اداریہ : کیا سعد حریری کی لبنان واپسی ہوگی ؟-روزنامہ الاخبار بیروت

( لبنان کے ایک اخبار میں سٹاروا جابرا کا ایک کارٹون شایع ہوا جس کا عنوان ہے ‘استقنا لک یا بیروت ۔ہم نے تچھے ڈھونڈ لیا ہے اے بیروت۔۔۔۔اور نیچے موت اور جنگ کے دیوتا ہیں جو لبنان کی طرف بڑھتے دکھائے گئے ہیں۔)

بائیں بازو کے عربی روزنامے ‘الاخبار’ بیروت لبنان نے اپنے اداریہ ‘ سعد رجع؟’ میں پہلی سرخی جنون ابن سلمان: حصر إرث المملكة ومحاصرة لبنان’یعنی ‘ ابن سلمان کا پاگل پن: نظربندی اور لبنان کا محاصرہ سعودی عرب کی روایت ہے۔’ کے تحت لبنان کی تازہ صورت حال بارے لکھا ہے

سعد حریری کے حامیوں اور تیار المستقبل/فیوچر موومنٹ کے کارکنوں کا ردعمل چند دنوں میں مربوط تبدیلیوں سے گزرا ہے۔پہلے دو دن تو ان پہ سکتہ طاری رہا اور پھر ان میں گھمبیر قسم کی ناراضگی کا ظہور ہوا جب ان کو پتا چلا کہ سعد حریری ہاؤس اریسٹ ہیں۔جو کچھ ہوگیا ہے اس کے مطابق یہ فطری ردعمل ہے۔سب سے بڑی سبکی یہ تھی کہ جب سعودی عرب نے حریری خاندان سے بہاءحریری کو وزیراعظم بنانے کا مطالبہ کیا جسے سعد حریری کے حاندان نے مسترد کردیا۔

سعودی عرب کی حکومت کا خیال تھا کہ جیسے ہی سعد حریری کے استعفے کی خبر لبنان پہنچے گی تو جو وہ چاہ رہے ہیں ردعمل اس کے موافق آئے گا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔سعودی عرب کے لئے صرف مسئلہ لبنانی صدر مشعال عون اور لبنانی پارلمینٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ تیار المستقبل کے حامیوں نے بھی سعودی مطالبات اور اقدامات کی موافقت میں ردعمل نہ دیا۔

سعودی عرب چاہتا تھا کہ سعد حریری کا استعفا ہی لبنان میں حریری کی پارٹی، پارلیمنٹ ،فوج اور صدر کا واحد ایجنڈا رہے۔لیکن فیوچر پارٹی کے حامی اور قیادت نے مشعال عون کے مطالبے کے وزیراعظم سعد حریری فوری واپس وطن آنے دیا جائے کی حمایت کردی اور اس مطالبے کے گرد سارا لبنان اس وقت متحد نظر آتا ہے۔سعد کی واپسی میں تاخیر اور بہاء کے الزام نے لوگوں کے غصّے میں اضافہ کیا ہے اور خاص طور پہ جب حریری کے خاندان نے سعودی عرب کے مطالبے کو مسترد کیا۔اور پھر بہاء اور سعودی حکام کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کی تفصیل تک فیوچر موومنٹ کی قیادت اور لبنانی حکام کو رسائی نہیں دی گئی،
یہ بات بھی عوام کے لئے قابل توجہ تھی کہ حریری خاندان کے ارکان کے باہمی اختلافات کے باوجود ہر ایک نے بہاء کو بتادیا تھا کہ ترجیح سعد کی واپسی ہے اور کسی چیز کی نہیں اور پھر بہاء کو بھیجنے سے انکار کرنے والی فیوچر پارٹی کی قیادت کو بھی اس بات کا اچھی طرح سے ادراک ہے کہ سعد حریری کا جو تجربہ اور لبنانی عوام کے ایک بڑے حصّے میں اس کی جو حمایت ہے وہ کسی اور کے پاس نہیں ہے۔

