کراچی میں چہلم امام حسین کے موقعہ پہ شہر کے گوشے سے لوگ مرکزی جلوس میں شریک

ناجائز ناکہ بندیوں اور راستوں کی بندش بھی عوام کو شہدائے کربلاء سے عقیدت کا اظہار کرنے سے نہ روک سکیں۔

کولاچی کے سائیں کی رپورٹ

ایک بار پھر چہلم امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقعہ پہ لوگوں کا جم غفیر تھا۔حکومت نے عاشورا،میلاد النبی اور چہلم کے ایام کو محدود تر کرنے اور ان کو سانس لینے سے روکنے کی اپنی سی کوشش کی مگر ان ایام کو منائے جانے کا سلسلہ نہ صرف بچا رہ گیا بلکہ اس نے مزید ترقی کرنا شروع کردی۔

گزشتہ دوعشروں سے اور 2007ء سے خاص طور پہ حکومتوں نے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں سے ناور ان کے سیاسی پالنہاروں سے نمٹنے کی بجائے زیادہ زور ان ایام کے مواقع پہ لاجسٹک اعتبار سے کراچی کو ڈراؤنے خواب میں بدل دینے پہ زور دئے رکھا ہے۔

سٹرکوں اس لئے بلاک کرنا پڑتا ہے کیونکہ تکفیری دیوبندیوں پہ کوئی کریک ڈاؤن سرے سے کیا ہی نہیں جاتا۔جب نظریہ ساز، سہولت کار،اور نظریاتی کارخانے کام کرتے رہیں گے تو ذہن سازی بھی ہوگی،خودکش حملہ آور بھی ہوں گے اور حملوں کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ بلاکنگ بھی ہوگی۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ شہریوں کو اپنے مذہبی ثقافتی تہواروں کو آزادی اور سکون سے منانے کی فضا میسر آئے اور وہ تحفظ کے بہتریں احساس سے بہرہ مند ہوں تو پھر دہشت گردوں کا تعاقب کرنا ہوگا اور ان کا ناش کرنا ہوگا۔لیکن اس سے زیادہ ضروری ان کارخانوں کو بند کرنا ہے جو مرکزی دھارے میں کیموفلاج ہوکر بیٹھے ہیں۔پاکستان میں حکومتیں تمام سطحوں پہ اس کے الٹ کرتی ہیں،وہ سالانہ تہواروں اور ثقافتی ایام پہ مجمع عام کا ہی دم گھونٹنے لگ جاتی ہیں۔راستے ایسے بلاک کرتی ہیں کہ شرکت محدود سے محدود ہوجاتی ہے۔

جلوسوں کو محدود سے محدود تر کردینے کے ان تمام تر اقدامات کے باوجود ہزاروں،لاکھوں کی تعداد میں اہل کراچی چہلم امام حسین کے جلوس میں شہدائے کربلاء کو عقیدت پیش کرنے کے لئے شہر کے گوشے گوشے سے شامل ہوئے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*