھا۔

میں کتابوں کو علم مناظرہ کے لئے نہیں پڑھتا ہوں،نہ میں اس لئے پڑھتا ہوں کہ مجھے کسی کو دوران گفتگو چت کرنا ہے۔میں ان کو بےجان بھی نہیں سمجھتا ہوں۔بلکہ نجانے مجھے کیوں ایسے لگتا ہے کہ سچائی کی خوشبو صرف اسی کتاب میں ہوتی ہے جس کا صاحب(کتاب) لفظوں کے اندر مجسم اور سانس لیتا ہو۔میں نے جب یہ کتاب پڑھنی شروع کی تو مجھے خزاز اس کے لفظوں میں سانس لیتے ہوئے دکھائی دئے اور اس کتاب کے ص 277 پہ انھوں نے ساڑھے تین سو سال بعد امام حسن کی شہادت سے کچھ وقت پہلے کا ایک منظر بیان کیا۔

اور منظر کا راوی اور شاہد بھی مکتب علی شناس کا ایک بہت ہی تاریخ ساز شحض ہے۔یہ جنادہ بن کعب الانصاری ہیں۔کچھ یاد آیا دوستو!
جی ہاں جنادہ بن کعب بن حرث الانصاری ، یہ رسول اللہ کے صحابی تھے اور امام علی المرتضی کے ان عشاق میں سے تھے جن کا تعلق انصار مدینہ سے تھا تو جنادہ بن حرث الانصاری کی گھٹی میں حب اہل بیت تھی۔انھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ جنگ جمل، جنگ صفین لڑی،پھر امام حسن کے ساتھ بھی رفاقت کی تھی اور یہ کربلاء میں بھی حضرت امام حسین کے رفیق تھے اور ان کے لئے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔کہتے ہیں

جب جنادہ بن کعب بن حرث الانصاری شہید ہوگئے کربلاء میں تو ان کے بیٹے عمر نے امام حسین سے کہا کہ ان کو اجازت دیں ،اّ پ نے توقف کیا، عمر بن جنادہ نے دو بار جب کہا تو آپ نے کہا کہ میں اس لئے توقف کرتا ہوں کہ تمہارے والد پہلے ہی قتل ہوگئے ہیں اور اب تمہیں اجازت دیتا ہوں تو کہیں تمہاری ماں کو یہ پسند نہ ہو تو عمر بن جنادہ نے کہا کہ میری ماں نے ہی تو مجھے حکم دیا ہے، آپ میدان میں یزیدی فوج کے سامنے گئے اور آپ نے یہ یہ ولولہ انگیز اشعار پڑھے، جن کو پڑھ کر آج بھی روح وجد میں آجاتی ہے:

أميري حُسَيْنٌ وَنِعْمَ الأميرُ
سُرُور فُؤادِ البَشير النّذيرِ
عَلِىٌّ وَفاطِمَةٌ والِداهُ
فَهَلْ تَعْلَمُونَ لَهُ مِنْ نَظيرٍ
لَهُ طَلْعَةٌ مِثْلُ شَمْسِ الضُّحى
لَهُ غُرَّةٌ مِثْلُ بَدْرِ الْمُنيرِ
میرا امیر حسین ہے،اور ہاں میرا امیر بشیر و نذیر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فواد/قلب کا سرور ہے۔علی و فاطمہ کا بیٹا ہے۔تو کیا تمہیں اس کی کوئی مثل /نظیر کا علم ہے؟ جس کی آب و تاب سورج و پورے چاند کی سی ہے اور وہ بدرالمنیر کی طرح ہے۔

جنادہ کہتے ہیں: میں حسن بن علی (اللہ ان دونوں پہ درود و سلام بھیج) سے ملنے گئے جب وہ مرض موت میں مبتلا تھے۔اور ان کے ہاتھ میں ایک طشت تھا جس میں وہ خون تھوک رہے تھے اور ان کا جگر ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس میں گر رہا تھا جس کی وجہ وہ زھر تھا جو ان کو حکومت شام کے سربراہ نے دلوایا تھا۔