سعودی عرب کو دوسری مشکل جو اپنے عزائم کے آڑے آتی محسوس ہوئی وہ حریری کی ہمدردی میں چلنے والی کمپئن ہے جو اب قومی مہم میں بدل چکی ہے، جس میں فیوچر کے حامیوں کا غصّہ بہت واضح نظر آرہا ہے، اور فیوچر کی قیادت ایسی کسی پاپولر تحریک کو محدود کرنے یا روکنے کی اہلیت نہیں رکھتی اور خدشہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے خلاف جارحانہ کمپئن میں بدل سکتی ہے۔فیوچر کی موجودہ قیادت اور خود حریری کو اس قسم کی تحریک کے منفی نتائج و عواقب کا خوف ہے کہ یہ کمپئن خود حریری کے خلاف رخ اختیار کرسکتی ہے۔

فیوچر پارٹی کے اندر ایسے کردار ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ سعودی عرب ان کو اس مشکل سے فوری نکال سکتا ہے اور اس کے لئے سب سے بڑا اقدام حریری کو واپس بھیجنا ہے جبکہ باقی معاملات بعد میں دیکھے جاسکتے ہیں جب وہ آجائے۔ چاہے ابتدائی طور پہ استعفا کا اعلان اسے واپس ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ان کا خیال ہے کہ سعد حریری کی جگہ حریری خاندان کا ہی کوئی فرد لے سکتا ہے اور اس کے لئے رکن پارلیمنٹ بہاء حریری سب سے مناسب آدمی ہے۔سعد حریری کا ٹیلی ویژن پہ جو انٹرویو آیا ہے اس نے ایسے کسی حل کا دروازہ کھول دیا تھا۔اس نے سعودی عرب کو مشکلات کے جس درخت پہ چڑھایا ہے اس سے اترنے کی سیڑھی نظر آنے لگی ہے۔لیکن سعودی عرب کے حکام نے جو موقف اختیار کیا ہوا ہے۔اور ان کے جو عزائم ہے اس کے سبب بہت جلد ان پہ واضح ہوجائے گا کہ لبنان میں ان کا کوئی اتحادی نہیں ہے۔بہت سے لوگ سعودی لیبر مارکیٹ سے نکلنا پسند کریں گے اگر ان کو نظر یہ آیا کہ وہاں متبادل سوائے ذلت کی پالیسی کے تحت رہنے کے کچھ اور نہیں ہے۔

آج لبنان میں ہرشخص پرجوش نظر آتا ہے۔یہاں تک کہ وہ سرمایہ دار جن کے وزیراعظم سعد حریری سے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں وہ بھی اب اس سے ہمدردی محسوس کررہے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ہر کسی کے لئے خطرے کی علامت ہے۔اگر سعودی حکام فیوچر موومنٹ اور اس کے حامیوں کو اس طریقے سے اپنے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہوگئے تو ہر کوئی پریشان ہوگا۔اس مرتبہ لوگ سعودی عرب کو الزام دیں گے نہ کہ ایران یا حزب اللہ کو۔

سعودی عرب کے لئے ایک اضافی مشکل یہ بھی ہے کہ اس کے سچے اتحادی لوگوں کو آج ان کے لئے سڑکوں پہ لانے میں ناکام ہیں۔نہ تو اشرف روفی نہیں لبنانی افواج،فیوچر کے حامی ان دونوں پہ الزام لگاتے ہیں کہ حریری کے خلاف بنائے گئے منصوبے کا وہ حصّہ ہیں۔فیوچر کی قیادت ہو کہ اشرف روفی یا فوجی کی قیادت ہو وہ آج تک سعودی عرب،امریکہ اور امارات کی خاطر لوگوں کو ان کے دشمنوں کے خلاف نفرت پہ اکساتے رہیں ہیں۔لیکن اب صورت حال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔

