انتظار – عامر حسینی

Who can know from the word goodbye what kind of parting is in store for us.

Arundhati Roy

انتظار
دن ڈھل رہا 24 اکتوبر کا
اور شام اتر رہی ہے آہستہ آہستہ
میں تمہاری قبر پہ بیٹھا
تمہیں یاد کرتا ہوں
دیکھو تو سہی
میری دیوار گریہ پہ
کیسا میلہ لگا ہوا
سب میرے نطق کی
میرے حروف کی
میری فکر کی
داد دیتے ہیں
مجھے سراہتے ہیں
افسوس
میری آنکھوں میں
میرے دماغ میں
وہ تمہیں براجمان دیکھنے سے قاصر ہیں
مگر میرے جنم دن پہ
سب سے زیادہ داد تمہیں دینی بنتی ہے
مجھے تمہاری اور سے بلاوے کا انتطار رہتا ہے

آج میرا جنم دن ہے۔24 اکتوبر ،ہر سال ہی آتا ہے اور اس وقت بھی آئے گا جب میں نہیں ہوں گا۔بس ایک فرق پڑے گا تب ایک اور تاریخ بھی آیا کرے گی جو میرے وجود کے فنا ہونے کی تاریخ ہوگی۔بہت سارے لوگ اپنی محبتوں کا اظہار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اور اپنے اپنے حسن ظن سے میرے بارے میں بہت کچھ لکھ رہے ہیں۔میں ان سب کی محبتوں کا اور ان کی توجہ کا مرکز بننے پہ شکرگزار ہوں اور میرے پاس یقینی بات ہے ایسے الفاظ سرے سے نہیں ہیں جو ان سب کی محبتوں کے جواب میں کم از کم میرے لئے کسی حد تک تسلی کا باعث بن جائیں۔

اس مرتبہ جب یہ جنم دن آیا ہے تو میں سر سے پیر تلک ارون دھتی رائے کے دوسرے ناول کے ترجمے میں مصروف ہوں۔یہ ترجمہ تو نہیں ہے بلکہ ایک ایک کردار کے جہنم کے ساتھ جینے کا عمل ہے اور ارون اگر 20 سال ان کرداروں کی پروش کرتی رہی ہے اور ان کے جہنموں کے ساتھ رہی ہے تو اس کے حوصلے اور برداشت کی داد ہی دی جاسکتی ہے۔ اس ناول کے ویسے تو سب ہی کردار انمول ہیں۔لیکن مجھے اس ناول میں ٹیلوٹم کا کردار بہت بھاگیا ہے۔اور میں دن رات اسی کردار کے ساتھ بتارہا ہوں۔

اس ناول میں جابجا کئی خط ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔اور میں اس ناول کے سحر میں اس لئے گرفتار ہوں کہ مجھے لگا کہ میں اب تک جس کرب کو بیان کرنے سے قاصر رہا اسے ارون دھتی رائے نے فکشن کے روپ میں مجسم کردیا ہے۔اب کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں کیا سوچتا ہوں تو میں بہت ہی سہن کے ساتھ رائے کا یہ ناول سوال کرنے والے کو پڑھنے کے لئے کہہ سکتا ہوں۔

ان گزرے ماہ و سال میں کئی دوست ہیں جو گزرگئے ہیں لیکن ان کی یادیں میرے ساتھ ہیں اور کئی دوست ہیں جن کو غائب ہوئے زمانہ بیت گیا ہے جبکہ اس دوران بہت سے سارے دوست احباب ملے ہیں اور ایسے میں عجب بیم و رجا کی کیفیت ہے جسے نہ تو مکمل خوشی کا نام دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی تام اداسی کا۔

ایک بات مجھے ضرور کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں ایک رائے تو ہے جس نے کم از کم پورے ہندوستان کی ایک تصویر بناکر ہمارے سامنے پیش کی ہے جس میں وہ سارے موضوعات شامل ہیں جن پہ دیانت داری سے بات کی ہی نہیں جاتی۔لیکن ہمارے ہاں اب تک وہ بڑا ادیب سامنے نہیں آیا جس نے کراچی سے لیکر لنڈی کوتل تک اور بلوجستان سے لیکر وزیرستان تک ایک تصویر بنانے کی کوشش کی ہو۔ارون کا ایک کردار موسی کہتا ہے’ہمارے کشمیر میں اب مردے ہی جی رہے ہیں اور حقیقت جتنی آج پریوں کی کہانی ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔اور ان کہانیوں کو تمہارے لئے برداشت کرنا ناممکن ہے’

