پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے مجرم آزاد کیوں ؟

 

آج سے ٹھیک ایک سال پہلے یعنی 29 اکتوبر 2016 کراچی ناظم آباد میں کالعدم لشکر جھنگوی ، اہلسنت و الجماعت کی فائرنگ سے 5 شیعہ شہید ہوئے تھے جن میں تین سگے بھائی باقر عباس زیدی، نیر مہدی اورناصر عباس شامل تھے زخمیوں میں شہید باقر عباس زیدی کا 15سالہ بیٹا مرتضیٰ زیدی اور تینوں بھائیوں کے چچا محمد ذکی بھی زخمی ہوئے تھے ۔ شہید ہونے والے بھائی کوئی عام افراد نہیں تھے ، زیر نظر تصویر میں دیکھئے ۔ وہ اعلی تعلیم یافتہ ، ملٹائی نیشنل کے اعلی ترین عہدے دار جنکی ذہانت انکی مسکراہٹ میں دکھ رہی ہے ۔

ایسے افراد جو اپنی ذات میں ایک ادارہ ہوتے ہیں ، ایسے نمازی جنکی عبادت کی گواہی انکی محراب_پیشانی دے رہی ہوتی ہے ، مولا علی ع کے مطابق ایسے لوگ کہ زندگی میں لوگ جن سے ملنے کے مشتاق ہوتے ہیں اور موت کیبعد انکے لئے رنجیدہ ہوتے ہیں ۔ یہ بھائی عام لوگ نہیں تھے ، نیر عباس زیدی ورلڈ بینک اور ناصر عباس زیدی اقوام متحدہ میں کام کرتے تھے اور چند دن پہلے پاکستان آئے تھے۔ زنانہ مجلس ہو رہی تھی ، موٹر سائیکل پر سوار افراد آئے ، اور ایسے شاندار افراد کو مار کر چلے گئے ۔

چند سیاستدانوں نے مذمت کردی اور بات ختم ہوگئی۔ تب قوم کا سارا فوکس دھرنے اور عمران خان پر تھا۔ اب قوم کا سارا فوکس شرمین عبید اور کرکٹ پر ہے ۔ ملک_خدادا میں شیعہ دماغوں کو ختم کیا جا رہا ہے اور بھیڑ بکریوں کو آپس میں گتھم گتھا ہونے کیلئے چھوڑا جا رہا ہے جو ایکدوسرے کو کاٹ کھانے کیلئے بہت کافی ہیں ۔

ان بھائیوں کے قاتل ، کالعدم لشکر جھنگوی اور سپہ صحابہ اہلسنت و الجماعت کے جانے پہچانے کارکن ہیں ۔ ان قاتل تنظیموں کے سربراہ لدھیانوی فاروقی دیشانی مینگل مسرور جھنگوی معاویہ اعظم جانے پہچانے ہیں ۔ جو آزاد دندناتے پھر رہے ہیں ۔

گزارش ہے دو فاتحہ پڑھ دیجئے ۔ ایک شہداء کی بلندئ درجات کیلئے اور ایک ہمارے اپنے لئے ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*