فیوچر موومنٹ کے حامیوں اور اس کے کارکنوں کا ایک اجتماع چند روز پہلے منعقد ہوا،جس میں آئندہ کی حکمت عملی پہ غور و فکر کیا گیا۔اس اجلاس میں سعودی عرب بارے بڑی بحث ہوئی اور سعودی عرب پہ پہلی بار بڑے پیمانے پہ تنقید بھی سننے کو ملی۔شرکآہ اجلاس نے کہا کہ ان کو بیروت میں سعودی سفارت خانے کے سامنے بڑی احتجاجی کار ریلی نکالنے کی اجازت دیں۔ایک عہدے دار نے سوال اٹھایا: ‘کیا اب ہم اس مقام پہ آگئے ہیں کہ حزب اللہ ہماری حفاظت کرے گی؟’ یہاں تک کہ موجودہ جنرل سیکرٹری فیوچر موومنٹ نے رہنماؤں کی جانب سے اس سوال پہ کہ سعد حریری کے ساتھ سعودی عرب میں کیا ہورہا ہے کے جواب میں براہ راست اپنے تیروں کا نشانہ سعودی عرب کو بنالیا کہا کہ کچھ طاقتیں سودے بازی کے لئے ہمیں اور لبنان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔اور جب بہاء حریری کو سعد حریری کی جگہ دینے کی خبروں بارے پوچھا گیا تو احمد حریری نے نھاد المنشوق کے بیان کو دوھرایا،’ ہم کسی زبردستی مسلط کئے گئے لیڈر کو قبول نہیں کری گے۔’نام سے ہٹ کر بھی مسئلہ وارث کا نہیں ہے۔جب سعد نے قیادت سنبھالی تھی تو ایسا بہت ہی خاص درپیش صورت حال میں ہوا تھا

سعودی عرب میں سعد کا بچا کیا ہے؟

محمد بن سلمان نے سعد حریری کے ساتھ جو سلوک کیا،اس نے سعد حریری کو الجھا دیا ہے،سعودی عرب میں اس کی حالت بہت حد تک بدل گئی ہے۔سعد حریری کو ہت پہلے سے معلوم تھا کہ ان کے خاندان کے پاس اب وہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔کیونکہ بہت پہلے سے سعد حریری کے خاندان کا وہاں سے بزنس ختم ہونے جارہا تھا بس محمد بن سلمان نے تو اسے تیز تر کردیا۔

سعودي أوجيه شركة سعودية جس کے ماضی میں پنتالیس ہزار ملازم تھے وہ آج دیوالیہ ہوچکی ہے۔(یہ کمپنی رفیق حریری نے 1978ء میں بنائی تھی جس کے بعد میں چئیرمین سعد حریری اور ایمان حریری شریک چئیرمین بنے۔31 جولائی 2017ء کو یہ کمپنی بند ہوگئی۔)اج اس کمپنی کو دفن کرنے کے لئے 300 ملازمین کام کررہے ہیں اور اس کمپنی کے پاس کوئی نیا پروجیکٹ نہیں ہے۔جبکہ دیکھ بھال کے جو پروجیکٹس تھے وہ خودکار طریقے سے ری فربش نہ ہوئے، بلکہ ایسا کرنے کے لئے دوسرے آپریٹرز کو پروجیکٹس دئے گئے ہیں۔محمد بن سلمان نے حریری سے کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی مینٹی نینس کی ذمہ داری بھی واپس لیکر خود سنبھال لی ہے۔یہ یونیورسٹی جدہ کے قریب ثوال کے علاقے میں قائم ہے اور اسے سعودی اوجیہ شرکۃ نے ہی تعمیر کیا تھا۔اس کی مینٹی ننیس کا ایک بڑا پروجیکٹ وہاں پہ چل رہا ہے اگر جہ نام سعودی اوجیہ کا ہی ہے لیکن اس پروجیکٹ کی انتظامیہ اوجیہ شرکۃ کی ماتحت نہیں ہے۔اور اس کی ساری مالیاتی فائلیں اور کام کی نگرانی براہ راست پروجیکٹ مینجر اور یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن خود کررہے ہیں۔

جہاں تک تعمیر نو کے منصوبوں کا تعلق ہے تو وہ سب مکمل طور پہ بند ہیں اور باقی کا کام پروجیکٹ کے مالک نے سنبھال لیا ہے جو ٹیم اور کنٹریکٹرز کو باقی کا کام ختم کرنے کے لئے ادائیگیاں کررہا ہے، جیسے منسٹری آف ایجوکیشن پروجیکٹ اور یونیورسٹی آف پرنسز نورا ہیں۔