ہم نے یہاں پاکستان میں فاٹا،خیبرپختون خوا، بلوچستان،گلگت بلتستان میں جو ہوا اور جو ہورہا ہے اسے ‘پریوں کی کہانی’ بنادیا ہے۔مین سٹریم دھارے سے حقیقت ایسے ان علاقوں کے بارے میں غائب جیسے ہندوستان میں کشمیر کے بارے میں غائب ہے۔اور ہم نے جیسے شیعہ نسل کشی،احمدی،ہندؤ، کرسچن کی مارجنلائزیشن کی حقیقت کو مسخ کیا ہے وہ کشمیر میں حقیقت کو مسخ کئے جانے سے کم نہیں ہے۔

ہمیں کسی ڈاکٹر آزاد پاکستانی کی تلاش ہے جو ہمارے بارے میں ویسے سوچ سکے جیسے ڈاکٹر آزاد بھارتی نے وہاں ہندوستان کی ‘دکھی روحوں’ کے بارے میں سوچا۔ایسا ڈاکٹر جسے ہم خط لکھ کر یہ کہہ سکیں:

پیارے ڈاکٹر،
تم میرے ہر انچ کو بدل سکتے ہو،میں تو بس ایک کہانی ہوں

اس ملک میں درجنوں مائیں ایسی ہیں جو ‘مرچکی’ ہیں مگر سانس لیتی ہیں اور ان کی آنکھوں کی ویرانی دیکھی نہیں جاتی۔اور مجھ جیسا آدمی ان کے لئے کیا کرسکتا ہے۔شرم آتی ہے مجھے کہ میں ان کی آنکھوں کی ویرانی اور ان کی سانس لیتی موت کو لفظوں کا روپ دیکر داد پاتا ہوں۔یہ سب اس لئے نہیں کررہا میں۔مجھے سلیبرٹی بننے کی زرا خواہش نہیں ہے۔لوگ میری محنت کو ‘داد’ کی شکل میں صلہ دے کر لوٹا رہے ہیں جبکہ میں چاہتا ہوں کہ وہ ایسا کام کریں کہ پھر کوئی ابوزر ربذہ کی تنہائی میں آخری سانسیں نہ لے۔اور کوئی ماں زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ نہ کہلائے۔

ایس ٹیلوٹما جب کرائے کے گھر سے جنت گیسٹ ہاؤس منتقل ہورہی ہوتی ہے تو وہ ڈاکٹر آزاد بھارتی کے نام ایک خط لکھتی ہے۔میں اپنے جنم دن پہ اپنے پڑھنے والوں کو اسی خط کا ترجمہ پڑھانا چاہتا ہوں:

پیارے ڈاکٹر،
میں ایک انتہائی دلچسپ سائنسی عمل کی شاہد ہوں۔دو سانڈ میرے فلیٹ کے باہر والی سروس لین میں رہتے ہیں۔دن میں تو وہ بالکل نارمل رہتے ہیں،لیکن رات کو وہ بہت ہی لمبے ہوجاتے ہیں۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ اس کے لئے لفظ

‘ Elevate’

مرتفع ہی ٹھیک ہوسکتا ہے۔ وہ اتنے بلند ہوتے ہیں کہ میرے دوسرے فلور پہ فلیٹ کی کھڑکی سے مجھے دیکھتے ہیں۔جب وہ پیشاب کرتے ہیں تو کتوں کی طرح ٹانگ اٹھاتے ہیں۔کزشتہ رات (آٹھ بجے کے قریب)،جب میں بازار سے لوٹ رہی تھی تو ایک مجھ پہ غرایا بھی۔مجھے اس پہ پورا یقین ہے۔میرا سوال ہے

کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ وہ کتوں جیسی افزائش یا بھیڑیوں جیسی افزائش والے جینیز جو ان میں ڈالے گئے ہوں کے ساتھ جینٹک موڈیفائی ہوں اور وہ اس عمل کے بعد لیب سے بھاگ نکلے ہوں۔

