جاوید غامدی, خارجیت کی جدید شکل

جاوید غامدی اور اُن کے جملہ معتقدین خود کو ہمیشہ بہت عقلیت پسند بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ دنیا اُنہیں ایک متعدل فکر رکھنے والے شخص کی حیثیت سے یاد رکھے۔ تاریخ و حدیث کی چھان پھٹک بھی بہت باریک بینی سے کرتے ہیں اور اکثر “حسبنا القران” جیسے دعوے بھی کرتے نظر آتے ہیں۔


یہ خود کو روایتی مسلمانوں سے ہٹ کر مسلمانوں کا ایک اپ گریڈڈ یا سوپر لیٹو ورژن ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود ان کے معتقدین آپ کو اکثر ایسا ظاہر کرتے نظر آینگے کہ جیسے ۲۱ ویں صدی میں اسلام کی اصل تشریح دراصل جاوید غامدی ہی کررہے ہیں۔
لیکن حقیقیت کیا ہے؟ کیا جاوید غامدی واقعی مختلف ہیں؟ کیا وہ واقعا ہر معاملے کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں؟ ایسا قطعا نہیں ہے۔ جاوید غامدی اور اُن کے فالوورز دراصل خارجیت کی جدید شکل ہیں۔ میں نے ایک بار نہیں، بار بار مشاہدہ کیا کہ عقلیت پسندی اور جدیدیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے یہ گروہ ناصبیت کی جانب مائل نظر آتا ہے۔ یہ لوگ واقعہ کربلا کو ایک سیاسی مسئلہ یا ایک حادثہ کہتا نظر آئے گا، کبھی ڈھکے چھپے لفظوں میں اور کبھی اعلانیہ یزید کا دفاع کرتا نظر آئے گا، کسی کو واقعہ کربلا کا الزام یزید کو دینے پر اعتراض ہوگا اور کبھی بذاتِ خود غامدی صاحب یزید کے بارے میں واضح موقف دینے سے گریز کرتے ہوئے فرماتے نظر آینگے کہ وہ واقعہ کربلا کے بارے میں حتمی رائے دینے کی “جسارت” نہیں کرسکتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایسی فکر کو کیا نام دیا جانا چاہئے۔
۔
اس طبقے کے بارے میں میری رائے اُس وقت مزید مستحکم ہوجاتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ شانِ اہلیبیتؑ اور بالخصوص شانِ امام علیؑ میں موجود احادیث و روایات پر تو بہت عرق ریزی کے ساتھ تحقیق کرکے یہ کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ کسی طرح ان احادیث و روایات کو رد کردیا جائے البتہ ان کی تمام تر عرق ریزی وہاں پہنچ کر دم توڑ دیتی ہے جب معاملہ اصحابِ رسول کا ہو۔ یہ صفین کے معاملے میں اور امام علیؑ اور امیر شام کے معاملے میں ہوبہو وہی لائین پکڑتے نظر آتے ہیں جو عموما کسی ناصبی یا مائل بناصبیت کی لائین ہوا کرتی ہے۔ آپ کو یقین نہ ہو تو جاوید غامدی کی امام علیؑ اور امیرِ شام کے اختلافات کے بارے میں رائے سن لیں۔


مجھے سخت حیرت ہوئی تھی جب میں نے تواتر کے ساتھ غامدی صاحب کے معتقدین کو کبھی ببابنگ دہل واقعہ کربلا میں یزید ملعون کو بے قصور کہتے دیکھا، عین ایامِ شہادتِ امام علیؑ میں امیرِ شام کے تذکرے کرتے دیکھا اور جب ہر سنی و شیعہ مسلمان عاشورہ سے قبل امام حسینؑ اور اہلیبیت اطہارؑ کے مصائیب یاد کررہا تھا، تو کچھ لوگ حضرت عثمان (ر) کی مصیبیت بیان کرتے دیکھا۔ میں نے اس طبقے کو بارہا بنو اُمیہ کی وکالت کرتے بھی دیکھا ہے، چاہے اُس کیلئے انہیں اہلیبیتؑ پر ہی تنقید کیوں نہ کرنی پڑجائے۔


اس طرزِ عمل کو آپ چاہیں تو بصد شوق عقلیت پسندی کا نام دے لیں، میری عقل اسے سوائے خارجیت کی ایک جدید شکل کے کوئی اور نام نہیں دے سکتی۔
وسیلے، عید میلاد النبی اور کربلا سے متعلق غامدی صاحب اور اُن کے معتقدین کی رائے اور اُن کا طرزِ عمل دیکھ کر اس رائے کو مزید تقویت ملتی ہے۔
۔
جاوید غامدی اور اُن کے جملہ معتقدین کی “ٹارگٹڈ آڈئنس” دراصل دیوبندی اور اہلیحدیث بالخصوص اُن کی نوجوان نسل ہے۔ انہی دو مکاتب فکر کو ہی غالبا غامدی صاحب نے متاثر بھی کیا ہے، جس کی وجہ بتانے کی ضرورت نہیں۔


یہ طبقہ عقلیت پسندی اور اعتدال کا لبادہ اوڑھ کر اُن نوجوانوں کیلئے جال لگا کر بیٹھا ہے جو تکفیریت، طالبانیت اور خارجیت کی متشدد شکل سے بھاگتے ہیں۔ یہ طبقہ ان بھاگتے نوجوانوں کو اعتدال پسندی کے جال میں پھنسا کر وہی شربت مخلتلف بوتل میں بھر کر پیش کردیتا ہے، جس سے وہ بھاگ کر آئے تھے۔ آپ کو یقین نہ ہو تو قاری حنیف ڈار جیسے لوگوں کا مائینڈ سیٹ دیکھ لیجئے، جاوید غامدی کی اُن مخصوص موضوعات پر رائے سن لیجئے جن کے بارے میں ایک عام شیعہ یا سنی مسلمان کی رائے ایک طرف ہوتی ہے اور ایک مخصوص طبقہ فکر کی ایک طرف۔
۔
بحیثیت ایک شیعہ مسلمان، میرے نزدیک جو شخص واقعہ کربلا کے بارے میں واضح موقف ظاہر کرنے کی جرات نہ رکھتا ہو بلکہ ڈھکے چھپے الفاظ میں یزید ملعون کا دفاع کرتا ہو، اُس کی ساری عقلیت پسندی اور اعتدال کسی سراب کے سوا کچھ نہیں۔

 

 

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*