جو نئے ایم اے سی سی ہے وہ بہت ہی محدود اور انتہائی تین چھوٹے چھوٹے پروجیکٹس ہیں اور یہ سابقہ سعودیہ اوجیۃ شرکۃ کی باقیات ہیں جن کے مالک شاہ سلمان اور اس کا بیٹا ہے۔یہ پروجیکٹ براہ راست ذاتی درخواست پہ لئے گئے ہیں ان کے ٹینڈر نہیں ہوئے۔سعودی اوجیہ کے پاس شرٹن ہوٹل ہے جس میں سینکڑوں مزدور اور ملازم ہیں اور اس کے معاملات کو چلانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

یو اے ای اور سعد حریری

سعد حریری کے متحدہ عرب امارات سے بھی خصوصی تعلقات تھے،مگر اچانک یا تعلقات دھڑام سے گرپڑے اور اس کی وجہ ابوظہبی کے طاقتور آدمی شیخ محمد بن زید سے تعلقات میں آنے والا بگاڑ تھا۔یہ تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب سعد حریری کو محمد بن زید کو اس کی مشکل میں مدد دینے کو کہا گیا۔بعد میں پتا چلا کہ حریری 159 ملین ڈالر اسے ادا کرنے سے قاصر رہا۔ اس کی بجائے سعد حریری نے اسے اپنا پرائیویٹ جہاز اور عرب بینک میں شئیر دینے کی پیشکش کی۔اس طرح کی پیشکش کو محمد بن زید نے اپنی بے عزتی خیال کیا۔

سب کو پتا ہے کہ محمد بن سلمان لبنان میں جو کررہا ہے یو اے ای اس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔اس کا لبنان میں اپنا ایجنڈا ہے جسے یہ بیروت میں اپنے سفارت خانے کے اندر ایکٹو سیاکورٹی افسران یا سابقہ سفیر جو اب بیروت میں بطور سرمایہ کار یا میڈیا پرسن کے طور پہ کام کرتے ہیں کے زریعے پورا کررہا ہے۔یہ فلسطینی لیڈر محمد دحلان کے فلسطینی کمیپوں کے اندر اور باہر اثر ورسوخ کو بڑھانے کی کوشش بھ کررہا ہے۔دحلان نے بھی غیر فلسطینی شخصیات اور فوتوں سے تعلقات بڑھانے میں دیری نہیں کی ہے۔ان تعلقات میں اس کے فیوچر موومنٹ کے رہنماؤں سے بڑھتے ہوئے تعلقات قابل ذکر ہیں۔

آج یو اے ای کو پورا یقین ہے کہ سعودی عرب حریری ایشو میں اور گہرائی میں جاکر ملوث ہوسکتا ہے۔یہ لڑائی میں تو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے،مگر، قاہرہ کی طرح،یہ سمجھوتے کی تلاش میں بھی ہے۔تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ یو اے ای کے حکام نے لبنانی حکومت کو ایک سمجھوتہ کرانے کی پیشکش بھی کی ہے اگر وہ حزب اللہ کی یمن میں خاص طور پہ اور مڈل ایسٹ میں مداخلت کو روکنے میں کردار ادا کریں۔اس بات کی خبروں کو لبنانی میڈیا میں شہ سرخیوں میں جگہ ملی ہے۔ابوظہبی کو یقین ہے کہ اگر مغرب ایسی کسی لبنانی حکومت کو ماننے سے انکار کردے جس کا حصّہ حزب اللہ ہو اور واشنگٹن یورپ پہ دباؤ ڈالے کہ وہ ایران سے ایٹمی معاہدے پہ نظر ثانی کرے اور یورپ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں ڈال دے تو ساری دنیا ایران اور حزب اللہ کے خلاف متحد ہوسکتی ہے۔اور اس طرح سے یورپ، امریکہ اور گلف ممالک کے ساتھ ملکر ایران کے خلاف اس کے مزائیل پروگرام کے سبب سلامتی کونسل کے زریعے سے پابندی کی قرارداد منظور کراسکتا ہے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*