میں نے ان سے عرض کی،’ اے میرے مولا ، آپ اپنا علاج کیوں نہیں کرتے؟’
آپ نے فرمایا،’اے اللہ کے بندے میں کس سے اپنا علاج کروں؟’
میں نے کہا،’انا للہ وانا الیہ راجعون،پھر ان کی جانب ملتفت ہوا تو انھوں نے فرمایا،
‘ہم یا تو مسموم (زہر دئے جاتے ہيں) ہوتے ہیں یا مقتول ۔’
كفاية الأثر للخزاز: ص227
جنادہ نے امام حسن سے درخواست کی:
میرے مولا مجھے نصحیت فرمائیں
امام حسن نے فرمایا : اچھا تو سنو

اپنے سفر (آخرت) کی استعداد حاصل کرلو اور اس کے لئے زاد راہ حاصل کرو،اس سے پہلے کہ تمہاری اجل تم میں حلول کرجائے۔(مطلب تمہیں موت آجائے)

اور یاد رکھو،تم طالب دنیا ہوتے ہو اور موت تمہاری طالب ہوتی ہے۔
اس دن کا وہم مت پال جس نے کبھی آنا ہی نہیں ہے۔یوم تو بس وہی ہے جس میں تم سانس لیتے ہو
اپنی قوت سے زیادہ مال مت کما،اگر ایسا کرے گا تو ،تو دوسروں کے لئے خزانہ جمع کرے گا
امام حسن نے وقت نزع جنادہ بن کعب بن حرث الانصاری کو جو نصحیت کی تھی،اس زمانے میں حاکموں نے دنیا پرستی کو ہی لوگوں کو راہ حق سے بھٹکانے کا ہتھیار بنایا ہوا تھا اور امام حسن نے اپنی زندگی کی آخری سانسوں کے وقت بھی اپنے کامریڈ کو یہی نصحیت کی کہ اس دنیا پرستی کے فریب میں نہ آئے اور یہی امیہ ازم سے لڑائی کا سب سے بڑا ہتھیار بنے گی۔آج اگر آل سعود اور اس کےجملہ گماشتوں کو دیکھا جائے تو وہ اسی ہتھیار سے قبائل کو خریدتے ہیں اور اسی سے لوگوں کو گمراہی کے راستے پہ ڈالتے ہیں۔

امام حعفر صادق آل محمد (اللہ ان پہ درود اور سلام بھیجے) نے ایک حقیقت بیان کی فرمایا کرتے تھے :
إنّ الأشعث شرك في دم أمير المؤمنين (عليه السلام)، وابنته جعدة سمّت الحسن، وابنه محمّد شرك في دم الحسين
بے شک اشعث خون امیر المومنین میں شریک تھا تو اس کی بیٹی جعدہ نے حسن کو زہر دیا،اور اس کے بیٹے محمد نے خون حسین میں شرکت کی ۔

اور ایسے امیہ ازم کے علمبرداروں نے اپنے ارادے کی تکمیل کی۔

امام حسن کے جنازے پہ تیر برساکر اور ان کو اپنے نانا کے پہلو میں دفن ہونے سے روکنے کی سازش کرنے والوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ امام حسن کو لوگوں کے ذہنوں سے نکال باہر کریں گے۔اور لوگوں کے دلوں سے نکالنے کے لئے انھوں نے کربلا بپا کی تھی،سروں کو نیزے پہ بلند اور اہل بیت کی خواتین کو قیدی بھی اسی غرض سے بنایا تھا کہ لوگ ان کا نام بھی نہ لیں۔لیکن کیا ہوا؟ وہ آپ سب کو معلوم ہے۔آج بھی تکفیری فاشزم کتنا ہی خونخوار ہوجائے، وہ کتنی بڑی نسل کشی کی مہم چلالے،لیکن اس سے کیا مکتب علی شناس ختم ہوجائےگا؟ ہرگز نہیں۔

میں بس یہیں اپنی بات کو تمام کرتا ہوں۔کہنے کو اس سے آگے کوئی بات بنتی نہیں ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*