اگر ایسا ہے تو کیا وہ سانڈ ہیں کہ کتے؟یا بھیڑئے؟میں نے مویشیوں پہ ایسے تجربات بارے نہیں سنا،کیا تم نے سنا ہے؟میں نے ٹراؤٹ میں انسانی جینز ڈال کر ان کو بڑا بنانے کا سنا ہے۔لوگ جنھوں نے ایسے دیوقامت ٹراؤٹ کی افزائش کی کہتے ہیں وہ ایسا غریب ملکوں کو خوراک کی فراہمی کے لئے کررہے ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ وہ کون ہے جو اس دیوقامت ٹراؤٹ کو فیڈ کرے گا؟انسانی افزائشی جینز کا استعمال سوؤروں میں بھی ہوا ہے۔یہ کراس آئیڈ میوٹنٹ ہے جو اسقدر بھاری ہوتا ہے کہ وہ اپنے وزن پہ خود کھڑا نہیں رہ سکتا۔اسے ایک تختے پہ ڈالنا پڑتا ہے۔یہ بہت ہی کراہت والی بات ہے۔ان دنوں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا ہے کہ ایک سانڈ کتا ہے یا وہ مکئی کا ایک کان حقیقت میں ایک سوؤر کی ٹانگ ہے یا ایک بیف سٹیک ہے۔لیکن شاید یہی جدیدیت کا اصل راستا ہے؟
آخرکار ایک گلاس کو کیوں ایک خار موش (جنگلی چوہا)،ایک باڑ ایک ایٹی کیٹ منیول وغیرہ وغیرہ کیوں نہیں ہونا چاہئیے؟
آپ کی مخلص

ٹیلوٹما

پس نوشت: مجھے معلوم ہے کہ سائنس دان پولٹری اندسٹری میں جو کام کررہے ہیں وہ مرغیوں میں اپنے بچوں کو پالنے پوسنے کی مادرانہ جبلت کو کم کرنے یا سرے سے ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان کا مقصد مرغیوں کو بظاہر غیر ضروری چیزیں کرنے میں وقت صرف کرنے سے روکنا اور ان کے انڈے دینے کی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔اگرچہ میں اصولی طور پہ اور اپنی ذاتی حثیت میں ایسی بہتری کے خلاف ہوں،مگر مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ کیا اس قسم کی مداخلت کی صورت (جس سے مارا ملت مادرانہ جبلت کونکالنا ہے) ماں جی پہ آزمائی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔ وہ مائیں جن کے بچے کشمیر میں لاپتا ہیں۔۔۔۔ کیا یہ ان کے معاملے میں مددگار ثابت ہوگی؟ جبکہ اب وہ بے کار اور غیر افزائشی یونٹ ہیں جو کہ بے کس امید پہ گزارا کررہی ہیں اور اپنے کچن گاڑن میں بے کار پھرتی ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ کیا اگایا جائے، کیا پکایا جائے اس صورت میں جب ان کے بیٹے لوٹ آئیں گے۔مجھے یقین ہے کہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ یہ کاروبار کا برا نمونہ ہے۔کیا آپ اس سے بہتر تجویز دے سکتے ہیں؟ ایک قابل عمل، حقیقت کے قریب (اگرچہ میں حقیقت پرستی۔رئیل ازم کے بھی خلاف ہوں) ایسا فارمولا جو کہ ایسی امید پیدا کرے جوکہ مفید اور منافع بخش توانائی رکھتا ہو۔

تین متغیرات ان کے کیس میں ہیں موت، گمشدگی اور خاندانی پیار۔جبکہ پیار کی دوسری تمام شکلیں یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ حقیقت میں موجود ہیں،پورا نہیں اترتی،اور ان کا لحاظ کرنا بھی نہیں چاہیے۔بہرحال خدا سے محبت کی جو قسم ہے اسے بھی ممنوعہ قرار دینا ہے۔(جو بنا کہے جاری رہتی)

پس پس نوشت
پوسٹ پوسٹ سکرپٹ
میں جارہی ہوں۔نہیں جانتی کہ میں کہاں جارہی ہوں۔یہ احساس مجھے امید سے بھردیتا ہے۔

آخر میں مرشدی حیدر جاوید سید،نور درویش، ام رباب، سیدہ کرن ناز عابدی، عابدہ حسینی، ملک قمر عباس اعوان، نادر ہاشمی،مجاہد طوری (درجنوں نام ہیں سب ہی عزیز ہیں) سب کی محبتوں کا اور حسن ظن کا شکریہ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*